تھر کے صحرا کے فنکار ایک ایسے ساز کو صدیوں سے زندہ رکھے ہوئے یہ ساز اپنی مدھم مگر جادوئی آواز جسے سن کر وقت تھم جاتا ہے۔
کماچ نایاب تار والا ساز، جس کا گول تراشا ہوا لکڑی کا طاس اپنی گہری گونج کے ساتھ دل میں گھر کر لیتا ہے۔
اس کی آواز میں وہ درد، وہ ہجر، اور وہ جذبہ ہے جو صدیوں سے سندھ کی زبانی روایت کا حصہ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کماچ کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک داستان ہوتے ہیں۔
اسی کماچ کے سُروں نے ایک ایسا واقعہ جنم دیا جو آج بھی سندھ کی لوک کہانیوں، صوفی شاعری اور لوک ورثے میں زندہ ہے۔
روایت ہے کہ قدیم دور کے بادشاہ رائے ڈیاچ کماچ کے مداح تھے۔ سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے بھی اپنی شاعری میں رائے ڈیاچ اور ان کے سر دان کرنے کا ذکر کیا ہے۔
کہانی یوں ہے کہ مخالف بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک چاران فقیر کماچ لے کر رائے ڈیاچ کے محل کے باہر پہنچا۔ جب اس نے کماچ کے تار چھیڑے، تو ساز کی گونج ایسی تھی جیسے صحرا کا پورا آسمان سُروں میں تبدیل ہوگیا ہو۔
رائے ڈیاچ اس آواز سے اتنے مسحور ہوئے کہ فقیر کو اندر بلا لیا۔ ساز کے سُر سن کر بادشاہ نے فقیر سے کہا کہ جو چاہو مانگ لو۔
لوک روایت کے مطابق فقیر نے وہ سوال کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ اس نے بادشاہ کا سر مانگ لیا۔ رائے ڈیاچ نے اپنا وعدہ نبھایا، اور اپنے قول کی حفاظت میں اپنا سر کٹوا کر فقیر کے حوالے کردیا۔
کماچ کے سُروں پر دیا گیا یہ ‘سر دان’ سندھ کی تاریخ کا وہ باب ہے جو آہستہ سے سنایا جاتا ہے مگر کبھی بھلایا نہیں جاتا۔
آج، جب کہ کماچ بجانے والے ماہر فنکار صرف چند رہ گئے ہیں، یہ ساز اپنا ورثہ بچانے کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ سندھ میں استاد عبداشکور چند فنکاروں میں ایک ہیں جو آج بھی کماچ بجانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ عمر رسیدی کے باعث اب وہ قلیل اور انہوں نے اپنے بیٹے اصغر کو بھی یہ فن سکھایا ہے، جو آج محفلوں میں اس ساز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
اس ویڈیو میں ہم آپ کو سنائیں گے اور دکھائیں گے کہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے دور سے بھی پہلے بجایا جانے والا یہ قدیم ساز کیسے زندہ ہے، اس کے سُر کیسے ہیں، اور اسے بجانے والے فنکار اسے کیسے روح دیتے ہیں۔
