سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

سرد جنگ

اکتوبر 2026 کی سرد ہوائیں جب برطانوی جزیرے اور براعظم یورپ کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں تو ان کے ساتھ ایک ایسی سیاسی سرگوشی بھی چل رہی ہے جس کی گونج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک نہیں سنی گئی تھی۔

وہ برطانیہ، جس نے ٹھیک ایک دہائی قبل 2016 کے تاریخی ریفرنڈم میں بڑے فخر اور غوغا کے ساتھ یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کی تھیں اور جسے برطانوی قوم پرستوں نے ‘یوم آزادی’ قرار دیا تھا، آج ایک بار پھر اسی برسلز کے دروازے پر دستک دینے کے امکانات پر غور کررہا ہے۔

ستمبر 2026 کے آخر میں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ‘بریگزٹ نے برطانیہ کی معیشت اور تزویراتی پوزیشن کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے، اور ملک کے پاس کسٹمز یونین یا مکمل شمولیت جیسے آپشنز موجود ہیں’ تو عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک زلزلہ آگیا۔

یہ محض ایک بیان نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا برملا اعتراف تھا کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی بے رحم جغرافیائی سیاست میں کوئی بھی ملک تنہا جزیرہ بن کر زندہ نہیں رہ سکتا۔

تنہائی کا خوف: ایک سابق نوآبادیاتی طاقت کا نیا المیہ

آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو برطانیہ کو اپنی ‘خودمختاری’ کا سودا کرکے دوبارہ یورپی یونین کی طرف دیکھنے پر مجبور کررہی ہیں؟ اس کا سب سے بڑا جواب ایک لفظ میں چھپا ہے: ‘تنہائی کا خوف’۔

بریگزٹ کے حامیوں نے وعدہ کیا تھا کہ یورپی یونین سے نکل کر لندن ایک ‘عالمی برطانیہ’ بن کر ابھرے گا، جو دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنی مرضی کے آزادانہ تجارتی معاہدے کرے گا۔ لیکن دس سال بعد حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ برطانیہ خود کو امریکہ اور یورپی یونین جیسے دو بڑے معاشی اور سیاسی بلاکس کے درمیان پسا ہوا محسوس کررہا ہے۔

امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحان، یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات کی دھمکیوں اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج نے لندن کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ امریکہ پر اندھا اعتماد نہیں کرسکتا۔

جب کہ دوسری طرف یورپ کی سب سے بڑی تجارتی منڈی، یورپی سنگل مارکیٹ، سے الگ ہونے کی وجہ سے برطانیہ کی مجموعی ملکی پیداوار کو 4 سے 8 فیصد کے مستقل خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی حقیقتوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جغرافیہ کو بدلا نہیں جاسکتا؛ برطانیہ کا مستقبل جغرافیائی اور معاشی طور پر یورپ سے ہی جڑا ہوا ہے۔

یوکرین جنگ کا سایہ اور روسی ریچھ کا خطرہ

اس تزویراتی تبدیلی کا دوسرا بڑا محرک یوکرین کی جنگ ہے۔ یوکرین میں روس کی ممکنہ کامیابی کا تصور اب صرف یوکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پورے یورپ کی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔

یورپی یونین اور نیٹو کے انٹیلی جنس حکام مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر روس یوکرین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کی اگلی پیش قدمی پولینڈ یا بالٹک ریاستوں، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا، کی طرف ہوسکتی ہے۔

جرمن انٹیلی جنس سروس کے مطابق، یورپ کے پاس روس کے ساتھ براہ راست عسکری تصادم کی تیاری کے لیے صرف 2030 تک کا وقت ہے۔

اس ہولناک منظرنامے نے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ روس کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، سائبر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری جیسے ہائبرڈ خطرات نے لندن کو مجبور کیا ہے کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی اور شہری سلامتی کا نظام تیار کرے۔

یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں یورپی یونین کے تزویراتی مشنز میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے پس پردہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

واپسی کا راستہ: ایک طویل اور کٹھن قانونی سفر

اگرچہ برطانوی عوام کی اکثریت، تقریباً 55 فیصد سے زائد، اب بریگزٹ کو ایک تاریخی غلطی مانتی ہے اور واپسی کی خواہاں ہے، لیکن یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا اتنا آسان نہیں جتنا وہاں سے نکلنا تھا۔ یہ کوئی ‘آن اور آف’ کا سوئچ نہیں بلکہ ایک ایسا طویل قانونی اور سیاسی مرحلہ ہے جس میں کم از کم 5 سے 10 سال لگ سکتے ہیں۔

اگر برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم اپنی تجویز کو آگے بڑھاتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے برطانوی پارلیمنٹ سے قانون سازی کروانی ہوگی اور ممکنہ طور پر 2029 کے انتخابات کے آس پاس ایک نیا ‘ان آؤٹ’ ریفرنڈم کروانا ہوگا۔ اگر برطانوی عوام واپسی کے حق میں ووٹ دے بھی دے تو اگلا مرحلہ برسلز میں شروع ہوگا۔

برطانیہ کو اب یورپی یونین کے آرٹیکل 49 کے تحت ایک بالکل نئے ملک کی طرح درخواست دینی ہوگی۔ اسے کوپن ہیگن معیار پر پورا اترنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک سے متفقہ منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ اگر فرانس، جرمنی یا کسی بھی چھوٹے ملک نے اپنے ماضی کے تحفظات کی بنا پر ویٹو کا حق استعمال کرلیا تو برطانیہ کا راستہ رک جائے گا۔

مزید برآں، یورپی رہنما پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اب برطانیہ کو ماضی کی طرح ‘خصوصی مراعات’ یا رعایتیں نہیں ملیں گی۔ اسے یورپی شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو قبول کرنا ہوگا اور شاید مستقبل میں اپنی پیاری کرنسی ‘پاؤنڈ’ کو چھوڑ کر ‘یورو’ اپنانے کی کڑوی گولی بھی نگلنی پڑے۔

اندرونی تقسیم: ریفارم یوکے اور دائیں بازو کا احتجاج

برطانیہ کے اندر اس یورپی جھکاؤ کے خلاف ایک بڑا سیاسی طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں، بالخصوص نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یوکے، اسے برطانوی عوام کے 2016 کے فیصلے کے ساتھ ‘عظیم ترین غداری’ قرار دے رہی ہیں۔

نائجل فراج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین میں واپسی کا مطلب برطانیہ کی سرحدوں کا کنٹرول دوبارہ برسلز کے حوالے کرنا ہے، جس سے امیگریشن کا بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔ حالیہ مقامی انتخابات میں ریفارم یوکے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی محنت کش طبقے میں اب بھی ہجرت اور قومی شناخت کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔

کنزرویٹو پارٹی بھی حکومت پر پرانے زخموں کو دوبارہ چھیڑنے کا الزام لگارہی ہے۔ برطانوی کابینہ خود اس معاملے پر منقسم ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کرنے سے ملک کے اندر سیاسی اور سماجی انتشار کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

یورپی یونین اور امریکہ کی جغرافیائی سیاسی دوری

جب ہم اس پوری بحث کا عالمی تناظر میں جائزہ لیتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ خود یورپی یونین بھی امریکہ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ یورپ اب واشنگٹن پر اپنے معاشی اور دفاعی انحصار کو کم کرکے ‘تزویراتی خودمختاری’ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

یورپی ممالک اب امریکی ٹیکنالوجی، گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون، کے غلبے کو اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور تیزی سے اپنے ملکی اوپن سورس متبادلات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ معاشی محاذ پر یورپ اب بھارت، لاطینی امریکہ اور انڈونیشیا کے ساتھ نئے تجارتی اتحاد بنا رہا ہے تاکہ امریکی تجارتی پابندیوں اور محصولات کی جنگ کے اثرات سے بچا جاسکے۔

دفاعی لحاظ سے فرانس اور جرمنی اب ایک ایسی خودمختار یورپی فوج کی وکالت کررہے ہیں جو نیٹو کے متوازی کام کرسکے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ امریکہ مستقبل میں یورپ کے دفاع سے ہاتھ کھینچ سکتا ہے۔

تاریخ کا پلٹا ہوا پہیہ

برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی کی یہ تڑپ دراصل اس بدلتی ہوئی دنیا کا عکس ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے تیز ہوچکے ہیں اور چھوٹے یا تنہا ممالک کے لیے بقا مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اگر روس یوکرین میں جیت جاتا ہے اور امریکہ اپنی عالمی قیادت سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ کو ایک سپر بلاک بننا پڑے گا۔

برطانیہ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے سامنے ایک طرف قوم پرستی کی انا ہے اور دوسری طرف بقا اور معاشی استحکام کی حقیقت۔ لندن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایک تنہا، کمزور جزیرہ بن کر عالمی منظرنامے سے غائب ہونا چاہتا ہے یا پھر اپنی پرانی غلطی کا اعتراف کرکے ایک بار پھر یورپ کے وسیع تر دھارے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

فیصلہ جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ بریگزٹ کا وہ خواب جو دس سال پہلے دکھایا گیا تھا، اب ایک ڈراؤنا خواب بن کر برطانوی سیاست کے گلے کا ہار بن چکا ہے۔