Tag: چڑیا گھر

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود بڑی سائیز کے افریقی کچھوے: ‘جن کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں’

    کراچی چڑیا گھر میں موجود بڑی سائیز کے افریقی کچھوے: ‘جن کو دیکھ کر بچے خوش ہوتے ہیں’

    کراچی چڑیا گھر میں داخل ہوں تو ایک جگہ ایسی بھی ہے جہاں وقت کی رفتار جیسے خود ہی سست پڑ جاتی ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں موجود آفریکن اسپرڈ کچھوے اپنی خاموش موجودگی سے ہر آنے والے کو چونکا دیتے ہیں۔ یہ کچھوے دیکھنے میں جتنے بھاری بھرکم ہیں، اتنے ہی پُرسکون بھی ہیں۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ ریئس کے مطابق کراچی چڑیا گھر میں موجود یہ آفریکن اسپرڈ کچھوے تقریباً 35 سال سے 40 سال کی عمر کے ہیں اور اب اپنی زندگی کے مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عابدہ ریئس نے کہا: ‘بچے ان بڑے کچھوؤں کو دیکھ کر چڑیا گھر میں آنے والے بچے خوش ہوجاتے ہیں۔’
    دنیا بھر میں آفریکن اسپرڈ کچھوا اپنی طویل عمر کے لیے جانا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول میں اس کچھوے کی اوسط عمر 70 سے 100 سال تک سمجھی جاتی ہے، جبکہ کچھ ماہرین کے مطابق بہتر ماحول اور مناسب خوراک ملنے پر یہ اس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر کے یہ کچھوے اس بات کی مثال ہیں کہ اگر ماحول نسبتاً موزوں ہو تو جانور شہروں میں بھی لمبی زندگی گزار سکتے ہیں۔

    اکثر لوگ کچھوے اور کچھی میں فرق نہیں کر پاتے، حالانکہ دونوں میں واضح فرق موجود ہے۔ کچھوا زمین پر رہنے والا جانور ہوتا ہے، اس کے پاؤں موٹے اور مضبوط ہوتے ہیں اور خول زیادہ ابھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کچھی پانی میں رہتی ہے، اس کے پاؤں چپٹے اور تیرنے کے لیے موزوں ہوتے ہیں، جبکہ اس کا خول ہموار اور ہلکا ہوتا ہے۔ آفریکن اسپرڈ کچھوا مکمل طور پر زمینی جانور ہے اور پانی میں تیر نہیں سکتا۔

    خوراک کے معاملے میں یہ کچھوے سادہ پسند ہوتے ہیں۔ یہ گھاس، پتے، سبز سبزیاں، کدو، گاجر اور قدرتی فائبر پر مشتمل غذا کھاتے ہیں۔ جنگلی ماحول میں یہ خشک گھاس اور جھاڑیوں پر گزارا کرتے ہیں، اسی لیے ان کے لیے فائبر والی خوراک نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ زیادہ میٹھی یا رسیلی چیزیں ان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔
    بریڈنگ کے حوالے سے آفریکن اسپرڈ کچھوا آہستہ مگر مستقل رویہ رکھتا ہے۔ مادہ کچھوا زمین میں گڑھا کھود کر انڈے دیتی ہے اور قدرتی ماحول میں انڈوں سے بچے نکلنے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ ان کی افزائش نسل کا عمل سست ضرور ہے مگر نسل کے تسلسل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کے یہ آفریکن اسپرڈ کچھوے نہ صرف ایک جانور ہیں بلکہ صبر، برداشت اور فطرت کے خاموش توازن کی ایک جیتی جاگتی مثال بھی ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ زندگی کی اصل خوبصورتی رفتار میں نہیں بلکہ ٹھہراؤ میں ہے۔

  • کراچی: 2023 میں شاہراہ فیصل پر گھومنے والا شیر اب کس حالت میں ہے؟

    کراچی: 2023 میں شاہراہ فیصل پر گھومنے والا شیر اب کس حالت میں ہے؟

    کراچی مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر اگست 2023 میں روڈ پر ملنے والا پالتو شیر اس وقت کراچی چڑیا گھر میں موجود ہے۔ اس کی خوراک، رہائش اور دیکھ بھال پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور منظم ماحول میں ہو رہی ہے۔ چڑیا گھر کے نگران روزانہ اس کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں، اسے ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اسے ایک ایسے ماحول میں رکھتے ہیں جہاں وہ پرسکون رہ سکے۔

    مگر اس شیر کی کہانی صرف یہیں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کراچی کی ایک سنسنی خیز یاد بھی چھپی ہوئی ہے۔

    اگست 2023 کا مہینہ کراچی والوں کے ذہنوں میں اس لیے بھی محفوظ ہے کہ اسی ماہ شہر کی مصروف ترین شاہراہِ فیصل پر ایک پالتو شیر ٹہلتا ہوا دکھائی دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے چند ہی منٹوں میں پورے شہر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ گاڑیوں کی قطاریں آہستہ پڑ گئیں، لوگ موبائل فون نکال کر ویڈیوز بنانے لگے، اور سوشل میڈیا پر چند ہی لمحوں میں یہ منظر پھیل گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایسی اہم اور مصروف سڑک پر ایک شیر آخر کیسے پہنچ گیا۔

    بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شیر شہر کے ایک شہری کے گھر میں بطورِ پالتو جانور رکھا گیا تھا۔ اس روز وہ نہ جانے کیسے باہر نکل آیا اور سیدھا شاہراہِ فیصل تک پہنچ گیا۔ چوں کہ یہ جگہ شہر کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے اس منظر نے لوگوں کو خوف میں بھی مبتلا کیا اور حیرت میں بھی۔ ٹریفک پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور متعلقہ محکمے فوراً حرکت میں آئے۔ ماہرین نے اسے قابو کیا اور مکمل احتیاط سے ایک گاڑی میں منتقل کرکے کراچی چڑیا گھر پہنچایا۔

    اس واقعے نے کراچی میں ایک اور بحث کو جنم دیا تھا کہ ایسے جنگلی جانور شہری علاقوں میں کیسے پہنچتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیر کے مالک کے خلاف کارروائی کی، کیونکہ شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کو بطور پالتو رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ کئی دنوں تک یہ موضوع شہر کی گفتگو کا حصہ رہا، اور لوگ اس غیر معمولی واقعے کو حیرت، خوف اور دلچسپی کے ساتھ یاد کرتے رہے۔
    جب یہ شیر 2023 میں کراچی چڑیا گھر لایا گیا، تب اس کی عمر تقریباً تین سال تھی۔ آج یہ شیر چھ سال کے قریب ہو چکا ہے اور ایک مکمل، توانا اور صحت مند ہے۔ یہ ایشیاٹک لائن یا اشیائی نسل کا شیر ہے۔ چڑیا گھر کے نگرانوں کے مطابق یہ شیر اپنی عمر کے لحاظ سے طاقتور، فعال اور مستحکم رویّے کا حامل ہے۔ چونکہ اس نے زندگی کے شروع کے سال انسانوں کے درمیان گزارے تھے، اس لیے یہ چڑیا گھر کے عملے سے مانوس ہو گیا ہے۔

    نگہبان روزانہ اس شیر کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اسے باقاعدہ ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اس کے پنجروں کی صفائی اور ماحول پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ شیر کے لیے روزانہ گوشت کے بڑے ٹکڑے، ہڈیاں اور مخصوص غذائیں رکھی جاتی ہیں، تاکہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط رہے بلکہ اس کے جبڑے، پنجے اور مسلز بھی قدرتی انداز میں متحرک رہیں۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ شیر کھانا بڑے آرام سے قبول کرتا ہے اور جارحانہ رویہ کم دکھاتا ہے۔

    چڑیا گھر آنے والے لوگوں کے لیے یہ شیر آج بھی دلچسپی کا مرکز ہے۔ خاص طور پر جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی شیر ہے جو کبھی شاہراہِ فیصل پر ٹہلتا ہوا ملا تھا، تو وہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین سے سوال کرتے ہیں، لوگ اس کی ویڈیوز یاد کرتے ہیں، اور کئی لوگ اُس دن کی کہانی ایک بار پھر تازہ کرتے ہیں جب کراچی کی مصروف سڑک پر ایک شیر نے سب کو چونکا دیا تھا۔

    آج اس شیر کی زندگی محفوظ ہے۔ اس کے لیے مناسب سایہ، آرام کی جگہ، تازہ پانی اور باقاعدہ طبی معائنے کا انتظام موجود ہے۔ چڑیا گھر کے عملے کے مطابق یہ شیر اپنے ماحول سے مطمئن ہے اور اس کا رویہ دن بہ دن بہتر ہو رہا ہے۔ اس کی موجودگی کراچی والوں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں رکھنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ ان جانوروں کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ ایسے جانور قدرتی یا محفوظ ماحول میں ہی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل کی اس ویڈیو میں ہم اس ہی مشہور شیر کی زندگی کے دو پہلو دکھا رہے ہیں: ایک وہ لمحہ جب وہ 2023 میں شہر کی سب سے مصروف شاہراہ پر آزادانہ گھومتا ہوا ملا تھا، اور دوسرا آج کا وقت جب وہ کراچی چڑیا گھر میں محفوظ، پرسکون اور بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کہانی شہر کی ایک حیران کن یاد بھی ہے اور ایک اہم سبق بھی۔

  • کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ

    کراچی چڑیا گھر میں موجود نارتھ آسٹریلین کساوری پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پرندہ ہے۔ یہ وہ پرندہ ہے جو دنیا کے سب سے قدیم خطے آسٹریلیا کے شمالی جنگلات اور نمی والے میدانوں میں پایا جاتا ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ ریئس کے مطابق یہ پرندہ تقریباً پینتیس سال پہلے یہاں لایا گیا تھا اور اب یہ اپنی فطری عمر پوری کر چکا ہے۔ اس کی موجودگی چڑیا گھر کے لیے ایک انمول ورثہ سمجھتی جاتی ہے۔

    کساوری اپنی جسامت، رنگت اور شکل کے باعث دیکھنے والوں کے لیے بہت دلکش اور غیر معمولی تجربہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا پرندہ ہے جو بظاہر بےضرر دکھائی دیتا ہے مگر اپنی فطرت کے اعتبار سے نہایت محتاط، تنہا رہنے والا اور ضرورت پڑنے پر اپنے پنجوں سے بھرپور دفاع کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ٹانگیں مضبوط اور بلند ہوتی ہیں اور یہی ٹانگیں اس کا اصل سہارا اور دفاع بھی ہیں۔

    اس پرندے کی سب سے خاص پہچان اس کے سر پر موجود سخت، سینگ نما ابھار ہے جو قدرتی طور پر وقت کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ابھار گھنے جنگلات میں جھاڑیوں سے بچاؤ اور آواز پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے اور دیگر پرندے اسی آواز کے ذریعے اس کی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں۔

    کساوری کی خوراک بھی منفرد ہے۔ یہ جنگلات میں گرے ہوئے پھل، بیج، چھوٹے کیڑے، نرم پودے اور بعض اوقات بےجان جانوروں کے چھوٹے حصے بھی کھاتا ہے۔ کراچی چڑیا گھر میں اسے خاص طور پر نرم پھل، سبزیاں اور قدرتی خوراک دی جاتی ہے تاکہ اس کی صحت برقرار رہ سکے۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ پرندہ خوراک احتیاط سے چنتا ہے اور جلدی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔

    کساوری کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے انڈوں کی حفاظت نر کرتا ہے۔ مادہ انڈے دیتی ہے، مگر ان کی نگرانی، سینا اور بچوں کی ابتدائی پرورش نر کی ذمے داری ہوتی ہے۔ یہ فطرت میں بہت کم پرندوں میں دیکھا جاتا ہے، اور یہی اس کی ایک بڑی خصوصیت بھی ہے۔ ایک سال میں یہ کم تعداد میں انڈے دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں یہ پرندہ نایاب سمجھا جاتا ہے۔
    کراچی چڑیا گھر میں رکھا گیا یہ کساوری اپنی عمر کے آخری حصے میں ہے، مگر اب بھی پرسکون انداز میں اپنے درختوں والے باڑے میں گھومتا ہے۔ نگران کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ اب کم چلتا ہے مگر اپنی جگہ پر مطمئن رہتا ہے۔ اس کا جسمانی خول، گردن کی رنگت اور آنکھوں کی چمک اب بھی اس کی نایاب فطرت کی گواہی دیتی ہے۔

    یہ پرندہ کراچی چڑیا گھر کے لیے نہ صرف ایک نادر ذخیرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ سمجھنے کا ذریعہ بھی کہ دنیا میں کس قدر حیرت انگیز اور مختلف النوع مخلوقات موجود ہیں۔ کراچی کے لوگ جب اسے دیکھتے ہیں تو اکثر حیرت سے کہتے ہیں کہ ایک ایسا پرندہ جو دنیا کے دور ترین خطے میں پایا جاتا ہے، وہ آج ان کے شہر میں زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ یہ منظر خود ایک مکمل کہانی ہے۔