[rank_math_breadcrumb]

کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ

کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ ہے۔ یہ وہ پرندہ ہے جو دنیا کے سب سے قدیم خطے آسٹریلیا کے شمالی جنگلات اور نمی والے میدانوں میں پایا جاتا ہے۔

کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ ریئس کے مطابق یہ پرندہ تقریباً پینتیس سال پہلے یہاں لایا گیا تھا اور اب یہ اپنی فطری عمر پوری کر چکا ہے۔ اس کی موجودگی چڑیا گھر کے لیے ایک انمول ورثہ سمجھتی جاتی ہے۔

کساوری اپنی جسامت، رنگت اور شکل کے باعث دیکھنے والوں کے لیے بہت دلکش اور غیر معمولی تجربہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پرندہ ہے جو بظاہر بےضرر دکھائی دیتا ہے مگر اپنی فطرت کے اعتبار سے نہایت محتاط، تنہا رہنے والا اور ضرورت پڑنے پر اپنے پنجوں سے بھرپور دفاع کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ٹانگیں مضبوط اور بلند ہوتی ہیں اور یہی ٹانگیں اس کا اصل سہارا اور دفاع بھی ہیں۔

اس پرندے کی سب سے خاص پہچان اس کے سر پر موجود سخت، سینگ نما ابھار ہے جو قدرتی طور پر وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ابھار گھنے جنگلات میں جھاڑیوں سے بچاؤ اور آواز پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے اور دیگر پرندے اسی آواز کے ذریعے اس کی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں۔

کساوری کی خوراک بھی منفرد ہے۔ یہ جنگلات میں گرے ہوئے پھل، بیج، چھوٹے کیڑے، نرم پودے اور بعض اوقات بےجان جانوروں کے چھوٹے حصے بھی کھاتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر میں اسے خاص طور پر نرم پھل، سبزیاں اور قدرتی خوراک دی جاتی ہے تاکہ اس کی صحت برقرار رہ سکے۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ پرندہ خوراک احتیاط سے چنتا ہے اور جلدی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔

کساوری کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے انڈوں کی حفاظت نر کرتا ہے۔ مادہ انڈے دیتی ہے، مگر ان کی نگرانی، سینا اور بچوں کی ابتدائی پرورش نر کی ذمے داری ہوتی ہے۔ یہ فطرت میں بہت کم پرندوں میں دیکھا جاتا ہے، اور یہی اس کی ایک بڑی خصوصیت بھی ہے۔ ایک سال میں یہ کم تعداد میں انڈے دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ پرندہ نایاب سمجھا جاتا ہے۔
کراچی چڑیا گھر میں رکھا گیا یہ کساوری اپنی عمر کے آخری حصے میں ہے، مگر اب بھی پرسکون انداز میں اپنے درختوں والے باڑے میں گھومتا ہے۔ نگران کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ اب کم چلتا ہے مگر اپنی جگہ پر مطمئن رہتا ہے۔ اس کا جسمانی خول، گردن کی رنگت اور آنکھوں کی چمک اب بھی اس کی نایاب فطرت کی گواہی دیتی ہے۔

یہ پرندہ کراچی چڑیا گھر کے لیے نہ صرف ایک نادر ذخیرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سمجھنے کا ذریعہ بھی کہ دنیا میں کس قدر حیرت انگیز اور مختلف النوع مخلوقات موجود ہیں۔ کراچی کے لوگ جب اسے دیکھتے ہیں تو اکثر حیرت سے کہتے ہیں کہ ایک ایسا پرندہ جو دنیا کے دور ترین خطے میں پایا جاتا ہے، وہ آج ان کے شہر میں زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ یہ منظر خود ایک مکمل کہانی ہے۔

اسی بارے میں: