Tag: فیسٹیول

  • پاکستان میں ویمن آف دی ورلڈ فیسٹیول WOW کے دس سال مکمل: 24 جنوری سے دو روزہ WOW  فیسٹیول کا آغاز

    پاکستان میں ویمن آف دی ورلڈ فیسٹیول WOW کے دس سال مکمل: 24 جنوری سے دو روزہ WOW فیسٹیول کا آغاز

    برٹش کونسل، ویمن آف دی ورلڈ فاؤنڈیشن، اقوام متحدہ کے ادارے یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ اور انٹرپرینیورشپ اینڈ کمیونٹی ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ کے اشتراک سے ویمن آف دی ورلڈ پاکستان فیسٹیول کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر WOW پاکستان 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    یہ دو روزہ فیسٹیول 24 اور 25 جنوری 2026 کو بیچ لگژری ہوٹل کراچی میں منعقد ہوگا۔

    WOW فیسٹیول خواتین کی کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے، صنفی مساوات پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینے اور خواتین کو درپیش سماجی و معاشرتی چیلنجز پر گفتگو کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

    فیسٹیول میں خواتین، بچیوں اور خاندانوں کے لیے ثقافت، فنون، موسیقی، مکالمے اور سیکھنے سے متعلق مختلف پروگرام پیش کیے جائیں گے۔

    برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر جیمز ہیمپسن نے کہا کہ ہم WOW پاکستان کے دس سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں اور یہ کراچی میں ہونے والی پہلی تقریب سے شروع ہونے والے سفر پر نظر ڈالنے کا ایک اہم موقع ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچیوں کو اظہار کا موقع دینا اور فنون و ثقافت کی تبدیلی لانے والی طاقت کو بروئے کار لانا ہی WOW کی اصل روح ہے، جبکہ حقیقی تبدیلی کے لیے ضروری آوازوں کو سننا آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔

    WOW پاکستان کی چیئر اور شریک کیوریٹر امنہ شیخ فاروقی نے کہا کہ WOW پاکستان کا آغاز خواتین کی آواز کی اہمیت پر پختہ یقین کے ساتھ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق جب یہ آواز بغیر کسی معذرت کے سنی جاتی ہے تو معاشرہ بدلتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس برسوں میں ایسے مواقع پیدا کیے گئے جہاں خیالات نے جنم لیا، ہم خیال ہوئے اور پیش قدمی کی، حتیٰ کہ مشکل حالات میں بھی۔ ان کے مطابق اس سال کا عنوان دستک صرف ایک دستک نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے کہ میں یہاں ہوں، اور دس برس بعد بھی ہم سن رہے ہیں، تخلیق کر رہے ہیں اور ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کی تشکیل چند نہیں بلکہ مشترکہ کئی آوازوں سے کی جائے گی۔

    WOW فاؤنڈیشن کی بانی اور چیف ایگزیکٹو جوڈ کیلی سی بی ای نے کہا کہ جب انہوں نے WOW کی بنیاد رکھی تو ان کا خواب تھا کہ یہ پاکستان میں مضبوطی سے جڑ پکڑے، ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین اور لڑکیوں کے لیے رکاوٹیں توڑنے کی ایک بھرپور تاریخ موجود ہے۔

    ان کے مطابق دس سال بعد WOW پاکستان تخلیقی صلاحیت، جرات اور اجتماعی عمل کی ایک روشن مثال بن چکا ہے، اور اس موقع پر نہ صرف اب تک کی پیش رفت کا جشن منایا جا رہا ہے بلکہ آئندہ کے لیے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام بھی دیا جا رہا ہے۔

    WOW پاکستان 2026 کو ہر فرد کے لیے قابل رسائی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں اشاروں کی زبان کی سہولت، بریل مواد اور وہیل چیئر کے لیے موزوں راستے اور ریمپس شامل ہیں۔

    فیسٹیول کے پروگرام میں افتتاحی سیشن شامل ہوگا جس میں سینیٹر شیری رحمان، جوڈ کیلی سی بی ای اور برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان جین میریٹ شریک ہوں گی، جبکہ نظامت معروف صحافی صدیرا اقبال کریں گی۔

    پروگرام میں معروف کتھک فنکارہ نگہت چوہدری کی پرفارمنس، موسیقی کی محفل جس میں نتاشا بیگ اور بابر شیخ شامل ہوں گے، لوک موسیقی کے فنکار استاد نور بخش کی پیشکش، اے آئی اور کوڈڈ عدم مساوات پر پینل ڈسکشن جس کی میزبانی عنبر شمسی کریں گی۔

    کینسر، تخلیق اور حوصلے پر انجلین ملک کے ساتھ فائر سائیڈ چیٹ، سرمایہ کاری پر مشعل خان کی ماسٹر کلاس، سندھی فنکاروں کی خصوصی پرفارمنس، عدنان جہانگیر اور صاحبزادیوں کی پیشکش Unfolding، بچوں کے لیے کہانیوں اور گیتوں کا سیشن خالد انعم کے ساتھ، اور گرپس تھیٹر کی پرفارمنس شامل ہے۔

    اس سال کا موضوع دستک، ایک نئی دنیا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، خواتین کی دس سالہ جدوجہد، قیادت اور تبدیلی کے سفر کی علامت ہے۔ یہ موضوع اس مقام کو تسلیم کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں ہم آج کھڑے ہیں اور اس مستقبل کا دروازہ کھولنے کا پیغام دیتا ہے جو مشترکہ قیادت اور نئے بیانیوں سے تشکیل پائے گا۔

    WOW فیسٹیول کے ذریعے برٹش کونسل خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے، نظامی رکاوٹوں کو چیلنج کرنے اور اپنی کامیابیوں کا جشن منانے کے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔

     

  • گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع: کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز

    سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں گیارہواں حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول شروع ہو گیا ہے۔ دو روزہ ادبی میلے میں ادب، زبان، ثقافت اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں ملک کے مختلف حصوں سے لکھاری، شاعر، محقق، فنکار اور طلبہ شریک ہو رہے ہیں۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول 18 اور 19 جنوری 2026 کو منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع تنوع میں حسن رکھا گیا ہے۔ اس موضوع کے تحت ادب، زبانوں اور لوک روایتوں کے باہمی رشتے کو اجاگر کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔

    فیسٹیول کے پہلے روز افتتاحی تقریب کے ساتھ ثقافتی پرفارمنسز پیش کی گئیں، جن میں لوک موسیقی اور روایتی رقص شامل تھا۔ پروگرام میں ادب اور زبان کے موضوع پر مکالمے بھی رکھے گئے، جن میں تنوع، شناخت اور معاصر سماجی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

    شیڈول کے مطابق فیسٹیول میں کتابوں کی رونمائی، شاعری کی نشستیں، تھیٹر پرفارمنسز اور میڈیا و ادب سے متعلق مکالمے شامل ہیں۔ نمایاں نشستوں میں ادب میں تنوع، زبان اور شناخت، صحافت کے بدلتے رجحانات، خواتین اور سماجی اظہار، اور نوجوانوں کے لیے تخلیقی اظہار پر سیشنز شامل کیے گئے ہیں۔ لوک ادب، موسیقی اور قوالی کی محفلیں بھی فیسٹیول کا حصہ ہیں۔

    منتظمین کا کہنا ہے کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کا مقصد صرف ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر مکالمے کو فروغ دینا اور نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنا ہے۔ اسی لیے فیسٹیول میں طلبہ کے لیے خصوصی سیشنز اور ورکشاپس بھی رکھی گئی ہیں۔

    اس سال حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کے میڈیا پارٹنر کے طور پر ساگا ڈیجیٹل اے آئی بھی شامل ہے، جو فیسٹیول کی سرگرمیوں، نشستوں اور مباحث کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر عوام تک پہنچا رہا ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول کی بنیاد ایک محدود ادبی اجتماع کے طور پر رکھی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ سندھ کا ایک نمایاں ادبی اور ثقافتی میلہ بن چکا ہے۔ آج یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں اور فنکاروں کو قومی سطح کے ادیبوں کے ساتھ براہ راست مکالمے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

    منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں داخلہ مفت رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری اس ادبی اور ثقافتی سرگرمی کا حصہ بن سکیں۔ حیدرآباد میں منعقد ہونے والا یہ میلہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ادب اور ثقافت شہر کی اجتماعی شناخت کا اہم حصہ ہیں۔