Tag: مارشل لا

  • 5 جولائی 1977

    5 جولائی 1977

    جب جنرل ضیا نے مارشل لا نافذ کیا

    یہ چار اور پانچ جولائی 1977 کی درمیانی شب تھی۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ، ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفی کھر اور مولانا کوثر نیازی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے پرائم منسٹر ہاؤس راولپنڈی سے رخصت ہو کر اپنی اپنی رہائش گاہوں کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔

    وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اپنی رہائش گاہ پر ضروری سرکاری فائلیں دیکھ رہے تھے جبکہ ساتھ والے کمرے میں بیگم نصرت بھٹو اپنے بچوں بینظیر، مرتضی، صنم اور شاہنواز کے ساتھ گہری نیند میں سو رہی تھیں۔

    اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو کے خاص ملازم عرس جوکیو نے آ کر اطلاع دی کہ وزیر اعظم ہاؤس کو مسلح فوج کی ٹرکوں نے گھیر لیا ہے، تمام راستوں پر ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں پہنچ چکی ہیں۔

    اتنے میں ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر بریگیڈیئر امتیاز وڑائچ نے آ کر سلام کیا اور بھٹو صاحب کو بتایا، ‘سر، مسلح افواج نے ملک کا انتظام سنبھال لیا ہے، آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔’

    دوسری جانب وزیر اعظم ہاؤس سے کچھ فاصلے پر آرمی ہاؤس میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل ضیا الحق کے ساتھ دسویں کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی، جو ‘آپریشن فیئر پلے’ کے انچارج تھے، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان، ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریاض عباسی، لیفٹیننٹ جنرل جہان زیب ارباب، لیفٹیننٹ جنرل اقبال خان، لیفٹیننٹ جنرل سوار خان، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق، میجر جنرل خالد محمود عارف، میجر جنرل اختر عبدالرحمان سمیت بیشتر کور کمانڈر، پرنسپل اسٹاف افسران اور فارمیشن افسران بھی موجود تھے، مگر جنرل ضیا پر ہر لمحہ بھاری گزر رہا تھا۔

    جنرل ضیا کو یقین تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس کی تمام ٹیلی فون لائنیں منقطع کر دی گئی ہیں، لیکن اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ انہوں نے فون اٹھایا تو دوسری جانب ذوالفقار علی بھٹو تھے، جو پوچھ رہے تھے، ‘یہ کیا مذاق ہے؟’

    جواب میں جنرل ضیا نے صرف اتنا کہا، ‘سر، ہمیں افسوس ہے کہ مسلح افواج اپنی کارروائی کر چکی ہیں۔ آپ کہاں جانا پسند کریں گے؟ آپ کو مری ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ آپ کے اہل خانہ کو کراچی یا لاڑکانہ بھیجا جا سکتا ہے۔’

    یہ کہہ کر جنرل ضیا نے فون بند کر دیا۔ کچھ ہی دیر بعد ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی دستوں نے مری منتقل کر دیا جبکہ بیگم نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو، صنم بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو کراچی بھیج دیا گیا۔

    پانچ جولائی 1977 کی صبح جنرل ضیا نے ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘میرے عزیز ہم وطنو، ہم نے وطن عزیز کو ایک بڑے بحران سے نکالنے کے لیے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔’

    پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیا نے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے ذوالفقار علی بھٹو سمیت پاکستان پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے اہم رہنماؤں کو فوجی تحویل میں لے لیا۔

    جولائی کے آخری ہفتے میں ذوالفقار علی بھٹو کو مری ریسٹ ہاؤس سے رہا کیا گیا تو انہوں نے عوامی رابطہ مہم شروع کر دی۔ جنرل ضیا کی حکومت نے بھٹو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر تین ستمبر کو انہیں نواب محمد احمد خان قصوری قتل کیس میں گرفتار کر لیا، مگر تیرہ ستمبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم کے صمدانی نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔

    رہائی کے بعد بھٹو صاحب لاہور سے ریل کے ذریعے کراچی پہنچے اور پھر عیدالفطر منانے لاڑکانہ گئے۔ لاڑکانہ اور نئی ڈیرو میں لوگوں سے عید ملی اور وقتاً فوقتاً المرتضی میں جمع ہونے والے عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کرتے رہے۔

    سولہ اور سترہ ستمبر 1977 کی درمیانی رات ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کی ایک اہم رات تھی۔ تمام ملاقاتی جا چکے تھے، مگر ایک شخص المرتضی کے ایک حصے میں ان کا انتظار کر رہا تھا۔

    رات گئے بھٹو صاحب جب فارغ ہوئے تو اس شخص کے پاس پہنچے۔ وہ انتہائی پریشان تھا۔ جیسے ہی بھٹو صاحب کمرے میں داخل ہوئے، وہ ان کے قدموں میں گر گیا اور کہا، ‘میں آپ کا دوست ہوں۔ برسوں کی دوستی میں کبھی آپ سے کوئی ذاتی درخواست نہیں کی، مگر آج مجھے مایوس نہ کیجیے۔ جو کہوں، انکار نہ کیجیے۔’

    بھٹو صاحب نے حیرت سے کہا، ‘رفیع، یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ بتاؤ کیا معاملہ ہے؟’

    یہ شخص رفیع رضا تھے، جو ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ کے نہایت اہم اور باخبر وزیر تھے اور جن کے ایک ساتھ امریکی اور پاکستانی سول و فوجی اسٹیبلشمنٹ سے روابط تھے۔

    رفیع رضا نے صاف الفاظ میں کہا، ‘آپ کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں، یا موت کے لیے تیار ہو جائیں یا فوراً ملک چھوڑ دیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو آج ہی رات آپ کو پورے خاندان سمیت پاکستان سے باہر بھجوا سکتا ہوں۔ وقت نہیں ہے، صبح ہونے تک بھی مہلت نہیں۔’

    بھٹو صاحب نے خاموشی سے ان کی بات سنی، پھر اٹھ کر آنسو بہاتے رفیع رضا کو گلے لگایا اور کہا، ‘رفیع، تم نے دوستی کا حق ادا کر دیا۔ مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں، مگر میں بزدل نہیں ہوں۔ میں یہیں رہوں گا اور موت قبول کروں گا۔ میں خود کو ہر سختی کے لیے تیار کر چکا ہوں۔ جنہوں نے تمہیں یہ پیغام دیا ہے، انہیں کہہ دو جو کرنا ہے کر لیں۔ نہ میں ان کے سامنے جھکوں گا اور نہ اپنی دھرتی چھوڑ کر بھاگوں گا۔’

    بھٹو کے یہ الفاظ سن کر رفیع رضا مایوس واپس چلے گئے۔

    ان دنوں پنوعاقل فوجی چھاؤنی قائم نہیں ہوئی تھی۔ سکھر میں فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تھا۔ ان دنوں منظور حسین بھٹو سکھر کے ڈپٹی کمشنر اور لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے علی انور کھوکھر سکھر کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور اسسٹنٹ کمشنر تھے۔

    فوجی مارشل لا حکام نے دونوں افسران اور سینٹرل جیل سکھر کے سپرنٹنڈنٹ کو فوری طلب کیا اور ہدایت دی کہ ایک اہم قیدی کے لیے جیل میں ہنگامی بنیادوں پر ایک سیل تیار کیا جائے۔

    تجربہ کار افسران فوراً سمجھ گئے کہ معاملہ کس کا ہے۔ ڈپٹی کمشنر منظور حسین بھٹو نے تمام انتظامات کی ذمہ داری ایس ڈی ایم سکھر علی انور کھوکھر کو سونپی اور خود نگرانی کرتے رہے۔

    علی انور کھوکھر نے جیل انتظامیہ کے ساتھ مل کر چند گھنٹوں میں ایک کوٹھڑی کی رنگ و روغن کروا دی، اپنے گھر سے بستر اور ٹی وی منگوا کر رکھوایا اور کھانا بھی اپنے گھر سے تیار کروا کر بھجوا دیا۔

    ادھر رفیع رضا کے جانے کے کچھ دیر بعد فوجی دستوں نے المرتضی ہاؤس کا محاصرہ کر لیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کر لیا۔ عید کی وجہ سے اس وقت بیگم نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو، میر مرتضی، صنم اور شاہنواز بھی المرتضی میں موجود تھے۔

    گرفتاری کے وقت بھٹو صاحب نے میر مرتضی کو ہدایت کی کہ ‘تم شاہنواز کو لے کر فوراً نکل جاؤ، جبکہ بینظیر، نصرت اور صنم یہیں رہیں۔’

    فوجی دستے ذوالفقار علی بھٹو کو المرتضی سے اور ممتاز علی بھٹو کو میرپور بھٹو سے گرفتار کر کے پہلے سکھر لائے۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو کو کوٹ لکھپت جیل لاہور اور ممتاز علی بھٹو کو سینٹرل جیل کراچی منتقل کر دیا گیا۔

    بعد میں فوجی حکام نے ڈپٹی کمشنر منظور حسین بھٹو اور خاص طور پر ایس ڈی ایم علی انور کھوکھر سے بار بار پوچھ گچھ کی کہ انہوں نے قیدی کو ٹی وی، گھر کا کھانا اور بستر کیوں فراہم کیا جبکہ جیل کا سامان موجود تھا۔

    دونوں افسران نے جواب دیا کہ جیل مینوئل کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو اپنے منصب کے اعتبار سے ‘اے کلاس’ کے قیدی تھے، اس لیے انہیں وہی سہولتیں دی گئیں جن کے وہ قانوناً مستحق تھے۔

    بعد ازاں حالات معمول پر آ گئے۔ منظور حسین بھٹو اور علی انور کھوکھر دونوں بعد میں سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پہلے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا اور پھر چار اپریل 1979 کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

  • 21 اپریل 1972: جب تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم، بھٹو نے بطور صدر حلف لیا

    21 اپریل 1972: جب تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم، بھٹو نے بطور صدر حلف لیا

    21 اپریل 1972 کو پاکستان میں تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم کرکے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عبوری آئین کے تحت صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس کی منظوری قومی اسمبلی نے چار روز قبل دی تھی۔

    بھٹو 20 دسمبر 1971 سے صدر کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے نے راولپنڈی ریس کورس گراؤنڈ میں تقریباً تین لاکھ افراد کے مجمع کے سامنے صدارتی حلف اٹھایا۔

    انہوں نے پرجوش اور بے چین ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین اور عوام کی خواہشات کی پاسداری کریں گے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں گے جنہوں نے شہری حکومت کی بحالی پر زور دیا تھا۔

    قیدی رہا کرنے کا اعلان

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے 1971 کی پاکستان، بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے قید کیے گئے بھارتی قیدی رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ‘اگر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی مجوزہ مذاکرات میں ان سے بھارتی جنگی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں تو وہ انہیں رہا کر دیں گے چاہے بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر راضی ہو یا نہ ہو۔’

    بھارتی وزارت خارجہ کی پالیسی پلاننگ کمیٹی کے چیئرمین درگا پرشاد دھر کی قیادت میں ایک بھارتی وفد کو اسلام آباد پہنچنے والا تھا تاکہ پاکستانی نمائندے عزیز احمد جو وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل ہیں کے ساتھ بات چیت کر سکے۔

    توقع کی جارہی تھی کہ یہ مذاکرات اندراں گاندھی اور بھٹو کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کی تیاریوں سے متعلق ہوں گے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اگلے ماہ کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔

    بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم مسئلہ 93 ہزار پاکستانی فوجیوں اور سرکاری اہلکاروں کا ہے جو بھارتی قیدی کیمپوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان قیدیوں کو روک کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

    ‘ہم سودے بازی نہیں کریں گے’

    بھٹو نے کہا کہ ‘ہم اس معاملے پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہم قانون کا احترام کریں گے۔’
    بھٹو کے مطابق اگر بھارت قانون کا احترام نہیں کرتا تو وہ تمام بھارتی قیدیوں کو رہا کر دیں گے۔ پاکستان کے پاس دسمبر کی جنگ میں پکڑے گئے صرف 600 کے قریب بھارتی فوجی موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں قومی اسمبلی سے قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کی منظوری مل چکی ہے اور پھر انہوں نے مجمع سے اس کی منظوری طلب کی۔ اس پر نعرے تو بلند ہوئے لیکن چند ایک نے ‘نہیں’ کے نعرے بھی لگائے۔

    مارشل لا جو آدھی رات کو اس وقت ختم ہوا جناب بھٹو نے رات ہی کو عبوری آئین کی منظوری پر دستخط کیے جو پہلی بار اکتوبر 1958 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے نافذ کیا تھا۔ اسے 1962 میں اٹھا لیا گیا اور پھر 25 مارچ 1969 کو صدر آغا محمد یحییٰ خان نے دوبارہ نافذ کر دیا۔

    بھٹو نے دسمبر 1971 میں اقتدار سنبھالتے وقت اصلاحات کے نفاذ کے واحد ذریعے کے طور پر عارضی طور پر مارشل لا کو برقرار رکھنے کی دلیل دی تھی۔

    بھٹو پر تنقید جسے مارشل لا کے معاملے نے مزید ہوا دیا اگلے مہینوں میں بڑھتی گئی اور یہی وجہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے 14 اگست کے طے شدہ منصوبے کے بجائے اب مارشل لا ختم کر دیا۔

    20 اپریل 1972 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ جنرل یحییٰ خان کی مارشل لا حکومت غیر قانونی تھی اور اس کے بنائے گئے تمام قواعد و احکام ‘قانونی جواز کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھے جا سکتے’ لیکن قومی بہبود کے لیے اٹھائے گئے کچھ اقدامات ‘درست تصور کیے جا سکتے ہیں۔’

    اس فیصلے نے جناب بھٹو کی مارشل لا انتظامیہ اور ان کے اصلاحاتی اقدامات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی توقع کی جا رہی تھی۔

    تمام وزرا اور سرکاری اہلکار بشمول فوجی کمانڈروں نے مارشل لا ختم ہونے پر مستعفی ہو گئے تاکہ عبوری آئین کے تحت انہیں دوبارہ تعینات کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کچھ تبدیلیاں متوقع کی گئیں۔

    بھٹو کو بطور صدر پاکستان کے عہدے کا حلف چیف جسٹس حمود الرحمان عدالت نے دلایا جنہوں خود اسی دن بھٹو کے ہاتھوں عبوری آئین کے تحت چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔