سندھ کے شہر حیدرآباد سے متصل کوٹری شہر کا پرنٹنگ پریس والا ادارہ ’سندر شیوا منڈلی‘ گزشتہ چھ دہائیوں میں ہندو مت کی مذہبی کتابوں کی تقریباً ساڑھے 10 لاکھ کاپیاں چھاپ چکا ہے۔
اس پرنٹنگ پریس پر چھپنے والی مذہبی کتابوں میں ہندو مت کی مقدس کتاب شریمت بھگوت گیتا، رامائن، ہندو مت کے مختلف دیوتاؤں کی کتھائیں، کیلنڈر اور جنتریاں سمیت کئی کتابیں شامل ہیں۔
ہندو دھرم کی جنتری، جسے سندھی زبان میں ’ٹپنو‘ کہا جاتا ہے، اس میں ہندو دھرم میں بچے کی پیدائش کے بعد اس کا مستقبل جاننے کے لیے بنائی جانے والی جنم کنڈلی سے لے کر نئے کاروبار کی شروعات، گھر کی منتقلی، چاند اور سورج گرہن اور موسموں کے احوال تک، اور شادی کے لیے موزوں وقت کا تعین کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
’سندر شیوا منڈلی‘کے سربراہ سنتوش کمار خانوانی کے مطابق یہ ادارہ ان کے والد لیلا رام خانوانی نے 1962 میں کوٹری شہر سے شروع کیا۔
1996 میں لیلا رام خانوانی کے انتقال کے بعد سنتوش کمار خانوانی نے ادارے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سنتوش کمار خانوانی نے کہا: ‘کچھ عرصہ قبل ہم نے ’سندر شیوا منڈلی‘ کو کوٹری سے حیدرآباد منتقل کیا۔ یہ ادارہ ہندو مذہب کی کتابیں شائع کرنے والا پاکستان کا منفرد اور بڑا ادارہ بن چکا ہے۔’
سنتوش کمار خانوانی کے مطابق: ‘1962 سے اب تک تقریباً 10 ہزار کتابیں چھاپ چکے ہیں۔ ہر کتاب کے چھاپوں کو جمع کریں تو اب تک ساڑھے 10 لاکھ تک کتب چھپ چکی ہیں۔’
انہوں نے مزید کہا کہ ہندو مذہب کی بیشتر مذہبی کتب ہندی زبان میں ہوتی ہیں، جنہیں ان کا ادارہ پہلے سندھی زبان میں ترجمہ کرتا ہے اور پھر کتابی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ سندھی کے علاوہ اردو اور گُرمکھی زبان میں بھی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے۔
’سندر شیوا منڈلی‘ نہ صرف مذہبی ورثے کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور ثقافتی تنوع کی ایک روشن مثال بھی ہے۔
