پاکستان اس وقت سفارتی لحاظ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دنیا کے سفارتی اور میڈیا حلقے پاکستان پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے اعلی سطحی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، اور دونوں کے درمیان ایک مشترکہ ملاقات بھی ہو چکی ہے۔ ان مذاکرات کے حتمی نتائج کیا ہوں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر یہاں ہم ایک اہم پہلو پر غور کرتے ہیں۔
جب ایرانی وفد، جس کی قیادت محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی کر رہے تھے، نور خان ایئر بیس پہنچا تو پاکستانی اعلی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر عاصم منیر نے فوجی وردی میں استقبال کیا۔
جبکہ دوسری طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں آنے والے وفد کا استقبال عاصم منیر نے سول ڈریس یعنی تھری پیس فل سوٹ میں کیا۔
لباس کی اس تبدیلی کو ‘ڈریس کوڈ’ کہا جاتا ہے۔
ڈریس کوڈ کی اہمیت
کسی آرمی چیف کا مختلف مواقع پر مختلف لباس پہننا محض ذاتی پسند نہیں ہوتا، بلکہ یہ بین الاقوامی پروٹوکول، سفارتی آداب اور تقریب کی نوعیت کے مطابق ہوتا ہے۔
تقریب کی نوعیت
لباس کا انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وفد کس مقصد سے آیا ہے: اگر وفد دفاعی تعاون، مشترکہ مشقوں یا سیکیورٹی مذاکرات کے لیے ہو تو فوجی وردی پہنی جاتی ہے۔اگر وفد مکمل طور پر سویلین یا سفارتی نوعیت کا ہو (جیسے صدر یا وزیر اعظم)، تو سول سوٹ پہنا جاتا ہے۔
مقام اور پروٹوکول
اگر تقریب جی ایچ کیو، گیریژن یا پریڈ گراؤنڈ میں ہو تو فوجی وردی لازمی ہوتی ہے۔اگر تقریب ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس یا کسی ہوٹل میں ہو تو سول سوٹ یا بلیک ٹائی ڈریس کوڈ ہوتا ہے۔
علامتی پیغام
فوجی وردی: طاقت، نظم و ضبط اور ریاستی دفاع کی نمائندگی کرتی ہے۔
سول سوٹ: نرم طاقت (Soft Power) اور سفارتکاری کی علامت ہے، جو لچک اور مذاکرات کی فضا کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی رواج
دنیا کے کئی ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ اور ترکی میں یہ عام روایت ہے کہ فوجی حکام سویلین تقریبات میں سول لباس پہنتے ہیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ فوج سویلین بالادستی اور سفارتی عمل کا حصہ ہے۔
اگر آرمی چیف ایک وفد کا استقبال وردی میں اور دوسرے کا سوٹ میں کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ: پہلا وفد عسکری نوعیت کا تھا، اس لیے فوجی روایت کے مطابق وردی پہنی گئی۔ دوسرا وفد سفارتی یا سویلین نوعیت کا تھا، اس لیے سول سوٹ کا انتخاب کیا گیا۔
یہ ڈریس کوڈ ایک فوجی سربراہ کی ہمہ جہتی شخصیت (Versatility) کو ظاہر کرتا ہے وہ نہ صرف میدان جنگ کا کمانڈر ہوتا ہے بلکہ ایک اہم سفارتکار بھی ہوتا ہے۔
ایسی ملاقاتوں میں لباس، رنگ، کوٹ، ٹائی، جوتے حتیٰ کہ موزوں تک کا انتخاب بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔

