کبھی دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا جائے کہ ملتان کہاں ختم ہوتا ہے اور سندھ کہاں سے شروع ہوتا ہے تو شاید تاریخ کا جواب نقشے سے مختلف ہو۔
موجودہ نقشے پر ملتان پنجاب میں ہے اور سندھ ایک الگ صوبہ، مگر تاریخ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو دریائے سندھ کے بہاؤ، تجارتی راستوں، قافلوں، ہجرتوں، خانقاہوں، صوفی سلسلوں، زبانوں اور لوک روایات نے سندھ اور ملتان کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا جسے محض انتظامی سرحدوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
یہ رشتہ کسی بادشاہ نے قائم نہیں کیا، کسی فرمان نے اسے جنم نہیں دیا۔ دریا نے اسے راستہ دیا، قافلوں نے وسعت دی، تاجروں نے مضبوط کیا، علما نے علم اور صوفیا نے روحانی رنگ دیا، جبکہ عام لوگوں نے اسے نسل در نسل زندہ رکھا۔ اگر اس پورے تعلق کی سب سے خوبصورت داستان تلاش کی جائے تو شاید وہ بغداد سے شروع ہو کر ملتان، اُچ اور سندھ تک پہنچنے والی صوفی روایت میں ملتی ہے۔
اُچ شریف: جہاں ملتان کی روحانی آواز سندھ تک پہنچی
اُچ شریف کو ملتان اور سندھ کے درمیان روحانی پل کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ جلال الدین بخاریؒ، المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، نے دہلی، مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور بغداد سمیت کئی مقامات کے سفر کیے اور بعد میں اُچ میں اپنی روحانی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ یہاں تک کہ 1362 میں انہوں نے جنوبی سندھ میں ایک سیاسی تنازع کے حل کے لیے بھی کردار ادا کیا۔
یعنی اُچ کی خانقاہ محض ایک مقامی روحانی مرکز نہیں تھی؛ اس کے روابط ملتان، دہلی، سندھ، حجاز اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔

ملتان اور سندھ: ایک ہی سہروردی روحانی نیٹ ورک
یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سامنے آتا ہے۔ تحقیقی مطالعات میں واضح کیا گیا ہے کہ تیرہویں اور چودہویں صدی میں ملتان اور اُچ سہروردی سرگرمیوں کے دو اہم مراکز بن گئے تھے اور اسی نیٹ ورک نے سندھ میں سہروردی اثرات کو مضبوط کیا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملتان سندھ تھا یا سندھ ملتان، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک وسیع روحانی نیٹ ورک کے اہم مراکز تھے۔ یہ فرق سمجھنا تاریخ کے لیے بہت ضروری ہے۔
پھر سندھ نے اس روحانی روایت کو اپنی زبان دے دی
یہاں داستان کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ ملتان کی خانقاہی روایت سندھ پہنچی تو سندھ نے اسے اپنے مزاج کے مطابق جذب کیا۔ یہاں تصوف صرف خانقاہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شاعری، موسیقی اور لوک داستانوں کا حصہ بن گیا۔ بیت اور وائی کی صورت میں اس نے اظہار کے نئے رنگ اختیار کیے۔
پھر سندھ کی سرزمین نے دنیا کو ایک ایسا صوفی شاعر دیا جس کی آواز آج بھی دریائے سندھ کے کناروں سے سنائی دیتی ہے: حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ۔
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے سندھ کی لوک داستانوں، موسیقی اور صوفی فکر کو ایک ایسی شعری وحدت دی جو آج بھی سندھ کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ محکمہ ثقافت، حکومت سندھ کے مطابق، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صوفی شاعر ہونے کے ساتھ موسیقی کے ماہر بھی تھے اور ان کی درگاہ پر ان کے متعین کردہ سُروں اور موسیقی کی روایت آج تک جاری ہے۔

شاہ لطیفؒ اور ملتان کی روحانی روایت: دو راستے، ایک پیغام
ایک طرف ملتان ہے، جہاں بہاء الدین زکریاؒ، شاہ رکن عالمؒ، جلال الدین سرخ بخاریؒ اور مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی روحانی روایت موجود ہے؛ دوسری طرف سندھ ہے، جہاں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ، سچل سرمستؒ اور دیگر صوفیا کی عظیم روایت پروان چڑھی۔
ان سب کو ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے میں شامل کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا، لیکن ان کے درمیان روحانی اور تہذیبی مکالمہ ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔
ملتان کی خانقاہی روایت نے تصوف کو ایک منظم روحانی نیٹ ورک دیا، جبکہ سندھ نے اسی وسیع صوفی مزاج کو اپنی زبان، موسیقی اور لوک داستانوں میں ڈھال دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں خطوں کی تاریخ ایک دوسرے سے گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہے۔
شاہ لطیفؒ کے سُر اور ملتان کی سماعی روایت
یہ تعلق موسیقی تک بھی پہنچتا ہے۔ سندھ کے سرکاری ثقافتی ماخذ کے مطابق، سندھ میں سماع کی روایت کے تاریخی مباحث میں بہاء الدین زکریاؒ کے خانوادے سے منسلک روحانی روایات کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سماع اور ان کی اپنی موسیقی کی تشکیل کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے۔
شاہ لطیفؒ نے سندھ کی لوک داستانوں کو اپنے سُروں میں ڈھالا۔ سسی پنوں، مومل رانجھا، سوہنی میہار، نوری، ماروی، لیلا چنیسر اور سورٹھ جیسے کردار ان کے صوفیانہ شعور میں انسانی تلاش، محبت، قربانی اور روحانی سفر کی علامت بن گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملتان کی خانقاہ اور سندھ کی شاعری ایک دوسرے کو سمجھنے لگتی ہیں۔

ملتان کے مزار اور سندھ کی درگاہیں: عوامی تہذیب کے دو مراکز
ملتان میں حضرت بہاء الدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات ہوں یا سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور لال شہباز قلندرؒ کی درگاہیں، یہ سب صرف مذہبی عقیدت کے مقامات نہیں بلکہ عوامی تہذیب کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں لوگ صرف دعا کے لیے نہیں آتے؛ یہاں قصے، موسیقی، بازار، دستکاری اور مسافر بھی آتے ہیں۔
سب سے بڑھ کر مختلف طبقات کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ یہی خانقاہی تہذیب کا وہ پہلو ہے جس نے صدیوں تک معاشرے کو جوڑے رکھا۔
تجارت نے روحانی راستوں کے ساتھ بازار بھی آباد کیے
اگر صوفیا نے دلوں کو جوڑا تو تاجروں نے شہروں کو جوڑا۔ ملتان صدیوں تک ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔ اس تعلق کا ایک اہم ثبوت شکارپور ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق، ملتان کے بعض تجارتی خاندان بعد کے ادوار میں شکارپور منتقل ہوئے اور شکارپور نے وسطی ایشیا اور ایران سے جڑے بڑے تجارتی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کیا۔
یوں ملتان کے تاجر سندھ پہنچے، سندھ کے بازار وسطی ایشیا سے جڑے اور علاقائی تجارت بین الاقوامی تجارت کا حصہ بن گئی۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کی دنیا آج کے صوبائی نقشے سے کہیں زیادہ مربوط تھی۔
شکارپور کے بازاروں میں ملتان کی بازگشت
شکارپور کی تاریخی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ صرف زراعت اور دریائی تہذیب کا نام نہیں تھا بلکہ ایک بڑے تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بھی تھا۔ شکارپور کے ہندو ساہوکاروں اور تاجروں کے تجارتی روابط وسطی ایشیا، افغانستان اور ایران تک پھیلے ہوئے تھے اور اس وسیع تجارتی دنیا میں ملتان بھی ایک اہم کڑی تھا۔ یوں سندھ کا شکارپور اور پنجاب کا ملتان ایک وسیع بین الاقوامی تجارتی دنیا کے دو اہم پڑاؤ بن گئے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صرف شاعری سے نہیں بنتیں؛ بازار بھی تہذیبیں بناتے ہیں۔
زبانیں مختلف، روح ایک
ملتان کی سرائیکی اور سندھ کی سندھی اپنی اپنی عظیم لسانی شناختیں ہیں۔ لیکن دونوں کی صوفی شاعری میں عشق، فراق، سفر، محبوب کی تلاش، صبر، قربانی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب سرائیکی کافی سنی جاتی ہے یا شاہ لطیفؒ کا بیت پڑھا جاتا ہے تو زبان مختلف ہونے کے باوجود احساس اجنبی نہیں لگتا، کیونکہ شاید تہذیب زبان سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے۔
اجرک اور کاشی: دو شناختیں، ایک خطے کا ہنر
سندھ کی اجرک اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی علامت ہے اور ملتان کی نیلی کاشی اپنی جگہ ایک منفرد فن۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل کہنا درست نہیں، لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے: ہنر کا نسل در نسل سفر۔ سندھ نے کپڑے پر رنگوں کو تاریخ بنایا، جبکہ ملتان نے مٹی، اینٹ اور فن تعمیر پر رنگوں کو شناخت کا حصہ بنایا۔
ایک طرف اجرک کا نقش ہے، دوسری طرف شاہ رکن عالمؒ کے مزار کی کاشی کاری، اور دونوں کے پیچھے ایسا معاشرہ ہے جس نے فن کو محض آرائش نہیں بلکہ شناخت سمجھا۔

دریا، زراعت اور لوگوں کا رہن سہن
سندھ اور ملتان کے روایتی معاشروں کو سمجھنے کے لیے دریا اور زراعت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریا نے زمین دی، زمین نے فصل دی، فصل نے معیشت بنائی، معیشت نے بازار پیدا کیے اور بازاروں نے شہروں کو جوڑا۔ اسی لیے دونوں خطوں کی روایتی زندگی میں زراعت، زمین، خاندان، برادری، مہمان نوازی اور بزرگوں کا احترام نمایاں سماجی اقدار رہے ہیں۔
فرق اپنی جگہ موجود ہیں اور یہی فرق دونوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ سندھ، سندھ ہے اور ملتان، ملتان۔ دونوں کی اپنی الگ شناخت، زبان، لباس اور تہذیبی مزاج ہے، لیکن ان کے درمیان صدیوں کا مکالمہ ضرور موجود ہے۔
اصل کہانی سرحد نہیں، رابطے کی ہے
تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ ملتان اور سندھ ہمیشہ ایک ہی سیاسی وحدت رہے۔ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ تاریخ اس سے زیادہ دلچسپ بات بتاتی ہے: سیاسی طور پر الگ ہونے کے باوجود دونوں خطے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہے۔
کبھی تجارت کے ذریعے، کبھی تصوف کے ذریعے، کبھی علم کے ذریعے، کبھی ہجرت کے ذریعے اور کبھی اس دریا کے ذریعے جو دونوں کے درمیان زندگی کی علامت بن کر بہتا رہا۔
اور پھر دریائے سندھ
شاید اس پورے سفر کا سب سے خوبصورت کردار کوئی انسان نہیں بلکہ دریائے سندھ ہے۔ وہ دریا جس نے تہذیبیں بنتے دیکھیں، قافلوں کو گزرتے دیکھا، تاجروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے دیکھا، صوفیا کے مراکز آباد ہوتے دیکھے، ملتان کی طرف سے آنے والی روحانی خوشبو کو سندھ کی وادیوں تک پہنچتے دیکھا اور سندھ کی صوفی آواز کو دوبارہ ملتان اور پورے وسیب تک پہنچتے دیکھا۔
شاید ملتان اور سندھ کو یوں سمجھنا چاہیے
ملتان اولیا کی خانقاہوں کا شہر ہے اور سندھ صوفی شاعری اور لوک روحانیت کی سرزمین۔ ملتان میں بہاء الدین زکریاؒ ہیں، شاہ رکن عالمؒ ہیں، اُچ میں جلال الدین بخاریؒ ہیں، جبکہ سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ اور سچل سرمستؒ ہیں۔
یہ سب ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے کے نام نہیں، مگر ایک ایسے تہذیبی خطے کے بڑے چراغ ضرور ہیں جہاں تصوف نے انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کی۔
دریا بہتا رہا، بہتا رہے گا
صدیاں گزر گئیں۔ سلطنتیں بدل گئیں۔ حکمران آئے اور چلے گئے۔ تجارتی راستے بدلے۔ شہروں کی اہمیت بدلی۔ نقشے بدلے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی: دریائے سندھ کا بہاؤ۔
شاید اسی دریا کی طرح ملتان اور سندھ کا تہذیبی تعلق بھی بہتا رہا۔ کبھی خانقاہ بن کر، کبھی قافلہ بن کر، کبھی بازار بن کر، کبھی شعر بن کر، کبھی ساز بن کر اور کبھی کسی درویش کی زبان سے نکلے ہوئے ایک سادہ سے جملے کی صورت میں: انسان کو انسان سے جوڑو۔
شاید یہی ملتان کی خانقاہوں سے سندھ کے صوفی کلام تک پہنچنے والی سب سے بڑی مشترکہ آواز ہے۔
اسی لیے جب ہم حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مزار پر کھڑے ہوتے ہیں، شاہ رکن عالمؒ کے گنبد کو دیکھتے ہیں، اُچ شریف میں جلال الدین بخاریؒ کی خانقاہ کا تصور کرتے ہیں یا بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سُر سنتے ہیں تو دراصل ہم تاریخ کے الگ الگ ابواب نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ ایک بڑے تہذیبی سفر کے مختلف پڑاؤ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔
بغداد کی فکر سے ملتان کی خانقاہ تک، ملتان کی خانقاہ سے اُچ تک، اُچ سے سندھ تک، اور سندھ کی شاعری سے آج کے انسان تک۔
اس پورے سفر کے نیچے، خاموشی سے، صدیوں سے ایک دریا بہہ رہا ہے۔
دریائے سندھ۔
جو صرف پانی نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، رابطے اور ملتان و سندھ کے صدیوں پرانے رشتے کی ایک بڑی علامت بھی ہے۔




