کراچی چڑیا گھر، جسے پرانے وقتوں میں گاندھی گارڈن کہا جاتا تھا، شہر کا وہ گوشہ ہے جہاں اب بھی برطانوی دور کی کئی یادیں زندہ ہیں۔ انہی نشانیوں میں ایک ایسا شجر بھی ہے جو دو سو برس سے زیادہ عمر گزار چکا ہے۔ یہ برصغیر کے قدیم بنیاں کے درختوں میں سے ایک ہے، جس کی شاخیں وقت کے ساتھ زمین میں اترتی گئیں اور آج اس ایک درخت نے درجنوں الگ الگ تنوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عام دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بہت سے درختوں کا جھنڈ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی درخت کی اولاد ہیں، جو اب بھی پوری شادابی سے اپنی جگہ کھڑا ہے۔
برطانوی دور میں اس درخت کو یہاں اس لئے لگایا گیا تھا کہ یہ گھنے سائے کی وجہ سے علاقے کی فضا کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ کراچی شہر کی آبادی بڑھی، درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، اور شہر کے باسیوں نے محسوس کیا کہ یہ قدیم درخت صرف ایک پودا نہیں بلکہ قدرت کی قدرتی چھتری ہے جو تیز دھوپ کو روک کر زمین پر ٹھنڈک بچھا دیتی ہے۔
کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ رئیس نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کی چھتری آج اتنی وسیع ہے کہ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کیفے بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ کیفے اس طرح بنایا گیا ہے کہ درخت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اور لوگ سکون سے بیٹھ کر اس کے سایے سے لطف اٹھا سکیں۔
بقول عابدہ رئیس: ‘اس جگہ ایک پھوار چھوڑنے والا فوارہ بھی بنایا گیا ہے جو ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے احساس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ فوارے کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، اور ہوا کی ہلکی سی لَے مل کر ایک ایسا ماحول بناتی ہیں جو کراچی جیسے مصروف شہر کے بیچوں بیچ کسی خاموش پناہ گاہ کا احساس دلاتی ہے۔’
گرمیوں میں جب کراچی کا درجہ حرارت سڑکیں پگھلا دیتا ہے، لوگ اس درخت کے سائے میں آ کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں کچھ دیر بیٹھنا بھی جسم اور ذہن دونوں کو تازہ محسوس کراتا ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب کے لئے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں شہر کا شور کچھ لمحوں کے لئے پیچھے رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آ کر کتاب پڑھتے ہیں، کچھ چائے پیتے ہیں، اور کئی تو صرف اس لئے بیٹھتے ہیں کہ درخت کے پھیلتے ہوئے سائے کو محسوس کر سکیں۔
اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ دو صدیوں بعد بھی یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر سال نئی جڑیں زمین میں اترتی ہیں، نئی شاخیں اوپر اٹھتی ہیں، اور نئی چھتریاں سایہ بڑھاتی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے محفوظ رکھا جائے تو یہ آنے والی کئی نسلوں تک کراچی والوں کے لئے رحمت بنا رہ سکتا ہے۔
کراچی جیسے بڑے اور گرم شہر میں یہ درخت صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ فضا کا درجہ حرارت کم کرتا ہے، پرندوں کے لئے گھر بناتا ہے، اور انسانوں کے لئے سانس لینے کو صاف ہوا مہیا کرتا ہے۔ ایسے میں یہ درخت نہ صرف کراچی کی تاریخ کا حصہ ہے بلکہ اس شہر کے مستقبل کے لئے بھی قیمتی اثاثہ ہے۔
کراچی چڑیا گھر کا دو سو سالہ بنیاں کا یہ درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر کتنے ہی بدل جائیں، مگر کچھ جڑیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ درخت انہیں جڑوں میں سے ایک ہے—خاموش، مضبوط، سایہ دار اور ہمیشہ زندہ۔
