Tag: پنجاب

  • پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹریٹ اور ان کا خصوصی طیارہ چلانے پر روزانہ 46 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ ماہانہ یہ خرچ 14 کروڑ 17 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کی فنانس ڈپارٹمنٹ کی بجٹ دستاویز سے لیے گئے ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل نے اپنی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ میں شائع کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کا سالانہ بجٹ ایک ارب 46 کروڑ 73 لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ اس دفتر میں کل 728 ملازمین کام کرتے ہیں جن پر سالانہ ایک ارب 11 کروڑ 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بنیادی تنخواہیں صرف 30 کروڑ 27 لاکھ 56 ہزار روپے ہیں جبکہ الاؤنسز کی مد میں 81 کروڑ 70 لاکھ 79 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ یعنی الاؤنسز، بنیادی تنخواہوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف پر سالانہ سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم سرکاری مہمانوں کی دعوتوں اور تحفوں پر خرچ ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن (پی او ایل) پر 11 کروڑ روپے جبکہ مجموعی سفری اخراجات 11 کروڑ 72 لاکھ 51 ہزار روپے ہیں۔ اسٹیشنری یعنی کاغذ، فائل اور پرنٹنگ پر 75 لاکھ روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الاؤنسز کے اندر ’دیگر‘ کے کالم پر 40 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کل ملازمین کی تعداد 728 ہے جس میں سے 212 افسر ہیں اور 514 دیگر عملہ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے علیحدہ یونٹ ’وی آئی پی فلائٹ مینٹیننس اینڈ آپریشن‘ کی طرف۔ اس یونٹ کا سالانہ بجٹ 23 کروڑ 50 لاکھ 51 ہزار روپے ہے۔ اس یونٹ میں کل 51 ملازمین ہیں جن میں پائلٹ، کو پائلٹ، ایئر کرافٹ انجینئر، مکینک، کلینر، ڈرائیور اور دیگر عملہ شامل ہے۔ صرف اس یونٹ کے ایندھن پر تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اس کے طیارے پر خرچ کیوں ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟ جب پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور صاف پانی تک رسائی ایک مسئلہ ہے تو کیا سات کروڑ روپے تحائف پر خرچ کرنا مناسب ہے؟ ساگا ڈیجیٹل کی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ ایسی ہی کہانیاں لاتی ہے۔

  • پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹریٹ اور ان کا خصوصی طیارہ چلانے پر روزانہ 46 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ ماہانہ یہ خرچ 14 کروڑ 17 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کی فنانس ڈپارٹمنٹ کی بجٹ دستاویز سے لیے گئے ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل نے اپنی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ میں شائع کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کا سالانہ بجٹ ایک ارب 46 کروڑ 73 لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ اس دفتر میں کل 728 ملازمین کام کرتے ہیں جن پر سالانہ ایک ارب 11 کروڑ 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بنیادی تنخواہیں صرف 30 کروڑ 27 لاکھ 56 ہزار روپے ہیں جبکہ الاؤنسز کی مد میں 81 کروڑ 70 لاکھ 79 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ یعنی الاؤنسز، بنیادی تنخواہوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف پر سالانہ سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم سرکاری مہمانوں کی دعوتوں اور تحفوں پر خرچ ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن (پی او ایل) پر 11 کروڑ روپے جبکہ مجموعی سفری اخراجات 11 کروڑ 72 لاکھ 51 ہزار روپے ہیں۔ اسٹیشنری یعنی کاغذ، فائل اور پرنٹنگ پر 75 لاکھ روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الاؤنسز کے اندر ’دیگر‘ کے کالم پر 40 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کل ملازمین کی تعداد 728 ہے جس میں سے 212 افسر ہیں اور 514 دیگر عملہ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے علیحدہ یونٹ ’وی آئی پی فلائٹ مینٹیننس اینڈ آپریشن‘ کی طرف۔ اس یونٹ کا سالانہ بجٹ 23 کروڑ 50 لاکھ 51 ہزار روپے ہے۔ اس یونٹ میں کل 51 ملازمین ہیں جن میں پائلٹ، کو پائلٹ، ایئر کرافٹ انجینئر، مکینک، کلینر، ڈرائیور اور دیگر عملہ شامل ہے۔ صرف اس یونٹ کے ایندھن پر تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اس کے طیارے پر خرچ کیوں ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟ جب پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور صاف پانی تک رسائی ایک مسئلہ ہے تو کیا سات کروڑ روپے تحائف پر خرچ کرنا مناسب ہے؟ ساگا ڈیجیٹل کی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ ایسی ہی کہانیاں لاتی ہے۔

  • چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    پنجاب کے ضلع چکوال کے قریب نمک کی پہاڑیوں کے درمیان ایک پرسکون مقام واقع ہے جہاں ایک قدیم تالاب کے گرد درجنوں صدیوں پرانی عبادت گاہیں کھڑی ہیں۔ یہ جگہ کٹاس راج کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بظاہر یہ چند مندر اور ایک خاموش جھیل دکھائی دیتے ہیں، مگر اس مقام کے ساتھ جڑی روایت، تاریخ اور مذہبی اہمیت اسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مقدس مقامات میں شامل کر دیتی ہے۔

    ہندو روایت کے مطابق اس مقدس تالاب کی تخلیق ایک گہرے اساطیری واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہندو مت کے دیوتا شِوَ کی اہلیہ ستی کی موت ہوئی تو شِوَ شدید غم میں مبتلا ہو گئے۔ روایت کے مطابق وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسو زمین پر گرے اور ان سے دو مقدس جھیلیں وجود میں آئیں۔ ایک جھیل بھارت میں اجین کے قریب مانی جاتی ہے جبکہ دوسری جھیل وہی ہے جسے آج کٹاس کنڈ یا کٹاس راج کا تالاب کہا جاتا ہے۔ اسی عقیدے کی وجہ سے یہ مقام ہندو مت میں روحانی تقدس رکھتا ہے۔

    کٹاس راج دراصل بارہ قدیم مندروں کے ایک مجموعے پر مشتمل ہے جو اس مقدس تالاب کے گرد تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مندروں کی تعمیر مختلف ادوار میں ہوئی، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ان کا بنیادی دور ساتویں صدی سے دسویں صدی کے درمیان ہندو شاہی حکمرانوں کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہندو شاہی سلطنت اس خطے میں ایک طاقتور حکمران خاندان تھا جو شمالی پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں پر حکومت کرتا تھا۔

    یہ مندر اپنے فنِ تعمیر کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں مقامی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے طرزِ تعمیر میں قدیم ہندو اور کشمیری طرزِ تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مندر ایک پہاڑی ڈھلوان کے گرد ترتیب سے کھڑے ہیں جبکہ درمیان میں موجود تالاب اس پورے کمپلیکس کو ایک مقدس مرکز کی حیثیت دیتا ہے۔

    کٹاس راج کا ذکر قدیم ہندو مذہبی روایت میں بھی ملتا ہے۔ کچھ ہندو روایات کے مطابق اس مقام کا تعلق مہا بھارت کی کہانیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پانڈو بھائیوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران یہاں قیام کیا تھا۔ اگرچہ اس روایت کے تاریخی شواہد واضح نہیں، مگر صدیوں سے یہ مقام مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے۔

    قرونِ وسطیٰ سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک یہ مقام ہندو یاتریوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ رہا۔ تقسیم کے بعد یہاں ہندو آبادی کم ہو گئی، مگر اس کے باوجود یہ مقام اپنی مذہبی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے ہندو یاتری خاص طور پر مہاشوراتری کے موقع پر یہاں آتے ہیں اور اس مقدس تالاب کے کنارے عبادت کرتے ہیں۔

    کٹاس راج محض چند مندروں یا ایک جھیل کا نام نہیں۔ یہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہاں موجود پتھر کی دیواریں، خاموش مندر اور مقدس تالاب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتا رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیاں تلاش کرتا ہے جو تاریخ، ثقافت اور ورثے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو اکثر وقت کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر اپنے اندر صدیوں کی یادیں اور روایتیں محفوظ رکھتے ہیں۔

  • لاہور سمیت پنجاب میں مین ہولز میں بچوں کے گرنے واقعات کیوں معمول ہوئے؟

    لاہور سمیت پنجاب میں مین ہولز میں بچوں کے گرنے واقعات کیوں معمول ہوئے؟

    28 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح، لاہور کے تاریخی بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اپنی نو ماہ کی بچی کے ساتھ سڑک پر چل رہی تھیں کہ اچانک زمین ان کے قدموں تلے سے غائب ہو گئی۔
    وہ دونوں ایک کھلے مین ہول میں جا گریں، اور ان کی لاشیں ایک ساتھ نہ مل سکیں۔

    خاتون کی لاش تین کلومیٹر دور سے ملی، جبکہ بچی کی لاش ایک دن بعد پانچ کلومیٹر دور سے برآمد ہوئی۔

    پنجاب حکومت نے اس واقعے کو فیک نیوز قرار دیا اور شکایت کرنے والے والد کو جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ رات بھر رہے۔
    لیکن جب خاندان کی خواتین میڈیا پر سامنے آئیں تو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز حرکت میں آئیں، جس کے بعد واسا کے پراجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    لاہور کا یہ واقعہ شہریوں کے لیے صدمے کا باعث بنا، مگر افسوسناک طور پر یہ کوئی نیا یا پہلا واقعہ نہیں تھا۔
    پورے پنجاب میں کھلے اور بغیر ڈھکن کے مین ہول ایک مستقل مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جنہوں نے کئی قیمتی جانیں لیں اور ہزاروں افراد کو زخمی کیا ہے۔

    اس صورتِ حال نے حکمرانی، قانون کے نفاذ اور شہری ڈھانچے میں سنگین ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔

    بار بار ہونے والے حادثات اور سرکاری دعوؤں کے باوجود یہ خطرہ اب بھی پنجاب میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔
    مین ہول میں گرنے سے ہونے والی اموات یا زخمیوں کا کوئی الگ ریکارڈ موجود نہیں۔

    ایسے واقعات اکثر “پیدل چلنے والوں کے حادثات” یا “ڈوبنے” جیسے الفاظ کے لبادے میں چھپا دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مسئلے کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    تاہم میڈیا رپورٹس، ریسکیو 1122 اور واسا کے اعداد و شمار انفرادی واقعات کے ایک خوفناک تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    دسمبر 2025 میں ضلع لودھراں کے قصبے دھنوٹ میں سات سالہ ریحان اسکول جاتے ہوئے ایک کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔
    لاہور میں بھی اسی نوعیت کے واقعات میں کئی کم عمر بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے جو رہائشی علاقے میں کھلے گٹر میں گر گیا۔

    یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ پتوکی، کروڑ پکا اور دیگر شہری علاقوں میں بھی بغیر ڈھکن نالوں والی گلیوں میں ایسے حادثات بار بار رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ دستیاب اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں۔

    اگرچہ مین ہول سے متعلق اموات کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، لیکن ایمرجنسی ریسپانس ڈیٹا مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
    ریسکیو 1122 نے 2025 میں پنجاب بھر میں پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد زخمیوں کو امداد فراہم کی، جن میں گیارہ فیصد حادثات پیدل چلنے والوں سے متعلق تھے۔

    یہ وہ طبقہ ہے جو کھلے مین ہولز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور حکام خود تسلیم کرتے ہیں کہ نالوں یا گٹروں میں گرنے کے کئی واقعات انہی زمروں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور خطرناک حقیقت مین ہولز کی گہرائی ہے۔ مرکزی سیور لائنوں کے مین ہولز چالیس فٹ تک گہرے ہوتے ہیں؛ ایک بار کوئی شخص اس میں گر جائے تو زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

    صفائی کے عملے کے لیے بھی یہ جگہیں جان لیوا ہیں۔ فیصل آباد میں کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں صفائی کے کارکن زہریلی گیسوں یا حفاظتی سامان کے بغیر مین ہول صاف کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
    ایسے دو واقعات 2024 کے آغاز میں سرکاری طور پر درج کیے گئے، جبکہ 2025 میں بھی ایسے کیسز سامنے آتے رہے۔

    مین ہول کھلے کیوں رہتے ہیں؟

    پنجاب کی صورتِ حال کراچی سے ہرگز مختلف نہیں؛ یہاں بھی مین ہول کے ڈھکن غائب ہونے کی سب سے بڑی وجہ چوری ہے۔
    لوہے کے روایتی مین ہول ڈھکن تیس کلوگرام تک وزنی ہوتے ہیں، جنہیں چوری کر کے اسکریپ مارکیٹ میں 500 سے 1,000 روپے میں فروخت کر دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کو ایک نیا ڈھکن لگانے پر 8,000 سے 12,000 روپے تک خرچ آتا ہے۔

    پنجاب حکومت اب مان رہی ہے کہ یہ صرف چھوٹی موٹی چوری نہیں بلکہ منظم گروہ اس میں ملوث ہیں، جو چوری شدہ لوہا اسکریپ ڈیلرز، فیکٹریوں اور ہارڈویئر کی دکانوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود خریداروں کے خلاف کارروائی ماضی میں نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

    حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے اسکریپ ڈیلرز اور فیکٹریوں پر دس کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کے ذریعے اے آئی پر مبنی نگرانی کا نظام اور لوہے کے ڈھکنوں کی جگہ فائبر گلاس ڈھکن لگانے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جن کی کوئی اسکریپ ویلیو نہیں ہوتی۔

    کراچی کی طرح لاہور میں بھی مون سون کے دوران ایک اور مسئلہ سامنے آتا ہے۔ بارش کا پانی جلدی نکالنے کے لیے مین ہول کے ڈھکن جان بوجھ کر ہٹا دیے جاتے ہیں یا صفائی کے دوران کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، مگر بعد میں نہ تو وارننگ سائن لگائے جاتے ہیں اور نہ ہی ڈھکن بروقت واپس رکھے جاتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں کھلے مین ہول کے باعث موت واقع ہو تو متعلقہ واسا یا میونسپل افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
    لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب مسئلے کی وجوہات برسوں سے معلوم تھیں تو یہ اقدامات پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟

  • فیکٹ چیک ساگا: کیا پنجاب میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا آغاز ملک میں پہلی بار ہورہا ہے؟

    فیکٹ چیک ساگا: کیا پنجاب میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم کا آغاز ملک میں پہلی بار ہورہا ہے؟

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں سرکاری تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کی تعلیم متعارف کرائی جا رہی ہے۔

    یہ دعویٰ بظاہر ایک بڑی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم فیکٹ چیک ساگا کی تحقیق کے مطابق دستیاب ریکارڈ اس تصویر کو مکمل طور پر درست ثابت نہیں کرتا۔

    فیکٹ چیک ساگا کی تحقیق کے مطابق سندھ حکومت اس سے قبل اس سمت میں عملی قدم اٹھا چکی ہے۔ سندھ میں سرکاری سطح پر اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن تربیتی پروگرام پہلے ہی شروع کیا جا چکا تھا، جس کا مقصد اساتذہ کو جدید ڈیجیٹل ٹولز اور اے آئی کی بنیادی سمجھ فراہم کرنا تھا۔

    انگریزی اخبار دی نیوز میں 12 ستمبر 2025 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاکستان میں پہلی بار سندھ حکومت نے اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی آن لائن تربیتی پروگرام کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کا مقصد اساتذہ کو تیز تر، مؤثر اور جدید تدریسی طریقے اپنانے میں مدد فراہم کرنا بتایا گیا۔

    چھ ماہ پر مشتمل اس پائلٹ منصوبے کے تحت دادو، ٹنڈو الہیار، تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے 3,500 اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ بیان کے مطابق اس منصوبے کے لیے مالی معاونت یونیسف فراہم کرے گا اور عالمی معیار کو یقینی بنائے گا، جبکہ خان اکیڈمی پاکستان تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

    یہ پروگرام نہ صرف لانچ کیا گیا بلکہ اس کی باقاعدہ تشہیر بھی کی گئی، اور اسے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے ایک نئے مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس تناظر میں یہ کہنا درست نہیں کہ تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت متعارف کرانے میں پنجاب پہلا صوبہ ہے۔

    فیکٹ چیک ساگا اس نکتے کو واضح کرتا ہے کہ دعویٰ اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات قومی سطح کی پالیسی اور تعلیم جیسے حساس شعبے

    کی ہو۔

  • بسنت محض تہوار نہیں پنجاب کی ثقافت: دو دہائیوں بعد لاہور کے آسمان پر بسنت کی جلد واپسی

    بسنت محض تہوار نہیں پنجاب کی ثقافت: دو دہائیوں بعد لاہور کے آسمان پر بسنت کی جلد واپسی

    نئے سال 2026 کا آغاز لاہور کے لیے ایک تاریخی خوشخبری لے کر آیا ہے۔

    ‘پتنگ باز سجناں سے، پتنگ باز بلماں سے،

    آنکھوں آنکھوں سے الجھی ڈور کہ دل ہو بو کاٹا۔’
    لاہور کی گلیوں اور چھتوں پر گونجنے والے یہ گیت ایک بار پھر حقیقت بننے جا رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت تقریباً 20 سال بعد لاہور کا آسمان دوبارہ رنگ برنگی پتنگوں سے سجے گا۔ یہ منظر پاکستان کے امن اور خوشحالی کا پیغام دنیا تک پہنچائے گا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر مریم اورنگزیب اور عظمیٰ بخاری کی کاوشیں رنگ لے آئیں۔ماحولیاتی اور سیاحتی وژن کے ساتھ عظمیٰ بخاری کی جانب سے پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنے کی حکمت عملی نے اس منصوبے کو عملی شکل دی۔
    ان کے مطابق بسنت محض تہوار نہیں بلکہ پنجاب کی ثقافت اور معیشت کا اہم ستون ہے۔

    انتظامیہ اور اسٹیک ہولڈرز کا اشتراک

    ڈپٹی کمشنر لاہور نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے چھ سے آٹھ فروری 2026 کو بسنت میلے کی تاریخیں مقرر کر دی ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس حفاظتی ڈور اور قانونی ضوابط کے نفاذ کے لیے متحرک ہیں۔

    پتنگ باز ایسوسی ایشنز حکومت کے ساتھ مل کر محفوظ پتنگ بازی کی مہم چلا رہی ہیں۔کاروباری طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور پتنگ سازی سے وابستہ لاکھوں ہنرمندوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

    عالمی سیاحوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے لیے دعوت

    دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے۔لاہور کی مہمان نوازی، روایتی کھانے اور چھتوں پر ہونے والے موسیقی کے پروگرام اس میلے کو منفرد بناتے ہیں۔

    یہ تہوار پنجاب کی قدیم ثقافت، رنگین لباس اور اجتماعی خوشی کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

    محفوظ بسنت اور ضابطے

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی سے بسنت کو جدید حفاظتی نظام سے جوڑا گیا ہے۔پتنگ سازوں کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔ خونی ڈور، دھاتی تار اور نائلون کی ڈور پر مکمل پابندی ہوگی۔صرف منظور شدہ نو تاری سوتی ڈور استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی تار کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    پاکستان کا روشن چہرہ

    بسنت کی بحالی سے لاہور کے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور دستکاری کی صنعت میں نئی جان پڑی ہے۔یہ اقدام پاکستان کو ایک ذمہ دار اور پرکشش سیاحتی ملک کے طور پر پیش کرتا ہے۔

    نئے سال کے موقع پر دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں اور سمندر پار پاکستانیوں کو دعوت دی گئی ہے۔لاہور کے آسمان کو رنگین پتنگوں سے سجا دیکھنا اور بو کاٹا کی گونج میں خوشی بانٹنا اس میلے کا خاصہ ہوگا۔

    تاریخ کے جھروکوں سے

    پتنگ کی کہانی جنگی حکمت عملی سے تہوار تک کے سفر کی عکاس ہے۔ لاہور کی بسنت آج خوشی اور امن کی علامت ہے۔

    تاریخ دانوں کے مطابق پتنگ کی ابتدا چین میں ہوئی۔ دو سو قبل مسیح میں ایک چینی سپہ سالار نے قلعہ فتح کرنے کے لیے پتنگ کا استعمال کیا۔

    ہوا کے رخ کو سمجھ کر کاغذ اور تنکوں سے بنی ساخت نے دشمن کے فاصلے کا اندازہ ممکن بنایا۔یوں ایک پتنگ نے جنگ کا رخ بدل دیا۔ قدیم چین میں پتنگیں جاسوسی اور پیغام رسانی کے لیے بھی استعمال ہوتی رہیں۔یہ اپنے دور کا ایک ابتدائی فضائی آلہ سمجھا جاتا ہے۔

    بعد ازاں یہ فن کوریا اور جاپان پہنچا۔جاپان میں ایک زمانے میں اسے صرف شاہی خاندان تک محدود رکھا گیا۔ وقت کے ساتھ یہ برصغیر پہنچا اور لاہور اس کا نمایاں مرکز بن گیا۔

    پاکستان میں آج پتنگ بازی ایک صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔کاغذ، بانس اور دھاگے کی تیاری سے لاکھوں خاندان وابستہ ہیں۔

    ماضی میں غیر قانونی ڈور نے اس روایت کو نقصان پہنچایا۔اب حکومت پنجاب کی سرپرستی میں اسے محفوظ اور منظم انداز میں بحال کیا جا رہا ہے۔پتنگ کی ڈور ہمیشہ رابطے اور انسانی تخلیق کی علامت رہی ہے۔لاہور کی بسنت اسی روایت کو جدید قوانین کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔