[rank_math_breadcrumb]

برنس گارڈن: کراچی کے مالیاتی مرکز کے بیچ تاریخی سبزہ زار

کراچی کے مصروف ترین کاروباری علاقے میں، جہاں دن بھر ٹریفک، گاڑیوں کے شور اور لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے، وہیں ایک ایسا تاریخی سبزہ زار بھی موجود ہے جہاں داخل ہوتے ہی شہری ماحول کا شور کچھ دیر کے لیے پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الدین احمد روڈ پر واقع برنس گارڈن کراچی کے مرکزی علاقے کا ایک اہم تاریخی شہری باغ ہے۔ اس کے قریب ہی آئی آئی چندریگر روڈ واقع ہے، جو ملک کے اہم مالیاتی اور کاروباری مراکز میں شمار ہوتی ہے اور عام طور پر ‘پاکستان کی وال اسٹریٹ’ بھی کہلاتی ہے۔

برنس گارڈن کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان کا قومی عجائب گھر بھی اسی باغ کے اندر قائم ہے۔ یوں ایک ہی مقام پر کراچی کی شہری تاریخ، پاکستان کا تہذیبی ورثہ اور ایک تاریخی شہری سبزہ زار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

1927 میں قائم ہونے والے اس باغ کا رقبہ ساڑھے چودہ ایکڑ ہے۔ برنس گارڈن میں موجود پرانے اور بڑے درخت اس کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہیں۔

یہاں مختلف اقسام کے درخت موجود ہیں، جن میں جنگلی جلیبی، نیم، لگنم، برگد، پیپل، املتاس اور برنا شامل ہیں، جبکہ پھل دار درختوں میں املی، آم، بادام اور امرود بھی پائے جاتے ہیں۔

باغ میں شجرکاری کا سلسلہ بھی مختلف ادوار میں جاری رہا۔ 2022 میں ایک شہری شجرکاری مہم کے دوران یہاں سو سے زیادہ پودے لگائے گئے، جن میں بیری، املی، شریفہ، آم اور کھجور شامل تھے۔ 2023 میں بھی مزید دو سو سے زیادہ درخت لگائے گئے، جن میں جامن، املی اور کھجور کے درخت شامل تھے۔

برنس گارڈن کے بڑے درخت اور گھنا سبزہ اس باغ کو کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے میں خاص اہمیت دیتے ہیں، جہاں اردگرد زیادہ تر عمارتیں، دفاتر، سڑکیں اور تجارتی سرگرمیاں موجود ہیں۔

باغ میں شہریوں کے لیے بیٹھنے اور چہل قدمی کی سہولت بھی موجود ہے۔ تزئین و آرائش کے بعد پیدل چلنے اور جاگنگ کے ٹریک بنائے گئے، بچوں کے لیے لان تیار کیا گیا جبکہ خواتین کے لیے ایک ڈھکا ہوا حصہ بھی مختص کیا گیا۔

تاہم برنس گارڈن کو اپنے موجودہ مقام تک پہنچنے کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوا۔

ایک عرصے تک یہ باغ عوام کے لیے بند رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حالت بھی متاثر ہوئی۔ فروری 2022 میں تزئین و آرائش کے بعد اسے دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ اس دوران نئے داخلی دروازے بھی قائم کیے گئے، جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ کی جانب سے آنے والوں کے لیے بھی نیا داخلی راستہ بنایا گیا۔

برنس گارڈن کی اہمیت صرف اس کے رقبے یا درختوں تک محدود نہیں۔

ایک طرف چند قدم کے فاصلے پر ملک کا اہم مالیاتی اور تجارتی مرکز ہے، جہاں بینک، مالیاتی ادارے اور کاروباری دفاتر موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف یہی باغ شہریوں کو درختوں، لان اور پیدل راستوں پر مشتمل ایک نسبتاً پرسکون ماحول فراہم کرتا ہے۔

قومی عجائب گھر کی موجودگی اس مقام کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے۔

برنس گارڈن اس حقیقت کی بھی یاد دہانی ہے کہ بڑے شہر صرف سڑکوں، بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز سے نہیں بنتے۔ شہری زندگی کے لیے ایسے سبز مقامات بھی ضروری ہیں جہاں لوگ کچھ دیر بیٹھ سکیں، پیدل چل سکیں، درختوں کے سائے میں وقت گزار سکیں اور مسلسل شہری شور سے مختصر وقفہ حاصل کر سکیں۔

کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں، جہاں کھلی جگہیں اور بڑے درخت مسلسل شہری دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، مرکزی علاقے میں موجود برنس گارڈن محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ شہر کے شہری، تاریخی اور ماحولیاتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے۔

اسی بارے میں: