کراچی مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر اگست 2023 میں روڈ پر ملنے والا پالتو شیر اس وقت کراچی چڑیا گھر میں موجود ہے۔ اس کی خوراک، رہائش اور دیکھ بھال پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور منظم ماحول میں ہو رہی ہے۔ چڑیا گھر کے نگران روزانہ اس کی صحت کا جائزہ لیتے ہیں، اسے ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اسے ایک ایسے ماحول میں رکھتے ہیں جہاں وہ پرسکون رہ سکے۔
مگر اس شیر کی کہانی صرف یہیں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کراچی کی ایک سنسنی خیز یاد بھی چھپی ہوئی ہے۔
اگست 2023 کا مہینہ کراچی والوں کے ذہنوں میں اس لیے بھی محفوظ ہے کہ اسی ماہ شہر کی مصروف ترین شاہراہِ فیصل پر ایک پالتو شیر ٹہلتا ہوا دکھائی دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے چند ہی منٹوں میں پورے شہر کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ گاڑیوں کی قطاریں آہستہ پڑ گئیں، لوگ موبائل فون نکال کر ویڈیوز بنانے لگے، اور سوشل میڈیا پر چند ہی لمحوں میں یہ منظر پھیل گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایسی اہم اور مصروف سڑک پر ایک شیر آخر کیسے پہنچ گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شیر شہر کے ایک شہری کے گھر میں بطورِ پالتو جانور رکھا گیا تھا۔ اس روز وہ نہ جانے کیسے باہر نکل آیا اور سیدھا شاہراہِ فیصل تک پہنچ گیا۔ چوں کہ یہ جگہ شہر کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے اس منظر نے لوگوں کو خوف میں بھی مبتلا کیا اور حیرت میں بھی۔ ٹریفک پولیس، ریسکیو ٹیمیں اور متعلقہ محکمے فوراً حرکت میں آئے۔ ماہرین نے اسے قابو کیا اور مکمل احتیاط سے ایک گاڑی میں منتقل کرکے کراچی چڑیا گھر پہنچایا۔
اس واقعے نے کراچی میں ایک اور بحث کو جنم دیا تھا کہ ایسے جنگلی جانور شہری علاقوں میں کیسے پہنچتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شیر کے مالک کے خلاف کارروائی کی، کیونکہ شہری علاقوں میں جنگلی جانوروں کو بطور پالتو رکھنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کی زندگی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ کئی دنوں تک یہ موضوع شہر کی گفتگو کا حصہ رہا، اور لوگ اس غیر معمولی واقعے کو حیرت، خوف اور دلچسپی کے ساتھ یاد کرتے رہے۔
جب یہ شیر 2023 میں کراچی چڑیا گھر لایا گیا، تب اس کی عمر تقریباً تین سال تھی۔ آج یہ شیر چھ سال کے قریب ہو چکا ہے اور ایک مکمل، توانا اور صحت مند ہے۔ یہ ایشیاٹک لائن یا اشیائی نسل کا شیر ہے۔ چڑیا گھر کے نگرانوں کے مطابق یہ شیر اپنی عمر کے لحاظ سے طاقتور، فعال اور مستحکم رویّے کا حامل ہے۔ چونکہ اس نے زندگی کے شروع کے سال انسانوں کے درمیان گزارے تھے، اس لیے یہ چڑیا گھر کے عملے سے مانوس ہو گیا ہے۔
نگہبان روزانہ اس شیر کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، اسے باقاعدہ ہاتھ سے خوراک دیتے ہیں اور اس کے پنجروں کی صفائی اور ماحول پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ شیر کے لیے روزانہ گوشت کے بڑے ٹکڑے، ہڈیاں اور مخصوص غذائیں رکھی جاتی ہیں، تاکہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط رہے بلکہ اس کے جبڑے، پنجے اور مسلز بھی قدرتی انداز میں متحرک رہیں۔ نگران بتاتے ہیں کہ یہ شیر کھانا بڑے آرام سے قبول کرتا ہے اور جارحانہ رویہ کم دکھاتا ہے۔
چڑیا گھر آنے والے لوگوں کے لیے یہ شیر آج بھی دلچسپی کا مرکز ہے۔ خاص طور پر جب انہیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی شیر ہے جو کبھی شاہراہِ فیصل پر ٹہلتا ہوا ملا تھا، تو وہ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین سے سوال کرتے ہیں، لوگ اس کی ویڈیوز یاد کرتے ہیں، اور کئی لوگ اُس دن کی کہانی ایک بار پھر تازہ کرتے ہیں جب کراچی کی مصروف سڑک پر ایک شیر نے سب کو چونکا دیا تھا۔
آج اس شیر کی زندگی محفوظ ہے۔ اس کے لیے مناسب سایہ، آرام کی جگہ، تازہ پانی اور باقاعدہ طبی معائنے کا انتظام موجود ہے۔ چڑیا گھر کے عملے کے مطابق یہ شیر اپنے ماحول سے مطمئن ہے اور اس کا رویہ دن بہ دن بہتر ہو رہا ہے۔ اس کی موجودگی کراچی والوں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ جنگلی جانوروں کو گھروں میں رکھنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ یہ ان جانوروں کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔ ایسے جانور قدرتی یا محفوظ ماحول میں ہی بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل کی اس ویڈیو میں ہم اس ہی مشہور شیر کی زندگی کے دو پہلو دکھا رہے ہیں: ایک وہ لمحہ جب وہ 2023 میں شہر کی سب سے مصروف شاہراہ پر آزادانہ گھومتا ہوا ملا تھا، اور دوسرا آج کا وقت جب وہ کراچی چڑیا گھر میں محفوظ، پرسکون اور بہتر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کہانی شہر کی ایک حیران کن یاد بھی ہے اور ایک اہم سبق بھی۔
