[rank_math_breadcrumb]

ایران جنگ نے جہاں دبئی کی رونق اور رنگینیوں کو متاثر کیا ہے وہیں پراپرٹی کی قیمتوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا : کیا دبئی کی عشروں سے قائم شان و شوکت ختم ہورہی ہے؟

دبئی جو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد کے لیے سرمایہ کاری کی پسندیدہ جگہ تھی، مگر اب اس کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ زوال پذیر ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس (28 February 2026) کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور یو اے ای میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے بعد دبئی کے اس تاثر کو نقصان پہنچا ہے کہ یہ دنیا کے امیر افراد کے لیے ایک محفوظ سرمایہ کاری کی جگہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رئیل اسٹیٹ کے لین دین کی مقدار 37 فیصد گری جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 49 فیصد کم رہی۔ اہم ترین علاقوں میں بھی جائیدادوں کی قیمتوں میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے، جہاں قیمتوں میں بارہ سے پندرہ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
ہوٹل انڈسٹری: ہمیشہ بھرے رہنے والے دبئی کے ہوٹل بھی کچھ ہی دنوں میں خالی ہوگئے۔ لائٹ ہاؤس انٹیلیجنس کے مطابق ہوٹل بکنگ 90 فیصد سے گر کر سولہ فیصد رہ گئی ہے۔
تجارت اور ڈیجیٹل سروسز: سپلائی چین متاثر ہونے سے اہم اشیا کی فروخت پر براہ راست اثر پڑا ہے اور مالز خالی ہیں، جس سے چھوٹے تاجروں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ایرانی حملوں سے بعض ڈیجیٹل سروس کے اداروں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
مجموعی طور پر یو اے ای کی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے۔
سوال یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد دبئی کو اپنا وقار اور شان و شوکت بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

اسی بارے میں: