Tag: ملتان

  • زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    کبھی دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا جائے کہ ملتان کہاں ختم ہوتا ہے اور سندھ کہاں سے شروع ہوتا ہے تو شاید تاریخ کا جواب نقشے سے مختلف ہو۔

    موجودہ نقشے پر ملتان پنجاب میں ہے اور سندھ ایک الگ صوبہ، مگر تاریخ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو دریائے سندھ کے بہاؤ، تجارتی راستوں، قافلوں، ہجرتوں، خانقاہوں، صوفی سلسلوں، زبانوں اور لوک روایات نے سندھ اور ملتان کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا جسے محض انتظامی سرحدوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ رشتہ کسی بادشاہ نے قائم نہیں کیا، کسی فرمان نے اسے جنم نہیں دیا۔ دریا نے اسے راستہ دیا، قافلوں نے وسعت دی، تاجروں نے مضبوط کیا، علما نے علم اور صوفیا نے روحانی رنگ دیا، جبکہ عام لوگوں نے اسے نسل در نسل زندہ رکھا۔ اگر اس پورے تعلق کی سب سے خوبصورت داستان تلاش کی جائے تو شاید وہ بغداد سے شروع ہو کر ملتان، اُچ اور سندھ تک پہنچنے والی صوفی روایت میں ملتی ہے۔

    اُچ شریف: جہاں ملتان کی روحانی آواز سندھ تک پہنچی

    اُچ شریف کو ملتان اور سندھ کے درمیان روحانی پل کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ جلال الدین بخاریؒ، المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، نے دہلی، مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور بغداد سمیت کئی مقامات کے سفر کیے اور بعد میں اُچ میں اپنی روحانی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ یہاں تک کہ 1362 میں انہوں نے جنوبی سندھ میں ایک سیاسی تنازع کے حل کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ 

    یعنی اُچ کی خانقاہ محض ایک مقامی روحانی مرکز نہیں تھی؛ اس کے روابط ملتان، دہلی، سندھ، حجاز اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔

    ملتان اور سندھ: ایک ہی سہروردی روحانی نیٹ ورک

    یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سامنے آتا ہے۔ تحقیقی مطالعات میں واضح کیا گیا ہے کہ تیرہویں اور چودہویں صدی میں ملتان اور اُچ سہروردی سرگرمیوں کے دو اہم مراکز بن گئے تھے اور اسی نیٹ ورک نے سندھ میں سہروردی اثرات کو مضبوط کیا۔ 

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملتان سندھ تھا یا سندھ ملتان، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک وسیع روحانی نیٹ ورک کے اہم مراکز تھے۔ یہ فرق سمجھنا تاریخ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    پھر سندھ نے اس روحانی روایت کو اپنی زبان دے دی

    یہاں داستان کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ ملتان کی خانقاہی روایت سندھ پہنچی تو سندھ نے اسے اپنے مزاج کے مطابق جذب کیا۔ یہاں تصوف صرف خانقاہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شاعری، موسیقی اور لوک داستانوں کا حصہ بن گیا۔ بیت اور وائی کی صورت میں اس نے اظہار کے نئے رنگ اختیار کیے۔ 

    پھر سندھ کی سرزمین نے دنیا کو ایک ایسا صوفی شاعر دیا جس کی آواز آج بھی دریائے سندھ کے کناروں سے سنائی دیتی ہے: حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے سندھ کی لوک داستانوں، موسیقی اور صوفی فکر کو ایک ایسی شعری وحدت دی جو آج بھی سندھ کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ محکمہ ثقافت، حکومت سندھ کے مطابق، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صوفی شاعر ہونے کے ساتھ موسیقی کے ماہر بھی تھے اور ان کی درگاہ پر ان کے متعین کردہ سُروں اور موسیقی کی روایت آج تک جاری ہے۔

    شاہ لطیفؒ اور ملتان کی روحانی روایت: دو راستے، ایک پیغام

    ایک طرف ملتان ہے، جہاں بہاء الدین زکریاؒ، شاہ رکن عالمؒ، جلال الدین سرخ بخاریؒ اور مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی روحانی روایت موجود ہے؛ دوسری طرف سندھ ہے، جہاں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ، سچل سرمستؒ اور دیگر صوفیا کی عظیم روایت پروان چڑھی۔

    ان سب کو ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے میں شامل کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا، لیکن ان کے درمیان روحانی اور تہذیبی مکالمہ ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔

    ملتان کی خانقاہی روایت نے تصوف کو ایک منظم روحانی نیٹ ورک دیا، جبکہ سندھ نے اسی وسیع صوفی مزاج کو اپنی زبان، موسیقی اور لوک داستانوں میں ڈھال دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں خطوں کی تاریخ ایک دوسرے سے گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہے۔

    شاہ لطیفؒ کے سُر اور ملتان کی سماعی روایت

    یہ تعلق موسیقی تک بھی پہنچتا ہے۔ سندھ کے سرکاری ثقافتی ماخذ کے مطابق، سندھ میں سماع کی روایت کے تاریخی مباحث میں بہاء الدین زکریاؒ کے خانوادے سے منسلک روحانی روایات کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سماع اور ان کی اپنی موسیقی کی تشکیل کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

    شاہ لطیفؒ نے سندھ کی لوک داستانوں کو اپنے سُروں میں ڈھالا۔ سسی پنوں، مومل رانجھا، سوہنی میہار، نوری، ماروی، لیلا چنیسر اور سورٹھ جیسے کردار ان کے صوفیانہ شعور میں انسانی تلاش، محبت، قربانی اور روحانی سفر کی علامت بن گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملتان کی خانقاہ اور سندھ کی شاعری ایک دوسرے کو سمجھنے لگتی ہیں۔

    ملتان کے مزار اور سندھ کی درگاہیں: عوامی تہذیب کے دو مراکز

    ملتان میں حضرت بہاء الدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات ہوں یا سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور لال شہباز قلندرؒ کی درگاہیں، یہ سب صرف مذہبی عقیدت کے مقامات نہیں بلکہ عوامی تہذیب کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں لوگ صرف دعا کے لیے نہیں آتے؛ یہاں قصے، موسیقی، بازار، دستکاری اور مسافر بھی آتے ہیں۔ 

    سب سے بڑھ کر مختلف طبقات کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ یہی خانقاہی تہذیب کا وہ پہلو ہے جس نے صدیوں تک معاشرے کو جوڑے رکھا۔

    تجارت نے روحانی راستوں کے ساتھ بازار بھی آباد کیے

    اگر صوفیا نے دلوں کو جوڑا تو تاجروں نے شہروں کو جوڑا۔ ملتان صدیوں تک ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔ اس تعلق کا ایک اہم ثبوت شکارپور ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق، ملتان کے بعض تجارتی خاندان بعد کے ادوار میں شکارپور منتقل ہوئے اور شکارپور نے وسطی ایشیا اور ایران سے جڑے بڑے تجارتی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کیا۔

    یوں ملتان کے تاجر سندھ پہنچے، سندھ کے بازار وسطی ایشیا سے جڑے اور علاقائی تجارت بین الاقوامی تجارت کا حصہ بن گئی۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کی دنیا آج کے صوبائی نقشے سے کہیں زیادہ مربوط تھی۔

    شکارپور کے بازاروں میں ملتان کی بازگشت

    شکارپور کی تاریخی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ صرف زراعت اور دریائی تہذیب کا نام نہیں تھا بلکہ ایک بڑے تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بھی تھا۔ شکارپور کے ہندو ساہوکاروں اور تاجروں کے تجارتی روابط وسطی ایشیا، افغانستان اور ایران تک پھیلے ہوئے تھے اور اس وسیع تجارتی دنیا میں ملتان بھی ایک اہم کڑی تھا۔ یوں سندھ کا شکارپور اور پنجاب کا ملتان ایک وسیع بین الاقوامی تجارتی دنیا کے دو اہم پڑاؤ بن گئے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صرف شاعری سے نہیں بنتیں؛ بازار بھی تہذیبیں بناتے ہیں۔

    زبانیں مختلف، روح ایک

    ملتان کی سرائیکی اور سندھ کی سندھی اپنی اپنی عظیم لسانی شناختیں ہیں۔ لیکن دونوں کی صوفی شاعری میں عشق، فراق، سفر، محبوب کی تلاش، صبر، قربانی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ 

    یہی وجہ ہے کہ جب سرائیکی کافی سنی جاتی ہے یا شاہ لطیفؒ کا بیت پڑھا جاتا ہے تو زبان مختلف ہونے کے باوجود احساس اجنبی نہیں لگتا، کیونکہ شاید تہذیب زبان سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے۔

    اجرک اور کاشی: دو شناختیں، ایک خطے کا ہنر

    سندھ کی اجرک اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی علامت ہے اور ملتان کی نیلی کاشی اپنی جگہ ایک منفرد فن۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل کہنا درست نہیں، لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے: ہنر کا نسل در نسل سفر۔ سندھ نے کپڑے پر رنگوں کو تاریخ بنایا، جبکہ ملتان نے مٹی، اینٹ اور فن تعمیر پر رنگوں کو شناخت کا حصہ بنایا۔ 

    ایک طرف اجرک کا نقش ہے، دوسری طرف شاہ رکن عالمؒ کے مزار کی کاشی کاری، اور دونوں کے پیچھے ایسا معاشرہ ہے جس نے فن کو محض آرائش نہیں بلکہ شناخت سمجھا۔

    دریا، زراعت اور لوگوں کا رہن سہن

    سندھ اور ملتان کے روایتی معاشروں کو سمجھنے کے لیے دریا اور زراعت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریا نے زمین دی، زمین نے فصل دی، فصل نے معیشت بنائی، معیشت نے بازار پیدا کیے اور بازاروں نے شہروں کو جوڑا۔ اسی لیے دونوں خطوں کی روایتی زندگی میں زراعت، زمین، خاندان، برادری، مہمان نوازی اور بزرگوں کا احترام نمایاں سماجی اقدار رہے ہیں۔

    فرق اپنی جگہ موجود ہیں اور یہی فرق دونوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ سندھ، سندھ ہے اور ملتان، ملتان۔ دونوں کی اپنی الگ شناخت، زبان، لباس اور تہذیبی مزاج ہے، لیکن ان کے درمیان صدیوں کا مکالمہ ضرور موجود ہے۔

    اصل کہانی سرحد نہیں، رابطے کی ہے

    تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ ملتان اور سندھ ہمیشہ ایک ہی سیاسی وحدت رہے۔ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ تاریخ اس سے زیادہ دلچسپ بات بتاتی ہے: سیاسی طور پر الگ ہونے کے باوجود دونوں خطے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہے۔ 

    کبھی تجارت کے ذریعے، کبھی تصوف کے ذریعے، کبھی علم کے ذریعے، کبھی ہجرت کے ذریعے اور کبھی اس دریا کے ذریعے جو دونوں کے درمیان زندگی کی علامت بن کر بہتا رہا۔

    اور پھر دریائے سندھ

    شاید اس پورے سفر کا سب سے خوبصورت کردار کوئی انسان نہیں بلکہ دریائے سندھ ہے۔ وہ دریا جس نے تہذیبیں بنتے دیکھیں، قافلوں کو گزرتے دیکھا، تاجروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے دیکھا، صوفیا کے مراکز آباد ہوتے دیکھے، ملتان کی طرف سے آنے والی روحانی خوشبو کو سندھ کی وادیوں تک پہنچتے دیکھا اور سندھ کی صوفی آواز کو دوبارہ ملتان اور پورے وسیب تک پہنچتے دیکھا۔

    شاید ملتان اور سندھ کو یوں سمجھنا چاہیے

    ملتان اولیا کی خانقاہوں کا شہر ہے اور سندھ صوفی شاعری اور لوک روحانیت کی سرزمین۔ ملتان میں بہاء الدین زکریاؒ ہیں، شاہ رکن عالمؒ ہیں، اُچ میں جلال الدین بخاریؒ ہیں، جبکہ سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ اور سچل سرمستؒ ہیں۔ 

    یہ سب ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے کے نام نہیں، مگر ایک ایسے تہذیبی خطے کے بڑے چراغ ضرور ہیں جہاں تصوف نے انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کی۔

    دریا بہتا رہا، بہتا رہے گا

    صدیاں گزر گئیں۔ سلطنتیں بدل گئیں۔ حکمران آئے اور چلے گئے۔ تجارتی راستے بدلے۔ شہروں کی اہمیت بدلی۔ نقشے بدلے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی: دریائے سندھ کا بہاؤ۔

    شاید اسی دریا کی طرح ملتان اور سندھ کا تہذیبی تعلق بھی بہتا رہا۔ کبھی خانقاہ بن کر، کبھی قافلہ بن کر، کبھی بازار بن کر، کبھی شعر بن کر، کبھی ساز بن کر اور کبھی کسی درویش کی زبان سے نکلے ہوئے ایک سادہ سے جملے کی صورت میں: انسان کو انسان سے جوڑو۔

    شاید یہی ملتان کی خانقاہوں سے سندھ کے صوفی کلام تک پہنچنے والی سب سے بڑی مشترکہ آواز ہے۔

    اسی لیے جب ہم حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مزار پر کھڑے ہوتے ہیں، شاہ رکن عالمؒ کے گنبد کو دیکھتے ہیں، اُچ شریف میں جلال الدین بخاریؒ کی خانقاہ کا تصور کرتے ہیں یا بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سُر سنتے ہیں تو دراصل ہم تاریخ کے الگ الگ ابواب نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ ایک بڑے تہذیبی سفر کے مختلف پڑاؤ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    بغداد کی فکر سے ملتان کی خانقاہ تک، ملتان کی خانقاہ سے اُچ تک، اُچ سے سندھ تک، اور سندھ کی شاعری سے آج کے انسان تک۔

    اس پورے سفر کے نیچے، خاموشی سے، صدیوں سے ایک دریا بہہ رہا ہے۔

    دریائے سندھ۔

    جو صرف پانی نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، رابطے اور ملتان و سندھ کے صدیوں پرانے رشتے کی ایک بڑی علامت بھی ہے۔

  • ملتان: عقیلہ ناز انتقال کر گئیں، کسانوں اور بے زمین مزارعین کی جدوجہد کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر

    ملتان: عقیلہ ناز انتقال کر گئیں، کسانوں اور بے زمین مزارعین کی جدوجہد کا ایک درخشاں باب اختتام پذیر

    انجمن مزارعین پنجاب (اے ایم پی) کی ممتاز رہنما، کسان خواتین کی توانا آواز اور بے زمین مزارعین کے حقوق کی جدوجہد کی نمایاں علامت عقیلہ ناز کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد بدھ کے روز ملتان میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 50 سال تھی۔

    ان کی وفات سے کسانوں کی تحریک، انسانی حقوق کی تنظیموں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ترقی پسند حلقوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    ان کے ساتھی انہیں ایک ایسی نڈر اور بااصول رہنما کے طور پر یاد کر رہے ہیں جنہوں نے اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی حقِ ملکیت کی تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا اور شدید ریاستی دباؤ، مقدمات، گرفتاریوں اور دھمکیوں کے باوجود کبھی اپنے مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئیں۔

    عقیلہ ناز گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک پاکستان میں بے زمین کسانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ رہیں۔ ان کی جرات، استقامت اور قیادت نے ہزاروں دیہی خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے، منظم ہونے اور تحریک کا حصہ بننے کا حوصلہ دیا۔

    ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی ان کسان خاندانوں کے لیے وقف کر دی جن کے آباؤ اجداد نسلوں سے زمینیں کاشت کرتے آئے، لیکن انہیں کبھی ان زمینوں کی قانونی ملکیت نہیں ملی۔

    عقیلہ ناز کا تعلق پنجاب کے ضلع خانیوال کے ایک کسان خاندان سے تھا۔ انہوں نے ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کی، مگر مالی مشکلات کے باعث مزید تعلیم جاری نہ رکھ سکیں۔ تاہم، وہ خود کہا کرتی تھیں کہ انجمن مزارعین پنجاب نے انہیں عملی زندگی کا وہ شعور، تجربہ اور اعتماد دیا جو کسی اعلیٰ تعلیمی ڈگری سے کم نہیں تھا۔

    ان کی جدوجہد کی بنیاد ان کے خاندانی پس منظر میں بھی موجود تھی۔ ان کے والد سیموئل رحمت کسانوں کے حقوق کے سرگرم حامی تھے۔ ان کے آباؤ اجداد نے برطانوی دور میں پنجاب کے نہری علاقوں کی آبادکاری کے دوران زمینیں آباد کیں، لیکن دوسرے ہزاروں کسان خاندانوں کی طرح انہیں بھی ان زمینوں کی ملکیت حاصل نہ ہو سکی۔ یہی احساس محرومی بعد میں عقیلہ ناز کی زندگی کا مقصد بن گیا۔

    انجمن مزارعین پنجاب کی تحریک کا آغاز 1988 میں ہوا، جب پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری اور فوجی فارموں کی زمینیں نسلوں سے کاشت کرنے والے مزارعین نے متعلقہ اداروں کے دعووں کو چیلنج کیا۔ کسانوں کا مؤقف تھا کہ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ ادارے زمینوں کے قانونی مالک نہیں ہیں، اس لیے نسلوں سے کاشتکاری کرنے والے خاندانوں کو ملکیتی حقوق دیے جائیں۔

    1990 کی دہائی میں یہ تحریک تیزی سے پھیلی اور پنجاب کے تقریباً دس اضلاع میں لاکھوں کسان اس میں شامل ہوگئے۔ تحریک کا نعرہ ‘مالکی یا موت’ پورے خطے میں مزاحمت کی علامت بن گیا۔

    عقیلہ ناز نے مئی 2000 میں، انجمن مزارعین پنجاب میں شمولیت اختیار کی۔ اس وقت شاید انہیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحریک ان کی پوری زندگی کا محور بن جائے گی۔ چند ہی برسوں میں وہ ایک سرگرم کارکن سے کسان خواتین کی صف اول کی رہنما بن گئیں اور خواتین کو تحریک کا مضبوط ستون بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

    اوکاڑہ اور خانیوال کے فوجی فارموں کے مزارعین کی تحریک پاکستان کی اہم عوامی تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ جن کسان خاندانوں نے چار نسلوں سے ان زمینوں کو آباد رکھا ہے، انہیں بے دخل کرنے کے بجائے ان زمینوں کی قانونی ملکیت دی جائے۔ اس مقصد کے لیے کسانوں نے طویل احتجاج، جلسے، ریلیاں اور لانگ مارچ کیے۔ اس دوران انہیں پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    عقیلہ ناز اس جدوجہد میں صرف شریک نہیں رہیں بلکہ انہوں نے خواتین کو منظم کرنے، احتجاجی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھانے اور قیادت میں ان کا کردار مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کیا۔

    ان کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں کسان خواتین تحریک کے ہر مرحلے میں نمایاں کردار ادا کرنے لگیں۔ وہ جلسوں، احتجاجی مظاہروں، مذاکرات اور تنظیم سازی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں اور ہر قسم کی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود پیچھے نہیں ہٹیں۔

    تحریک کے دوران عقیلہ ناز کو جھوٹے مقدمات، رینجرز اور پولیس کی کارروائیوں، بااثر زمینداروں کی مخالفت اور بعض مذہبی حلقوں کی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھتیں اور ہمیشہ پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی تھیں۔

    انہوں نے انجمن مزارعین پنجاب کے بانی رہنماؤں، خصوصاً ڈاکٹر کرسٹوفر جان، کے ساتھ مل کر کسانوں کی تنظیم سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 2008 سے 2011 تک تنظیم کی فنانس سیکریٹری رہیں، بعد ازاں ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں اور پھر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ ایک بہترین مقرر، مؤثر لکھاری اور کامیاب تنظیم ساز کے طور پر بھی جانی جاتی تھیں۔

    عقیلہ ناز کی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ انہیں 2010 میں بنگلہ دیش میں جنوبی ایشیا کے ابھرتے ہوئے سماجی کارکنوں کے لیے قائم ’میٹو میموریل ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز معروف سماجی کارکن کملا بھاسین نے اپنی مرحوم بیٹی Meetoکی یاد میں قائم کیا تھا۔ یہ ایوارڈ انہیں کسان خواتین کے حقوق، دیہی تنظیم سازی اور سماجی انصاف کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

    انہوں نے بعد میں ’پیزنٹ ویمن سوسائٹی‘ کے نام سے ایک الگ پلیٹ فارم قائم کیا تاکہ دیہی خواتین کے مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ خواتین کی زمین پر ملکیت، میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت کے حق، زرعی خواتین مزدوروں کی اجرت، دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور مقامی حکومتوں میں بے زمین خواتین کی نمائندگی کے لیے مسلسل آواز بلند کرتی رہیں۔

    ان کا مؤقف تھا کہ پاکستان کی زرعی غیر رسمی افرادی قوت کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے، لیکن زمین کی ملکیت اور فیصلوں میں ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ کہتی تھیں کہ جب تک خواتین کو زمین کی ملکیت میں برابر کا حق نہیں ملے گا، دیہی خواتین کی معاشی آزادی اور حقیقی خودمختاری ممکن نہیں ہوگی۔

    عقیلہ ناز صرف کسانوں کے حقوق تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کے مساوی حقوق، جبری مشقت کے خاتمے، چائلڈ لیبر کے خلاف مہم اور گھریلو تشدد کے خاتمے جیسے سماجی مسائل پر بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ خانیوال اقلیتی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن رہیں جبکہ پاکستان اقلیتی حقوق کمیشن کی ایگزیکٹو رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    ان کے انتقال پر انسانی حقوق کے کارکنوں، کسان تنظیموں، خواتین کی تنظیموں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سماجی تنظیم ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ کے رہنما عرفان مفتی نے کہا کہ عقیلہ ناز فوجی فارموں اور

    پنجاب حکومت کی جانب سے زمینوں پر قبضے کے خلاف چلنے والی تحریک کی صف اول کی رہنما تھیں۔ ان کے بقول وہ نہایت بہادر، پُرعزم اور اپنے مقصد پر ثابت قدم رہنے والی خاتون تھیں، جو خواتین کے حقوق کی حقیقی علمبردار تھیں۔

    ان کے دیگر ساتھیوں کا کہنا ہے کہ عقیلہ ناز نے کبھی بیماری، گرفتاریوں، مقدمات یا دھمکیوں کو اپنی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ وہ آخری وقت تک کسان خواتین، بے زمین مزارعین اور دیہی عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم رہیں۔

  • برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار کیے جانے والے ملتان شہر کے گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ایک تہذیب

    چہار چیز است تحفہ ملتان، گرد، گرما، گدا و گورستان۔ ملتان کی چار چیزیں مشہور ہیں، دھول، گرمی، فقیر اور قبریں۔ یہ جملہ صدیوں پرانا ہے، مگر ملتان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    ملتان کو برصغیر کے قدیم ترین زندہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہر ہزاروں برس سے تہذیب، تجارت اور روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں گزرنے والی ہر صدی نے اس کی شناخت میں ایک نئی تہہ جوڑی ہے۔

    ملتان کو اولیاء کا شہر کہا جاتا ہے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا اور شاہ رکن عالم کے مزارات نے اسے روحانی پہچان دی۔ یہی وجہ ہے کہ فقیروں اور درویشوں کی روایت آج بھی یہاں زندہ ہے۔

    ملتان کی گرمی اپنی مثال آپ ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ قدیم ملتان کے گھروں میں موٹی دیواریں اور ہوادار ساخت اسی موسم سے نمٹنے کے لیے بنائی جاتی تھیں۔

    ملتان آموں کا شہر بھی ہے۔ چونسا، سندھڑی اور دسہری یہاں کی پہچان ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ملتان کبھی قدیم ریشم اور نیلے رنگ کی تجارت کا بھی بڑا مرکز رہا ہے۔

    ملتان کی قبریں صرف قبرستان نہیں۔ یہ تاریخ کے صفحات ہیں۔ ہر مزار، ہر اینٹ، ایک کہانی سناتی ہے۔

    یہ ہے ملتان۔ گرد اور گرمی کے پیچھے چھپی ہوئی ایک زندہ تہذیب۔