Tag: یورپی یونین

  • سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    اکتوبر 2026 کی سرد ہوائیں جب برطانوی جزائر اور براعظم یورپ کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں تو ان کے ساتھ ایک ایسی سیاسی سرگوشی بھی سنائی دے رہی ہے جس کی گونج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس شدت سے نہیں سنی گئی۔

    برطانیہ نے ٹھیک ایک دہائی قبل، 2016 کے تاریخی ریفرنڈم میں، بڑے فخر اور شور و غوغا کے ساتھ یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کی تھیں۔ برطانوی قوم پرستوں نے اس فیصلے کو ’یومِ آزادی‘ قرار دیا تھا، لیکن اب ایک بار پھر اسی برسلز کے دروازے پر دستک دینے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ستمبر 2026 کے آخر میں برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مبینہ طور پر پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ’بریگزٹ نے برطانیہ کی معیشت اور تزویراتی حیثیت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے اور ملک کے پاس کسٹمز یونین یا مکمل شمولیت جیسے اختیارات موجود ہیں۔‘

     یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں کسی ملک کے لیے تنہا رہ کر اپنے تمام معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کرنا آسان نہیں۔

    تنہائی کا خوف: ایک سابق نوآبادیاتی طاقت کا نیا المیہ

    آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو برطانیہ کو اپنی خودمختاری پر زور دینے کی پالیسی پر نظرثانی کرکے دوبارہ یورپی یونین کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ اس سوال کا ایک اہم جواب تنہائی کا خوف ہے۔

    بریگزٹ کے حامیوں نے وعدہ کیا تھا کہ یورپی یونین سے نکل کر لندن ایک ’عالمی برطانیہ‘ بن کر ابھرے گا، جو دنیا کی بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنی شرائط پر آزادانہ تجارتی معاہدے کرے گا۔ لیکن دس سال بعد برطانیہ کو امریکہ اور یورپی یونین جیسے بڑے معاشی اور سیاسی مراکز کے درمیان اپنے مفادات میں توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

    امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحانات، یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات کی دھمکیوں اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج نے لندن کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ امریکہ پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے۔

    دوسری طرف، یورپی سنگل مارکیٹ سے الگ ہونے کے بعد برطانیہ کو تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق بریگزٹ کے طویل مدتی معاشی اثرات برطانیہ کی مجموعی قومی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان اثرات کی درست مقدار کا انحصار متعلقہ مطالعات، مفروضوں اور مدت پر ہے۔

    معاشی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیہ کو سیاسی فیصلوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کے معاشی اور تجارتی مفادات بڑی حد تک یورپ سے جڑے ہوئے ہیں۔

    یوکرین جنگ کا سایہ اور روسی خطرہ

    اس تزویراتی تبدیلی کا دوسرا بڑا محرک یوکرین کی جنگ ہے۔ یوکرین میں روس کی ممکنہ کامیابی کا تصور اب صرف یوکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے یورپ کی سلامتی سے جڑ چکا ہے۔ یورپی ممالک میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر روس یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے تو پولینڈ یا بالٹک ریاستوں، یعنی ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا، پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

    جرمن انٹیلیجنس سروس کے حوالے سے یورپ کی دفاعی تیاریوں اور 2030 تک کے ممکنہ خطرات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم، روس اور یورپی ممالک کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے کسی مقررہ وقت کو یقینی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    اس صورتِ حال نے یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کی سلامتی سے متعلق ترجیحات کو بھی اہم بنا دیا ہے۔ روس سے منسوب فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، سائبر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں جیسے ہائبرڈ خطرات کے تناظر میں یورپی ممالک مشترکہ دفاعی اور شہری تحفظ کے اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔ برطانیہ کے لیے بھی یورپی ممالک کے ساتھ سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط کرنا ایک اہم معاملہ ہے۔

    تاہم، یورپی دفاعی تعاون میں شرکت اور یورپی یونین کی مکمل رکنیت دو الگ معاملات ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی عمل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

    واپسی کا راستہ: ایک طویل اور پیچیدہ قانونی سفر

    برطانیہ میں بریگزٹ کے بارے میں عوامی رائے اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بحث جاری ہے، لیکن یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا ایک طویل قانونی اور سیاسی عمل ہوگا۔ اس کے لیے صرف برطانوی حکومت کا اعلان کافی نہیں ہوگا۔

    اگر برطانوی حکومت مستقبل میں مکمل رکنیت کی درخواست دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پہلے ملکی سطح پر سیاسی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں پارلیمانی عمل اور عوامی رائے کی اہمیت ہوگی، جبکہ نئے ریفرنڈم کا انعقاد ایک سیاسی امکان تو ہو سکتا ہے، لیکن اسے طے شدہ فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے لیے برطانیہ کو معاہدۂ یورپی یونین کے آرٹیکل 49 کے تحت درخواست دینا ہوگی۔ اس عمل میں رکنیت کے معیار پر پورا اترنا اور تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ کسی ایک رکن ملک کی مخالفت بھی درخواست کی منظوری روک سکتی ہے۔

    مکمل رکنیت کی صورت میں برطانیہ کو یورپی یونین کے قواعد و ضوابط اور ذمہ داریوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ آزادانہ نقل و حرکت، مشترکہ تجارتی پالیسی اور یورو اختیار کرنے جیسے معاملات پر بھی بات ہوگی۔

    تاہم، یورو اپنانے کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کی شرائط الگ ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ برطانیہ کی واپسی کے ساتھ ہی پاؤنڈ کو فوری طور پر ترک کرنا لازمی ہوگا۔

    اندرونی تقسیم: ریفارم یوکے اور دائیں بازو کا احتجاج

    برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات یا دوبارہ شمولیت کے خیال کو سیاسی مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں، بالخصوص نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یوکے، بریگزٹ کو عوام کے 2016 کے فیصلے کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں اور یورپی یونین کی طرف واپسی کی مخالفت کرتی ہیں۔

    فراج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین میں واپسی سے برطانیہ کی سرحدوں اور امیگریشن پالیسی پر اس کا اختیار محدود ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک قومی خودمختاری اور سرحدی کنٹرول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، یورپی یونین کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات کے حامی تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کے ممکنہ فوائد کو اہم سمجھتے ہیں۔

    کنزرویٹو پارٹی بھی حکومت کی یورپ سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ اس لیے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کی بحث برطانیہ کے اندر سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔

    یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ

    عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یورپی یونین بھی امریکہ پر اپنے معاشی اور دفاعی انحصار کو کم کرنے اور تزویراتی خودمختاری بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

    یورپی ممالک امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، مثلاً گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون، پر انحصار کم کرنے اور ڈیجیٹل خودمختاری بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ اوپن سورس متبادلات، ڈیٹا کے تحفظ اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

    معاشی محاذ پر یورپی یونین بھارت، لاطینی امریکہ اور انڈونیشیا سمیت مختلف شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ اپنی منڈیوں اور سپلائی چینز کو متنوع بنایا جا سکے۔ دفاعی میدان میں فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی رہنما یورپ کی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یورپ اپنی سلامتی کے لیے نیٹو اور امریکہ پر انحصار کس حد تک برقرار رکھے اور اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں کتنا اضافہ کرے۔

    تاریخ کا پلٹا ہوا پہیہ

    برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی بحث ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے اور ممالک کو اپنے معاشی، سیاسی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔

    اگر روس یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے اور امریکہ یورپ کے دفاع میں اپنا کردار محدود کرتا ہے تو یورپی ممالک پر اپنی اجتماعی دفاعی اور سیاسی صلاحیتیں بڑھانے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، مستقبل کا انحصار جنگ کے نتائج، امریکی پالیسیوں اور یورپی ممالک کے باہمی فیصلوں پر ہوگا۔

    برطانیہ اس وقت ایک اہم سیاسی بحث کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک طرف بریگزٹ کے ذریعے حاصل کی گئی خودمختاری اور قومی فیصلوں پر اختیار کا تصور ہے، جبکہ دوسری طرف یورپی منڈی تک رسائی، معاشی استحکام اور مشترکہ سلامتی کے تقاضے ہیں۔

    لندن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یورپی یونین سے فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کیسے کرے گا، یا مستقبل میں تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ اختیار کرے گا۔ مکمل رکنیت کی طرف واپسی ایک الگ اور پیچیدہ فیصلہ ہوگا، جس کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین دونوں کی سیاسی رضامندی درکار ہوگی۔

    بریگزٹ کے دس برس بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا برطانیہ اپنے موجودہ تعلقات کے ذریعے وہ معاشی اور تزویراتی فوائد حاصل کر سکتا ہے جن کا وعدہ بریگزٹ کے حامیوں نے کیا تھا، یا اسے یورپ کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کی ضرورت محسوس ہوگی۔ اس سوال کا جواب صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ معاشی شواہد، عوامی رائے اور آنے والے برسوں کے فیصلوں سے سامنے آئے گا۔

  • سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    اکتوبر 2026 کی سرد ہوائیں جب برطانوی جزیرے اور براعظم یورپ کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں تو ان کے ساتھ ایک ایسی سیاسی سرگوشی بھی چل رہی ہے جس کی گونج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک نہیں سنی گئی تھی۔

    وہ برطانیہ، جس نے ٹھیک ایک دہائی قبل 2016 کے تاریخی ریفرنڈم میں بڑے فخر اور غوغا کے ساتھ یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کی تھیں اور جسے برطانوی قوم پرستوں نے ‘یوم آزادی’ قرار دیا تھا، آج ایک بار پھر اسی برسلز کے دروازے پر دستک دینے کے امکانات پر غور کررہا ہے۔

    ستمبر 2026 کے آخر میں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ‘بریگزٹ نے برطانیہ کی معیشت اور تزویراتی پوزیشن کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے، اور ملک کے پاس کسٹمز یونین یا مکمل شمولیت جیسے آپشنز موجود ہیں’ تو عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک زلزلہ آگیا۔

    یہ محض ایک بیان نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا برملا اعتراف تھا کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی بے رحم جغرافیائی سیاست میں کوئی بھی ملک تنہا جزیرہ بن کر زندہ نہیں رہ سکتا۔

    تنہائی کا خوف: ایک سابق نوآبادیاتی طاقت کا نیا المیہ

    آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو برطانیہ کو اپنی ‘خودمختاری’ کا سودا کرکے دوبارہ یورپی یونین کی طرف دیکھنے پر مجبور کررہی ہیں؟ اس کا سب سے بڑا جواب ایک لفظ میں چھپا ہے: ‘تنہائی کا خوف’۔

    بریگزٹ کے حامیوں نے وعدہ کیا تھا کہ یورپی یونین سے نکل کر لندن ایک ‘عالمی برطانیہ’ بن کر ابھرے گا، جو دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنی مرضی کے آزادانہ تجارتی معاہدے کرے گا۔ لیکن دس سال بعد حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ برطانیہ خود کو امریکہ اور یورپی یونین جیسے دو بڑے معاشی اور سیاسی بلاکس کے درمیان پسا ہوا محسوس کررہا ہے۔

    امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحان، یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات کی دھمکیوں اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج نے لندن کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ امریکہ پر اندھا اعتماد نہیں کرسکتا۔

    جب کہ دوسری طرف یورپ کی سب سے بڑی تجارتی منڈی، یورپی سنگل مارکیٹ، سے الگ ہونے کی وجہ سے برطانیہ کی مجموعی ملکی پیداوار کو 4 سے 8 فیصد کے مستقل خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی حقیقتوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جغرافیہ کو بدلا نہیں جاسکتا؛ برطانیہ کا مستقبل جغرافیائی اور معاشی طور پر یورپ سے ہی جڑا ہوا ہے۔

    یوکرین جنگ کا سایہ اور روسی ریچھ کا خطرہ

    اس تزویراتی تبدیلی کا دوسرا بڑا محرک یوکرین کی جنگ ہے۔ یوکرین میں روس کی ممکنہ کامیابی کا تصور اب صرف یوکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پورے یورپ کی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔

    یورپی یونین اور نیٹو کے انٹیلی جنس حکام مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر روس یوکرین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کی اگلی پیش قدمی پولینڈ یا بالٹک ریاستوں، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا، کی طرف ہوسکتی ہے۔

    جرمن انٹیلی جنس سروس کے مطابق، یورپ کے پاس روس کے ساتھ براہ راست عسکری تصادم کی تیاری کے لیے صرف 2030 تک کا وقت ہے۔

    اس ہولناک منظرنامے نے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ روس کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، سائبر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری جیسے ہائبرڈ خطرات نے لندن کو مجبور کیا ہے کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی اور شہری سلامتی کا نظام تیار کرے۔

    یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں یورپی یونین کے تزویراتی مشنز میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے پس پردہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

    واپسی کا راستہ: ایک طویل اور کٹھن قانونی سفر

    اگرچہ برطانوی عوام کی اکثریت، تقریباً 55 فیصد سے زائد، اب بریگزٹ کو ایک تاریخی غلطی مانتی ہے اور واپسی کی خواہاں ہے، لیکن یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا اتنا آسان نہیں جتنا وہاں سے نکلنا تھا۔ یہ کوئی ‘آن اور آف’ کا سوئچ نہیں بلکہ ایک ایسا طویل قانونی اور سیاسی مرحلہ ہے جس میں کم از کم 5 سے 10 سال لگ سکتے ہیں۔

    اگر برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم اپنی تجویز کو آگے بڑھاتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے برطانوی پارلیمنٹ سے قانون سازی کروانی ہوگی اور ممکنہ طور پر 2029 کے انتخابات کے آس پاس ایک نیا ‘ان آؤٹ’ ریفرنڈم کروانا ہوگا۔ اگر برطانوی عوام واپسی کے حق میں ووٹ دے بھی دے تو اگلا مرحلہ برسلز میں شروع ہوگا۔

    برطانیہ کو اب یورپی یونین کے آرٹیکل 49 کے تحت ایک بالکل نئے ملک کی طرح درخواست دینی ہوگی۔ اسے کوپن ہیگن معیار پر پورا اترنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک سے متفقہ منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ اگر فرانس، جرمنی یا کسی بھی چھوٹے ملک نے اپنے ماضی کے تحفظات کی بنا پر ویٹو کا حق استعمال کرلیا تو برطانیہ کا راستہ رک جائے گا۔

    مزید برآں، یورپی رہنما پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اب برطانیہ کو ماضی کی طرح ‘خصوصی مراعات’ یا رعایتیں نہیں ملیں گی۔ اسے یورپی شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو قبول کرنا ہوگا اور شاید مستقبل میں اپنی پیاری کرنسی ‘پاؤنڈ’ کو چھوڑ کر ‘یورو’ اپنانے کی کڑوی گولی بھی نگلنی پڑے۔

    اندرونی تقسیم: ریفارم یوکے اور دائیں بازو کا احتجاج

    برطانیہ کے اندر اس یورپی جھکاؤ کے خلاف ایک بڑا سیاسی طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں، بالخصوص نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یوکے، اسے برطانوی عوام کے 2016 کے فیصلے کے ساتھ ‘عظیم ترین غداری’ قرار دے رہی ہیں۔

    نائجل فراج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین میں واپسی کا مطلب برطانیہ کی سرحدوں کا کنٹرول دوبارہ برسلز کے حوالے کرنا ہے، جس سے امیگریشن کا بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔ حالیہ مقامی انتخابات میں ریفارم یوکے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی محنت کش طبقے میں اب بھی ہجرت اور قومی شناخت کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔

    کنزرویٹو پارٹی بھی حکومت پر پرانے زخموں کو دوبارہ چھیڑنے کا الزام لگارہی ہے۔ برطانوی کابینہ خود اس معاملے پر منقسم ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کرنے سے ملک کے اندر سیاسی اور سماجی انتشار کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

    یورپی یونین اور امریکہ کی جغرافیائی سیاسی دوری

    جب ہم اس پوری بحث کا عالمی تناظر میں جائزہ لیتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ خود یورپی یونین بھی امریکہ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ یورپ اب واشنگٹن پر اپنے معاشی اور دفاعی انحصار کو کم کرکے ‘تزویراتی خودمختاری’ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    یورپی ممالک اب امریکی ٹیکنالوجی، گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون، کے غلبے کو اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور تیزی سے اپنے ملکی اوپن سورس متبادلات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ معاشی محاذ پر یورپ اب بھارت، لاطینی امریکہ اور انڈونیشیا کے ساتھ نئے تجارتی اتحاد بنا رہا ہے تاکہ امریکی تجارتی پابندیوں اور محصولات کی جنگ کے اثرات سے بچا جاسکے۔

    دفاعی لحاظ سے فرانس اور جرمنی اب ایک ایسی خودمختار یورپی فوج کی وکالت کررہے ہیں جو نیٹو کے متوازی کام کرسکے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ امریکہ مستقبل میں یورپ کے دفاع سے ہاتھ کھینچ سکتا ہے۔

    تاریخ کا پلٹا ہوا پہیہ

    برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی کی یہ تڑپ دراصل اس بدلتی ہوئی دنیا کا عکس ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے تیز ہوچکے ہیں اور چھوٹے یا تنہا ممالک کے لیے بقا مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اگر روس یوکرین میں جیت جاتا ہے اور امریکہ اپنی عالمی قیادت سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ کو ایک سپر بلاک بننا پڑے گا۔

    برطانیہ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے سامنے ایک طرف قوم پرستی کی انا ہے اور دوسری طرف بقا اور معاشی استحکام کی حقیقت۔ لندن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایک تنہا، کمزور جزیرہ بن کر عالمی منظرنامے سے غائب ہونا چاہتا ہے یا پھر اپنی پرانی غلطی کا اعتراف کرکے ایک بار پھر یورپ کے وسیع تر دھارے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

    فیصلہ جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ بریگزٹ کا وہ خواب جو دس سال پہلے دکھایا گیا تھا، اب ایک ڈراؤنا خواب بن کر برطانوی سیاست کے گلے کا ہار بن چکا ہے۔

  • یورپی یونین کی ‘خصوصی تجارتی رعایت’ جی ایس پی پلس کو انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور مزدوروں کے حقوق سے مشروط بنانے کی تنبیہ

    یورپی یونین کی ‘خصوصی تجارتی رعایت’ جی ایس پی پلس کو انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور مزدوروں کے حقوق سے مشروط بنانے کی تنبیہ

    یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے پاکستان میں نمائندے کی جانب سے جاری مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے ‘خصوصی تجارتی رعایت’ یا جی ایس پی پلس (GSP+) سے مسلسل فائدے کو انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اظہار رائے کی آزادی، عدالتی خودمختاری، مزدوروں کے حقوق اور بین الاقوامی معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد سے مشروط کرنے کی تنبیہ دی ہے۔

    جمعرات کے روز جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان نے بعض شعبوں میں پیش رفت ضرور کی، تاہم متعدد اہم شعبوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی جبکہ مثبت تبدیلیاں محدود رہیں۔

    یورپی یونین نے تنبیہ کی ہے کہ اگر پاکستان انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، آزادی اظہار، عدالتی خودمختاری، اقلیتوں کے تحفظ، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، مزدوروں کے حقوق، خواتین اور بچوں کے تحفظ اور انسداد بدعنوانی کے شعبوں میں مؤثر اور قابلِ پیمائش پیش رفت کرتا ہے تو وہ آئندہ بھی جی ایس پی پلس کی تجارتی سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ بصورت دیگر 2027 سے نافذ ہونے والے نئے قواعد کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا مزید سختی سے جائزہ لیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کو آئندہ 2027 سے نافذ ہونے والے نئے جی ایس پی پلس قواعد کے تناظر میں اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں پوری کرنا ہوں گی۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی، جبری گمشدگیوں کا خاتمہ، تشدد کے خلاف مؤثر اقدامات، سزائے موت اور جیل اصلاحات، خواتین اور بچوں کے حقوق کا تحفظ، جبری مشقت اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ، اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک روکنا اور وفاقی و صوبائی سطح پر انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط بنانا مستقبل کی اہم ترجیحات ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور شہری آزادیوں سے متعلق سنگین خدشات برقرار ہیں۔ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔

    اظہار رائے کی آزادی بھی مزید محدود ہوئی کیونکہ سائبر کرائم، انسداد دہشت گردی اور توہین مذہب سے متعلق قوانین میں ایسی ترامیم کی گئیں جنہیں مبہم قرار دیا گیا ہے اور جن کا استعمال اختلاف رائے رکھنے والوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور عام شہریوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان قوانین کے تحت لوگوں کو قید، مالی نقصانات اور بیرون ملک سفر پر پابندی جیسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رپورٹ میں آئینی ترامیم پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یورپی یونین کے مطابق حالیہ آئینی تبدیلیوں نے عدلیہ کی آزادی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھایا ہے جبکہ منصفانہ ٹرائل، انصاف تک رسائی اور عدالتی نظام کی شفافیت جیسے مسائل بھی بدستور موجود ہیں۔

    اس کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کے بعض مثبت اقدامات کو بھی سراہا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کے لیے قومی کمیشن کے قیام کے لیے قانون سازی، سزائے موت کے دائرہ کار میں کمی، پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی کا برقرار رہنا، انسداد تشدد قانون کے قواعد کا نفاذ، اسلام آباد میں گھریلو تشدد سے متعلق بل، ازدواجی زیادتی کے پہلے مقدمے میں سزا، اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے کردار کو اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، وزارت قانون و انصاف اور وزارت انسانی حقوق نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا، تاہم زیادہ تر پیش رفت صرف قانون سازی یا انتظامی اقدامات تک محدود رہی اور ان کے عملی نتائج ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئے۔

    جی ایس پی پلس پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟

    یورپی کمیشن کے مطابق پاکستان جی ایس پی پلس کا سب سے بڑا مستفید ہونے والا ملک ہے جبکہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی ہے۔ 2024 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 28 فیصد حصہ یورپی یونین کو گیا جبکہ ان برآمدات میں تقریباً 70 سے 76 فیصد حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا تھا۔ دوسری جانب یورپی یونین پاکستان کو درآمدات فراہم کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر رہی جبکہ چین بدستور سب سے بڑا سپلائر رہا۔

    رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران یورپی یونین کی پاکستان سے درآمدات زیادہ تر جی ایس پی پلس کے تحت رعایتی ڈیوٹی کی اہل رہیں۔ 2024 میں پاکستان کو تقریباً 73 کروڑ 20 لاکھ یورو کی کسٹم ڈیوٹی سے چھوٹ ملی، جو یورپی یونین کو پاکستان کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 9 فیصد بنتی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس سے متعلق تمام 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق برقرار رکھی ہے اور کوئی نئی شرط یا تحفظات شامل نہیں کیے۔

    رپورٹ کے مطابق سزائے موت کے قانون میں تبدیلی کے بعد چار جرائم کو سزائے موت کے دائرہ کار سے خارج کیا گیا جبکہ دسمبر 2019 کے بعد کسی مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی۔ جیلوں کی اصلاح کے لیے بھی اقدامات کیے گئے، لیکن اس کے باوجود جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی، خراب حالات اور زیر سماعت قیدیوں کی بڑی تعداد بدستور سنگین مسئلہ ہے۔

    انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال

    یورپی یونین نے کہا کہ کچھ مثبت اقدامات کے باوجود انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن متاثرہ افراد کا سراغ لگانے یا ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اب تک ہزاروں مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں لیکن کسی بھی کیس میں ریاستی اداروں کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی شخص کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔

    رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے قوانین میں حالیہ ترامیم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق ان ترامیم کے تحت بغیر مقدمہ چلائے یا مؤثر عدالتی نگرانی کے طویل حراست کا راستہ کھل سکتا ہے، جس سے سیاسی کارکنوں، طلبہ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

    اسی طرح رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں صحافیوں کے لیے کام کرنے کا ماحول مزید مشکل اور غیر محفوظ ہوا ہے۔ صحافیوں کو دھمکیوں، مقدمات، انتظامی دباؤ اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا)، توہین مذہب، ہتک عزت، بغاوت اور انسداد دہشت گردی کے قوانین میں موجود مبہم دفعات اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے آزادی اظہار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً احمدی برادری، کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق احمدیوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے اور شہری حقوق سے فائدہ اٹھانے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں اور قبروں کی بے حرمتی کے متعدد واقعات پیش آئے جبکہ بعض معاملات میں مقامی حکام یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مبینہ خاموشی یا معاونت کی بھی اطلاعات ملیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں پر حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین بھی اظہار رائے اور مذہبی آزادی پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے ان قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بعض حفاظتی اقدامات اور طریقہ کار متعارف کرائے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کے مؤثر نتائج سامنے نہیں آئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی جبکہ بعض گروہوں نے ان قوانین کو ذاتی مفادات کے لیے بھی استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق 2026 تک سینکڑوں افراد ایسے مقدمات میں جیلوں میں بند تھے جنہیں بعد میں جھوٹا قرار دیا گیا۔

    بچوں اور مزدور حقوق کی تشویشناک صورتحال

    یورپی یونین نے بچوں کے حقوق سے متعلق صورتحال کو بھی تشویشناک قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کی مجموعی آبادی کا تقریباً 38 فیصد بنتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو تعلیم کی فراہمی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے بنیادی شرط ہے، لیکن اس کے باوجود گزشتہ برس تعلیم پر سرکاری اخراجات مزید کم ہو گئے۔ بچوں کے خلاف تشدد، پیدائش کی رجسٹریشن میں کمی اور صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی بھی اہم مسائل قرار دیے گئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سول سوسائٹی انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے لیے کام کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ نئی پالیسیوں اور قوانین کے باعث رجسٹریشن کے پیچیدہ مراحل، غیر ملکی فنڈنگ پر سخت پابندیاں اور طویل منظوری کے عمل نے بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرگرمیوں کو محدود کیا ہے۔

    مزدوروں کے حقوق کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شعبے میں کچھ اہم پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ تمام صوبوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اعداد و شمار پر مبنی ایکشن پلان تیار کیے جبکہ پاکستان نے جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق بین الاقوامی محنت تنظیم کے 2014 کے پروٹوکول کی بھی توثیق کی۔ ملک بھر میں ضلعی نگرانی کمیٹیاں قائم کی گئیں تاکہ چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے قوانین پر بہتر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تاہم یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود عملی نتائج ابھی بھی بہت محدود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں سے مشقت لینے کی شرح میں صرف معمولی کمی آئی ہے جبکہ لاکھوں بچے اب بھی خطرناک نوعیت کے کاموں میں مصروف ہیں، جن میں گھریلو ملازمتیں بھی شامل ہیں۔ تمام صوبوں نے اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے منصوبے تو تیار کیے ہیں، لیکن ان پر مؤثر عمل درآمد ابھی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

    جبری مشقت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام صوبوں میں اس کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن 2023 کے اندازوں کے مطابق تقریباً تیس لاکھ افراد اب بھی قرض کے بدلے جبری مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سندھ کے ہاریوں اور پنجاب کی اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی نگرانی کمیٹیاں اب تک جبری مشقت کے کیسز کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں۔

    یورپی یونین نے سفارش کی ہے کہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے مزدوروں کو آسان انصاف، سستے قرضوں کی فراہمی، اینٹوں کے تمام بھٹوں کی رجسٹریشن، بچوں سے بھٹوں پر کام لینے کی مکمل ممانعت اور مزدوروں کو استحصالی قرضوں سے نجات دلانے کے لیے مؤثر مالی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں لیبر انسپکشن کا نظام بھی کمزور ہے۔ لیبر انسپکٹروں کی تعداد ناکافی ہے، انہیں مناسب وسائل، تربیت اور سفری سہولیات میسر نہیں جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے بھی اتنے مؤثر نہیں کہ وہ خلاف ورزیوں کی حوصلہ شکنی کر سکیں۔

    ٹریڈ یونینز کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک میں یونین سازی کی شرح اب بھی پانچ فیصد سے کم ہے۔ خواتین کی قیادت محدود ہے جبکہ کئی شعبوں، خصوصاً زراعت، ماہی گیری، غیر رسمی معیشت اور کنٹریکٹ ملازمین کو اجتماعی سودے بازی کے مکمل حقوق حاصل نہیں۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ ان قوانین میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ تمام مزدوروں کو یکساں حقوق حاصل ہو سکیں۔

    خواتین کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں خواتین کی لیبر فورس میں شرکت صرف 28.2 فیصد رہی جبکہ اجرتوں میں مردوں اور خواتین کے درمیان تقریباً 25 فیصد فرق موجود ہے۔ محفوظ سفری سہولیات، ہراسانی کے خدشات، بچوں کی نگہداشت کی سہولیات کی کمی اور تعلیم تک محدود رسائی خواتین کی معاشی شرکت میں بڑی رکاوٹیں قرار دی گئی ہیں۔

  • یورپی یونین میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت: کیا یورپ میں سیاسی پناہ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند؟

    یورپی یونین میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت: کیا یورپ میں سیاسی پناہ کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند؟

    یورپ میں سیاسی پناہ سے متعلق قوانین کو مزید سخت کردیا ہے۔ برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس میں پناہ گزینوں کی دخواستوں کو تیزی سے نمٹانے سے متعلق اہم قانون سازی کرلی گئی ہے۔

    اس قانون سازی کے بعد پناہ گزینوں کی درخواست مسترد ہونے پر انہیں تیسرے ملک منتقل کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی جن سے ان کا براہ راست تعلق نہیں ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مسودہ اب حتمی منظوری کے لیے یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کی حکومتوں کو بھیجا جائے گا۔

    یہ اقدام 2015-16 میں دس لاکھ سے زائد مہاجرین اور پناہ گزینوں کی یورپ آمد کے بعد بننے والی والی سخت ترین پالیسیوں کا تسلسل ہے، جس نے خطے میں امیگریشن مخالف سوچ کو تقویت دی اور دائیں بازو کی جماعتوں کی عوامی حمایت میں اضافہ کیا تھا۔

    پناہ کے طریقہ کار کے ضوابط میں ترامیم کرکے ایسے ممالک کی فہرست متعارف کرائی گئی ہے جنہیں ‘محفوظ’ قرار دیا جائے گا اور جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جا سکے گا۔

    اس فہرست میں مصر اور تیونس جیسے ممالک شامل ہیں، جن کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کئی حلقے ایسے ممالک کو محفوظ قرار دے کر وہاں پناہ گزینوں کو منتقک کرنے کے فیصلے پر تنقید بھی کررہے ہیں۔

    نئے قوانین کےتحت اگر کسی شخص کو ایسے ملک میں تحفظ حاصل ہو سکتا تھا جسے یورپی یونین محفوظ سمجھتی ہے تو اس کی پناہ کی درخواست مسترد کی جا سکتی ہے۔

    یورپی یونین کے پناہ گزینوںسے متعلق قوانین میں حالیہ ترامیم پر بحث کے دوران مختلف سیاسی گروپوں کے اراکین نے متضاد مؤقف اختیار کیا۔

    جرمن رکن پارلیمنٹ لینا ڈوپونٹ نے کہا کہ ’ہم ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد پناہ گزین نظام کے قیام کے لیے ایک اور اہم بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ واضح طور پر بے بنیاد پناہ کی درخواستوں کو مستقبل میں زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں مسترد کرنے کی سہولت دے کر پناہ کے طریقۂ کار کو بہتر اور تیز کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان ترامیم سے رکن ممالک کے نظام پر دباؤ کم ہوگا اور لوگوں کو برسوں تک غیر یقینی کی کیفیت میں پھنسنے سے بچانے میں مدد ملے گی۔

    دوسری جانب سوشلسٹس اینڈ ڈیموکریٹس گروپ سے تعلق رکھنے والی اطالوی رکن پارلیمنٹ سیسیلیا اسٹرادا، جنہوں نے ان نامزدگیوں کے خلاف ووٹ دیا، نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’نام نہاد ’محفوظ ممالک‘ درحقیقت محفوظ نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ان ممالک میں قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور بنیادی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے، مگر آج کی ترمیم زمینی حقائق کو نظرانداز کر رہی ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید

    ایمینیسٹی انٹرنیشنل اور عالمی حقوق کی دیگر تنظیموں نے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے اور اسے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرکے مطابق ایمینسٹی انٹرنیشنل کی وکیل برائے مہاجرت و پناہ اولیویا سنڈبرگ ڈیز نے کہا کہ اس ترمیم کے نتیجے میں پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستیں مکمل جائزے کے بغیر مسترد کی جا سکتی ہیں اور انہیں ایسے ممالک بھیجا جا سکتا ہے جہاں وہ کبھی گئے بھی نہ ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پناہ گزینوں کے تحفظ کے حوالے سے یورپی یونین کے عزم سے دستبرداری کے مترادف ہیں اور اس سے رکن ممالک کو تیسرے ممالک کے ساتھ بیرونِ یورپ پناہ کی درخواستوں کی کارروائی کے معاہدے کرنے کی راہ ملے گی۔

    ریٹرن حبز کا قیام

    یورپی یونین کی جانب سے نئی ترامیم یورپی ممالک کو یورپی یونین سے باہر ‘ریٹرن حبز’ قائم کرنے کی جانب ایک قدم پیش رفت ہوئی ہے، جیسا کہ اٹلی نے البانیہ میں مراکز قائم کیے ہیں۔ تاہم واپسی کے حتمی ضوابط پر پارلیمنٹ میں ابھی مزید غور جاری ہے۔

    مہاجرت معاہدہ اور نفاذ کا شیڈول

    یہ تبدیلیاں 2023 میں منظور ہونے والے یورپی یونین کے مائیگریشن پیکٹ کا حصہ ہیں، جس کا مکمل نفاذ جون 2026 سے متوقع ہے۔

    2015 میں شام سمیت دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے بعد یورپی یونین میں امیگریشن مخالف بیانیے میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی حکومتوں نےپناہ گزینوں کی واپسی اور سخت کنٹرول پر مبنی پالیسیاں اختیار کی تھیں۔

    فرانس سے تعلق رکھنے والی گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ میلیسا کامارا نے خبردار کیا کہ ‘محفوظ ممالک’ کی فہرست ہزاروں افراد کو خطرناک صورتحال میں ڈال سکتی ہے کیونکہ بعض تیسرے ممالک کو انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال کے باوجود محفوظ قرار دیا جا رہا ہے۔

  • انڈیا اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے ’مدر آف آل ڈیلز‘ کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    انڈیا اور یورپی یونین کے مابین آزاد تجارتی معاہدے ’مدر آف آل ڈیلز‘ کے خطے پر کیا اثرات ہوں گے؟

    جنوری 2026 میں انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان ایک بڑا آزاد تجارتی معاہدہ طے پایا، جسے دونوں فریقین نے مدر آف آل ڈیلز قرار دیا۔ اس معاہدے کے تحت انڈیا کو یورپی منڈیوں تک اپنی نوے فیصد سے زائد برآمدات پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو گئی ہے، جس میں ٹیکسٹائل، ملبوسات، جواہرات اور جوتے شامل ہیں۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی تجارت میں تحفظ پسندی بڑھ رہی ہے اور انڈیا کو امریکا کی جانب سے عائد کردہ بعض تجارتی پابندیوں کا بھی سامنا رہا ہے۔

    یہ معاہدہ مجموعی طور پر پچیس کھرب ڈالر کی معیشت اور دو ارب آبادی کو محیط کرتا ہے۔ اس کا مقصد انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان دو طرفہ تجارت کو دو ہزار تیس تک تین سو ارب ڈالر تک پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔

    یورپی منڈیوں میں انڈین مصنوعات کی لاگت کم ہونے سے انڈیا کو برآمدات بڑھانے اور صنعتی پیداوار میں وسعت کا موقع ملے گا۔

    ماہرین کے مطابق اس پیش رفت کے اثرات پاکستان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت اپنی چھیاسٹھ فیصد برآمدات بغیر ڈیوٹی یورپ بھیجتا ہے، جن کی سالانہ مالیت تقریباً نو ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ ان برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پر مشتمل ہے، تاہم یہ سہولت دسمبر دو ہزار ستائیس میں ختم ہونے والی ہے اور اس میں توسیع کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

    انڈیا کو مستقل بنیادوں پر ڈیوٹی فری رسائی ملنے سے پاکستانی مصنوعات کی مسابقتی برتری کمزور پڑ سکتی ہے۔ ٹیکسٹائل اور گارمنٹس جیسے شعبوں میں انڈین مصنوعات کم قیمت پر دستیاب ہونے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے لیے یورپی مارکیٹ میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے بروقت حکمت عملی اختیار نہ کی تو برآمدی آرڈرز میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کا خدشہ ہے۔

    اس صورتحال کا سب سے بڑا اثر روزگار پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ٹیکسٹائل اور اس سے جڑی صنعتوں سے وابستہ لاکھوں افراد کی نوکریاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔

    ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کو یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات ازسرنو ترتیب دینے، برآمدات میں تنوع لانے اور نئی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دینا ہوگی۔

    انڈیا اور یورپی یونین کا یہ معاہدہ خطے میں بدلتے ہوئے تجارتی اور جغرافیائی سیاسی رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی صورتحال میں اپنی معیشت اور برآمدی شعبے کو کس طرح محفوظ بناتا ہے۔