پاکستان سپر لیگ میں توسیع کے ساتھ قومی کرکٹ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کو ہونے والی فرنچائز نیلامی کے بعد لیگ میں دو نئی ٹیمیں شامل کر لی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں پی ایس ایل اب ہر سیزن میں آٹھ ٹیموں کے ساتھ کھیلی جائے گی۔
یہ تبدیلی صرف ٹیموں کی تعداد بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات کرکٹ، معیشت اور علاقائی شناخت تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والی نیلامی میں حیدرآباد اور سیالکوٹ کے نام سے دو نئی فرنچائزز فروخت ہوئیں۔ اس سے قبل پی ایس ایل میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور ملتان کی ٹیمیں شامل تھیں۔
سات سال بعد ہونے والی یہ توسیع پی ایس ایل کی پہلی بڑی تنظیم نو سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد لیگ کو مزید مضبوط اور پائیدار بنانا بتایا جا رہا ہے۔
حیدرآباد کے نام سے ٹیم ایف کے ایس گروپ نے خریدی، جس کے لیے 175 کروڑ روپے کی بولی دی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ سندھ کا یہ تاریخی شہر ایک بار پھر قومی سطح کی کرکٹ گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔
اگرچہ حیدرآباد طویل عرصے سے بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی سے دور رہا، مگر ماضی میں یہ شہر فرسٹ کلاس اور علاقائی کرکٹ کا اہم مرکز رہا ہے۔ کئی نامور کھلاڑیوں کا تعلق بھی اسی خطے سے جوڑا جاتا رہا ہے، جس کے باعث یہاں کرکٹ کی جڑیں آج بھی گہری سمجھی جاتی ہیں۔
ایف کے ایس گروپ کی قیادت فواد سرور کر رہے ہیں، جن کا آبائی تعلق حیدرآباد سے ہے۔ گروپ کا پس منظر جنوب مشرقی ایشیا اور امریکہ میں پھیلے کاروباری نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جہاں خوراک و زراعت، انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور پراپرٹی جیسے شعبوں میں اس کی سرگرمیاں موجود ہیں۔ چار دہائیوں پر محیط تجربے کے باعث گروپ خود کو طویل المدتی سرمایہ کاری اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے مستحکم قرار دیتا ہے۔
حیدرآباد کے نام سے ٹیم رکھنے کا فیصلہ شہر کے ساتھ جذباتی وابستگی کے ساتھ ساتھ مقامی شناخت کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
نیلامی کے عمل میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو اندرون اور بیرون ملک سے 12 بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تفصیلی جانچ کے بعد 10 بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا۔ جائزے میں مالی استعداد، کارپوریٹ گورننس، قانونی و انتظامی صلاحیت اور طویل المدتی وژن جیسے پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔

پی سی بی کے توسیعی فریم ورک کے تحت ممکنہ میزبان شہروں میں حیدرآباد، سیالکوٹ، فیصل آباد، راولپنڈی، مظفرآباد اور گلگت شامل تھے۔
سیالکوٹ کی ٹیم او زی گروپ نے 185 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ حاصل کی۔ یہ گروپ ٹریڈنگ، ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ اور فوڈ سروسز کے شعبوں میں سرگرم ہے اور پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور متحدہ عرب امارات میں بھی اپنی موجودگی رکھتا ہے۔
سیالکوٹ کا انتخاب اس شہر کی مضبوط کرکٹ روایت، صنعتی شناخت اور شائقین کے جوش و جذبے کے باعث کیا گیا، جو طویل عرصے سے قومی اور بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا مقام رکھتا ہے۔
پی ایس ایل کا گیارھواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی 2026 تک کھیلا جانا طے ہے۔ نئی فرنچائزز کی شمولیت سے نہ صرف میچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا بلکہ کھلاڑیوں، کوچز، براڈکاسٹ اور انتظامی عملے کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی معیشتوں کے فروغ اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت کے امکانات بھی بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
حیدرآباد کے لیے یہ پیش رفت محض ایک کرکٹ ٹیم کا اضافہ نہیں بلکہ اس شہر کی اس امید کی علامت ہے کہ وہ دوبارہ قومی کھیل کے نقشے پر نمایاں ہو سکے۔ اگر فرنچائز مقامی ٹیلنٹ کی نشاندہی، نچلی سطح پر کرکٹ کی بحالی اور شائقین کی شمولیت پر توجہ دیتی ہے تو حیدرآباد مستقبل میں پی ایس ایل کا ایک فعال اور پہچانا ہوا مرکز بن سکتا ہے۔
پی ایس ایل کی توسیع اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ لیگ اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کرکٹ کی جڑیں ان علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے جہاں کھیل کا شوق آج بھی زندہ ہے۔
