Tag: بادشاہ

  • سورہیہ بادشاہ کی شہادت کے وقت اہم سیاسی جماعتوں کا کردار

    سورہیہ بادشاہ کی شہادت کے وقت اہم سیاسی جماعتوں کا کردار

    1885 میں قائم ہونے والی آل انڈیا کانگریس کا سالانہ اجلاس ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوتا تھا۔ 1940 کا کانگریس اجلاس رام گڑھ میں منعقد ہوا، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کو آل انڈیا کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا۔ اسی اجلاس کے موقع پر گاندھی جی نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    اس تحریک پر انگریز حکومت سخت برہم ہو گئی اور مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد سمیت کانگریس کی پوری مرکزی قیادت اور سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ تمام رہنما دوسری جنگِ عظیم کے تقریباً پورے عرصے میں قید رہے، اسی وجہ سے اس پورے عرصے کے دوران کانگریس کا کوئی بھی سالانہ اجلاس منعقد نہ ہو سکا۔

    کانگریس کا اگلا اجلاس چھ سال بعد 1946 میں میرٹھ میں منعقد ہوا، جس میں حیدرآباد سندھ میں پیدا ہونے والے جیوت رام بھگوان داس کرپالانی کو کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا۔

    چوں کہ جس وقت حروں کے خلاف انگریزوں کی پرتشدد کارروائیاں جاری تھیں، اس پورے عرصے میں کانگریس خود سخت پابندیوں اور گرفتاریوں کا شکار تھی، اس لیے کانگریس کے ریکارڈ میں حر تحریک اور سورہیہ بادشاہ کی شہادت کے بارے میں کوئی قرارداد نہیں ملتی۔

    اسی طرح برصغیر کی دوسری بڑی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا تیرہواں سالانہ اجلاس سورہیہ بادشاہ کی شہادت کے تقریباً ایک ماہ بعد، 24 سے 26 اپریل 1943 کو قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں دہلی میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں کل تیرہ قراردادیں منظور کی گئیں، جن میں سے تین قراردادیں سورہیہ بادشاہ کی شہادت اور سندھ میں مارشل لا سے متعلق تھیں۔ قراردادوں کا اصل متن ذیل میں بعینہٖ پیش کیا جاتا ہے:

    پہلی قرارداد

    آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس حکومت کے اس غیر منصفانہ اقدام کی سخت مذمت کرتا ہے، جس کے تحت پیر صاحب پگارا کو عام عدالت کے بجائے مارشل لا کورٹ کے فیصلے کے ذریعے سزائے موت دی گئی اور اس پر عمل بھی کیا گیا۔ حتیٰ کہ مارشل لا کے نفاذ سے پہلے کے جرائم کو بھی مارشل لا عدالتوں میں چلایا گیا۔

    اس قرارداد کا تجویز کنندہ مولانا عبدالحمید اور تائید کنندہ نوابزادہ لیاقت علی خان تھے۔

    دوسری قرارداد

    آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ مارشل لا ضوابط کے تحت مرحوم پیر صاحب پگارا کی ضبط کی گئی تمام دولت، جائیداد اور امانتیں مسلمانوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے حوالے کی جائیں، اور اس ضمن میں حکومتِ سندھ کو پابند کیا جائے کہ وہ اس جائیداد کو مسلمانوں کی فلاح و بہبود اور مرحوم پیر صاحب کے ورثاء کی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔

    اس قرارداد کا تجویز تجویز کنندہ پیر غلام مصطفیٰ جیلانی اور تائید کنندہ نواب صادق علی خان (ناگپور) تھے۔

    تیسری اور آخری قرارداد

    تیسری اور آخری قرارداد سندھ اسمبلی کے رکن اور آل انڈیا مسلم لیگ صوبہ سندھ کے صدر جناب جی۔ ایم۔ سید نے پیش کی، جو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس قرارداد کا متن یہ تھا: ‘اس وقت سندھ میں گزشتہ تقریباً ایک سال سے مارشل لا نافذ ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے عوام، بالخصوص مسلمانوں کو شدید مشکلات اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    ‘مرکزی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں سخت احتجاج کے باوجود حکومت نے مستقبل قریب میں مارشل لا کے خاتمے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ اجلاس عوامی امنگوں کے خلاف مسلط کیے گئے مارشل لا کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ سندھ میں نافذ مارشل لا فوراً واپس لیا جائے۔’

    اس قرارداد کا تجویزتجویز کنندہ جی۔ ایم۔ سید (رکن، سندھ قانون ساز اسمبلی) تھے اور یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

  • بادشاہ کا سر لینے والے کماچ ساز کو تھر کے فنکار کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

    بادشاہ کا سر لینے والے کماچ ساز کو تھر کے فنکار کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

    تھر کے صحرا کے فنکار ایک ایسے ساز کو صدیوں سے زندہ رکھے ہوئے یہ ساز اپنی مدھم مگر جادوئی آواز جسے سن کر وقت تھم جاتا ہے۔

    کماچ نایاب تار والا ساز، جس کا گول تراشا ہوا لکڑی کا طاس اپنی گہری گونج کے ساتھ دل میں گھر کر لیتا ہے۔
    اس کی آواز میں وہ درد، وہ ہجر، اور وہ جذبہ ہے جو صدیوں سے سندھ کی زبانی روایت کا حصہ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کماچ کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک داستان ہوتے ہیں۔

    اسی کماچ کے سُروں نے ایک ایسا واقعہ جنم دیا جو آج بھی سندھ کی لوک کہانیوں، صوفی شاعری اور لوک ورثے میں زندہ ہے۔

    روایت ہے کہ قدیم دور کے بادشاہ رائے ڈیاچ کماچ کے مداح تھے۔ سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے بھی اپنی شاعری میں رائے ڈیاچ اور ان کے سر دان کرنے کا ذکر کیا ہے۔

    کہانی یوں ہے کہ مخالف بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک چاران فقیر کماچ لے کر رائے ڈیاچ کے محل کے باہر پہنچا۔ جب اس نے کماچ کے تار چھیڑے، تو ساز کی گونج ایسی تھی جیسے صحرا کا پورا آسمان سُروں میں تبدیل ہوگیا ہو۔

    رائے ڈیاچ اس آواز سے اتنے مسحور ہوئے کہ فقیر کو اندر بلا لیا۔ ساز کے سُر سن کر بادشاہ نے فقیر سے کہا کہ جو چاہو مانگ لو۔

    لوک روایت کے مطابق فقیر نے وہ سوال کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ اس نے بادشاہ کا سر مانگ لیا۔ رائے ڈیاچ نے اپنا وعدہ نبھایا، اور اپنے قول کی حفاظت میں اپنا سر کٹوا کر فقیر کے حوالے کردیا۔

    کماچ کے سُروں پر دیا گیا یہ ‘سر دان’ سندھ کی تاریخ کا وہ باب ہے جو آہستہ سے سنایا جاتا ہے مگر کبھی بھلایا نہیں جاتا۔

    آج، جب کہ کماچ بجانے والے ماہر فنکار صرف چند رہ گئے ہیں، یہ ساز اپنا ورثہ بچانے کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ سندھ میں استاد عبداشکور چند فنکاروں میں ایک ہیں جو آج بھی کماچ بجانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ عمر رسیدی کے باعث اب وہ قلیل اور انہوں نے اپنے بیٹے اصغر کو بھی یہ فن سکھایا ہے، جو آج محفلوں میں اس ساز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    اس ویڈیو میں ہم آپ کو سنائیں گے اور دکھائیں گے کہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے دور سے بھی پہلے بجایا جانے والا یہ قدیم ساز کیسے زندہ ہے، اس کے سُر کیسے ہیں، اور اسے بجانے والے فنکار اسے کیسے روح دیتے ہیں۔