[rank_math_breadcrumb]

برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں، دھول، گرمی، فقیر اور قبریں۔ یہ جملہ صدیوں پرانا ہے، مگر ملتان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ملتان کو برصغیر کے قدیم ترین زندہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس سے تہذیب، تجارت اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں گزرنے والی ہر صدی نے اس کی شناخت میں ایک نئی تہہ جوڑی ہے۔

ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے مزارات نے اسے روحانی پہچان دی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیروں اور درویشوں کی روایت آج بھی یہاں زندہ ہے۔

ملتان کی گرمی اپنی مثال آپ ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قدیم ملتان کے گھروں میں موٹی دیواریں اور ہوادار ساخت اسی موسم سے نمٹنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

ملتان آموں کا شہر بھی ہے۔ چونسا، سندھڑی اور دسہری یہاں کی پہچان ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملتان کبھی قدیم ریشم اور نیلے رنگ کی تجارت کا بھی بڑا مرکز رہا ہے۔

ملتان کی قبریں صرف قبرستان نہیں۔ یہ تاریخ کے صفحات ہیں۔ ہر مزار، ہر اینٹ، ایک کہانی سناتی ہے۔

یہ ہے ملتان۔ گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ہوئی ایک زندہ تہذیب۔

اسی بارے میں: