پانی کے ماہرین، ماحولیاتی ماہرین، انسانی حقوق اور اقلیتی حقوق کے کارکنوں اور سرکاری حکام نے سندھ کی پوری آبادی کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صاف پانی تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں اور انتظامی خامیوں کے باعث سندھ کے عوام آلودہ پانی، قلت اور پینے کے صاف پانی کی ناکافی فراہمی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
پانی اور انسانی حقوق کے موضوع پر منعقدہ مشاورتی اجلاس میں کہی گئی۔ اجلاس کا اہتمام قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) اور یورپی یونین کے اشتراک سے کیا۔ اس میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال اور قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے بھی تعاون کیا۔
اجلاس سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن رابعہ جویری آغا، کمیشن میں تحقیق اور معلومات کی تیاری کی سربراہ زویا رحمان، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کی پروگرام سربراہ ماہَم آفریدی اور ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام نے خطاب کیا۔
اجلاس میں محکمہ جنگلات کے چیف کنزرویٹر ریاض احمد وگن، محکمہ آبپاشی اور سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے نمائندوں سمیت سول سوسائٹی کے کارکنوں، محققین اور پانی کے ماہرین نے شرکت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ مشاورتی اجلاس پاکستان میں پانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف صوبوں اور اسلام آباد میں مشاورت کی جا رہی ہے۔ ان اجلاسوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایک جامع قومی رپورٹ تیار کی جائے گی، جس میں انسانی حقوق سے متعلق اہم مسائل، ادارہ جاتی خامیوں اور ان کے حل کے لیے تجاویز شامل ہوں گی۔
اجلاس میں سندھ میں پانی کی قلت اور غیر منصفانہ تقسیم کے اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے دریائے سندھ میں کوٹری بیراج کے نیچے میٹھے پانی کے بہاؤ میں کمی، ساحلی علاقوں میں سمندری پانی کی پیش قدمی اور زمین میں نمکیات کی مقدار بڑھنے کے مسائل پر تشویش ظاہر کی۔ ان مسائل سے ماہی گیری، زراعت، مینگرووز کے جنگلات اور ساحلی آبادیوں کے روزگار کو پہنچنے والے نقصانات بھی زیرِ بحث آئے۔
شرکا نے کہا کہ پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث نہری نظام کے آخری سرے پر واقع علاقوں کے کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نہروں کے ابتدائی حصوں میں پانی کی دستیابی اور آخری حصوں تک پانی کی رسائی کے درمیان فرق چھوٹے کسانوں اور ہاریوں کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ پانی کی کمی، زمین میں سیم و تھور اور زرعی پیداوار متاثر ہونے سے دیہی آبادی کے روزگار اور غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

اجلاس میں کراچی میں پانی کی فراہمی اور تقسیم کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ شرکا نے شہر میں پانی کی بڑی پائپ لائنوں سے محلوں تک فراہمی، پانی کے ٹینکروں پر بڑھتے ہوئے انحصار اور پانی کی قیمتوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا جائزہ لیا۔ غیر رسمی آبادیوں میں پینے کے پانی اور نکاسی آب کی سہولتوں کی کمی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔
تھرپارکر میں زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے کھارے پن اور دیہی و شہری علاقوں میں پانی کے معیار سے متعلق مسائل پر بھی توجہ دی گئی۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے ساتھ اس کے معیار کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے، تاکہ لوگوں کو ایسا پانی دستیاب ہو جو ان کی صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔
اجلاس میں سیلاب اور خشک سالی کے دوران صاف پانی کی مسلسل فراہمی، تباہ شدہ آبی منصوبوں کی بحالی اور پانی کے معیار سے متعلق معلومات عوام تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔ شرکا کے مطابق پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، عوام کی شمولیت اور شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام ضروری ہے۔
اجلاس کے دوران قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی جانب سے پانی اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، جس کے بعد سینیئر ماحولیاتی صحافی عافیہ سلام کی زیرِ نگرانی مکالمہ ہوا۔
اس موقع پر شرکا نے سندھ کے مختلف علاقوں کے تجربات اور شواہد کی روشنی میں موجودہ پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔
سول سوسائٹی کی جانب سے سیمی کمال، عمر کریم، ذوالفقار ہالیپوٹو، ناصر پنہور، زاہد فاروق، یاسر دریا، شجاع الدین قریشی، سعید بلوچ اور حفیظ بلوچ سمیت دیگر افراد نے سندھ میں پانی کی دستیابی، تقسیم اور معیار سے متعلق مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شرکا نے اس ضرورت پر زور دیا کہ سندھ میں پانی کی فراہمی، معیار، رسائی اور قیمتوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے واضح ذمہ داریاں متعین کی جائیں اور سرکاری اداروں کے احتساب کو مؤثر بنایا جائے، تاکہ ہر شہری کو صاف اور محفوظ پینے کا پانی میسر آ سکے۔

