پہلا کردار: ہندوستان کی ریاست مشرقی پنجاب کے دارالحکومت امرتسر سے بارہ کلومیٹر دور واقع گاؤں ’جاتی امرتا‘ میں 1920 میں رمضان لوہار کے گھر پیدا ہونے والے میاں شریف، جو آگے چل کر ’اباجی‘کے نام سے مشہور ہوئے، اپنے سات بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ یہ ساتوں بھائی جاتی امرتا میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔
میاں شریف نے جاتی امرتا سے چار کلومیٹر دور واقع گاؤں ’نیویں سرلی‘ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مڈل کی تعلیم خالصہ اسکول امرتسر سے مکمل کرنے کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے، جہاں مسلم ہائی اسکول رام گلی میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے ریکارڈ کے مطابق وہ ان طلبہ میں شامل تھے جنہوں نے غربت کے باعث فیس ادا نہ کرسکنے پر ہیڈ ماسٹر سے فیس معاف کرنے کی درخواست کی تھی۔
میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ کرنے کے لیے وہ اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ صبح کالج جاتے اور شام کو لوہے کی ایک بھٹی پر مزدوری کرتے تھے۔ وہاں کم اجرت ملنے کے باعث انہوں نے وہ بھٹی چھوڑ دی اور اس وقت لاہور میں لوہے کی ایک دوسری بھٹی چلانے والے حاجی دین محمد کے کارخانے، ایم اے ایس اینڈ کمپنی، میں اپنے بھائی میاں شفیع کے ساتھ کام کرنے لگے۔ میاں شفیع اس کارخانے میں فورمین کے طور پر کام کرتے تھے، جبکہ میاں شریف وہاں سانچے بنانے کے مکینک کی حیثیت سے روزانہ چودہ آنے مزدوری کرتے تھے۔
جب دونوں بھائیوں نے کچھ رقم جمع کرلی تو انہوں نے لاہور کے حاجی فیروز دین بھٹی سے 310 روپے میں لوہے کی ایک چھوٹی بھٹی خرید لی۔ وہاں وہ لوہا پگھلا کر چھوٹے اوزار بنانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریلوے روڈ پر ایک ہندو، ملاوا رام، سے ماہانہ تیرہ روپے کرائے پر ایک مکان بھی حاصل کیا، جہاں ساتوں بھائی مل کر رہتے تھے۔
جب اس خاندان کے حالات کچھ بہتر ہوئے تو انہوں نے ریلوے روڈ کا چھوٹا مکان چھوڑ کر ماڈل ٹاؤن میں اپنے گھر تعمیر کروائے۔ 1960 میں یہ خاندان لوہے کی ایک چھوٹی بھٹی سے ترقی کرتے ہوئے ‘بیکو’ (BECO) جیسی بڑی صنعتی فاؤنڈری کا مالک بن گیا۔ اسی دوران انہوں نے ڈھاکا میں بھی کارخانے قائم کیے۔ کاروبار میں وسعت کے پیش نظر میاں خاندان نے لاہور کے قریب کوٹ لکھپت میں ساڑھے پانچ سو ایکڑ وسیع رقبے پر ‘اتفاق فاؤنڈری’ کے نام سے پاکستان کا لوہے کی صنعت سے متعلق سب سے بڑا ادارہ قائم کیا۔
25 دسمبر 1949 کو میاں شریف کے گھر پیدا ہونے والے نواز شریف نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جنرل ضیا الحق کے دور میں کیا۔ اس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی کابینہ میں انہیں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ایک موقع پر جنرل ضیا الحق نے بھی کہا تھا کہ کاش میری زندگی کے دن بھی نواز شریف کو مل جائیں۔ میاں نواز شریف دو مرتبہ اس ملک کے وزیراعظم رہے۔ پہلی مرتبہ صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دیا، جبکہ دوسری مرتبہ جنرل پرویز مشرف سے اختلافات کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
دوسرا کردار: صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں گولچا سینما کے پیچھے واقع علاقے ‘نہر والی سڑک’ پر رہنے والے مشرف الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ مشرف الدین نے اپنی ملازمت کا آغاز محکمہ خارجہ میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ قیام پاکستان کے وقت مشرف الدین اپنی اہلیہ اور تین بیٹوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔
قیام پاکستان کے وقت صدر جنرل پرویز مشرف کی عمر صرف چار سال تھی۔ ان کی والدہ بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ انہوں نے دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے سے ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ کئی سال تک کراچی میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے شعبے، بین الاقوامی محنت کش تنظیم )آئی ایل او(، سے وابستہ رہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے ابتدائی تعلیم ترکی کے شہر انقرہ میں حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول اور لاہور کے فارمین کرسچن اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔ 1961 میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا۔ 1964 میں انہیں ایلیٹ آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن ملا۔
اس بیچ میں لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان کے بعد جنرل مشرف نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے کھیم کرن، سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے توپ خانے کے ایک خودکار دستے کی کمان کی۔ بعد میں وہ پاکستان کی مسلح افواج کی کمانڈو فورس، ایس ایس جی )اسپیشل سروسز گروپ(، میں شامل ہوگئے۔ 1971 کی جنگ میں بھی انہوں نے ایک کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے کمانڈوز کی ایک بٹالین کی قیادت کی۔
بعد میں انہوں نے انفینٹری بریگیڈ اور توپ خانے کے شعبے میں ایک بکتر بند ڈویژن کی کمان بھی سنبھالی۔ 1998 میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد جنرل جہانگیر کرامت نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد 7 اکتوبر 1998 کو لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو ان سے زیادہ سینیئر چند لیفٹیننٹ جنرلز کو نظرانداز کرکے جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور انہیں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کردیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے 9 اپریل 1999 کو انہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا اضافی عہدہ بھی سونپ دیا۔
جنرل پرویز مشرف نے 28 دسمبر 1968 کو، جب وہ میجر کے عہدے پر فائز تھے، صہبا نامی لڑکی سے طے شدہ شادی کی۔ ان کے دو بچے ہوئے۔ ان میں سے ایک بیٹی عائلہ ہے، جو تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہے اور کراچی میں رہتی ہے، جبکہ ان کا بیٹا بلال امریکی ریاست بوسٹن میں رہتا ہے۔
جنرل پرویز مشرف کے دو بھائی، جاوید اور ڈاکٹر نوید، اٹلی اور امریکا میں رہتے ہیں۔ جاوید اٹلی کے شہر روم میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی میں ماہرِ معاشیات کے عہدے پر فائز ہیں، جبکہ ڈاکٹر جاوید امریکی ریاست الینوائے میں ایک فلپائنی خاتون سے شادی کرنے کے بعد کاروبار سے وابستہ ہیں۔
12 اکتوبر کی کارروائی:
3 فروری 1997 کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرکے جیسے ہی میاں نواز شریف وزیراعظم بنے، اس بھاری مینڈیٹ نے انہیں غرور میں مبتلا کردیا۔ سب سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے حزب اختلاف کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ انہوں نے اپنے قریبی وزیر سیف الرحمان کے ذریعے احتساب سیل قائم کروایا اور حزب اختلاف کی قائد بے نظیر بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات درج کروا کر انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
حزب اختلاف کو دبانے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو نقصان پہنچاتے ہوئے کئی بل بغیر بحث کے چند لمحوں میں منظور کروائے۔ اس کے ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا کہ مسلم لیگ کا جو رکن حکومتی بل کی مخالفت کرے گا، اسے پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کردیا جائے گا۔ گویا اس طرح پارٹی کے اندر بھی آمریت نافذ کردی گئی۔ پارلیمنٹ کے بعد انہوں نے ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور صدر سے بھی محاذ آرائی کی، جس کے نتیجے میں صدر فاروق لغاری اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے۔
اب وزیراعظم نواز شریف کے غرور کا رخ پاکستان کی مسلح افواج کی طرف ہوگیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے ملک کے نظام کی نگرانی کے لیے قومی سلامتی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اسے حکومتی معاملات میں مداخلت سمجھا اور جنرل جہانگیر کرامت کو اس قدر دباؤ میں رکھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے ٹکراؤ کے بجائے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے اہم کور، منگلا کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔ اس تقرری کے لیے ان سے زیادہ سینیئر لیفٹیننٹ جنرل رحمدل بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز کو نظرانداز کیا گیا اور پرویز مشرف کو مکمل جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ ابتدائی کچھ عرصے تک وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات بہتر رہے، لیکن کارگل اور دراس کے محاذوں پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان مبینہ جھڑپوں کے بعد اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور محاذ سے فوجوں کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس معاملے پر وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات بڑھ گئے۔

کارگل کے واقعے میں پاکستان کی مسلح افواج کو ہونے والے جانی نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف نے کارگل محاذ کی غلط منصوبہ بندی کرنے والوں کو قرار دیا۔ دوسری جانب عسکری حلقے وزیراعظم کی جانب سے جلد بازی میں جنگ بندی کرنے اور مسلح افواج کو محاذ سے واپس بلانے کے اعلان کو غلط قرار دیتے رہے۔
اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے فوج کے اندر اپنا حلقہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں مشہور ہونے والے اٹک سازش کیس میں سزا پانے والے ایک شخص کے قریبی عزیز اور اپنی کابینہ میں وفاقی وزیر مقرر کیے گئے میجر )ر( نادر پرویز کے ذریعے فوجی حلقوں سے روابط بڑھائے۔ انہوں نے کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز، جنہیں جنرل ٹی پی بھی کہا جاتا تھا، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ، وفاقی وزیر چوہدری نثار کے بھائی اور سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل )ر(افتخار علی خان سمیت دیگر افراد سے بھی تعلقات قائم کیے۔
کہا جاتا ہے کہ کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز، جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے کور کمانڈروں، پرنسپل اسٹاف افسران اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے اجلاسوں کی خبریں خفیہ طور پر وزیراعظم نواز شریف تک پہنچاتے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ جب کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز نے جنرل ہیڈکوارٹرز سے براہ راست وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی تو اس سے حالات مزید خراب ہوگئے۔ اس کے ردعمل میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے طارق پرویز کو قبل از وقت فوج سے ریٹائر کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ وزیراعظم نواز شریف آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے اس رویے سے تنگ آکر انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔
12 اکتوبر 1999 کو جب نواز شریف دبئی سے واپس اسلام آباد پہنچے تو اسی دن ٹھیک سہ پہر تین بجے انہوں نے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل )ر( افتخار علی خان اور اپنے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی برطرفی اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ کو چار ستارہ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا حکم نامہ تیار کیا جائے۔
دوسری جانب بیرون ملک گئے ہوئے جنرل پرویز مشرف سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ایئربس، پرواز پی کے 508، کے ذریعے وطن واپسی کے لیے کراچی روانہ ہوچکے تھے۔ کراچی اور نواب شاہ کے ہوائی اڈے، جہاں ممکنہ طور پر طیارے کو اترنا تھا، بند کردیے گئے۔
12 اکتوبر کی سہ پہر ساڑھے تین بجے وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کی برطرفی اور جنرل خواجہ ضیا الدین کی نئے آرمی چیف کے طور پر تقرری کے حکم نامے پر دستخط کردیے۔ بیس منٹ بعد یہ خبر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کردی گئی۔
بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران جنرل ہیڈکوارٹرز میں ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز خان، پاکستان کی مسلح افواج کی دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود اور چند دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو نئی صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں اعتماد میں لیا گیا۔
اسی دوران نئے مقرر ہونے والے آرمی چیف جنرل خواجہ ضیا الدین فوجی وردی پر نئے عہدے کے بیج لگاکر جنرل ہیڈکوارٹرز پہنچ گئے۔ لیکن چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد عزیز خان نے انہیں نیا آرمی چیف تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انہیں آرمی چیف کے دفتر میں بٹھانے پر بھی رضامند نہ ہوئے۔ اس پر جنرل خواجہ ضیا الدین فوراً وزیراعظم ہاؤس واپس پہنچے اور ساری صورت حال نواز شریف کو بتائی۔
اس کے بعد نواز شریف نے اپنے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کے ذریعے شہباز شریف کی قائم کردہ ایلیٹ فورس کو حرکت میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اس فورس کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی عمارتوں کا کنٹرول حاصل کرکے شام چھ بجے وزیراعظم نواز شریف کے قوم سے خطاب کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔
دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل امین چوہدری اور ڈائریکٹر آپریشن ریڈار یوسف عباس کو ہدایت دی کہ کولمبو سے آنے والی پرواز پی کے 508 کو کسی بھی صورت کراچی کے ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا جائے۔
اس سلسلے میں سندھ کے چیف ایگزیکٹو سید غوث علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ رانا مقبول اور ڈی آئی جی کراچی اکبر آرائیں کو حکم دیا گیا کہ اگر جنرل پرویز مشرف زبردستی طیارہ اتارنے میں کامیاب ہوجائیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے۔ کراچی کے متبادل ہوائی اڈے نواب شاہ میں بھی ایس ایس پی نواب شاہ احسان گوندل کو ہدایت دی گئی کہ جنرل مشرف کو ہوائی اڈے سے باہر نہ نکلنے دیا جائے۔
پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے سربراہ کی برطرفی کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے کارروائی شروع کردی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان اور دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود نے صورت حال کو سنبھالا۔ انہوں نے کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی کے ساتھ مل کر جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو بحفاظت کراچی کے ہوائی اڈے پر اتارنے کا انتظام کیا۔
اس طرح جنرل عثمانی اور کراچی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، میجر جنرل افتخار ملک، نے ملیر چھاؤنی سے فوجی دستوں کو نقل و حرکت کے احکامات جاری کیے اور کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔
طیارے کے پائلٹ نے جنرل پرویز مشرف کو پوری صورت حال سے آگاہ کیا۔ جب پائلٹ کو کنٹرول ٹاور کے ذریعے معلوم ہوا کہ مسلح افواج کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال چکی ہیں تو اس نے کنٹرول ٹاور کے ذریعے جنرل مشرف کا رابطہ کراچی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، میجر جنرل افتخار ملک، سے کروایا۔ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو درج ذیل تھی۔
جنرل مشرف: میں چیف آف آرمی اسٹاف بات کررہا ہوں۔
جنرل افتخار: سر، میں جنرل افتخار بات کررہا ہوں۔
جنرل مشرف: افتخار! عثمانی کہاں ہیں؟
جنرل افتخار: سر، جنرل عثمانی وی آئی پی لاؤنج میں ہیں۔ وہ دروازے پر آپ کے منتظر ہوں گے۔
جنرل مشرف: کیا مسئلہ ہے؟
جنرل افتخار: سر، دو گھنٹے پہلے آپ کو ریٹائر کرکے جنرل ضیا الدین کو آرمی چیف مقرر کردیا گیا ہے۔ آپ کے طیارے کے لیے رن وے کے راستے بھی بند کردیے گئے تھے، لیکن ہم نے صورت حال پر قابو پالیا ہے۔ آپ اب رن وے پر اتر سکتے ہیں۔
جنرل مشرف: افتخار! آپ کا بہت شکریہ۔ محمود اور عزیز سے کہو کہ کوئی بھی ملک چھوڑ کر نہ جائے۔
جنرل افتخار: ٹھیک ہے سر، ہم آپ کا انتظار کررہے ہیں۔
اس طرح سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے خلاف کی گئی منصوبہ بندی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔ ایک مرتبہ پھر ملک پر فوجی حکومت مسلط ہوگئی۔ دوسری جانب نواز شریف کو چند جرنیلوں نے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا کر گرفتار کرلیا اور انہیں اٹک قلعے پہنچا دیا۔ جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

