Tag: پنجاب

  • زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    زاویہ: ملتان اور سندھ کی یک رنگی

    کبھی دریائے سندھ کے کنارے کھڑے ہو کر یہ سوال کیا جائے کہ ملتان کہاں ختم ہوتا ہے اور سندھ کہاں سے شروع ہوتا ہے تو شاید تاریخ کا جواب نقشے سے مختلف ہو۔

    موجودہ نقشے پر ملتان پنجاب میں ہے اور سندھ ایک الگ صوبہ، مگر تاریخ کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو دریائے سندھ کے بہاؤ، تجارتی راستوں، قافلوں، ہجرتوں، خانقاہوں، صوفی سلسلوں، زبانوں اور لوک روایات نے سندھ اور ملتان کے درمیان ایسا رشتہ قائم کیا جسے محض انتظامی سرحدوں سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ رشتہ کسی بادشاہ نے قائم نہیں کیا، کسی فرمان نے اسے جنم نہیں دیا۔ دریا نے اسے راستہ دیا، قافلوں نے وسعت دی، تاجروں نے مضبوط کیا، علما نے علم اور صوفیا نے روحانی رنگ دیا، جبکہ عام لوگوں نے اسے نسل در نسل زندہ رکھا۔ اگر اس پورے تعلق کی سب سے خوبصورت داستان تلاش کی جائے تو شاید وہ بغداد سے شروع ہو کر ملتان، اُچ اور سندھ تک پہنچنے والی صوفی روایت میں ملتی ہے۔

    اُچ شریف: جہاں ملتان کی روحانی آواز سندھ تک پہنچی

    اُچ شریف کو ملتان اور سندھ کے درمیان روحانی پل کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ جلال الدین بخاریؒ، المعروف مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ، نے دہلی، مکہ، مدینہ، بیت المقدس اور بغداد سمیت کئی مقامات کے سفر کیے اور بعد میں اُچ میں اپنی روحانی سرگرمیوں کو فروغ دیا۔ یہاں تک کہ 1362 میں انہوں نے جنوبی سندھ میں ایک سیاسی تنازع کے حل کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ 

    یعنی اُچ کی خانقاہ محض ایک مقامی روحانی مرکز نہیں تھی؛ اس کے روابط ملتان، دہلی، سندھ، حجاز اور وسطی ایشیا تک پھیلے ہوئے تھے۔

    ملتان اور سندھ: ایک ہی سہروردی روحانی نیٹ ورک

    یہاں ایک اہم تاریخی نکتہ سامنے آتا ہے۔ تحقیقی مطالعات میں واضح کیا گیا ہے کہ تیرہویں اور چودہویں صدی میں ملتان اور اُچ سہروردی سرگرمیوں کے دو اہم مراکز بن گئے تھے اور اسی نیٹ ورک نے سندھ میں سہروردی اثرات کو مضبوط کیا۔ 

    اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملتان سندھ تھا یا سندھ ملتان، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک وسیع روحانی نیٹ ورک کے اہم مراکز تھے۔ یہ فرق سمجھنا تاریخ کے لیے بہت ضروری ہے۔

    پھر سندھ نے اس روحانی روایت کو اپنی زبان دے دی

    یہاں داستان کا ایک نیا باب کھلتا ہے۔ ملتان کی خانقاہی روایت سندھ پہنچی تو سندھ نے اسے اپنے مزاج کے مطابق جذب کیا۔ یہاں تصوف صرف خانقاہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ شاعری، موسیقی اور لوک داستانوں کا حصہ بن گیا۔ بیت اور وائی کی صورت میں اس نے اظہار کے نئے رنگ اختیار کیے۔ 

    پھر سندھ کی سرزمین نے دنیا کو ایک ایسا صوفی شاعر دیا جس کی آواز آج بھی دریائے سندھ کے کناروں سے سنائی دیتی ہے: حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ۔

    شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے سندھ کی لوک داستانوں، موسیقی اور صوفی فکر کو ایک ایسی شعری وحدت دی جو آج بھی سندھ کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ محکمہ ثقافت، حکومت سندھ کے مطابق، شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صوفی شاعر ہونے کے ساتھ موسیقی کے ماہر بھی تھے اور ان کی درگاہ پر ان کے متعین کردہ سُروں اور موسیقی کی روایت آج تک جاری ہے۔

    شاہ لطیفؒ اور ملتان کی روحانی روایت: دو راستے، ایک پیغام

    ایک طرف ملتان ہے، جہاں بہاء الدین زکریاؒ، شاہ رکن عالمؒ، جلال الدین سرخ بخاریؒ اور مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ کی روحانی روایت موجود ہے؛ دوسری طرف سندھ ہے، جہاں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ، سچل سرمستؒ اور دیگر صوفیا کی عظیم روایت پروان چڑھی۔

    ان سب کو ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے میں شامل کرنا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا، لیکن ان کے درمیان روحانی اور تہذیبی مکالمہ ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔

    ملتان کی خانقاہی روایت نے تصوف کو ایک منظم روحانی نیٹ ورک دیا، جبکہ سندھ نے اسی وسیع صوفی مزاج کو اپنی زبان، موسیقی اور لوک داستانوں میں ڈھال دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں خطوں کی تاریخ ایک دوسرے سے گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہے۔

    شاہ لطیفؒ کے سُر اور ملتان کی سماعی روایت

    یہ تعلق موسیقی تک بھی پہنچتا ہے۔ سندھ کے سرکاری ثقافتی ماخذ کے مطابق، سندھ میں سماع کی روایت کے تاریخی مباحث میں بہاء الدین زکریاؒ کے خانوادے سے منسلک روحانی روایات کا ذکر بھی آتا ہے۔ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سماع اور ان کی اپنی موسیقی کی تشکیل کا بھی تفصیلی ذکر ملتا ہے۔

    شاہ لطیفؒ نے سندھ کی لوک داستانوں کو اپنے سُروں میں ڈھالا۔ سسی پنوں، مومل رانجھا، سوہنی میہار، نوری، ماروی، لیلا چنیسر اور سورٹھ جیسے کردار ان کے صوفیانہ شعور میں انسانی تلاش، محبت، قربانی اور روحانی سفر کی علامت بن گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ملتان کی خانقاہ اور سندھ کی شاعری ایک دوسرے کو سمجھنے لگتی ہیں۔

    ملتان کے مزار اور سندھ کی درگاہیں: عوامی تہذیب کے دو مراکز

    ملتان میں حضرت بہاء الدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات ہوں یا سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اور لال شہباز قلندرؒ کی درگاہیں، یہ سب صرف مذہبی عقیدت کے مقامات نہیں بلکہ عوامی تہذیب کے مراکز بھی ہیں۔ یہاں لوگ صرف دعا کے لیے نہیں آتے؛ یہاں قصے، موسیقی، بازار، دستکاری اور مسافر بھی آتے ہیں۔ 

    سب سے بڑھ کر مختلف طبقات کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوتے ہیں۔ یہی خانقاہی تہذیب کا وہ پہلو ہے جس نے صدیوں تک معاشرے کو جوڑے رکھا۔

    تجارت نے روحانی راستوں کے ساتھ بازار بھی آباد کیے

    اگر صوفیا نے دلوں کو جوڑا تو تاجروں نے شہروں کو جوڑا۔ ملتان صدیوں تک ایک اہم تجارتی مرکز رہا۔ اس تعلق کا ایک اہم ثبوت شکارپور ہے۔ تحقیقی مطالعات کے مطابق، ملتان کے بعض تجارتی خاندان بعد کے ادوار میں شکارپور منتقل ہوئے اور شکارپور نے وسطی ایشیا اور ایران سے جڑے بڑے تجارتی نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کیا۔

    یوں ملتان کے تاجر سندھ پہنچے، سندھ کے بازار وسطی ایشیا سے جڑے اور علاقائی تجارت بین الاقوامی تجارت کا حصہ بن گئی۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی کی دنیا آج کے صوبائی نقشے سے کہیں زیادہ مربوط تھی۔

    شکارپور کے بازاروں میں ملتان کی بازگشت

    شکارپور کی تاریخی تجارت کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ صرف زراعت اور دریائی تہذیب کا نام نہیں تھا بلکہ ایک بڑے تجارتی نیٹ ورک کا حصہ بھی تھا۔ شکارپور کے ہندو ساہوکاروں اور تاجروں کے تجارتی روابط وسطی ایشیا، افغانستان اور ایران تک پھیلے ہوئے تھے اور اس وسیع تجارتی دنیا میں ملتان بھی ایک اہم کڑی تھا۔ یوں سندھ کا شکارپور اور پنجاب کا ملتان ایک وسیع بین الاقوامی تجارتی دنیا کے دو اہم پڑاؤ بن گئے۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ تہذیبیں صرف شاعری سے نہیں بنتیں؛ بازار بھی تہذیبیں بناتے ہیں۔

    زبانیں مختلف، روح ایک

    ملتان کی سرائیکی اور سندھ کی سندھی اپنی اپنی عظیم لسانی شناختیں ہیں۔ لیکن دونوں کی صوفی شاعری میں عشق، فراق، سفر، محبوب کی تلاش، صبر، قربانی اور انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ 

    یہی وجہ ہے کہ جب سرائیکی کافی سنی جاتی ہے یا شاہ لطیفؒ کا بیت پڑھا جاتا ہے تو زبان مختلف ہونے کے باوجود احساس اجنبی نہیں لگتا، کیونکہ شاید تہذیب زبان سے پہلے دل میں جنم لیتی ہے۔

    اجرک اور کاشی: دو شناختیں، ایک خطے کا ہنر

    سندھ کی اجرک اپنی جگہ ایک مکمل تہذیبی علامت ہے اور ملتان کی نیلی کاشی اپنی جگہ ایک منفرد فن۔ دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل کہنا درست نہیں، لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے: ہنر کا نسل در نسل سفر۔ سندھ نے کپڑے پر رنگوں کو تاریخ بنایا، جبکہ ملتان نے مٹی، اینٹ اور فن تعمیر پر رنگوں کو شناخت کا حصہ بنایا۔ 

    ایک طرف اجرک کا نقش ہے، دوسری طرف شاہ رکن عالمؒ کے مزار کی کاشی کاری، اور دونوں کے پیچھے ایسا معاشرہ ہے جس نے فن کو محض آرائش نہیں بلکہ شناخت سمجھا۔

    دریا، زراعت اور لوگوں کا رہن سہن

    سندھ اور ملتان کے روایتی معاشروں کو سمجھنے کے لیے دریا اور زراعت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریا نے زمین دی، زمین نے فصل دی، فصل نے معیشت بنائی، معیشت نے بازار پیدا کیے اور بازاروں نے شہروں کو جوڑا۔ اسی لیے دونوں خطوں کی روایتی زندگی میں زراعت، زمین، خاندان، برادری، مہمان نوازی اور بزرگوں کا احترام نمایاں سماجی اقدار رہے ہیں۔

    فرق اپنی جگہ موجود ہیں اور یہی فرق دونوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔ سندھ، سندھ ہے اور ملتان، ملتان۔ دونوں کی اپنی الگ شناخت، زبان، لباس اور تہذیبی مزاج ہے، لیکن ان کے درمیان صدیوں کا مکالمہ ضرور موجود ہے۔

    اصل کہانی سرحد نہیں، رابطے کی ہے

    تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ ملتان اور سندھ ہمیشہ ایک ہی سیاسی وحدت رہے۔ ایسا کہنا درست نہیں ہوگا۔ تاریخ اس سے زیادہ دلچسپ بات بتاتی ہے: سیاسی طور پر الگ ہونے کے باوجود دونوں خطے ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہے۔ 

    کبھی تجارت کے ذریعے، کبھی تصوف کے ذریعے، کبھی علم کے ذریعے، کبھی ہجرت کے ذریعے اور کبھی اس دریا کے ذریعے جو دونوں کے درمیان زندگی کی علامت بن کر بہتا رہا۔

    اور پھر دریائے سندھ

    شاید اس پورے سفر کا سب سے خوبصورت کردار کوئی انسان نہیں بلکہ دریائے سندھ ہے۔ وہ دریا جس نے تہذیبیں بنتے دیکھیں، قافلوں کو گزرتے دیکھا، تاجروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے دیکھا، صوفیا کے مراکز آباد ہوتے دیکھے، ملتان کی طرف سے آنے والی روحانی خوشبو کو سندھ کی وادیوں تک پہنچتے دیکھا اور سندھ کی صوفی آواز کو دوبارہ ملتان اور پورے وسیب تک پہنچتے دیکھا۔

    شاید ملتان اور سندھ کو یوں سمجھنا چاہیے

    ملتان اولیا کی خانقاہوں کا شہر ہے اور سندھ صوفی شاعری اور لوک روحانیت کی سرزمین۔ ملتان میں بہاء الدین زکریاؒ ہیں، شاہ رکن عالمؒ ہیں، اُچ میں جلال الدین بخاریؒ ہیں، جبکہ سندھ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ، لال شہباز قلندرؒ اور سچل سرمستؒ ہیں۔ 

    یہ سب ایک ہی شخصیت یا ایک ہی سلسلے کے نام نہیں، مگر ایک ایسے تہذیبی خطے کے بڑے چراغ ضرور ہیں جہاں تصوف نے انسان کو انسان سے جوڑنے کی کوشش کی۔

    دریا بہتا رہا، بہتا رہے گا

    صدیاں گزر گئیں۔ سلطنتیں بدل گئیں۔ حکمران آئے اور چلے گئے۔ تجارتی راستے بدلے۔ شہروں کی اہمیت بدلی۔ نقشے بدلے۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلی: دریائے سندھ کا بہاؤ۔

    شاید اسی دریا کی طرح ملتان اور سندھ کا تہذیبی تعلق بھی بہتا رہا۔ کبھی خانقاہ بن کر، کبھی قافلہ بن کر، کبھی بازار بن کر، کبھی شعر بن کر، کبھی ساز بن کر اور کبھی کسی درویش کی زبان سے نکلے ہوئے ایک سادہ سے جملے کی صورت میں: انسان کو انسان سے جوڑو۔

    شاید یہی ملتان کی خانقاہوں سے سندھ کے صوفی کلام تک پہنچنے والی سب سے بڑی مشترکہ آواز ہے۔

    اسی لیے جب ہم حضرت بہاء الدین زکریاؒ کے مزار پر کھڑے ہوتے ہیں، شاہ رکن عالمؒ کے گنبد کو دیکھتے ہیں، اُچ شریف میں جلال الدین بخاریؒ کی خانقاہ کا تصور کرتے ہیں یا بھٹ شاہ میں شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے سُر سنتے ہیں تو دراصل ہم تاریخ کے الگ الگ ابواب نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ ایک بڑے تہذیبی سفر کے مختلف پڑاؤ دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    بغداد کی فکر سے ملتان کی خانقاہ تک، ملتان کی خانقاہ سے اُچ تک، اُچ سے سندھ تک، اور سندھ کی شاعری سے آج کے انسان تک۔

    اس پورے سفر کے نیچے، خاموشی سے، صدیوں سے ایک دریا بہہ رہا ہے۔

    دریائے سندھ۔

    جو صرف پانی نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، رابطے اور ملتان و سندھ کے صدیوں پرانے رشتے کی ایک بڑی علامت بھی ہے۔

  • 12 اکتوبر 1999جب جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا

    12 اکتوبر 1999جب جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا

    پہلا کردار: ہندوستان کی ریاست مشرقی پنجاب کے دارالحکومت امرتسر سے بارہ کلومیٹر دور واقع گاؤں ’جاتی امرتا‘ میں 1920 میں رمضان لوہار کے گھر پیدا ہونے والے میاں شریف، جو آگے چل کر ’اباجی‘کے نام سے مشہور ہوئے، اپنے سات بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ یہ ساتوں بھائی جاتی امرتا میں کھیتی باڑی کرتے تھے۔

    میاں شریف نے جاتی امرتا سے چار کلومیٹر دور واقع گاؤں ’نیویں سرلی‘ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مڈل کی تعلیم خالصہ اسکول امرتسر سے مکمل کرنے کے بعد وہ لاہور منتقل ہوگئے، جہاں مسلم ہائی اسکول رام گلی میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ اسکول کے ریکارڈ کے مطابق وہ ان طلبہ میں شامل تھے جنہوں نے غربت کے باعث فیس ادا نہ کرسکنے پر ہیڈ ماسٹر سے فیس معاف کرنے کی درخواست کی تھی۔

    میٹرک کے بعد انٹرمیڈیٹ کرنے کے لیے وہ اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ صبح کالج جاتے اور شام کو لوہے کی ایک بھٹی پر مزدوری کرتے تھے۔ وہاں کم اجرت ملنے کے باعث انہوں نے وہ بھٹی چھوڑ دی اور اس وقت لاہور میں لوہے کی ایک دوسری بھٹی چلانے والے حاجی دین محمد کے کارخانے، ایم اے ایس اینڈ کمپنی، میں اپنے بھائی میاں شفیع کے ساتھ کام کرنے لگے۔ میاں شفیع اس کارخانے میں فورمین کے طور پر کام کرتے تھے، جبکہ میاں شریف وہاں سانچے بنانے کے مکینک کی حیثیت سے روزانہ چودہ آنے مزدوری کرتے تھے۔

    جب دونوں بھائیوں نے کچھ رقم جمع کرلی تو انہوں نے لاہور کے حاجی فیروز دین بھٹی سے 310 روپے میں لوہے کی ایک چھوٹی بھٹی خرید لی۔ وہاں وہ لوہا پگھلا کر چھوٹے اوزار بنانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریلوے روڈ پر ایک ہندو، ملاوا رام، سے ماہانہ تیرہ روپے کرائے پر ایک مکان بھی حاصل کیا، جہاں ساتوں بھائی مل کر رہتے تھے۔

    جب اس خاندان کے حالات کچھ بہتر ہوئے تو انہوں نے ریلوے روڈ کا چھوٹا مکان چھوڑ کر ماڈل ٹاؤن میں اپنے گھر تعمیر کروائے۔ 1960 میں یہ خاندان لوہے کی ایک چھوٹی بھٹی سے ترقی کرتے ہوئے ‘بیکو’ (BECO) جیسی بڑی صنعتی فاؤنڈری کا مالک بن گیا۔ اسی دوران انہوں نے ڈھاکا میں بھی کارخانے قائم کیے۔ کاروبار میں وسعت کے پیش نظر میاں خاندان نے لاہور کے قریب کوٹ لکھپت میں ساڑھے پانچ سو ایکڑ وسیع رقبے پر ‘اتفاق فاؤنڈری’ کے نام سے پاکستان کا لوہے کی صنعت سے متعلق سب سے بڑا ادارہ قائم کیا۔

    25 دسمبر 1949 کو میاں شریف کے گھر پیدا ہونے والے نواز شریف نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جنرل ضیا الحق کے دور میں کیا۔ اس وقت پنجاب کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان کی کابینہ میں انہیں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر ایک موقع پر جنرل ضیا الحق نے بھی کہا تھا کہ کاش میری زندگی کے دن بھی نواز شریف کو مل جائیں۔ میاں نواز شریف دو مرتبہ اس ملک کے وزیراعظم رہے۔ پہلی مرتبہ صدر غلام اسحاق خان سے اختلافات کے باعث انہوں نے استعفیٰ دیا، جبکہ دوسری مرتبہ جنرل پرویز مشرف سے اختلافات کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

    دوسرا کردار: صدر جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943 کو ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں گولچا سینما کے پیچھے واقع علاقے ‘نہر والی سڑک’ پر رہنے والے مشرف الدین کے گھر پیدا ہوئے۔ مشرف الدین نے اپنی ملازمت کا آغاز محکمہ خارجہ میں اکاؤنٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ قیام پاکستان کے وقت مشرف الدین اپنی اہلیہ اور تین بیٹوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔

    قیام پاکستان کے وقت صدر جنرل پرویز مشرف کی عمر صرف چار سال تھی۔ ان کی والدہ بھی ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ انہوں نے دہلی کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے سے ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ کئی سال تک کراچی میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے شعبے، بین الاقوامی محنت کش تنظیم )آئی ایل او(، سے وابستہ رہیں۔

    جنرل پرویز مشرف نے ابتدائی تعلیم ترکی کے شہر انقرہ میں حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول اور لاہور کے فارمین کرسچن اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔ 1961 میں جنرل پرویز مشرف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں داخلہ لیا۔ 1964 میں انہیں ایلیٹ آرٹلری رجمنٹ میں کمیشن ملا۔

    اس بیچ میں لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان کے بعد جنرل مشرف نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے کھیم کرن، سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا، جہاں انہوں نے توپ خانے کے ایک خودکار دستے کی کمان کی۔ بعد میں وہ پاکستان کی مسلح افواج کی کمانڈو فورس، ایس ایس جی )اسپیشل سروسز گروپ(، میں شامل ہوگئے۔ 1971 کی جنگ میں بھی انہوں نے ایک کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے کمانڈوز کی ایک بٹالین کی قیادت کی۔

    بعد میں انہوں نے انفینٹری بریگیڈ اور توپ خانے کے شعبے میں ایک بکتر بند ڈویژن کی کمان بھی سنبھالی۔ 1998 میں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے، جس کے بعد جنرل جہانگیر کرامت نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس کے بعد 7 اکتوبر 1998 کو لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو ان سے زیادہ سینیئر چند لیفٹیننٹ جنرلز کو نظرانداز کرکے جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور انہیں چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کردیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے 9 اپریل 1999 کو انہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا اضافی عہدہ بھی سونپ دیا۔

    جنرل پرویز مشرف نے 28 دسمبر 1968 کو، جب وہ میجر کے عہدے پر فائز تھے، صہبا نامی لڑکی سے طے شدہ شادی کی۔ ان کے دو بچے ہوئے۔ ان میں سے ایک بیٹی عائلہ ہے، جو تعمیرات کے شعبے سے وابستہ ہے اور کراچی میں رہتی ہے، جبکہ ان کا بیٹا بلال امریکی ریاست بوسٹن میں رہتا ہے۔

    جنرل پرویز مشرف کے دو بھائی، جاوید اور ڈاکٹر نوید، اٹلی اور امریکا میں رہتے ہیں۔ جاوید اٹلی کے شہر روم میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی میں ماہرِ معاشیات کے عہدے پر فائز ہیں، جبکہ ڈاکٹر جاوید امریکی ریاست الینوائے میں ایک فلپائنی خاتون سے شادی کرنے کے بعد کاروبار سے وابستہ ہیں۔

    12 اکتوبر کی کارروائی:

    3 فروری 1997 کے انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرکے جیسے ہی میاں نواز شریف وزیراعظم بنے، اس بھاری مینڈیٹ نے انہیں غرور میں مبتلا کردیا۔ سب سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے حزب اختلاف کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ انہوں نے اپنے قریبی وزیر سیف الرحمان کے ذریعے احتساب سیل قائم کروایا اور حزب اختلاف کی قائد بے نظیر بھٹو سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف مختلف مقدمات درج کروا کر انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا۔

    حزب اختلاف کو دبانے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کی بالادستی کو نقصان پہنچاتے ہوئے کئی بل بغیر بحث کے چند لمحوں میں منظور کروائے۔ اس کے ساتھ یہ حکم بھی جاری کیا کہ مسلم لیگ کا جو رکن حکومتی بل کی مخالفت کرے گا، اسے پارلیمنٹ کی رکنیت سے محروم کردیا جائے گا۔ گویا اس طرح پارٹی کے اندر بھی آمریت نافذ کردی گئی۔ پارلیمنٹ کے بعد انہوں نے ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور صدر سے بھی محاذ آرائی کی، جس کے نتیجے میں صدر فاروق لغاری اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے۔

    اب وزیراعظم نواز شریف کے غرور کا رخ پاکستان کی مسلح افواج کی طرف ہوگیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل جہانگیر کرامت نے ملک کے نظام کی نگرانی کے لیے قومی سلامتی کونسل قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اسے حکومتی معاملات میں مداخلت سمجھا اور جنرل جہانگیر کرامت کو اس قدر دباؤ میں رکھا کہ انہوں نے وزیراعظم سے ٹکراؤ کے بجائے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیا۔

    وزیراعظم نواز شریف نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی حکمت عملی کے حوالے سے اہم کور، منگلا کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرویز مشرف کو ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کردیا۔ اس تقرری کے لیے ان سے زیادہ سینیئر لیفٹیننٹ جنرل رحمدل بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز کو نظرانداز کیا گیا اور پرویز مشرف کو مکمل جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ ابتدائی کچھ عرصے تک وزیراعظم اور آرمی چیف کے تعلقات بہتر رہے، لیکن کارگل اور دراس کے محاذوں پر پاکستان اور بھارت کی فوجوں کے درمیان مبینہ جھڑپوں کے بعد اختلافات پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور محاذ سے فوجوں کی واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔ اس معاملے پر وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے درمیان اختلافات بڑھ گئے۔

    کارگل کے واقعے میں پاکستان کی مسلح افواج کو ہونے والے جانی نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف نے کارگل محاذ کی غلط منصوبہ بندی کرنے والوں کو قرار دیا۔ دوسری جانب عسکری حلقے وزیراعظم کی جانب سے جلد بازی میں جنگ بندی کرنے اور مسلح افواج کو محاذ سے واپس بلانے کے اعلان کو غلط قرار دیتے رہے۔

    اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے فوج کے اندر اپنا حلقہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں مشہور ہونے والے اٹک سازش کیس میں سزا پانے والے ایک شخص کے قریبی عزیز اور اپنی کابینہ میں وفاقی وزیر مقرر کیے گئے میجر )ر( نادر پرویز کے ذریعے فوجی حلقوں سے روابط بڑھائے۔ انہوں نے کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز، جنہیں جنرل ٹی پی بھی کہا جاتا تھا، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ، وفاقی وزیر چوہدری نثار کے بھائی اور سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل )ر(افتخار علی خان سمیت دیگر افراد سے بھی تعلقات قائم کیے۔

    کہا جاتا ہے کہ کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز، جنرل ہیڈکوارٹرز میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے کور کمانڈروں، پرنسپل اسٹاف افسران اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے اجلاسوں کی خبریں خفیہ طور پر وزیراعظم نواز شریف تک پہنچاتے تھے۔

    بتایا جاتا ہے کہ جب کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز نے جنرل ہیڈکوارٹرز سے براہ راست وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی تو اس سے حالات مزید خراب ہوگئے۔ اس کے ردعمل میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے طارق پرویز کو قبل از وقت فوج سے ریٹائر کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ وزیراعظم نواز شریف آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے اس رویے سے تنگ آکر انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

    12 اکتوبر 1999 کو جب نواز شریف دبئی سے واپس اسلام آباد پہنچے تو اسی دن ٹھیک سہ پہر تین بجے انہوں نے سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل )ر( افتخار علی خان اور اپنے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی کو وزیراعظم ہاؤس طلب کیا۔ انہیں ہدایت دی گئی کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی برطرفی اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیا الدین بٹ کو چار ستارہ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا حکم نامہ تیار کیا جائے۔

    دوسری جانب بیرون ملک گئے ہوئے جنرل پرویز مشرف سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی ایئربس، پرواز پی کے 508، کے ذریعے وطن واپسی کے لیے کراچی روانہ ہوچکے تھے۔ کراچی اور نواب شاہ کے ہوائی اڈے، جہاں ممکنہ طور پر طیارے کو اترنا تھا، بند کردیے گئے۔

    12 اکتوبر کی سہ پہر ساڑھے تین بجے وزیراعظم نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کی برطرفی اور جنرل خواجہ ضیا الدین کی نئے آرمی چیف کے طور پر تقرری کے حکم نامے پر دستخط کردیے۔ بیس منٹ بعد یہ خبر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کردی گئی۔

    بتایا جاتا ہے کہ اسی دوران جنرل ہیڈکوارٹرز میں ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جس میں چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز خان، پاکستان کی مسلح افواج کی دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود اور چند دیگر اعلیٰ فوجی افسران کو نئی صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں اعتماد میں لیا گیا۔

    اسی دوران نئے مقرر ہونے والے آرمی چیف جنرل خواجہ ضیا الدین فوجی وردی پر نئے عہدے کے بیج لگاکر جنرل ہیڈکوارٹرز پہنچ گئے۔ لیکن چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد عزیز خان نے انہیں نیا آرمی چیف تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور انہیں آرمی چیف کے دفتر میں بٹھانے پر بھی رضامند نہ ہوئے۔ اس پر جنرل خواجہ ضیا الدین فوراً وزیراعظم ہاؤس واپس پہنچے اور ساری صورت حال نواز شریف کو بتائی۔

    اس کے بعد نواز شریف نے اپنے ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر جاوید اقبال کے ذریعے شہباز شریف کی قائم کردہ ایلیٹ فورس کو حرکت میں لانے کا فیصلہ کیا۔ اس فورس کے ذریعے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان اسلام آباد کی عمارتوں کا کنٹرول حاصل کرکے شام چھ بجے وزیراعظم نواز شریف کے قوم سے خطاب کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل امین چوہدری اور ڈائریکٹر آپریشن ریڈار یوسف عباس کو ہدایت دی کہ کولمبو سے آنے والی پرواز پی کے 508 کو کسی بھی صورت کراچی کے ہوائی اڈے پر اترنے نہ دیا جائے۔

    اس سلسلے میں سندھ کے چیف ایگزیکٹو سید غوث علی شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس سندھ رانا مقبول اور ڈی آئی جی کراچی اکبر آرائیں کو حکم دیا گیا کہ اگر جنرل پرویز مشرف زبردستی طیارہ اتارنے میں کامیاب ہوجائیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے۔ کراچی کے متبادل ہوائی اڈے نواب شاہ میں بھی ایس ایس پی نواب شاہ احسان گوندل کو ہدایت دی گئی کہ جنرل مشرف کو ہوائی اڈے سے باہر نہ نکلنے دیا جائے۔

    پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے سربراہ کی برطرفی کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے کارروائی شروع کردی۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان اور دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود نے صورت حال کو سنبھالا۔ انہوں نے کراچی کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی کے ساتھ مل کر جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو بحفاظت کراچی کے ہوائی اڈے پر اتارنے کا انتظام کیا۔

    اس طرح جنرل عثمانی اور کراچی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، میجر جنرل افتخار ملک، نے ملیر چھاؤنی سے فوجی دستوں کو نقل و حرکت کے احکامات جاری کیے اور کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا۔

    طیارے کے پائلٹ نے جنرل پرویز مشرف کو پوری صورت حال سے آگاہ کیا۔ جب پائلٹ کو کنٹرول ٹاور کے ذریعے معلوم ہوا کہ مسلح افواج کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال چکی ہیں تو اس نے کنٹرول ٹاور کے ذریعے جنرل مشرف کا رابطہ کراچی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ، میجر جنرل افتخار ملک، سے کروایا۔ ان کے درمیان ہونے والی گفتگو درج ذیل تھی۔

    جنرل مشرف: میں چیف آف آرمی اسٹاف بات کررہا ہوں۔

    جنرل افتخار: سر، میں جنرل افتخار بات کررہا ہوں۔

    جنرل مشرف: افتخار! عثمانی کہاں ہیں؟

    جنرل افتخار: سر، جنرل عثمانی وی آئی پی لاؤنج میں ہیں۔ وہ دروازے پر آپ کے منتظر ہوں گے۔

    جنرل مشرف: کیا مسئلہ ہے؟

    جنرل افتخار: سر، دو گھنٹے پہلے آپ کو ریٹائر کرکے جنرل ضیا الدین کو آرمی چیف مقرر کردیا گیا ہے۔ آپ کے طیارے کے لیے رن وے کے راستے بھی بند کردیے گئے تھے، لیکن ہم نے صورت حال پر قابو پالیا ہے۔ آپ اب رن وے پر اتر سکتے ہیں۔

    جنرل مشرف: افتخار! آپ کا بہت شکریہ۔ محمود اور عزیز سے کہو کہ کوئی بھی ملک چھوڑ کر نہ جائے۔

    جنرل افتخار: ٹھیک ہے سر، ہم آپ کا انتظار کررہے ہیں۔

    اس طرح سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کے خلاف کی گئی منصوبہ بندی عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔ ایک مرتبہ پھر ملک پر فوجی حکومت مسلط ہوگئی۔ دوسری جانب نواز شریف کو چند جرنیلوں نے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹا کر گرفتار کرلیا اور انہیں اٹک قلعے پہنچا دیا۔ جنرل پرویز مشرف ملک کے چیف ایگزیکٹو بن گئے۔

  • ایک ہی کھیت میں ایک سے زائد فصلوں کی کاشت: پنجاب میں انٹر کراپنگ کاشت کا بڑھتا رجحان

    ایک ہی کھیت میں ایک سے زائد فصلوں کی کاشت: پنجاب میں انٹر کراپنگ کاشت کا بڑھتا رجحان

    پنجاب کے کھیتوں میں کسان اب ایک ہی زمین پر ایک سے زیادہ فصلیں اگانے کے طریقے کو آزما رہے ہیں۔  انٹرکروپنگ کے اس طریقے میں ایک ہی کھیت میں دو یا اس سے زیادہ فصلیں ایک ساتھ یا مناسب وقفے کے ساتھ کاشت کی جاتی ہیں، تاکہ زمین، پانی اور دستیاب وسائل کو زیادہ بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

    اس طریقہ کا بنیادی مقصد صرف ایک کھیت سے زیادہ فصلیں حاصل کرنا نہیں بلکہ مختلف فصلوں کو اس انداز میں اگانا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے کم سے کم رکاوٹ پیدا کریں۔ بعض فصلیں زیادہ اونچائی پر بڑھتی ہیں اور زیادہ دھوپ حاصل کرتی ہیں، جبکہ دوسری فصلیں زمین کے قریب رہتے ہوئے دستیاب جگہ استعمال کرتی ہیں۔ اس طرح ایک ہی رقبے پر موجود مختلف فصلیں زمین اور دیگر وسائل سے مختلف انداز میں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

    پنجاب میں مکئی سمیت کئی فصلوں کے ساتھ  کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔ بعض کسان مکئی کے ساتھ دوسری فصلیں اگا رہے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں سبزیوں اور دیگر فصلوں کو بھی ایک ہی کھیت میں شامل کیا جاتا ہے۔

    پنجاب کے ضلع قصور کی تصحیل چونیاں میں ایگریکلچر ایکسٹینشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ندیم کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی کی ہاؤسنگ کے لیے زرعی زمیں استمال کرنے کے باعث زراعت کے لیے زمیں ہوتی جارہی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم انٹرکراپنگ کاشت کو اپنائیں۔ 

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد ندیم نے بتایا: ‘ایک ہی کھیت میں ایک ساتھ ایک سے زائد فصلیں لگانے سے لاگت کم اور پیداوار زیائد ملتی ہے، اس لیے انٹر کراپنگ پنجاب میں مقبول ہوتا جارہا ہے۔’

    کسانوں کے لیے اس طریقے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایک ہی رقبے سے مختلف فصلوں کی پیداوار حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر ایک فصل کی قیمت کم ہو جائے یا اس کی پیداوار توقع کے مطابق نہ رہے تو دوسری فصل سے حاصل ہونے والی آمدن کسی حد تک سہارا دے سکتی ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر صورت میں کسان کو زیادہ منافع حاصل ہوگا، کیونکہ نتیجہ فصلوں کے انتخاب، پانی، کھاد، زمین کی زرخیزی، موسم، بیماریوں اور مارکیٹ کی قیمتوں سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔

     میں فصلوں کا درست انتخاب انتہائی اہم ہے۔ اگر دو فصلیں پانی، غذائی اجزا اور روشنی کے لیے ایک دوسرے سے زیادہ مقابلہ کریں تو ایک فصل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ایسی فصلوں کا انتخاب کیا جائے جو زمین اور وسائل کو مختلف انداز میں استعمال کرتی ہوں تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    اسی لیے زرعی ماہرین کے نزدیک صرف ایک کھیت میں زیادہ فصلیں لگانا کافی نہیں، بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان فصلوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کیسا ہے، ان کی بوائی اور کٹائی کا وقت کیا ہے اور انہیں کتنے پانی اور غذائی اجزا کی ضرورت ہے۔

    پنجاب میں مکئی ایک اہم فصل ہے جو خوراک، جانوروں کے چارے اور مختلف صنعتی استعمال میں آتی ہے۔ اس کے باعث مکئی کے ساتھ دوسری فصلوں کی کاشت کا طریقہ کسانوں اور زرعی ماہرین کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ ایک ہی کھیت میں مکئی اور دوسری فصل کے امتزاج سے کسان زمین کے استعمال کا ایک مختلف طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔

    اس طریقہ میں کسان کا عملی تجربہ بھی اہم ہے۔ کھیت میں فصلوں کے درمیان مناسب فاصلہ، بوائی کا وقت، آبپاشی اور کٹائی کے مراحل درست نہ ہوں تو  کا فائدہ کم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کسانوں کے مقامی تجربات کے ساتھ زرعی ماہرین کی رہنمائی بھی ضروری ہے۔

    زرعی ماہرین کے مطابق  کا ایک اور اہم پہلو وسائل کا بہتر استعمال ہے۔ ایک ہی رقبے پر مختلف فصلیں اگانے سے زمین کے مختلف حصوں اور دستیاب روشنی کو بہتر طور پر استعمال کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ بعض فصلیں زمین میں موجود غذائی اجزا کو مختلف مقدار میں استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مناسب امتزاج کی صورت میں وسائل کے استعمال میں بہتری آ سکتی ہے۔

    تاہم ہر علاقے اور ہر زمین کے لیے ایک ہی طریقہ کار مؤثر نہیں ہو سکتا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، موسم اور فصلوں کے انتخاب میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی کسان کے لیے  اختیار کرنے سے پہلے مقامی حالات کے مطابق فصلوں کا انتخاب اور زرعی ماہرین سے مشورہ اہم ہے۔

    موسمی تبدیلی، پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث کسانوں کے لیے یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ محدود وسائل سے زیادہ بہتر پیداوار کیسے حاصل کی جائے۔  اسی سوال کے ممکنہ طریقوں میں سے ایک ہے۔

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسانوں کے تجربات سے یہ بھی سامنے آتا ہے کہ جدید زرعی طریقے صرف تحقیقی مراکز تک محدود نہیں رہے بلکہ اب انہیں عملی کھیتوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی طریقے کو وسیع پیمانے پر اپنانے سے پہلے اس کی پیداوار، لاگت اور کسان کی آمدن پر اثرات کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔

     کو یوں ایک ایسا زرعی طریقہ کہا جا سکتا ہے جس میں ایک ہی زمین سے مختلف فصلیں حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار صرف فصلوں کی تعداد پر نہیں بلکہ ان کے درست انتخاب اور سائنسی طریقے سے کاشت پر ہے۔

    پنجاب کے کھیتوں میں جاری یہ تجربات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسان اب زمین کے بہتر استعمال، پیداوار میں تنوع اور آمدن کے نئے امکانات تلاش کرنے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید زرعی تکنیکوں کو بھی آزما رہے ہیں۔

  • کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، پنجاب سمیت ملک بھر سے آنے والے بچوں کے لیے مفت علاج کا اہم مرکز

    کراچی: نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، پنجاب سمیت ملک بھر سے آنے والے بچوں کے لیے مفت علاج کا اہم مرکز

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ، جسے عام طور پر این آئی سی ایچ کہا جاتا ہے، بچوں کے علاج کے لیے سندھ حکومت کا ایک بڑا سرکاری اور خصوصی طبی ادارہ ہے۔

    این آئی سی ایچ 550 بستروں پر مشتمل ہسپتال ہے، جہاں بچوں کو علاج کی مختلف سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ ادارے کے مطابق یہاں ہر سال 10 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے، جبکہ روزانہ تقریباً ایک ہزار بچے او پی ڈی میں آتے ہیں۔

    تاہم این آئی سی ایچ کی اہمیت صرف کراچی یا سندھ تک محدود نہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہاں سندھ کے علاوہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے بھی بچے علاج کے لیے لائے جاتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق این آئی سی ایچ میں تقریباً 50 فیصد مریض دیگر صوبوں سے علاج کے لیے آتے ہیں۔

    یعنی پاکستان کے مختلف علاقوں سے خاندان اپنے بچوں کے علاج کے لیے کراچی کے اس سرکاری ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ این آئی سی ایچ کے مطابق بہت سے خاندان طویل سفر کرکے یہاں پہنچتے ہیں اور بعض اوقات مقامی سطح پر علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے بعد کراچی آتے ہیں۔ یہاں علاج مفت ہونے کی وجہ سے یہ ہسپتال کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے بھی اہم سہارا بن جاتا ہے۔

    این آئی سی ایچ کے وارڈ میں جنوبی پنجاب سے آنے والے ایک بچے کی والدہ نے بتایا کہ کراچی کے این آئی سی ایچ میں علاج مفت ہونے کے ساتھ بہتر طبی سہولیات بھی دستیاب ہیں، اسی وجہ سے وہ اپنے بچے کو یہاں لے کر آئیں۔

    ساگا ڈیجیٹل کی ٹیم کو ہسپتال کے دورے کے دوران متعدد ایسے خاندان بھی ملے جن کا تعلق پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے تھا اور وہ اپنے بچوں کے مفت اور بہتر علاج کے لیے این آئی سی ایچ کراچی آئے تھے۔

    این آئی سی ایچ میں بچوں کے لیے ایمرجنسی، سرجری، انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت اور دیگر خصوصی طبی سہولیات موجود ہیں۔ ادارے کے مطابق یہاں بچوں کے لیے 24 گھنٹے سرجیکل ایمرجنسی سروس بھی دستیاب ہے، جبکہ بڑی تعداد میں انکیوبیٹرز نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

    ہسپتال میں میڈیکل آئی سی یو، کمپیوٹرائزڈ ریڈیالوجی، کمپیوٹرائزڈ لیبارٹری، بچوں کے ذیابیطس وارڈ اور بچوں کی نفسیاتی خدمات سمیت مختلف طبی سہولیات بھی موجود ہیں۔

    کمپیوٹرائزڈ لیبارٹری کے ذریعے وارڈز سے لیبارٹری رپورٹس تک رسائی اور مریضوں کے علاج کے عمل کو بہتر بنانے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

    این آئی سی ایچ میں ایسے بچوں کا علاج بھی کیا جاتا ہے جنہیں پیچیدہ اور طویل مدتی طبی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے دور دراز علاقوں سے آنے والے خاندانوں کے لیے یہ ادارہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

    دسمبر 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے این آئی سی ایچ میں ایک کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے نئے میڈیکل ٹاور کے منصوبے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

    کراچی میں قائم یہ سرکاری ادارہ ملک کے مختلف صوبوں سے آنے والے بچوں کو مفت خصوصی علاج فراہم کر رہا ہے، جس کے باعث اس کی خدمات کا دائرہ سندھ کی حدود سے کہیں آگے تک پھیل چکا ہے۔

  • کراچی: این آئی سی وی ڈی میں چھ مہینوں میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا: رپورٹ

    کراچی: این آئی سی وی ڈی میں چھ مہینوں میں پنجاب سمیت دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا: رپورٹ

    کراچی میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) صرف سندھ کے مریضوں تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے دل کے مریضوں کے لیے بھی ایک اہم سرکاری طبی مرکز بن چکا ہے۔

    حکومت سندھ کے تعاون سے چلنے والے اس ادارے میں 2019 سے 2025 کے دوران سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں سے آنے والے 23 لاکھ 20 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ان مریضوں میں بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔

    این آئی سی وی ڈی میں دل کے امراض کی تشخیص سے لے کر ہنگامی طبی امداد، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، کیتھیٹرائزیشن اور پیچیدہ سرجریز تک مختلف سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ صرف 2025 میں ادارے میں 54 ہزار 295 مریض داخل ہوئے، جبکہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے لیے 2 لاکھ 96 ہزار 731 مشاورتیں فراہم کی گئیں۔ بیرونی مریضوں کے شعبے میں 4 لاکھ 43 ہزار 610 مشاورتیں ہوئیں۔

    اسی سال دل کے مریضوں کے لیے 18 ہزار 875 انجیوگرافیز کی گئیں اور 88 ہزار 165 ایکوکارڈیوگرافی کے معائنے کیے گئے۔ پرائمری پی سی آئی کے 9 ہزار 279 طریقہ علاج ہوئے، جبکہ بچوں کے امراض قلب سے متعلق 3 ہزار 69 کیتھیٹرائزیشن اور دیگر طبی مداخلتیں کی گئیں۔

    این آئی سی وی ڈی میں 291 پی ٹی ایم سی اور 40 ٹی اے وی آئی طریقہ علاج کے علاوہ 5 ہزار 649 ابتدائی طبی مداخلتیں اور 889 اختیاری انجیوپلاسٹیز بھی کی گئیں۔ ایک ہی سال کے دوران ادارے میں امراض قلب کی 1 ہزار 400 سے زائد سرجریز ہوئیں۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کا یہ سرکاری ادارہ سندھ کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر علاقوں کے مریضوں کے لیے بھی دل کے علاج کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ادارے میں جدید اور پیچیدہ امراض قلب کے علاج کی سہولیات کو مزید وسعت دینے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

  • سندھ کے حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ: پنجاب نے جلال پور کینال میں آزمائشی طور پر پانی چھوڑ دیا

    سندھ کے حکمرانوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ: پنجاب نے جلال پور کینال میں آزمائشی طور پر پانی چھوڑ دیا

    پنجاب حکومت نے جلال پور کینال میں آزمائشی طور پر پانی چھوڑنے کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ سندھ میں خریف کی فصل کے لیے پانی نایاب ہے۔ پانی کی شدید قلت کے باعث سندھ کے آبادگاروں اور کسانوں کی کاشت کی گئی دھان کی نرسریاں سوکھ رہی ہیں۔ دوسری جانب سندھ کے حکمران بے پرواہ بنے ہوئے ہیں، گویا نیند میں سو رہے ہوں۔

    جلال پور کینال کے بارے میں پنجاب کے محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ پنجاب کی آبپاشی کی تاریخ میں جلال پور کینال ایک نیا اور تاریخی باب رقم کرے گا۔ رسول ہیڈ ورکس سے نکلنے والی نیو جلال پور کینال کا کامیاب آزمائشی بہاؤ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاندار شاہکار ہے بلکہ یہ صوبے کی زرعی خوشحالی اور معاشی خود کفالت کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہے۔

    جلال پور کینال، جسے سرکاری طور پر جلال پور آبپاشی منصوبہ کہا جاتا ہے، کا تصور دراصل نوآبادیاتی دور میں پیش کیا گیا تھا، لیکن مالی اور فنی وسائل کی کمی کے باعث یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک صرف کاغذوں تک محدود رہا۔ 2010 کی دہائی میں اس منصوبے کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس کے لیے پنجاب حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے تعاون سے 2017 میں نیسپاک (NESPAK) کے ذریعے جامع فزیبلٹی اور انجینئرنگ جائزے کرائے۔ دسمبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا، جس کے بعد وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے دور میں اس منصوبے پر تعمیراتی کام تیزی سے شروع کیا گیا۔

    یہ منصوبہ ایک وسیع اور پیچیدہ بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ہے، جس کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

    اس منصوبے کی مرکزی نہر 117 کلومیٹر طویل ہے۔ اس میں 23 تقسیمی نہریں (Distributaries)، 10 چھوٹی نہریں اور 16 فلڈ کیریئر چینلز شامل ہیں، جو پہاڑوں سے آنے والے سیلابی پانی کو منظم کرنے کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔

    بجٹ: اس منصوبے پر تقریباً 50 ارب روپے لاگت آئی ہے۔

    اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضلع پنڈ دادن خان اور خوشاب کے ان بارانی علاقوں کو فائدہ پہنچانا ہے، جو برسوں سے پانی کی کمی کا شکار تھے۔

    1۔ غیر آباد زمینوں کی آبادکاری: یہ منصوبہ ایک لاکھ 70 ہزار ایکڑ غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت اور زرخیز زمین میں تبدیل کرے گا، جس سے پنجاب کی غذائی تحفظ  میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

    2۔ زیرِ زمین پانی پر انحصار میں کمی: علاقے کے وہ کسان جو مہنگے ٹیوب ویلوں کے پانی پر انحصار کرتے تھے، انہیں نہری پانی کی فراہمی سے پیداواری اخراجات میں کمی آئے گی۔

    3۔ پینے کے پانی کی فراہمی: یہ منصوبہ صرف زرعی مقاصد کے لیے ہی نہیں بلکہ متعدد دیہی علاقوں کو پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرے گا۔

    جلال پور کینال صرف پانی کی فراہمی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک معاشی محرک بھی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں اضافے سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی، جس سے مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ نظام جدید زرعی طریقوں کو اپنانے کی راہ ہموار کرے گا، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار ورثہ ثابت ہوگا۔

    دریائے جہلم پنجاب کی تہذیب کی شہ رگ رہا ہے، لیکن نیو جلال پور کینال نے اس دریا کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ یہ منصوبہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب حکومتی عزم، جدید انجینئرنگ اور درست منصوبہ بندی یکجا ہو جائیں تو مشکل ترین چیلنجز کو بھی مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

  • 27 جون: پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بازار حسن کی موراں سے محبت اور ان کی زندگی کی کہانی

    27 جون: پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی بازار حسن کی موراں سے محبت اور ان کی زندگی کی کہانی

    پنجاب کی تاریخ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ایک اہم حکمران سمجھا جاتا ہے۔ پنجابی مؤرخ انہیں راجا پورس کے بعد وہ حکمران قرار دیتے ہیں جس نے ایک وسیع پنجابی ریاست قائم کی۔ ان کی سلطنت مشرقی پنجاب سے افغانستان تک اور کشمیر سے سندھ کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی تھی۔

    رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مہا سنگھ اور والدہ راج کور تھیں۔ بچپن ہی میں والد کا انتقال ہوگیا۔ بعد میں چیچک کی بیماری کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی اور وہ زندگی بھر ایک آنکھ سے محروم رہے۔

    صرف تیرہ سال کی عمر میں وہ پنجاب کے حکمران بنے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے مسلسل جنگیں لڑیں۔ ان کی فوجوں نے پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا۔

    روایت کے مطابق انہوں نے سندھ پر حملے کی بھی تیاری کی، لیکن انگریزوں نے ثالثی کی۔ اس کے بعد سندھ کے ٹالپر حکمرانوں اور رنجیت سنگھ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت سندھ کی جانب سے انہیں مالی ادائیگی کی جاتی رہی۔ مصنف اس ادائیگی کو ‘بھتہ’ قرار دیتے ہیں۔

    سال 2019 میں پنجاب حکومت نے رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر لاہور کے شاہی قلعے کے مرکزی دروازے پر ان اور ان کے مشہور گھوڑے ‘لیلیٰ’ کا مجسمہ نصب کیا۔ مصنف کا کہنا ہے کہ اگر سندھ میں راجا داہر کی اسی طرح یادگار بنائی جاتی تو اس پر شدید ردعمل سامنے آتا۔

    رنجیت سنگھ نے ابتدا میں گوجرانوالہ کو اپنا دارالحکومت بنایا، لیکن بعد میں لاہور منتقل ہوگئے۔ مصنف کے مطابق لاہور پر قبضے کے دوران شہر میں لوٹ مار ہوئی اور مساجد سمیت کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ تاہم بہت سے پنجابی مؤرخ ان کے دور حکومت کو مضبوط اور منظم قرار دیتے ہیں۔

    تاریخ دانوں کے مطابق رنجیت سنگھ کی ساس سدا کور سیاسی معاملات میں ان کی اہم مشیر تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ انہی کے مشوروں نے رنجیت سنگھ کی حکومت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    رنجیت سنگھ کی کئی شادیاں ہوئیں۔ ان کی بیویوں میں مختلف خاندانوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین شامل تھیں۔ وہ ہر ماہ حضرت مادھو لال حسینؒ کے مزار پر بھی حاضری دیتے تھے۔

    اسی دوران ان کی ملاقات ایک خوبصورت مسلمان رقاصہ اور طوائف موراں سے ہوئی، جس کا تعلق مانوالہ گاؤں سے تھا۔ موراں نہ صرف حسین تھیں بلکہ گھڑسواری میں بھی ماہر تھیں۔ وہ اپنی کمائی سے کنویں، مسافر خانے اور غریب لڑکیوں کی شادیوں کا انتظام بھی کرتی تھیں۔ پنجاب میں آج بھی ان کے نام سے ‘کنجری والا کنواں’ مشہور ہے۔

    رنجیت سنگھ موراں کی خوبصورتی اور شخصیت سے بہت متاثر ہوئے۔ دونوں کے درمیان تعلق قائم ہوا۔ ایک روایت کے مطابق ایک روز موراں نہر عبور کر کے رنجیت سنگھ سے ملنے جا رہی تھیں کہ ان کی جوتی پانی میں بہہ گئی۔ یہ واقعہ معلوم ہونے پر رنجیت سنگھ نے وہاں پل تعمیر کروا دیا۔ آج بھی واہگہ کے قریب یہ مقام ‘پل موراں’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    موراں کی وفات کے بعد رنجیت سنگھ نے ان کی قبر پر ایک خوبصورت مقبرہ بھی تعمیر کروایا۔

    رنجیت سنگھ کی زندگی جنگوں، فتوحات، گھوڑوں، شراب اور خوبصورت خواتین کے گرد گھومتی رہی۔ ان کی زندگی میں دو چیزیں بہت اہم سمجھی جاتی ہیں، ایک موراں اور دوسرا ان کا مشہور گھوڑا ‘لیلیٰ’۔

    تاریخی روایت کے مطابق پشاور کے ایک پٹھان سردار کے پاس ‘لیلیٰ’ نامی نہایت قیمتی گھوڑا تھا۔ رنجیت سنگھ نے اسے حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن انکار ہونے پر انہوں نے کئی مرتبہ پشاور پر حملے کیے۔ بالآخر شدید جنگوں اور تباہی کے بعد وہ یہ گھوڑا اپنے قبضے میں لے آئے۔ ان لڑائیوں میں ہزاروں افراد مارے گئے۔

    موراں سے شادی بھی رنجیت سنگھ کے لیے آسان نہ تھی۔ سکھ مذہبی رہنماؤں نے ایک مسلمان عورت سے شادی پر اعتراض کیا اور کہا کہ اگر وہ موراں کو محل میں لائیں گے تو انہیں سرعام کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔

    روایت کے مطابق رنجیت سنگھ نے کہا کہ وہ سزا قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن موراں کو نہیں چھوڑیں گے۔ آخرکار انہوں نے سزا برداشت کی اور موراں کو اپنی ملکہ کا درجہ دیا۔

    کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد ریاست کے بعض سرکاری معاملات میں ‘موراں سرکار’ کا نام استعمال ہونے لگا اور سرکاری مہروں پر بھی یہی الفاظ درج کیے جاتے تھے۔

    موراں نہایت ذہین، سخی اور دوراندیش خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ انہوں نے لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کروائی، جو آج ‘مسجد مائی موراں’ کے نام سے مشہور ہے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ موراں نے دنیاوی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ انہوں نے مذہبی زندگی اختیار کی، ملکہ کا خطاب واپس کیا اور رنجیت سنگھ سے الگ ہوگئیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے روحانی استاد مولانا جان محمد کی درخواست پر عربی اور فارسی علوم کا ایک ادارہ بھی قائم کیا، جہاں طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

    موراں ہمیشہ غریبوں کی مدد کرتی رہیں۔ ان کے دروازے ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ بعد میں وہ لاہور چھوڑ کر پٹھان کوٹ منتقل ہوگئیں اور اپنی باقی زندگی عبادت اور خدمت خلق میں گزاری۔

    موراں کے بعد رنجیت سنگھ نے ایک اور مسلمان خاتون گل بانو سے شادی کی۔ ان کے نام پر لاہور میں ایک باغ بھی تعمیر کروایا گیا، جو آج بھی موجود ہے۔

    مہاراجہ رنجیت سنگھ نے تقریباً 39 سال تک سکھ سلطنت پر حکومت کی۔ ان کا انتقال 27 جون 1839 کو ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی قائم کردہ مضبوط سلطنت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی۔

  • پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹریٹ اور ان کا خصوصی طیارہ چلانے پر روزانہ 46 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ ماہانہ یہ خرچ 14 کروڑ 17 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کی فنانس ڈپارٹمنٹ کی بجٹ دستاویز سے لیے گئے ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل نے اپنی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ میں شائع کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کا سالانہ بجٹ ایک ارب 46 کروڑ 73 لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ اس دفتر میں کل 728 ملازمین کام کرتے ہیں جن پر سالانہ ایک ارب 11 کروڑ 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بنیادی تنخواہیں صرف 30 کروڑ 27 لاکھ 56 ہزار روپے ہیں جبکہ الاؤنسز کی مد میں 81 کروڑ 70 لاکھ 79 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ یعنی الاؤنسز، بنیادی تنخواہوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف پر سالانہ سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم سرکاری مہمانوں کی دعوتوں اور تحفوں پر خرچ ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن (پی او ایل) پر 11 کروڑ روپے جبکہ مجموعی سفری اخراجات 11 کروڑ 72 لاکھ 51 ہزار روپے ہیں۔ اسٹیشنری یعنی کاغذ، فائل اور پرنٹنگ پر 75 لاکھ روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الاؤنسز کے اندر ’دیگر‘ کے کالم پر 40 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کل ملازمین کی تعداد 728 ہے جس میں سے 212 افسر ہیں اور 514 دیگر عملہ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے علیحدہ یونٹ ’وی آئی پی فلائٹ مینٹیننس اینڈ آپریشن‘ کی طرف۔ اس یونٹ کا سالانہ بجٹ 23 کروڑ 50 لاکھ 51 ہزار روپے ہے۔ اس یونٹ میں کل 51 ملازمین ہیں جن میں پائلٹ، کو پائلٹ، ایئر کرافٹ انجینئر، مکینک، کلینر، ڈرائیور اور دیگر عملہ شامل ہے۔ صرف اس یونٹ کے ایندھن پر تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اس کے طیارے پر خرچ کیوں ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟ جب پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور صاف پانی تک رسائی ایک مسئلہ ہے تو کیا سات کروڑ روپے تحائف پر خرچ کرنا مناسب ہے؟ ساگا ڈیجیٹل کی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ ایسی ہی کہانیاں لاتی ہے۔

  • پنجاب کے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ اور خصوصی طیارے کے لیے سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص

    پنجاب کے سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکریٹریٹ اور ان کا خصوصی طیارہ چلانے پر روزانہ 46 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ ماہانہ یہ خرچ 14 کروڑ 17 لاکھ روپے اور سالانہ ایک ارب 70 کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار پنجاب کی فنانس ڈپارٹمنٹ کی بجٹ دستاویز سے لیے گئے ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل نے اپنی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ میں شائع کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کا سالانہ بجٹ ایک ارب 46 کروڑ 73 لاکھ 85 ہزار روپے ہے۔ اس دفتر میں کل 728 ملازمین کام کرتے ہیں جن پر سالانہ ایک ارب 11 کروڑ 98 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان ملازمین کی بنیادی تنخواہیں صرف 30 کروڑ 27 لاکھ 56 ہزار روپے ہیں جبکہ الاؤنسز کی مد میں 81 کروڑ 70 لاکھ 79 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ یعنی الاؤنسز، بنیادی تنخواہوں سے تقریباً ڈھائی گنا زیادہ ہیں۔

    صرف مہمان نوازی اور تحائف پر سالانہ سات کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم سرکاری مہمانوں کی دعوتوں اور تحفوں پر خرچ ہوتی ہے۔ گاڑیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ایندھن (پی او ایل) پر 11 کروڑ روپے جبکہ مجموعی سفری اخراجات 11 کروڑ 72 لاکھ 51 ہزار روپے ہیں۔ اسٹیشنری یعنی کاغذ، فائل اور پرنٹنگ پر 75 لاکھ روپے سالانہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ الاؤنسز کے اندر ’دیگر‘ کے کالم پر 40 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں جس کی کوئی وضاحت موجود نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کل ملازمین کی تعداد 728 ہے جس میں سے 212 افسر ہیں اور 514 دیگر عملہ شامل ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے علیحدہ یونٹ ’وی آئی پی فلائٹ مینٹیننس اینڈ آپریشن‘ کی طرف۔ اس یونٹ کا سالانہ بجٹ 23 کروڑ 50 لاکھ 51 ہزار روپے ہے۔ اس یونٹ میں کل 51 ملازمین ہیں جن میں پائلٹ، کو پائلٹ، ایئر کرافٹ انجینئر، مکینک، کلینر، ڈرائیور اور دیگر عملہ شامل ہے۔ صرف اس یونٹ کے ایندھن پر تین کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر اور اس کے طیارے پر خرچ کیوں ہو رہا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی ترجیحات کے مطابق ہے؟ جب پنجاب کے دیہی علاقوں میں صحت اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور صاف پانی تک رسائی ایک مسئلہ ہے تو کیا سات کروڑ روپے تحائف پر خرچ کرنا مناسب ہے؟ ساگا ڈیجیٹل کی سیریز ’ساگا بجٹ جائزہ‘ ایسی ہی کہانیاں لاتی ہے۔

  • چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    چکوال کی نمک کی پہاڑیوں میں ہندو دیوتا شِوَ کے آنسوؤں سے بنی مقدس جھیل کے کنارے آباد قدیم مندروں والا کٹاس راج

    پنجاب کے ضلع چکوال کے قریب نمک کی پہاڑیوں کے درمیان ایک پرسکون مقام واقع ہے جہاں ایک قدیم تالاب کے گرد درجنوں صدیوں پرانی عبادت گاہیں کھڑی ہیں۔ یہ جگہ کٹاس راج کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بظاہر یہ چند مندر اور ایک خاموش جھیل دکھائی دیتے ہیں، مگر اس مقام کے ساتھ جڑی روایت، تاریخ اور مذہبی اہمیت اسے جنوبی ایشیا کے قدیم ترین مقدس مقامات میں شامل کر دیتی ہے۔

    ہندو روایت کے مطابق اس مقدس تالاب کی تخلیق ایک گہرے اساطیری واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ہندو مت کے دیوتا شِوَ کی اہلیہ ستی کی موت ہوئی تو شِوَ شدید غم میں مبتلا ہو گئے۔ روایت کے مطابق وہ اتنا روئے کہ ان کے آنسو زمین پر گرے اور ان سے دو مقدس جھیلیں وجود میں آئیں۔ ایک جھیل بھارت میں اجین کے قریب مانی جاتی ہے جبکہ دوسری جھیل وہی ہے جسے آج کٹاس کنڈ یا کٹاس راج کا تالاب کہا جاتا ہے۔ اسی عقیدے کی وجہ سے یہ مقام ہندو مت میں روحانی تقدس رکھتا ہے۔

    کٹاس راج دراصل بارہ قدیم مندروں کے ایک مجموعے پر مشتمل ہے جو اس مقدس تالاب کے گرد تعمیر کیے گئے تھے۔ ان مندروں کی تعمیر مختلف ادوار میں ہوئی، مگر ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق ان کا بنیادی دور ساتویں صدی سے دسویں صدی کے درمیان ہندو شاہی حکمرانوں کے زمانے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ہندو شاہی سلطنت اس خطے میں ایک طاقتور حکمران خاندان تھا جو شمالی پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقوں پر حکومت کرتا تھا۔

    یہ مندر اپنے فنِ تعمیر کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں مقامی پتھر سے تعمیر کی گئی ہیں اور ان کے طرزِ تعمیر میں قدیم ہندو اور کشمیری طرزِ تعمیر کی جھلک نظر آتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مندر ایک پہاڑی ڈھلوان کے گرد ترتیب سے کھڑے ہیں جبکہ درمیان میں موجود تالاب اس پورے کمپلیکس کو ایک مقدس مرکز کی حیثیت دیتا ہے۔

    کٹاس راج کا ذکر قدیم ہندو مذہبی روایت میں بھی ملتا ہے۔ کچھ ہندو روایات کے مطابق اس مقام کا تعلق مہا بھارت کی کہانیوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پانڈو بھائیوں نے اپنی جلاوطنی کے دوران یہاں قیام کیا تھا۔ اگرچہ اس روایت کے تاریخی شواہد واضح نہیں، مگر صدیوں سے یہ مقام مذہبی اور ثقافتی روایت کا حصہ رہا ہے۔

    قرونِ وسطیٰ سے لے کر برصغیر کی تقسیم تک یہ مقام ہندو یاتریوں کے لیے ایک اہم زیارت گاہ رہا۔ تقسیم کے بعد یہاں ہندو آبادی کم ہو گئی، مگر اس کے باوجود یہ مقام اپنی مذہبی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے ہندو یاتری خاص طور پر مہاشوراتری کے موقع پر یہاں آتے ہیں اور اس مقدس تالاب کے کنارے عبادت کرتے ہیں۔

    کٹاس راج محض چند مندروں یا ایک جھیل کا نام نہیں۔ یہ اس خطے کی ہزاروں سال پرانی تہذیبی یادداشت کا حصہ ہے۔ یہاں موجود پتھر کی دیواریں، خاموش مندر اور مقدس تالاب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ خطہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتا رہا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی کہانیاں تلاش کرتا ہے جو تاریخ، ثقافت اور ورثے کے ان پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو اکثر وقت کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر اپنے اندر صدیوں کی یادیں اور روایتیں محفوظ رکھتے ہیں۔