سندھی زبان ایکٹ کی منظوری کی روداد

سندھی

تقریباً 52 سال قبل، یعنی سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی سے سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال کا قانون، جسے سندھی زبان ایکٹ کہا جاتا ہے، منظور ہوا۔

اس بات میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ انگریزوں نے سندھی زبان کو اس کا جائز مقام دیا۔ اس سے پہلے کلہوڑا اور تالپور دور میں سندھ کی درباری اور سرکاری زبان فارسی تھی، جبکہ عوام کی اکثریتی زبان سندھی تھی۔

1853 میں سندھ کے کمشنر سر بارٹلمی فریئر نے سندھی الفابیٹ تیار کروایا اور جولائی 1853 میں اسے سرکاری طور پر اسکولوں، دفاتر، عدالتوں، پولیس، ریونیو محکمے سمیت تمام سرکاری امور میں نافذ کیا۔

انگریز دور میں پہلی بار سندھی زبان میں بیرونی دنیا کا ادب ترجمہ ہوا اور پہلی مرتبہ سندھی کتابیں پریس میں شائع ہوئیں۔ انگریزوں کے جانے کے بعد 1948 میں کراچی کو سندھ سے الگ کیا گیا اور کراچی شہر سے سندھ یونیورسٹی اور سندھی زبان کو نکال دیا گیا۔
چند سال بعد اکتوبر 1955 میں سندھ کو ون یونٹ کے شکنجے میں جکڑ کر اس کے وجود کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔

ون یونٹ کے خلاف جدوجہد میں سیاست دانوں سے زیادہ کردار سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، اساتذہ اور طلبہ نے ادا کیا۔ ون یونٹ کے دور میں سندھ میں شاندار ادبی اور سیاسی مواد تخلیق ہوا، جس کے نتیجے میں سندھ اور سندھی زبان کے خلاف کی گئی سازشیں ناکام ہوئیں اور یکم جولائی 1970 کو ون یونٹ کا باقاعدہ خاتمہ ہوا۔

سندھی زبان کا ایکٹ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے پر اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو کو کاندھے پر اٹھا کر لوگ جشن منایا۔

جنرل یحییٰ خان کی جانب سے جاری ایل ایف او کے تحت 1970 کے انتخابات میں مرکز نے ووٹر لسٹیں اردو میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف ’ووٹر لسٹیں سندھی میں شائع کرو’ کی تحریک چلی اور بالآخر حکومت کو ووٹر لسٹیں سندھی زبانمیں شائع کرنا پڑیں۔

انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کی علیحدگی کا سانحہ پیش آیا اور موجودہ پاکستان کی باگ ڈور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ میں آئی۔ انہوں نے 1972 میں عبوری آئین قومی اسمبلی سے منظور کرا کے مارشل لا کا خاتمہ کیا، اور اپریل 1972 میں صوبائی اسمبلیوں نے حلف اٹھایا۔

چوں کہ سندھی زبان کے ساتھ ماضی میں شدید ناانصافیاں ہو چکی تھیں، اس لیے اسے اسکولوں اور دفاتر کی سرکاری زبان بنانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ عبوری آئین کی دفعہ 267 کے مطابق:
‘پاکستان کی قومی زبانیں بنگالی اور اردو ہوں گی، جبکہ انگریزی زبان سرکاری اور دیگر مقاصد کے لیے اس وقت تک استعمال کی جا سکے گی جب تک اس کا متبادل فراہم نہ ہو جائے۔

‘قومی زبانوں کی حیثیت کو نقصان پہنچائے بغیر، صوبائی اسمبلیاں قانون کے ذریعے صوبائی زبانوں کی تدریس، ترویج اور استعمال کے لیے اقدامات کر سکتی ہیں۔’

دفعہ 267 کی ذیلی شق دو کے تحت سندھ اسمبلی کو یہ آئینی اختیار ملا کہ وہ سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور تدریس کے استعمال کے لیے قانون سازی کر سکے۔ اسی آئینی بنیاد پر 3 جولائی 1972 کو ‘سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال’ کا بل سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کا آڈر آف دی ڈے

بل کے پیش ہوتے ہی تعصب پرست عناصر نے فسادات برپا کیے۔ جنگ اخبار نے ‘اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے’ کی سرخی لگا کر آگ پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔

بل پیش ہونے کے چار دن بعد، جمعہ 7 جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں اس بل پر بحث ہوئی اور اسی دن اسے منظور کر لیا گیا۔
سندھی زبان کی تعلیم، ترویج اور استعمال ایکٹ 1972 کے اہم نکات

الف: چوتھی سے بارہویں جماعت تک جہاں سندھی ذریعۂ تعلیم ہے، وہاں سندھی اور اردو کو لازمی مضامین قرار دیا جائے گا۔
ب: لازمی مضمون کے طور پر سندھی کی تعلیم چوتھی جماعت سے شروع ہو کر مرحلہ وار بارہویں جماعت تک نافذ کی جائے گی۔
ج: سندھی زبان کے فروغ اور ثقافتی ترقی کے لیے حکومت اکیڈمیاں اور بورڈ قائم کر سکتی ہے۔

د: حکومت آئینی حدود میں رہتے ہوئے دفاتر، سرکاری محکموں، عدالتوں اور اسمبلی میں سندھی زبان کے مرحلہ وار استعمال کے انتظامات کر سکتی ہے۔

سات جولائی 1972 کو سندھ اسمبلی میں کیا ہوا؟
سات جولائی 1972 بروز جمعہ سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر خان صاحب غلام رسول خان کیہر کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں درج ذیل اراکین شریک تھے:
اراکین کے نام جوں کے توں درج
اس اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض جمال ابڑو ادا کر رہے تھے۔ اجلاس کے آغاز میں قاری شاکر قاسمی نے سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کا اردو ترجمہ پیش کیا۔

بعد ازاں وزیر قانون و پارلیمانی امور سید قائم علی شاہ نے تحریک پیش کی کہ سوال جواب کا وقفہ اور دیگر امور ملتوی کر کے ایجنڈا نمبر سات کے تحت سندھی زبان بل پر بحث کی اجازت دی جائے۔ اس تحریک کی مخالفت شاہ فرید الحق اور ظہور الحسن بھوپالی نے کی، مگر تحریک منظور ہو گئی۔

وزیر اعلیٰ سندھ ممتاز علی خان بھٹو نے کہا کہ چوں کہ یہ ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے، اس لیے اس پر مکمل اور بھرپور بحث ہونی چاہیے تاکہ تمام غلط فہمیاں دور کی جا سکیں۔

بل پیش ہونے کے بعد اسے اسی دن منظور کرنے کی تحریک لائی گئی، جس کی کچھ اراکین نے مخالفت کی، مگر یہ تحریک بھی منظور ہو گئی اور عمومی بحث شروع ہوئی۔

بل کی حمایت اور مخالفت میں مختلف اراکین نے تقاریر کیں۔
بعد ازاں بل کی شق وار منظوری شروع ہوئی۔ جب شق نمبر دو منظور ہو رہی تھی تو اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس موقع پر وزیر صحت عبدالوحید کٹپر نے مائیک پر کہا: ‘خس کم، جہاں پاک’

اپوزیشن کے بائیکاٹ کے باوجود، رکن اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ وہ حکومت میں شامل نہیں ہو رہے مگر اس بل کی منظوری کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہیں، جس پر حکومتی بنچوں نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔
آخرکار بل منظور ہونے کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

اسی بارے میں: