[rank_math_breadcrumb]

پٹنہ بھارت میں سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کا متنازع اقدام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں 15 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب وزیراعلیٰ نتیش کمار نے تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے ایک مسلم آیوش خاتون ڈاکٹر کے نقاب کو اپنے ہاتھ سے نیچے کیا۔ یہ لمحہ تقریب میں موجود کیمروں میں قید ہو گیا اور تقریباً 14 سیکنڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ اسٹیج پر کھڑی خاتون ڈاکٹر کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ان کے چہرے سے نقاب ہٹا دیتے ہیں، جس پر خاتون واضح طور پر حیران اور پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماؤں نے اس اقدام کو ’’قابلِ مذمت‘‘ اور ’’خواتین کی تذلیل‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے فوری معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ذاتی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی حساسیت سے لاعلمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو اب تک بارہ لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ ہزاروں صارفین نے سخت تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔ کئی افراد نے اس واقعے کو بھارت میں مسلم اقلیت، بالخصوص مسلم خواتین کو درپیش وسیع تر مسائل سے جوڑا ہے۔

پس منظر: حجاب اور مذہبی شناخت پر جاری بحث

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی لباس، خصوصاً حجاب اور نقاب، ایک عرصے سے سیاسی اور عدالتی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ 2022 میں کرناٹک میں حجاب تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب سرکاری تعلیمی اداروں میں یونیفارم کی پابندی کے تحت حجاب پہننے پر عملی پابندی عائد کر دی گئی۔

مارچ 2022 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کی ’’لازمی مذہبی روایت‘‘ نہیں، تاہم اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا فیصلہ منقسم رہا اور معاملہ بڑی بینچ کو بھیج دیا گیا، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے۔

اگرچہ دسمبر 2023 میں کرناٹک کی نئی حکومت نے اس پابندی کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا، مگر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرِ التوا ہونے کے باعث عملی طور پر صورتِ حال اب بھی غیر واضح ہے۔

مبصرین کے مطابق پٹنہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ بھارت میں مذہبی آزادی، شخصی وقار اور اقلیتی حقوق سے جڑی جاری بحث کی ایک کڑی ہے، جس نے ایک بار پھر سیاسی قیادت کے رویّوں کو کڑی جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے

ایڈیٹر فارن افئیرز ساگا ڈیجیٹل اے آئی