جب ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے اپریل 2023 میں 39 کلومیٹر طویل شاہراہِ شہید ذوالفقار علی بھٹو، جسے پہلے ملیر ایکسپریس وے کہا جاتا تھا، کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کیا تو سندھ حکومت نے اس منصوبے کو سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
منصوبے سے متاثرہ افراد کی تنظیم انڈیجینس رائٹس الائنس (آئی آر اے) نے ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر کو اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ اس سے ملیر ندی کا قدرتی ماحول متاثر ہوگا۔ تنظیم کے ان خدشات کے تناظر میں 2025 کی شدید بارشوں کے دوران ملیر ندی کے ماحول اور سیلابی صورت حال پر بھی سوالات اٹھے۔
تاہم، ایشیائی ترقیاتی بینک منصوبے کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے سے پہلے ہی انکار کر چکا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سندھ حکومت نے نجی شعبے سے سرمایہ کاری حاصل کرکے منصوبے پر کام جاری رکھنے کا راستہ اختیار کیا۔ منصوبے کے ڈیزائن میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور آئی آر اے کے بعض تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی۔
سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ ملیر ایکسپریس وے ان منصوبوں میں شامل ہے جنہیں سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مکمل کیا جا رہا ہے۔ بالآخر یہ منصوبہ مجموعی طور پر 60 ارب 70 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا۔
تاہم، ملیر ایکسپریس وے سندھ حکومت کا پہلا سرکاری و نجی شراکت داری کا منصوبہ نہیں تھا۔ صوبائی حکومت اس طریقۂ کار کے تحت پہلے بھی کئی منصوبے مکمل کر چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر منصوبے مختلف مراحل میں ہیں۔
نجی سرمایہ کاری کے ساتھ مالی خطرات بھی جڑے ہیں
سرکاری و نجی شراکت داری، جسے انگریزی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مختصراً پی پی پی کہا جاتا ہے، کا بنیادی تصور یہ ہے کہ حکومت کسی منصوبے کی تعمیر، مالی معاونت، انتظام یا دیکھ بھال کے لیے نجی شعبے کو شریک کرتی ہے۔ اس طریقۂ کار سے حکومت کو ابتدا ہی میں پورا سرمایہ اپنے وسائل سے فراہم نہیں کرنا پڑتا اور نجی شعبے کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
لیکن نجی سرمایہ کاری کا مطلب یہ نہیں کہ منصوبے کی لاگت ختم ہوگئی یا حکومت کی مالی ذمہ داری باقی نہیں رہی۔ معاہدے کی نوعیت کے مطابق ان اخراجات کی ادائیگی بالآخر حکومت، عوام یا ٹیکس دہندگان کو کسی نہ کسی صورت میں کرنا پڑ سکتی ہے۔
مالی وسائل کی محدود دستیابی حکومت کو ایسی نجی سرمایہ کاری قبول کرنے سے نہیں روکنی چاہیے جو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کرنے میں مدد دے سکتی ہو۔ تاہم، مالی مشکلات کو سرکاری و نجی شراکت داری کا ایسا ذریعہ بھی نہیں بننا چاہیے جس کے ذریعے آج کے اخراجات کو مستقبل کی مالی ذمہ داریوں میں تبدیل کر دیا جائے۔
پاکستان میں نجی بجلی گھروں، یعنی انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز)، کا تجربہ اس حوالے سے اہم ہے۔ بجلی کے شعبے میں معاہدوں، ادائیگیوں اور لاگت سے متعلق مسائل کے باعث گردشی قرضہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ نجی سرمایہ کاری حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ معاہدوں کی شرائط، مستقبل کے اخراجات اور حکومت کی ادائیگی کی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو سرکاری و نجی شراکت داری کے مزید منصوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا درست منصوبوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے؟ کیا تعمیر، دیکھ بھال اور پوری مدت کے اخراجات کو شامل کرکے دیکھا جائے تو یہ منصوبے روایتی سرکاری طریقۂ کار کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں؟ کیا حکومت ان مالی خطرات کو سمجھتی ہے جو معاہدوں کے تحت اس کے ذمے رہتے ہیں؟ اور کیا وہ مستقبل میں ان اخراجات کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟
پاکستان کو نجی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن بنیادی ڈھانچے کی اشد ضرورت بھی اس حقیقت کو مزید اہم بناتی ہے کہ منصوبوں کی مالی منصوبہ بندی درست ہو۔ آئی پی پیز کا تجربہ پالیسی سازوں کو یاد دلاتا ہے کہ سرمایہ کاری متحرک کرنا اس پورے عمل کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔
آج کے ترقیاتی بجٹ سے کسی خرچ کو نکال دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے جڑے مالی خطرات بھی مستقبل میں ختم ہو جائیں گے۔

سندھ میں بنیادی سہولتوں کے لیے متعدد منصوبے
ان خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ حکومت کو مستقبل کی مالی ذمہ داریوں کی پیش بندی بھی کرنی چاہیے، کیونکہ صوبائی حکومت صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، پانی کی فراہمی، گندے پانی کی صفائی، صنعتی ترقی، جنگلات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں پی پی پی کے تحت منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر گفتگو کرتے ہوئے سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبوں کے لیے 109 ارب روپے مختص کرنے کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اس ضمن میں کیٹی بندر بندرگاہ، سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اور گرین انرجی ڈیٹا سینٹر جیسے بڑے منصوبوں کا بھی ذکر کیا تھا، جنہیں سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔
محکمہ خزانہ سندھ کے تحت قائم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق، ان منصوبوں میں سے کچھ مکمل ہو چکے ہیں یا فعال ہیں، بعض زیرِ تعمیر ہیں، جبکہ متعدد منصوبے سرمایہ کاروں سے پیشکشیں طلب کرنے، فزیبلٹی کی تیاری یا ابتدائی منظوری کے مراحل میں ہیں۔
ان منصوبوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں جنگلات کی بحالی، دریائے سندھ پر گھوٹکی۔ کندھ کوٹ پل، کراچی میں ماربل سٹی اور این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک شامل ہیں۔
ماضی میں سندھ حکومت نے دریائے سندھ پر جھرک۔ ملاں کاتیار پل کی تعمیر سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کی تھی۔ تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس منصوبے میں الجسر پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے نجی شراکت دار کے طور پر حصہ لیا، جبکہ محکمہ ورکس اینڈ سروسز سندھ اس منصوبے سے وابستہ سرکاری محکمہ تھا۔
یہ پل اور اس سے منسلک تقریباً 25 کلومیٹر طویل سڑک فروری 2017 میں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی۔ اس منصوبے کا مقصد دریائے سندھ کے دونوں اطراف آمدورفت کو آسان بنانا اور علاقے کے لوگوں کو بہتر سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔
تاہم، منصوبے کے مالی ڈھانچے، سرکاری ادائیگیوں اور نجی شراکت دار کی سرمایہ کاری کی مکمل تفصیلات کا جائزہ لیے بغیر اس کی مجموعی مالی لاگت اور حکومت پر پڑنے والے بوجھ کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح تھر میں کوئلے کے منصوبوں کی معاونت کے لیے بھی کئی منصوبے سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت مکمل کیے گئے ہیں، جن میں مائی بختاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، جامشورو اور مٹیاری میں دریائی جنگلات کی بحالی کا ایک بڑا منصوبہ پی پی پی کے تحت جاری ہے، جس کی تخمینہ شدہ لاگت 32 ارب روپے ہے۔
اس منصوبے کا مقصد 35 ہزار ہیکٹر رقبے پر دریائی جنگلات بحال کرنا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اور کاربن کریڈٹ کے ذریعے آمدنی کے امکانات پیدا کرنا ہے۔ اگر منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد ہوتا ہے تو اس سے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کاربن کریڈٹ سے آمدنی بھی حاصل کر سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار منصوبے کے نتائج اور کاربن کریڈٹ کے متعلقہ ضوابط پر ہوگا۔
گھوٹکی۔ کندھ کوٹ پل کا منصوبہ شمالی سندھ کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کی کل لاگت 46 ارب 13 کروڑ روپے درج ہے۔ اس کے تحت دریائے سندھ پر پل اور رابطہ سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ اس کی تکمیل سے دونوں علاقوں کے درمیان سفر کا فاصلہ کم ہونے اور بالائی سندھ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
تاہم، اس کے حقیقی فوائد کا انحصار تعمیراتی معیار، لاگت پر قابو، بروقت تکمیل اور عوام کے لیے سفری سہولتوں پر ہوگا۔

صحت، تعلیم، پانی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبے
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی سرکاری و نجی شراکت داری کے متعدد منصوبے موجود ہیں۔ ان میں کراچی کے بچوں کے اسپتال، بدین کے ڈاکٹر سکندر علی مندھرو سول اسپتال، علاقائی خون مراکز اور سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی اداروں کی شرکت شامل ہے۔
نجی شعبے کو ان خدمات کے انتظام میں شریک کرنے سے سہولتوں کا معیار بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن حکومت کی ذمہ داری صرف انتظامی اختیارات نجی اداروں کو سونپنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسے علاج کے معیار، اسکولوں میں تعلیم، خدمات کی دستیابی اور غریب خاندانوں کے لیے ان سہولتوں کے حصول میں استطاعت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ بالخصوص صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں عوامی مفاد کو مالی منافع پر ترجیح دینا ضروری ہے۔
پانی کی قلت اور نکاسی آب کے مسائل سے دوچار کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے لیے بھی کئی منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں کراچی کے لیے سمندری پانی صاف کرنے کا پلانٹ شامل ہے، جس کی مجوزہ گنجائش روزانہ 50 لاکھ گیلن ہے۔ اس کے علاوہ سکھر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور کراچی میں گندے پانی کو صاف کرکے دوبارہ استعمال کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
ان منصوبوں کی تکمیل سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی بہتر بنانے اور پانی کے ضیاع میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، ان کے لیے سرمایہ کاری کے انتظام، پانی کی قیمت، بجلی کے اخراجات اور طویل مدتی دیکھ بھال کے معاملات پہلے سے واضح کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں پر ناقابلِ برداشت مالی بوجھ نہ پڑے۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کراچی اور حیدرآباد کے لیے 500 بجلی سے چلنے والی بسوں کی فراہمی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ان میں کراچی کے لیے 450 اور حیدرآباد کے لیے 50 بسیں مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ کراچی کے یلو لائن بس منصوبے کے لیے بسوں کی فراہمی، ان کے آپریشن اور دیکھ بھال سے متعلق منصوبہ بھی درج ہے۔ برقی بسیں شہری آلودگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن اس مقصد کے حصول کے لیے قابلِ اعتماد خدمات، مناسب راستے، باقاعدہ دیکھ بھال اور عام شہریوں کی پہنچ میں کرائے ضروری ہیں۔
سندھ حکومت کے کئی دوسرے منصوبے فزیبلٹی کے مرحلے میں ہیں۔ ان میں صنعتی مراکز، فنی تربیت کے اداروں کا انتظام نجی شعبے کے حوالے کرنا، غیر رسمی تعلیم کا فروغ، اسکولوں میں شمسی توانائی کی تنصیب، مویشیوں کے جدید فارم اور گاڑیوں کی فٹنس جانچ کے مراکز شامل ہیں۔ اسی طرح فطرت پر مبنی سیاحت، سکھر۔ روہڑی پل، پلازما سے ادویات تیار کرنے کی سہولت اور اساتذہ کی تربیت کے ادارے سے متعلق منصوبے بھی ابتدائی طور پر منظور شدہ تصورات کی فہرست میں شامل ہیں۔
شفاف معاہدے اور عوامی جواب دہی ناگزیر
کسی منصوبے کا اعلان ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے، اس کے لیے مکمل مالی وسائل دستیاب ہیں یا کسی نجی سرمایہ کار کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے۔ فزیبلٹی کی تیاری، ابتدائی منظوری، سرمایہ کاروں سے پیشکشیں طلب کرنا، تعمیر اور منصوبے کا فعال ہونا الگ الگ مراحل ہیں۔ اس لیے ہر منصوبے کی موجودہ حیثیت اور پیش رفت کی تصدیق ضروری ہے۔
سندھ میں پی پی پی منصوبوں کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ہر منصوبے کی مجموعی لاگت، نجی سرمایہ کار کی ذمہ داریوں، سرکاری ضمانتوں، ممکنہ سبسڈی، صارفین سے وصول کیے جانے والے معاوضوں اور معاہدے کی مدت کی تفصیلات واضح کرے۔
منصوبوں کے لیے بولی کے عمل اور معاہدوں کی اہم شرائط عوام کے سامنے لائی جائیں اور آزادانہ نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔ تمام مراحل شفاف انداز میں مکمل کرنا لازمی ہے۔
اگر کسی منصوبے میں حکومت نے مستقبل میں ادائیگیوں کی ضمانت دی ہے تو ان ذمہ داریوں کو بھی مالی منصوبہ بندی میں شامل کرنا چاہیے۔ اسی طرح منصوبوں کے انتخاب میں صرف سرمایہ کاری کی دستیابی کو بنیاد بنانے کے بجائے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا متعلقہ منصوبہ عوام کی حقیقی ضرورت پوری کرتا ہے اور کیا اسے روایتی سرکاری طریقۂ کار کے تحت مکمل کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس کے علاوہ، تمام سرکاری منصوبوں، خاص طور پر پی پی پی کے تحت تعمیر ہونے والے منصوبوں کے آغاز سے پہلے ان کے ماحول پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ متعلقہ قوانین کے تحت جہاں ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) لازم ہو، وہاں اسے مستند ادارے سے کرانا اور اس کے نتائج کو منصوبہ بندی میں شامل کرنا چاہیے۔
نجی شعبے کی سرمایہ کاری سندھ میں بنیادی سہولتوں کی بہتری کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے شفاف معاہدے، درست منصوبہ بندی اور عوامی جواب دہی ناگزیر ہیں۔ اگر آج کے ترقیاتی اخراجات کو کم ظاہر کرنے کے لیے مستقبل کی مالی ذمہ داریوں کو نظرانداز کیا گیا تو اس کی قیمت آنے والے برسوں میں حکومت اور عوام دونوں کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
ترقی کی کامیابی کا اصل معیار منصوبوں کی تعداد یا ان پر خرچ ہونے والی رقم نہیں، بلکہ ان کے ذریعے عوام کو ملنے والی بہتر، قابلِ اعتماد اور سستی سہولتیں ہیں۔ سرکاری و نجی شراکت داری اسی وقت مفید ثابت ہو سکتی ہے جب اس سے حکومت کے وسائل کا بہتر استعمال ہو، مالی خطرات قابو میں رہیں اور عوام کو طویل مدت تک اس کے فوائد حاصل ہوں۔

