Tag: پانی

  • پانی کا عالمی دن:  گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن: گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے

    پانی کا عالمی دن، 22 مارچ 2026، ہمارے لیے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت کا آئینہ ہے۔ اس بار موضوع ‘پانی اور جنسی مساوات’ ہے، مگر پاکستان کے تناظر میں یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ کیا پانی واقعی سب کے لیے برابر ہے، یا یہ بھی طاقت، پیسے اور اثر و رسوخ کے تابع ہو چکا ہے؟

    ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں زیادہ تر گھروں میں پانی نل سے نہیں، قسمت سے آتا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ اس قسمت کو بھی اب خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔

    پانی کی منڈی محض شرمندگی نہیں، ایک اجتماعی ناکامی کی علامت بن چکی ہے۔ شاید ہم دنیا کے ان چند معاشروں میں شامل ہیں جہاں سرکاری ناکامی کو اس جملے سے جائز ٹھہرایا جاتا ہے کہ ‘ہم تو خود بھی ٹینکر کا پانی استعمال کرتے ہیں’۔ گویا پیغام واضح ہے، واٹر ٹینکر اب مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نیا معمول ہیں۔

    جب پانی خریدنا روزمرہ کا حصہ بن جائے، جب مفت ٹینکر کے لیے سفارش ڈھونڈی جائے، جب گھروں کے باہر کھڑے ٹینکر حیثیت کی علامت بن جائیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف قلت کا نہیں، اجتماعی بے حسی کا بھی ہے۔ ہم نے پانی کو حق نہیں، سہولت بنا دیا ہے، اور وہ سہولت بھی صرف اسی کے لیے ہے جس کے پاس پیسہ یا رسائی ہو۔

    اعداد و شمار خاموش ہیں مگر خطرناک۔ چند دہائیوں پہلے پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی پانچ ہزار مکعب میٹر کے قریب تھی، آج یہ کم ہو کر ایک ہزار کے آس پاس رہ گئی ہے۔ یہ محض کمی نہیں، ایک واضح انتباہ ہے جسے ہم مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔

    دریائے سندھ، جو ہماری زراعت اور معیشت کی شہ رگ ہے، اس کے بہاؤ میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔ دوسری طرف ہم زیر زمین پانی کو اس رفتار سے نکال رہے ہیں جیسے ہر دن آخری ہو۔ دنیا بھر میں اربوں لوگ ایسے ممالک میں رہ رہے ہیں جہاں پانی کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس عالمی بحران سے کچھ سیکھا، یا ہم بھی خاموشی سے اسی تباہی کو معمول بنا چکے ہیں؟

    جب پانی کی قلت کی بات ہوتی ہے تو اکثر ڈیم، نہریں اور بارشیں زیر بحث آتی ہیں، مگر ایک حقیقت مسلسل نظر انداز ہوتی ہے۔ دیہی پاکستان میں آج بھی پانی لانا زیادہ تر خواتین اور بچیوں کی ذمہ داری ہے۔ وہ میلوں پیدل چلتی ہیں، صرف اس لیے کہ گھر میں پانی ہو۔

    لیکن جب پانی کی پالیسیاں بنتی ہیں تو وہ کمرے ان کے بغیر بھرے ہوتے ہیں۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جو مسئلے کو بھگتتے نہیں، صرف اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جہاں انصاف ختم ہو جاتا ہے۔

    پاکستان ایک عجیب تضاد کی تصویر ہے۔ ایک طرف سیلاب اربوں گیلن پانی سمندر میں بہا دیتے ہیں، دوسری طرف شہر پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں۔

    کراچی جیسے شہر میں پانی کی لائنیں صرف پانی نہیں، طاقت کی تقسیم بھی ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ کہیں پانی چوری ہوتا ہے، کہیں بیچا جاتا ہے، کہیں روکا جاتا ہے، اور کہیں لوگ قطاروں میں کھڑے رہ کر صرف اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور غیر رسمی نظام مضبوط ہو جاتا ہے۔

    ہم اکثر پانی کے مسئلے کو سرحدی تنازعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے دریا پہلے خود کمزور کیے ہیں۔ جب ملک کے اندر ہی پانی کی منصفانہ تقسیم ممکن نہ ہو، جب صوبوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، جب ڈیٹا بھی متنازع ہو جائے، تو بیرونی خطرات پر شور مچانا آسان ہو جاتا ہے، حل تلاش کرنا نہیں۔

    پانی پر سیاست کرنا آسان ہے، پانی کو سنبھالنا مشکل۔

    وجوہات سب کے سامنے ہیں مگر سنجیدگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ آبادی بڑھ رہی ہے مگر ذخائر نہیں، موسمیاتی تبدیلی بارشوں کے نظام کو بدل رہی ہے مگر ہماری منصوبہ بندی وہی پرانی ہے۔ آبی نظم و نسق بکھرا ہوا ہے، ادارے مختلف سمتوں میں چل رہے ہیں، اور ہم سب مل کر پانی کو ایسے استعمال کر رہے ہیں جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

    یہ سوال حکومت سے بھی ہے اور ہم سب سے بھی۔ اگر ایک قوم پانی کے مسئلے کا حل ٹینکر خریدنے میں دیکھے، اگر شہری اپنی بقا کو نجی انتظامات سے جوڑ لیں، اگر ریاست کی ذمہ داری کو ذاتی سہولت سے بدل دیا جائے، تو پھر کسی پالیسی، کسی ڈیم یا کسی منصوبے سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ یہ صرف ناکامی نہیں، ایک خطرناک معمول بن چکا ہے۔

    اب بھی وقت ہے، مگر زیادہ نہیں۔ حل موجود ہیں مگر ارادہ کمزور ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے، زراعت کو جدید بنایا جا سکتا ہے، شہری نظام کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

    مگر سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پانی کوئی لگژری نہیں بلکہ بنیادی حق ہے، اور حق کو بازار کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ہم کب تک پانی کو قسمت پر چھوڑے رکھیں گے؟ کب تک ٹینکر ہمارے نظام کا متبادل رہیں گے؟ کب تک ایک بچی پانی کے لیے اسکول چھوڑتی رہے گی؟ اور کب تک ہم یہ سمجھتے رہیں گے کہ یہ مسئلہ کسی اور کا ہے؟

    اگر پانی ختم ہو گیا تو باقی سب بحثیں بے معنی ہو جائیں گی۔

    یہ وقت ہے کہ ہم خود سے سچ بولیں۔ پانی کا بحران صرف وسائل کا نہیں، ضمیر کا بھی ہے۔