گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

لٹریچر فیسٹیول

سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع ہو گیا ہے۔ دو روزہ ادبی میلے میں ادب، زبان، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے لکھاری، شاعر، محقق، فنکار اور طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق فیسٹیول 18 اور 19 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع تنوع میں حسن رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ادب، زبانوں اور لوک روایتوں کے باہمی رشتے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

فیسٹیول کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے ساتھ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن میں لوک موسیقی اور روایتی رقص شامل تھا۔ پروگرام میں ادب اور زبان کے موضوع پر مکالمے بھی رکھے گئے، جن میں تنوع، شناخت اور معاصر سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

شیڈول کے مطابق فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز اور میڈیا و ادب سے متعلق مکالمے شامل ہیں۔ نمایاں نشستوں میں ادب میں تنوع، زبان اور شناخت، صحافت کے بدلتے رجحانات، خواتین اور سماجی اظہار، اور نوجوانوں کے لیے تخلیقی اظہار پر سیشنز شامل کیے گئے ہیں۔ لوک ادب، موسیقی اور قوالی کی محفلیں بھی فیسٹیول کا حصہ ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا مقصد صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنا ہے۔ اسی لیے فیسٹیول میں طلبہ کے لیے خصوصی سیشنز اور ورکشاپس بھی رکھی گئی ہیں۔

اس سال حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کے میڈیا پارٹنر کے طور پر ساگا ڈیجیٹل اے آئی بھی شامل ہے، جو فیسٹیول کی سرگرمیوں، نشستوں اور مباحث کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر عوام تک پہنچا رہا ہے۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کی بنیاد ایک محدود ادبی اجتماع کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ سندھ کا ایک نمایاں ادبی اور ثقافتی میلہ بن چکا ہے۔ آج یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں اور فنکاروں کو قومی سطح کے ادیبوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں داخلہ مفت رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس ادبی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ میلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب اور ثقافت شہر کی اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔

اسی بارے میں: