Tag: یورپی یونین

  • یورپی یونین میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت: کیا یورپ میں سیاسی پناہ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند؟

    یورپی یونین میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت: کیا یورپ میں سیاسی پناہ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند؟

    یورپ میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت کردیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں پناہ گزینوں کی دخواستوں کو تیزی سے نمٹانے سے متعلق اہم قانون سازی کرلی گئی ہے۔

    اس قانون سازی کے بعد پناہ گزینوں کی درخواست مسترد ہونے پر انہیں تیسرے ملک منتقل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی جن سے ان کا براہ راست تعلق نہیں ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مسودہ اب حتمی منظوری کے لیے یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی حکومتوں کو بھیجا جائے گا۔

    یہ اقدام 2015-16 میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین اور پناہ گزینوں کی یورپ آمد کے بعد بننے والی والی سخت ترین پالیسیوں کا تسلسل ہے، جس نے خطے میں امیگریشن مخالف سوچ کو تقویت دی اور دائیں بازو کی جماعتوں کی عوامی حمایت میں اضافہ کیا تھا۔

    پناہ کے طریقہ کار کے ضوابط میں ترامیم کرکے ایسے ممالک کی فہرست متعارف کرائی گئی ہے جنہیں ‘محفوظ’ قرار دیا جائے گا اور جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جا سکے گا۔

    اس فہرست میں مصر اور تیونس جیسے ممالک شامل ہیں، جن کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کئی حلقے ایسے ممالک کو محفوظ قرار دے کر وہاں پناہ گزینوں کو منتقک کرنے کے فیصلے پر تنقید بھی کررہے ہیں۔

    نئے قوانین کےتحت اگر کسی شخص کو ایسے ملک میں تحفظ حاصل ہو سکتا تھا جسے یورپی یونین محفوظ سمجھتی ہے تو اس کی پناہ کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔

    یورپی یونین کے پناہ گزینوںسے متعلق قوانین میں حالیہ ترامیم پر بحث کے دوران مختلف سیاسی گروپوں کے اراکین نے متضاد مؤقف اختیار کیا۔

    جرمن رکن پارلیمنٹ لینا ڈوپونٹ نے کہا کہ ’ہم ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد پناہ گزین نظام کے قیام کے لیے ایک اور اہم بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ واضح طور پر بے بنیاد پناہ کی درخواستوں کو مستقبل میں زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں مسترد کرنے کی سہولت دے کر پناہ کے طریقۂ کار کو بہتر اور تیز کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان ترامیم سے رکن ممالک کے نظام پر دباؤ کم ہوگا اور لوگوں کو برسوں تک غیر یقینی کی کیفیت میں پھنسنے سے بچانے میں مدد ملے گی۔

    دوسری جانب سوشلسٹس اینڈ ڈیموکریٹس گروپ سے تعلق رکھنے والی اطالوی رکن پارلیمنٹ سیسیلیا اسٹرادا، جنہوں نے ان نامزدگیوں کے خلاف ووٹ دیا، نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نام نہاد ’محفوظ ممالک‘ درحقیقت محفوظ نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ان ممالک میں قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور بنیادی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے، مگر آج کی ترمیم زمینی حقائق کو نظرانداز کر رہی ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

    ایمینیسٹی انٹرنیشنل اور عالمی حقوق کی دیگر تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے اور اسے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرکے مطابق ایمینسٹی انٹرنیشنل کی وکیل برائے مہاجرت و پناہ اولیویا سنڈبرگ ڈیز نے کہا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستیں مکمل جائزے کے بغیر مسترد کی جا سکتی ہیں اور انہیں ایسے ممالک بھیجا جا سکتا ہے جہاں وہ کبھی گئے بھی نہ ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پناہ گزینوں کے تحفظ کے حوالے سے یورپی یونین کے عزم سے دستبرداری کے مترادف ہیں اور اس سے رکن ممالک کو تیسرے ممالک کے ساتھ بیرونِ یورپ پناہ کی درخواستوں کی کارروائی کے معاہدے کرنے کی راہ ملے گی۔

    ریٹرن حبز کا قیام

    یورپی یونین کی جانب سے نئی ترامیم یورپی ممالک کو یورپی یونین سے باہر ‘ریٹرن حبز’ قائم کرنے کی جانب ایک قدم پیش رفت ہوئی ہے، جیسا کہ اٹلی نے البانیہ میں مراکز قائم کیے ہیں۔ تاہم واپسی کے حتمی ضوابط پر پارلیمنٹ میں ابھی مزید غور جاری ہے۔

    مہاجرت معاہدہ اور نفاذ کا شیڈول

    یہ تبدیلیاں 2023 میں منظور ہونے والے یورپی یونین کے مائیگریشن پیکٹ کا حصہ ہیں، جس کا مکمل نفاذ جون 2026 سے متوقع ہے۔

    2015 میں شام سمیت دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے بعد یورپی یونین میں امیگریشن مخالف بیانیے میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی حکومتوں نےپناہ گزینوں کی واپسی اور سخت کنٹرول پر مبنی پالیسیاں اختیار کی تھیں۔

    فرانس سے تعلق رکھنے والی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ میلیسا کامارا نے خبردار کیا کہ ‘محفوظ ممالک’ کی فہرست ہزاروں افراد کو خطرناک صورتحال میں ڈال سکتی ہے کیونکہ بعض تیسرے ممالک کو انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال کے باوجود محفوظ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • انڈیا اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے ’مدر آف آل ڈیلز‘ کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    انڈیا اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے ’مدر آف آل ڈیلز‘ کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    جنوری 2026 میں انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑا آزاد تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے دونوں فریقین نے مدر آف آل ڈیلز قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا کو یورپی منڈیوں تک اپنی نوے فیصد سے زائد برآمدات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو گئی ہے، جس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، جواہرات اور جوتے شامل ہیں۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تجارت میں تحفظ پسندی بڑھ رہی ہے اور انڈیا کو امریکا کی جانب سے عائد کردہ بعض تجارتی پابندیوں کا بھی سامنا رہا ہے۔

    یہ معاہدہ مجموعی طور پر پچیس کھرب ڈالر کی معیشت اور دو ارب آبادی کو محیط کرتا ہے۔ اس کا مقصد انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو دو ہزار تیس تک تین سو ارب ڈالر تک پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔

    یورپی منڈیوں میں انڈین مصنوعات کی لاگت کم ہونے سے انڈیا کو برآمدات بڑھانے اور صنعتی پیداوار میں وسعت کا موقع ملے گا۔

    ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے اثرات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت اپنی چھیاسٹھ فیصد برآمدات بغیر ڈیوٹی یورپ بھیجتا ہے، جن کی سالانہ مالیت تقریباً نو ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے، تاہم یہ سہولت دسمبر دو ہزار ستائیس میں ختم ہونے والی ہے اور اس میں توسیع کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

    انڈیا کو مستقل بنیادوں پر ڈیوٹی فری رسائی ملنے سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری کمزور پڑ سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس جیسے شعبوں میں انڈین مصنوعات کم قیمت پر دستیاب ہونے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے یورپی مارکیٹ میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے بروقت حکمت عملی اختیار نہ کی تو برآمدی آرڈرز میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔

    اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر روزگار پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹیکسٹائل اور اس سے جڑی صنعتوں سے وابستہ لاکھوں افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

    ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات ازسرنو ترتیب دینے، برآمدات میں تنوع لانے اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دینا ہوگی۔

    انڈیا اور یورپی یونین کا یہ معاہدہ خطے میں بدلتے ہوئے تجارتی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی معیشت اور برآمدی شعبے کو کس طرح محفوظ بناتا ہے۔