چھ جولائی 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو سات سال اور ان کے داماد کیپٹن صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
اس تاریخ پر میاں نواز شریف کو یقیناً لاڑکانہ، بینظیر بھٹو اور جسٹس رحمت حسین جعفری یاد آئے ہوں گے۔
نواز شریف کی زندگی پر مبنی ایک کتاب میں میاں نواز شریف لکھتے ہیں: ‘جب جنرل پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مجھے برطرف کر کے ہائی جیکنگ کیس میں جیل بھیج دیا تو مقدمہ سننے والے لاڑکانہ کے جج جسٹس رحمت حسین جعفری پر فوج کے دو جرنیل، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود کی جانب سے شدید دباؤ ڈالا گیا کہ نواز شریف کو سزائے موت سنائی جائے، مگر اس سندھی جج نے ان دونوں جرنیلوں کا دباؤ قبول نہیں کیا۔
اگر ان کی جگہ کوئی پنجابی جج ہوتا تو شاید پہلے ہی میری سزائے موت لکھ چکا ہوتا اور کہتا کہ نواز شریف کو پھانسی دی جائے۔’
(حوالہ: سہیل وڑائچ کی کتاب ‘غدار کون’)

دوسرا منظر
1978 میں ذوالفقار علی بھٹو کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔ جب وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں نواب محمد احمد خان قتل کیس کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے تو، انہوں نے ایک وکیل کی خالی کرسی پر بیٹھنے کی کوشش کی۔ اس پر چیف جسٹس مولوی مشتاق نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا: ‘مسٹر، آپ اب وزیراعظم نہیں رہے، آپ محض قتل کے ایک ملزم ہیں۔ کرسی پر بیٹھنے کے بجائے ملزمان کے کٹہرے میں جا کر کھڑے ہوں۔’
ایک اور پیشی پر جب ذوالفقار علی بھٹو نے شکایت کی کہ کوٹ لکھپت جیل میں ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور صاحبزادی بینظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات کے دوران توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے، تو چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا: ‘خاموش رہو! تم عادی جھوٹے ہو۔’
مصنف کے مطابق، اسی ماحول میں مقدمہ چلایا گیا اور تین اور چار اپریل کی درمیانی شب ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

تیسرا منظر
نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں بینظیر بھٹو کو مختلف مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور کیا۔ بینظیر بھٹو کبھی کراچی اور کبھی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں، مگر انہوں نے یہ تمام حالات برداشت کیے اور بعد ازاں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
جب بعد میں خود نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو اسلام آباد کی عدالت سے سزا سنائی گئی تو ایک لمحے کے لیے انہیں لاڑکانہ، بینظیر بھٹو اور جسٹس رحمت حسین جعفری ضرور یاد آئے ہوں گے۔
نواز شریف کے مقدمے میں فوجی دباؤ قبول نہ کرنے والے جسٹس رحمت حسین جعفری لاڑکانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ لاڑکانہ کے معروف قانون دان فقیر محمد جعفری کے صاحبزادے اور جسٹس زیڈ اے چنہ کے داماد تھے۔


