کراچی سے چند ہی فاصلے پر واقع ہالیجی جھیل نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ایک اہم میٹھے پانی کی جھیل ہے، جسے بین الاقوامی سطح پر رامسر سائٹ کا درجہ بھی حاصل ہے۔ یہ جھیل ہزاروں مہاجر پرندوں کی پناہ گاہ ہے اور ماحولیاتی توازن میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر ہفتے، خاص طور پر تعطیلات کے دنوں میں، کراچی سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت مقام تک پہنچنے والا راستہ خود ایک کہانی سناتا ہے، بے حسی، بدانتظامی اور ٹوٹے وعدوں کی کہانی۔
یہ مسئلہ ہالیجی جھیل کے قریب آر بی او ڈی سے جڑا ہوا ہے، جو اصل میں سندھ کے دائیں کنارے سے زہریلا اور کھارا پانی نکالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر اس منصوبے کی تعمیر نے کئی نئی مشکلات کو جنم دیا، جن میں سب سے نمایاں ہالیجی جھیل کے قریب گزرنے والا راستہ ہے۔
2006 میں، نیشنل ہائی وے سے ہالیجی جھیل کی طرف جانے والے راستے پر آر بی او ڈی کے اوپر ایک پل تعمیر کیا گیا۔ یہ پل مقامی آبادی اور سیاحوں دونوں کے لیے ایک اہم گزرگاہ تھا۔ لیکن حیران کن طور پر یہ پل چند ہی سالوں میں زبوں حالی کا شکار ہوگیا، جو تعمیراتی معیار اور نگرانی پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔
2009 میں اس پل کی دوبارہ تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے۔ ایک ٹھیکیدار نے کام بھی سنبھالا اور ابتدائی مہینوں میں پل کا اسٹرکچر بھی کھڑا کردیا گیا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا، وہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ایک عام مگر افسوسناک کہانی ہے۔ ٹھیکیدار اچانک غائب ہوگیا، کام رک گیا، اور منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ نہ کوئی احتساب ہوا، نہ کسی نے اس منصوبے کو مکمل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔
اس کے بعد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے کا عارضی حل نکالا۔ انہوں نے پانی کے بہاؤ کے لیے پائپ ڈالے اور اوپر مٹی ڈال کر ایک کچا پل بنا لیا۔ یہی کچا راستہ آج بھی استعمال ہو رہا ہے۔ مگر یہ حل نہ محفوظ ہے، نہ پائیدار۔
بارشوں کے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے۔ یہ عارضی راستہ مکمل طور پر ڈوب جاتا ہے، جس کے باعث متعدد گاؤں کا زمینی رابطہ منقطع ہوجاتا ہے۔ مریضوں کو اسپتال پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اور روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ سیاح بھی اس خستہ حال راستے کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ہالیجی جھیل کی سیاحتی اہمیت بھی متاثر ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر 16 سال گزرنے کے باوجود یہ پل دوبارہ کیوں تعمیر نہیں ہوسکا؟ کیا ایک اہم ماحولیاتی مقام اور اس سے جڑے درجنوں دیہات اس قابل نہیں کہ انہیں ایک محفوظ راستہ فراہم کیا جائے؟ آر بی او ڈی جیسے بڑے منصوبے پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اگر ایک بنیادی پل کی تعمیر مکمل نہیں ہوسکتی، تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک پل کا نہیں، بلکہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات، نگرانی، اور جوابدہی کا امتحان ہے۔ جب تک ان سوالوں کے جواب نہیں دیے جاتے، ہالیجی جھیل کا یہ راستہ اسی طرح ٹوٹا رہے گا، اور اس کے ساتھ جڑی امیدیں بھی۔
