[rank_math_breadcrumb]

خیبر پختونخوا: تقریباً دو ہزار سال قدیم ضلع مردان میں واقع بدھ مت کی عبادت گاہ تخت بھائی کی کہانی

خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں بدھ مت واقع تاریخی عبادت گاہ تخت بھائی صدیوں پرانی تہذیبی کہانی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ مقام نہ صرف گندھارا دور کی یادگار ہے بلکہ برصغیر میں بدھ مت کے تعلیمی مراکز کی ایک اہم مثال بھی سمجھا جاتا ہے۔

تخت بھائی کے بارے میں ہم نے معاذ علی، اسسٹنٹ کنزرویشن، محکمہ آرکیالوجی، خیبر پختونخوا سے گفتگو کی۔ ان کے مطابق تخت بھائی کی بنیاد پہلی صدی عیسوی کے آس پاس رکھی گئی تھی اور یہ جگہ اپنی جغرافیائی ساخت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پہاڑی چوٹی پر قائم ہونے کے باعث یہ مقام حملہ آوروں اور قدرتی آفات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔

معاذ علی کا کہنا ہے کہ تخت بھائی چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے جن میں مرکزی اسٹوپا، راہبوں کی رہائش گاہیں، عبادتی ہال اور تعلیمی کمروں کے آثار شامل ہیں۔ یہاں سے ملنے والے آثار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک مکمل تعلیمی ادارہ تھا جہاں دور دراز علاقوں سے آنے والے طلبا بدھ مت کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ایک کم معلوم حقیقت یہ ہے کہ تخت بھائی وہ نایاب بدھ م کا مقام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تقریباً مکمل حالت میں محفوظ رہا۔ کئی دیگر گندھارا سائٹس وقت، موسم اور انسانی مداخلت کے باعث شدید نقصان کا شکار ہوئیں، مگر تخت بھائی اپنی بلندی اور مضبوط تعمیر کی بدولت آج بھی اپنی اصل ساخت کے قریب دکھائی دیتا ہے۔

سنہ 1980 میں تخت بھائی کو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا، جس کے بعد اس کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ تاہم آج بھی یہ مقام موسمی اثرات، بڑھتی ہوئی آبادی اور غیر ذمہ دار سیاحت جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

معاذ علی بتاتے ہیں کہ محکمہ آرکیالوجی یہاں تحفظاتی کاموں کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ لوگ اس ورثے کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق تخت بھائی صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ ثقافتی مکالمے اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔

تخت بھائی آج بھی خاموشی سے اس دور کی گواہی دیتا ہے جب یہ خطہ علم، فلسفے اور روحانی جستجو کا مرکز تھا۔ یہ مقام نہ صرف سیاحوں بلکہ محققین کے لیے بھی ایک زندہ دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے، جو آنے والی نسلوں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

 

اسی بارے میں: