کراچی کے ساحلی علاقے میں واقع تاریخی شاہ حسن جزیرے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں، صحافیوں اور گرد و نواح کے دیہات کے مکینوں نے مطالعاتی دورہ کیا۔ دورے کا مقصد وفاقی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ سیاحتی منصوبے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
مطالعاتی دورے کے دوران جزیرے کی موجودہ صورتحال، درگاہ کے تقدس، ماہی گیروں کے روزگار اور ماحولیاتی نظام پر پڑنے والے خدشات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے منصوبے کو متنازع قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
دورے میں سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے صدر سید خداڈنو شاہ، جنرل سیکریٹری حفیظ بلوچ، ملیر کے سماجی رہنما سلیم سالار، معروف ماہی گیر رہنما یونس خاصخیلی، صحافیوں اور مقامی آبادی کی بڑی تعداد شریک تھی۔
شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شاہ حسن جزیرہ محض ایک غیر آباد علاقہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، مذہبی عقیدت اور مقامی شناخت کا مرکز ہے۔ ان کے مطابق جزیرے کو صرف تفریحی منصوبے کے طور پر دیکھنا زمینی حقائق سے لاعلمی کے مترادف ہے۔
مطالعاتی دورے کے اختتام پر شرکا نے جزیرے پر ریلی بھی نکالی۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ اگر مجوزہ منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ پورٹ قاسم کے قریب واقع شاہ حسن جزیرے کو ماحولیاتی سیاحت، کھیلوں کی سرگرمیوں اور لائف اسٹائل ریٹریٹس کے لیے ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کیا جائے گا۔
وفاقی مؤقف کے مطابق اس منصوبے پر ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے لاگت آئے گی اور اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیاحت کو فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
تاہم مقامی سطح پر اس اعلان کے بعد تشویش اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ ساحلی علاقوں میں آباد ماہی گیر برادری اس منصوبے کو اپنے روزگار کے لیے براہ راست خطرہ قرار دے رہی ہے۔
سید خداڈنو شاہ نے بتایا کہ شاہ حسن جزیرے کا کل رقبہ تقریباً 530 ایکڑ ہے اور یہاں واقع حضرت سید شاہ حسن کی درگاہ تقریباً 800 سال قدیم ہے۔ ان کے مطابق درگاہ پر ہر سال عرس کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں جہاں دور دراز علاقوں سے زائرین آتے ہیں، جبکہ اطراف میں مقامی خاندانوں اور ماہی گیروں کے قبرستان بھی موجود ہیں۔

شرکا کو بتایا گیا کہ مختلف ادوار میں زائرین کی سہولت کے لیے مسافر خانے، مسجد اور پانی کی ٹینکیاں تعمیر کی گئیں، جو تقریباً 50 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔
مطالعاتی دورے کے دوران ماحولیاتی خدشات بھی سامنے آئے۔ حفیظ بلوچ اور یونس خاصخیلی نے کہا کہ جزیرے اور اس کے اطراف کا سمندر صدیوں سے ماہی گیروں کا ذریعہ معاش رہا ہے اور یہاں کا ماحولیاتی نظام نہایت نازک ہے۔
ماہی گیر رہنماؤں کے مطابق بڑے پیمانے پر تعمیرات کی صورت میں سمندری حیات اور ماہی گیروں کے روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے روزگار ہو سکتے ہیں۔
مقامی رہنماؤں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں بُنڈل اور بڈو جزیروں کو ترقی دینے کا منصوبہ بھی سامنے آیا تھا، جسے سندھ حکومت اور مقامی آبادی کی مخالفت کے بعد واپس لینا پڑا تھا۔
اس وقت سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ جزیرے صوبے کی ملکیت ہیں اور وفاق کو یکطرفہ فیصلوں کا اختیار نہیں۔ اسی پس منظر کے باعث شاہ حسن جزیرے سے متعلق حالیہ اعلان پر بھی عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔
سید خداڈنو شاہ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شاہ حسن جزیرے کی زمین قانونی طور پر پورٹ قاسم کی ملکیت نہیں بلکہ سندھ حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں پورٹ قاسم نے سندھ حکومت سے 1500 ایکڑ زمین حاصل کی جہاں سینکڑوں کھاتے دار اور درجنوں قدیم دیہات آباد تھے، مگر متاثرین کو نہ مکمل معاوضہ ملا اور نہ متبادل روزگار فراہم کیا گیا۔
مطالعاتی دورے میں شریک صحافیوں اور دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ حکومت کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے قبل مقامی لوگوں کو اعتماد میں لینا ہوگا، شفاف مشاورت کرنی ہوگی اور شاہ حسن درگاہ کے تقدس، تاریخی حیثیت اور ماحولیاتی نظام کو ہر صورت محفوظ بنانا ہوگا۔
مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ وہ ترقی کے خلاف نہیں، مگر ایسی ترقی جو ان کی تاریخ، شناخت اور روزگار کو خطرے میں ڈال دے، اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

