امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے وسیع عالمی تجارتی ٹیرف (درآمدی محصولات) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں کالعدم کر دیا ہے۔ چھ کے مقابلے میں تین ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے اس فیصلے کو امریکی آئینی تاریخ میں صدارتی اختیارات کی حدود کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 1977ء کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت امریکی صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر وسیع پیمانے پر درآمدی محصولات عائد کرے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ آئین کے تحت ٹیکس اور ٹیرف لگانے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہے، نہ کہ ایگزیکٹو برانچ کے پاس۔
یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی حکمت عملی کے لیے بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ٹیرف کو عالمی تجارت کی ازسرِ نو تشکیل اور امریکی صنعت کے تحفظ کے لیے مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ ان ٹیرف کے تحت چین، یورپ، میکسیکو اور دیگر ممالک سے آنے والی درآمدات پر بھاری محصولات عائد کیے گئے تھے، جس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے صدر نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔ فیصلے میں ‘میجر کوئسچنز ڈاکٹرائن’ کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق وسیع معاشی اثرات رکھنے والے فیصلوں کے لیے کانگریس کی واضح منظوری ضروری ہوتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد امریکی حکومت کو ممکنہ طور پر اربوں ڈالر واپس کرنا پڑ سکتے ہیں جو ان ٹیرف کی مد میں وصول کیے گئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق ان محصولات سے تقریباً 89 ارب ڈالر تک آمدن حاصل ہوئی تھی، جس کے قانونی مستقبل پر اب سوالات اٹھ گئے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے اگرچہ فوری طور پر رقم واپس کرنے کا حکم نہیں دیا، تاہم متاثرہ کمپنیوں کی جانب سے مقدمات دائر کیے جانے کا امکان ہے، جس سے امریکی خزانے پر بڑا مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اختلافی نوٹ اور سیاسی ردعمل
فیصلے میں تین ججوں نے اختلاف کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ٹیرف تاریخی طور پر درآمدات کو منظم کرنے کا ایک تسلیم شدہ ذریعہ رہے ہیں۔ اختلافی جج بریٹ کیوانا نے خبردار کیا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں پیچیدہ مالی اور قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صارفین کے لیے ‘معاشی ریلیف’ قرار دیا۔ سینیٹ کے بعض ارکان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کے باعث اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھ گئیں اور چھوٹے کاروبار متاثر ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ‘شرمناک’ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جب کہ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر اور دیگر ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے کہا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف نے عام امریکی شہریوں کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق ان محصولات کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیں، جس کا بوجھ براہِ راست امریکی خاندانوں پر پڑا۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مزید کہا کہ یہ اقدام صدارتی اختیارات کا غیر قانونی استعمال تھا کیونکہ تجارت سے متعلق بڑے فیصلے ایک صدر اکیلے نہیں کر سکتا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اس بات کی تصدیق قرار دیا کہ تجارتی پالیسی بنانے کا اختیار صرف صدر کے پاس نہیں بلکہ کانگریس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے نہ صرف امریکی داخلی سیاست بلکہ عالمی تجارتی نظام پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ کئی ممالک، جنہوں نے امریکی ٹیرف کے باعث جوابی محصولات عائد کیے تھے، اب نئی تجارتی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ یورپی اور برطانوی حکام نے کہا ہے کہ وہ فیصلے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
صدارتی اختیارات کی نئی حد بندی
قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل کے صدور کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بڑے معاشی فیصلے یکطرفہ طور پر نہیں کیے جا سکتے۔ عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا امریکی آئینی نظام کی بنیاد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت دیگر قانونی راستوں کے ذریعے محدود ٹیرف دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم موجودہ فیصلے نے ایگزیکٹو اختیارات پر اہم آئینی پابندی عائد کر دی ہے۔
اس تاریخی فیصلے کو امریکی عدالتی تاریخ میں صدارتی اختیارات اور کانگریس کی بالادستی کے درمیان توازن کی بحالی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی تجارتی منڈیوں کی نظریں اب واشنگٹن کی آئندہ پالیسیوں پر مرکوز ہیں۔

