بے نظیر بھٹو کا قافلہ چیونٹی کی رفتار سے کراچی ایئرپورٹ کے حج ٹرمینل سے اسٹار گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میں بھی صحافی ساتھیوں کے ساتھ ایک گاڑی پر سوار، بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے پیچھے پیچھے تھا۔
بے نظیر بھٹو جس کنٹینر ٹرک میں سوار تھیں، وہ اسٹار گیٹ سے مڑتے ہوئے شارع فیصل کی طرف رخ کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ کنٹینر کی چھت پر بنے ایک پلیٹ فارم پر کوئی صاحب نماز پڑھ رہے ہیں۔ غالباً مغرب کی نماز تھی۔ غور کرنے پر اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت کے پیپلز پارٹی کے رہنما میاں مٹھو ہیں۔
قافلہ شارع فیصل پر آگے بڑھ رہا تھا۔ رفتار شاید چیونٹی سے بھی سست ہو کر کچھوے یا گھونگھے تک پہنچ گئی تھی۔ اردگرد پیپلز پارٹی کے ہزاروں کارکنوں کا اژدھام تھا۔ بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کو جن جیالوں نے گھیر رکھا تھا، ان کے سروں پر پٹیاں تھیں۔ ان پٹیوں پر لکھا تھا ’جانثاران بے نظیر‘۔
اب میں بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے عین پیچھے موجود ایک ٹرک کی ڈرائیور سائیڈ والی چھت پر کھڑا تھا۔ میرے ساتھ اس وقت خیبر ٹی وی پشتو کے بیورو چیف رحمان بونیری اور آج ٹی وی کے کیمرہ مین شہادت بلوچ بھی تھے۔
میں نے دائیں طرف دیکھا تو ایک کھلے کنٹینر ٹرک پر نوائے وقت کے چیف رپورٹر یوسف خان اور ایک اور سینئر صحافی جاوید چوہدری بھی نظر آئے۔ یوسف بھائی کو دیکھ کر خیال آیا کہ ماشاء اللہ، اس عمر میں بھی کیسے تروتازہ ہیں، چہرے پر تھکن کے کوئی آثار نہیں۔
انہیں دیکھ کر اپنی تھکن بھی کچھ کم ہوئی یا کم از کم شرمندگی ہوگئی کہ یوسف بھائی ڈٹے ہوئے ہیں تو ہم تو جوان جہان ہیں۔
کام کی سختی یا تھکن کی شکایت بڑی بدنصیبی کی بات ہوتی، کیونکہ یہ کتنا بڑا موقع تھا۔ ملک میں پھر جمہوریت آ رہی تھی۔ ایک اتنی بڑی رہنما کا ایسا تاریخی استقبال ہو رہا تھا اور ہم اس تاریخی استقبال کے گواہ تھے۔ ہم اپنے سامنے تاریخ بنتے دیکھ رہے تھے۔

ہمارا ٹرک بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل پیچھے پیچھے تھا۔ اچانک میری نظر پڑی کہ کنٹینر دائیں جانب جھک رہا ہے۔ پتا نہیں یہ نظر کا دھوکا تھا یا واقعی ایسا ہو رہا تھا۔ میری انگلیاں مسلسل اپنے موبائل فون پر تھیں اور میں کھٹ کھٹ ٹکر ٹائپ کرکے اپنے چینل کو بھیج رہا تھا۔
لیکن یہ ٹکر نہیں بھیجا۔ کچھ دیر بعد مجھے لگا کہ کنٹینر سیدھا ہوگیا ہے۔ میری جان میں جان آئی۔
اب تاریکی کافی بڑھ چکی تھی۔ میں حیران تھا کہ آج شارع فیصل کی تمام اسٹریٹ لائٹس کیوں بند ہیں۔ عام طور پر تو یہ سڑک بقعہ نور بنی ہوئی ہوتی ہے۔ ہمارے ٹرک کے ساتھ ساتھ لیاری کے جیالوں کا بھی ایک ٹرک تھا، جس پر بلوچی گانے بلند آواز میں چل رہے تھے۔
رحمان بونیری کو اپنے چینل کے لیے بیپر دینا تھا۔ گانوں کی وجہ سے اس کی آواز ٹھیک سے نہیں جا پا رہی تھی۔ چینل سے بار بار فون آ رہا تھا کہ کسی مناسب جگہ سے بیپر دو، لیکن اس وقت یہ ممکن نہیں تھا۔
رحمان نے ذرا چیخ کر لیاری کے جیالوں سے کہا کہ آواز کم کر لیں۔ اس کے جواب میں دوسری طرف سے کوئی سخت جملہ آیا، شاید کسی نے گالی بھی دی۔ اس پر تو رحمان کا بھی میٹر آؤٹ ہوگیا۔ دونوں طرف سے چیخ پکار اور گالم گلوچ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔
ہم نے بڑی مشکل سے رحمان کو خاموش کرایا۔ تب تک اس کا موڈ بالکل آف ہو چکا تھا۔ ہم بھی کھڑے کھڑے کافی تھک گئے تھے۔ جلوس کی سست روی سے اندازہ ہوگیا تھا کہ صبح سے پہلے مزار قائد پر نہیں پہنچیں گے۔ تب ہی کوئی خبر بنے گی اور شاید تب ہی مزید کوئی بیپر ہو سکے گا۔ ہم تینوں نے فیصلہ کیا کہ ٹرک سے اتر کر کسی بس میں بیٹھ جاتے ہیں، کچھ دیر آرام کرکے تازہ دم ہو جائیں گے۔
میں، رحمان اور شہادت اپنے ٹرک کے پیچھے قافلے میں شامل بسوں میں جھانک رہے تھے۔ ایک بس کچھ خالی نظر آئی۔ اندر لیاری کی کچھ بزرگ جیالیاں تھیں۔ ہم نے تعارف کروا کر اجازت مانگی کہ ’کیا ہم کچھ دیر بس میں بیٹھ سکتے ہیں؟‘ خالہ نے بخوشی اجازت دی، ’ہاں ہاں بیٹا، آ جاؤ، بیٹ (بیٹھ) جاؤ۔‘
ہم تینوں بس کی بالکل آخری نشستوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر تو باتیں کرتے رہے، لیکن جانے کب آنکھ لگ گئی۔
اچانک دھماکے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ بس کے دروازے سے آواز آئی، ’تابان، رحمان کو جگاؤ، جلدی! دھماکہ ہوگیا ہے۔‘ میں اور رحمان گولی کی رفتار سے بس کے دروازے کی طرف بڑھے تو خواتین رو اور چلا رہی تھیں۔ اچانک بلوچی لہجے میں ایک مرد نے انہیں تسلی دی، ’کچھ نئیں ہوا، فکر نئیں کرو، پی ایم ٹی پھٹا ہے۔‘
میں نے بھی باہر نکل کر دیکھا تو واقعی بے نظیر کے کنٹینر کے قریب ایک پی ایم ٹی جل رہا تھا۔ ہم صحافی کنٹینر کی طرف بڑھنے لگے تو اے آر وائی نیوز کے کیمرہ مین عارف نے کہا، ’یار، میں ذرا پولیس موبائل سے فوٹیج بناتا ہوں۔‘

وہ موبائل بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے بالکل ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ اس وقت بے نظیر کا کنٹینر اور وہ موبائل، دونوں رکے ہوئے تھے۔ عارف بھاگتا ہوا پولیس موبائل کی طرف گیا۔
شاید وہ موبائل پر سوار ہوگیا تھا یا اس کے انتہائی قریب تھا کہ ایک اور زور دار دھماکہ ہوا۔ عارف اور بہت سے دوسرے لوگوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ میرا موبائل بھی ہاتھ سے چھوٹ کر کہیں دور جا گرا۔ میں سناٹے میں آگیا۔
کچھ دیر کے لیے میرے حواس گم ہوگئے۔ جب کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے اپنے اردگرد کٹے ہوئے بازو، ٹانگیں اور گردنیں دیکھیں۔
ذہنی طور پر میں تقریباً سن ہو چکا تھا۔ بے بسی اور خالی الدماغی کے عالم میں تڑپتے ہوئے زخمیوں اور کٹی پھٹی لاشوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ مجھے پتا بھی نہیں تھا کہ میں آگے کیوں جا رہا ہوں، مجھے کرنا کیا ہے۔
اسی وقت مجھے ایک اور ساتھی رپورٹر سبین آغا نظر آئیں، جو شاید ہم مرد رپورٹروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی سے کھڑی ہوئی تھیں اور ہماری خیریت دریافت کر رہی تھیں۔
میرا موبائل کہیں گر کر ٹوٹ چکا تھا۔ میں دفتر یا گھر، کسی کو خبر نہیں کر سکتا تھا۔ اچانک مجھے کیمرہ مین دانش شکیل نظر آیا۔ وہ تیزی سے میری طرف بڑھا۔ اس نے کہا، ’مجھے ابھی چینل سے فون آیا ہے کہ تمہیں ڈھونڈوں۔ تمہاری کوئی خیر خبر نہیں مل رہی تھی۔ تمہارا فون کہاں ہے؟‘ میں نے بس ہوں ہاں میں اسے جواب دیا۔
دانش نے کہا، ’وہاں دفتر کی گاڑی کھڑی ہے، تم فوراً نکل جاؤ۔‘ پتا نہیں رات کے کتنے بجے تھے۔ میں دفتر کی گاڑی میں بیٹھ کر گھر پہنچ گیا۔
میرے پہنچنے پر گھر والوں کی جان میں جان آئی، لیکن میں انہیں کچھ بھی نہ بتا سکا۔ کچھ بھی نہیں۔ اب یاد نہیں کہ میں سو گیا تھا یا یونہی خالی الدماغی کے عالم میں صبح تک جاگتا رہا۔ دماغ بالکل ماؤف تھا۔ صبح اٹھ کر کچھ کچھ حواس بحال ہوئے تو گھر والوں کو ساری روداد سنائی۔
مجھے شاید اگلے دن ہی پوری طرح سمجھ میں آیا کہ وہ خودکش حملے تھے۔ بے نظیر بھٹو کی جان تو بچ گئی، لیکن کتنے ہی جانثاروں نے ان پر اپنی جان نثار کر دی۔
میرے دل میں اس دن بے نظیر کی عزت اور بڑھ گئی، جب مجھے معلوم ہوا کہ قاتلانہ حملے کے اگلے روز ہی وہ لیاری پہنچ گئی تھیں۔ انہوں نے جاں بحق کارکنوں کے روتے تڑپتے لواحقین کو گلے لگا کر دلاسہ دیا۔ بے نظیر بہت بہادر تھیں، بہت حساس تھیں، لیکن قاتلوں نے ان کی جان لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا، جس پر عمل کرکے ہی دم لیا۔

