Tag: یوکرین

  • چرنوبل جوہری حادثے کا شکار یوکرین کا پریپیات شہر، جہاں ایک ہی رات میں زندگی رک گئی، اور پھر وقت کبھی واپس نہ آیا

    چرنوبل جوہری حادثے کا شکار یوکرین کا پریپیات شہر، جہاں ایک ہی رات میں زندگی رک گئی، اور پھر وقت کبھی واپس نہ آیا

    26 اپریل 1986 کو چرنوبل جوہری حادثے نے یوکرین کے ایک آباد شہر پریپیات کو ایسی ویرانی میں بدل دیا جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

    ہزاروں لوگ اپنے گھر، اسکول، دکانیں اور روزمرہ زندگی کی نشانیاں چھوڑ کر نکلے، یہ سوچتے ہوئے کہ وہ جلد واپس آجائیں گے۔ مگر ان کی عارضی نقل مکانی مستقل جلاوطنی بن گئی۔ آج خالی عمارتوں، جنگل میں بدلتی سڑکوں اور زنگ آلود فیرس وہیل کے درمیان کھڑا پریپیات اس سوال کی یاد دہانی ہے کہ انسانی ترقی کی دوڑ میں غفلت کی قیمت کتنی بھاری ہو سکتی ہے۔

    یوکرین کے شمالی حصے میں واقع پریپیات کبھی سوویت یونین کے جدید اور تیزی سے ترقی کرتے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ شہر 1970 میں چرنوبل جوہری بجلی گھر میں کام کرنے والے ملازمین اور ان کے خاندانوں کے لیے آباد کیا گیا تھا۔ یہاں رہائشی عمارتیں، اسکول، ہسپتال، کھیل کے میدان، ثقافتی مراکز، دکانیں اور تفریحی مقامات موجود تھے۔ شہر میں ہزاروں خاندان آباد تھے اور زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی۔

    لیکن 26 اپریل 1986 کی صبح اس شہر کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

    رات ایک بج کر 23 منٹ پر چرنوبل جوہری بجلی گھر کے چوتھے ری ایکٹر میں ایک تباہ کن حادثہ پیش آیا۔ ری ایکٹر کو بند کرنے سے متعلق ایک آزمائش کے دوران ہونے والے واقعات کے نتیجے میں دھماکے ہوئے، ری ایکٹر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور بڑی مقدار میں تابکار مادے فضا میں خارج ہونے لگے۔ یہ حادثہ بعد میں دنیا کی تاریخ کے بدترین جوہری حادثات میں شمار ہوا۔

    پریپیات بجلی گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ حادثے کے بعد شہر کے رہائشیوں کو فوری طور پر وہاں سے منتقل نہیں کیا گیا۔ لوگ اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف رہے، جبکہ جوہری بجلی گھر میں ہونے والی تباہی کے اثرات سے نمٹنے کی کوششیں جاری تھیں۔

    بالآخر 27 اپریل 1986 کو شہر خالی کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ حادثے کے تقریباً 36 گھنٹے بعد رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی ہدایت دی گئی۔ حکام نے لوگوں سے کہا کہ وہ چند دن کے لیے ضروری سامان ساتھ لے کر نکلیں۔ اس مقصد کے لیے بڑی تعداد میں بسیں پہنچائی گئیں اور ہزاروں افراد کو شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ انخلا کے وقت پریپیات کی آبادی تقریباً 49 ہزار تھی۔

    لوگوں کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے گھروں کو آخری بار دیکھ رہے ہیں۔ بہت سے خاندان اپنے پیچھے کپڑے، فرنیچر، کھلونے، کتابیں اور روزمرہ استعمال کی دوسری چیزیں چھوڑ گئے۔ انہیں امید تھی کہ چند دن بعد حالات معمول پر آجائیں گے اور وہ واپس لوٹ سکیں گے۔ لیکن تابکاری کے پھیلاؤ اور علاقے کو لاحق خطرات کے باعث ان کی واپسی ممکن نہ ہو سکی۔

    ایک آباد شہر اچانک خالی ہو گیا۔

    وہ اسکول جہاں بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، خاموش ہو گئے۔ وہ اپارٹمنٹ جہاں خاندانوں کی زندگی آباد تھی، ویران پڑے رہ گئے۔ بازاروں میں خریداروں کی آمدورفت ختم ہو گئی اور کھیل کے میدان بچوں سے خالی ہو گئے۔ وقت کے ساتھ عمارتیں خستہ حال ہوتی گئیں اور کبھی جدید شہری زندگی کی علامت سمجھی جانے والی جگہیں زوال کی تصویر بن گئیں۔

    پریپیات کی سب سے مشہور علامت اس کا تفریحی پارک اور وہاں نصب زرد رنگ کا فیرس وہیل ہے۔ اس پارک کا افتتاح یکم مئی 1986 کو ہونا تھا، جب سوویت یونین میں یوم مزدور کی تقریبات منائی جانی تھیں۔ لیکن افتتاح سے چند روز قبل چرنوبل حادثہ پیش آ گیا اور شہر خالی کرا لیا گیا۔ فیرس وہیل کبھی اپنے طے شدہ افتتاح کے مطابق عوام کے لیے استعمال نہیں ہو سکا۔ آج اس کا زنگ آلود ڈھانچا دنیا بھر میں جوہری حادثے اور اچانک ختم ہو جانے والی شہری زندگی کی علامت بن چکا ہے۔

    اس پارک کے جھولے اور دوسری تفریحی مشینیں بھی اسی طرح چھوڑ دی گئیں۔ جہاں بچوں کی ہنسی، موسیقی اور لوگوں کے شور کی توقع تھی، وہاں خاموشی نے جگہ لے لی۔ فیرس وہیل کے خالی ڈھانچے کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی کبھی تاریخ کے بڑے سانحات کسی شہر کو صرف تباہ نہیں کرتے، بلکہ اس کے مستقبل کو بھی وہیں روک دیتے ہیں جہاں وہ کھڑا ہوتا ہے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ قدرت نے پریپیات کی خالی جگہوں پر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔ عمارتوں کے درمیان درخت اگنے لگے، پودوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جگہ بنا لی اور جنگلی جانور اس علاقے میں نظر آنے لگے۔ بعض مقامات پر پودوں اور درختوں نے انسانی تعمیرات کو اس حد تک گھیر لیا کہ شہر کی سڑکیں جنگل کا حصہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔

    تاہم، قدرت کی اس واپسی کو یہ ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ علاقہ مکمل طور پر محفوظ ہو چکا ہے۔ تابکاری کی سطح ہر جگہ یکساں نہیں اور بعض مقامات پر آلودگی طویل عرصے تک خطرہ بن سکتی ہے۔ چرنوبل کے گرد قائم ممنوعہ علاقے میں داخلے کے لیے اجازت اور حفاظتی ضوابط اہم ہیں۔ موجودہ حالات میں سکیورٹی اور جنگ سے متعلق پابندیاں بھی رسائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

    چرنوبل حادثے کے اثرات صرف پریپیات تک محدود نہیں رہے۔ تابکار مادے یوکرین سے باہر بھی پھیلے اور مختلف ممالک میں ماحول، خوراک اور صحت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی۔ حادثے کے بعد متاثرہ علاقے سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، جبکہ جوہری حفاظت، ہنگامی منصوبہ بندی اور توانائی کے محفوظ استعمال پر دنیا بھر میں بحث تیز ہو گئی۔

    پریپیات آج محض ایک ویران شہر نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا ایک اہم سبق ہے۔ یہ شہر دکھاتا ہے کہ جدید عمارتیں، ترقی یافتہ سہولتیں اور سائنسی کامیابیاں کسی معاشرے کو خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتیں۔ ٹیکنالوجی کے ساتھ شفافیت، ذمہ داری، احتیاط اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری بھی ضروری ہے۔

    اس شہر کی خاموش عمارتیں، خالی اسکول، ویران گھر اور زنگ آلود فیرس وہیل ماضی کی ایسی تصویریں ہیں جو آج بھی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ یہاں وقت حقیقت میں نہیں رکا، کیونکہ عمارتیں مسلسل ٹوٹ رہی ہیں اور قدرت اپنے انداز میں زمین کی شکل بدل رہی ہے۔ لیکن انسانی زندگی کا وہ منظر، جو اپریل 1986 میں اچانک ختم ہوا، آج بھی انہی خالی گلیوں میں ماضی کی طرح موجود محسوس ہوتا ہے۔

    پریپیات کی کہانی ایک ایسے شہر کی کہانی ہے جہاں ہزاروں لوگ بہتر زندگی کے خواب لے کر آباد ہوئے تھے، مگر ایک جوہری حادثے نے انہیں اپنے گھروں سے ہمیشہ کے لیے دور کر دیا۔

    اور جب کوئی اس شہر کی خالی گلیوں اور خاموش عمارتوں کو دیکھتا ہے تو ایک سوال ذہن میں ضرور ابھرتا ہے۔

    کیا انسان اپنی سائنسی کامیابیوں کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سمجھتا ہے، جتنی سنجیدگی سے وہ ترقی کے خواب دیکھتا ہے؟

  • سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    اکتوبر 2026 کی سرد ہوائیں جب برطانوی جزائر اور براعظم یورپ کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں تو ان کے ساتھ ایک ایسی سیاسی سرگوشی بھی سنائی دے رہی ہے جس کی گونج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک اس شدت سے نہیں سنی گئی۔

    برطانیہ نے ٹھیک ایک دہائی قبل، 2016 کے تاریخی ریفرنڈم میں، بڑے فخر اور شور و غوغا کے ساتھ یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کی تھیں۔ برطانوی قوم پرستوں نے اس فیصلے کو ’یومِ آزادی‘ قرار دیا تھا، لیکن اب ایک بار پھر اسی برسلز کے دروازے پر دستک دینے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

    ستمبر 2026 کے آخر میں برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مبینہ طور پر پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ’بریگزٹ نے برطانیہ کی معیشت اور تزویراتی حیثیت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے اور ملک کے پاس کسٹمز یونین یا مکمل شمولیت جیسے اختیارات موجود ہیں۔‘

     یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں کسی ملک کے لیے تنہا رہ کر اپنے تمام معاشی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کرنا آسان نہیں۔

    تنہائی کا خوف: ایک سابق نوآبادیاتی طاقت کا نیا المیہ

    آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو برطانیہ کو اپنی خودمختاری پر زور دینے کی پالیسی پر نظرثانی کرکے دوبارہ یورپی یونین کی طرف دیکھنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ اس سوال کا ایک اہم جواب تنہائی کا خوف ہے۔

    بریگزٹ کے حامیوں نے وعدہ کیا تھا کہ یورپی یونین سے نکل کر لندن ایک ’عالمی برطانیہ‘ بن کر ابھرے گا، جو دنیا کی بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنی شرائط پر آزادانہ تجارتی معاہدے کرے گا۔ لیکن دس سال بعد برطانیہ کو امریکہ اور یورپی یونین جیسے بڑے معاشی اور سیاسی مراکز کے درمیان اپنے مفادات میں توازن قائم کرنے کے چیلنج کا سامنا ہے۔

    امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحانات، یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات کی دھمکیوں اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج نے لندن کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ امریکہ پر کس حد تک انحصار کر سکتا ہے۔

    دوسری طرف، یورپی سنگل مارکیٹ سے الگ ہونے کے بعد برطانیہ کو تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق بریگزٹ کے طویل مدتی معاشی اثرات برطانیہ کی مجموعی قومی پیداوار کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان اثرات کی درست مقدار کا انحصار متعلقہ مطالعات، مفروضوں اور مدت پر ہے۔

    معاشی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جغرافیہ کو سیاسی فیصلوں سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ برطانیہ کے معاشی اور تجارتی مفادات بڑی حد تک یورپ سے جڑے ہوئے ہیں۔

    یوکرین جنگ کا سایہ اور روسی خطرہ

    اس تزویراتی تبدیلی کا دوسرا بڑا محرک یوکرین کی جنگ ہے۔ یوکرین میں روس کی ممکنہ کامیابی کا تصور اب صرف یوکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے یورپ کی سلامتی سے جڑ چکا ہے۔ یورپی ممالک میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ اگر روس یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے تو پولینڈ یا بالٹک ریاستوں، یعنی ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا، پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

    جرمن انٹیلیجنس سروس کے حوالے سے یورپ کی دفاعی تیاریوں اور 2030 تک کے ممکنہ خطرات پر بحث ہوتی رہی ہے۔ تاہم، روس اور یورپی ممالک کے درمیان براہِ راست عسکری تصادم کے کسی مقررہ وقت کو یقینی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    اس صورتِ حال نے یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کی سلامتی سے متعلق ترجیحات کو بھی اہم بنا دیا ہے۔ روس سے منسوب فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، سائبر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی کارروائیوں جیسے ہائبرڈ خطرات کے تناظر میں یورپی ممالک مشترکہ دفاعی اور شہری تحفظ کے اقدامات پر توجہ دے رہے ہیں۔ برطانیہ کے لیے بھی یورپی ممالک کے ساتھ سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط کرنا ایک اہم معاملہ ہے۔

    تاہم، یورپی دفاعی تعاون میں شرکت اور یورپی یونین کی مکمل رکنیت دو الگ معاملات ہیں۔ ان دونوں کو ایک ہی عمل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

    واپسی کا راستہ: ایک طویل اور پیچیدہ قانونی سفر

    برطانیہ میں بریگزٹ کے بارے میں عوامی رائے اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر بحث جاری ہے، لیکن یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا ایک طویل قانونی اور سیاسی عمل ہوگا۔ اس کے لیے صرف برطانوی حکومت کا اعلان کافی نہیں ہوگا۔

    اگر برطانوی حکومت مستقبل میں مکمل رکنیت کی درخواست دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پہلے ملکی سطح پر سیاسی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اس سلسلے میں پارلیمانی عمل اور عوامی رائے کی اہمیت ہوگی، جبکہ نئے ریفرنڈم کا انعقاد ایک سیاسی امکان تو ہو سکتا ہے، لیکن اسے طے شدہ فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے لیے برطانیہ کو معاہدۂ یورپی یونین کے آرٹیکل 49 کے تحت درخواست دینا ہوگی۔ اس عمل میں رکنیت کے معیار پر پورا اترنا اور تمام 27 رکن ممالک کی متفقہ منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ کسی ایک رکن ملک کی مخالفت بھی درخواست کی منظوری روک سکتی ہے۔

    مکمل رکنیت کی صورت میں برطانیہ کو یورپی یونین کے قواعد و ضوابط اور ذمہ داریوں پر اتفاق کرنا ہوگا۔ آزادانہ نقل و حرکت، مشترکہ تجارتی پالیسی اور یورو اختیار کرنے جیسے معاملات پر بھی بات ہوگی۔

    تاہم، یورو اپنانے کی قانونی حیثیت اور اس کے نفاذ کی شرائط الگ ہیں، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ برطانیہ کی واپسی کے ساتھ ہی پاؤنڈ کو فوری طور پر ترک کرنا لازمی ہوگا۔

    اندرونی تقسیم: ریفارم یوکے اور دائیں بازو کا احتجاج

    برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات یا دوبارہ شمولیت کے خیال کو سیاسی مخالفت کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں، بالخصوص نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یوکے، بریگزٹ کو عوام کے 2016 کے فیصلے کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں اور یورپی یونین کی طرف واپسی کی مخالفت کرتی ہیں۔

    فراج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین میں واپسی سے برطانیہ کی سرحدوں اور امیگریشن پالیسی پر اس کا اختیار محدود ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک قومی خودمختاری اور سرحدی کنٹرول بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، یورپی یونین کے ساتھ قریبی معاشی تعلقات کے حامی تجارت، سرمایہ کاری اور تعاون کے ممکنہ فوائد کو اہم سمجھتے ہیں۔

    کنزرویٹو پارٹی بھی حکومت کی یورپ سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہے۔ اس لیے یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کی بحث برطانیہ کے اندر سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کر سکتی ہے۔

    یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ

    عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو یورپی یونین بھی امریکہ پر اپنے معاشی اور دفاعی انحصار کو کم کرنے اور تزویراتی خودمختاری بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔

    یورپی ممالک امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، مثلاً گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون، پر انحصار کم کرنے اور ڈیجیٹل خودمختاری بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔ اوپن سورس متبادلات، ڈیٹا کے تحفظ اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

    معاشی محاذ پر یورپی یونین بھارت، لاطینی امریکہ اور انڈونیشیا سمیت مختلف شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ اپنی منڈیوں اور سپلائی چینز کو متنوع بنایا جا سکے۔ دفاعی میدان میں فرانس اور جرمنی سمیت کئی یورپی رہنما یورپ کی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یورپ اپنی سلامتی کے لیے نیٹو اور امریکہ پر انحصار کس حد تک برقرار رکھے اور اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں کتنا اضافہ کرے۔

    تاریخ کا پلٹا ہوا پہیہ

    برطانیہ میں یورپی یونین کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی بحث ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بڑھ رہا ہے اور ممالک کو اپنے معاشی، سیاسی اور دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔

    اگر روس یوکرین میں اپنے مقاصد حاصل کر لیتا ہے اور امریکہ یورپ کے دفاع میں اپنا کردار محدود کرتا ہے تو یورپی ممالک پر اپنی اجتماعی دفاعی اور سیاسی صلاحیتیں بڑھانے کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، مستقبل کا انحصار جنگ کے نتائج، امریکی پالیسیوں اور یورپی ممالک کے باہمی فیصلوں پر ہوگا۔

    برطانیہ اس وقت ایک اہم سیاسی بحث کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک طرف بریگزٹ کے ذریعے حاصل کی گئی خودمختاری اور قومی فیصلوں پر اختیار کا تصور ہے، جبکہ دوسری طرف یورپی منڈی تک رسائی، معاشی استحکام اور مشترکہ سلامتی کے تقاضے ہیں۔

    لندن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ یورپی یونین سے فاصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کیسے کرے گا، یا مستقبل میں تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی راہ اختیار کرے گا۔ مکمل رکنیت کی طرف واپسی ایک الگ اور پیچیدہ فیصلہ ہوگا، جس کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین دونوں کی سیاسی رضامندی درکار ہوگی۔

    بریگزٹ کے دس برس بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا برطانیہ اپنے موجودہ تعلقات کے ذریعے وہ معاشی اور تزویراتی فوائد حاصل کر سکتا ہے جن کا وعدہ بریگزٹ کے حامیوں نے کیا تھا، یا اسے یورپ کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کی ضرورت محسوس ہوگی۔ اس سوال کا جواب صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ معاشی شواہد، عوامی رائے اور آنے والے برسوں کے فیصلوں سے سامنے آئے گا۔

  • سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    سرد جنگ کے نئے سائے: یوکرین میں روسی پیش قدمی، امریکی دوری اور یورپی یونین کا مستقبل

    اکتوبر 2026 کی سرد ہوائیں جب برطانوی جزیرے اور براعظم یورپ کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں تو ان کے ساتھ ایک ایسی سیاسی سرگوشی بھی چل رہی ہے جس کی گونج سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے اب تک نہیں سنی گئی تھی۔

    وہ برطانیہ، جس نے ٹھیک ایک دہائی قبل 2016 کے تاریخی ریفرنڈم میں بڑے فخر اور غوغا کے ساتھ یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کی تھیں اور جسے برطانوی قوم پرستوں نے ‘یوم آزادی’ قرار دیا تھا، آج ایک بار پھر اسی برسلز کے دروازے پر دستک دینے کے امکانات پر غور کررہا ہے۔

    ستمبر 2026 کے آخر میں برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ ‘بریگزٹ نے برطانیہ کی معیشت اور تزویراتی پوزیشن کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچایا ہے، اور ملک کے پاس کسٹمز یونین یا مکمل شمولیت جیسے آپشنز موجود ہیں’ تو عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک زلزلہ آگیا۔

    یہ محض ایک بیان نہیں تھا بلکہ اس حقیقت کا برملا اعتراف تھا کہ اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی بے رحم جغرافیائی سیاست میں کوئی بھی ملک تنہا جزیرہ بن کر زندہ نہیں رہ سکتا۔

    تنہائی کا خوف: ایک سابق نوآبادیاتی طاقت کا نیا المیہ

    آخر وہ کیا وجوہات ہیں جو برطانیہ کو اپنی ‘خودمختاری’ کا سودا کرکے دوبارہ یورپی یونین کی طرف دیکھنے پر مجبور کررہی ہیں؟ اس کا سب سے بڑا جواب ایک لفظ میں چھپا ہے: ‘تنہائی کا خوف’۔

    بریگزٹ کے حامیوں نے وعدہ کیا تھا کہ یورپی یونین سے نکل کر لندن ایک ‘عالمی برطانیہ’ بن کر ابھرے گا، جو دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے ساتھ اپنی مرضی کے آزادانہ تجارتی معاہدے کرے گا۔ لیکن دس سال بعد حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ برطانیہ خود کو امریکہ اور یورپی یونین جیسے دو بڑے معاشی اور سیاسی بلاکس کے درمیان پسا ہوا محسوس کررہا ہے۔

    امریکہ کی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں میں بڑھتے ہوئے تحفظ پسندانہ رجحان، یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات کی دھمکیوں اور واشنگٹن کے بدلتے ہوئے سیاسی مزاج نے لندن کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ امریکہ پر اندھا اعتماد نہیں کرسکتا۔

    جب کہ دوسری طرف یورپ کی سب سے بڑی تجارتی منڈی، یورپی سنگل مارکیٹ، سے الگ ہونے کی وجہ سے برطانیہ کی مجموعی ملکی پیداوار کو 4 سے 8 فیصد کے مستقل خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ معاشی حقیقتوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جغرافیہ کو بدلا نہیں جاسکتا؛ برطانیہ کا مستقبل جغرافیائی اور معاشی طور پر یورپ سے ہی جڑا ہوا ہے۔

    یوکرین جنگ کا سایہ اور روسی ریچھ کا خطرہ

    اس تزویراتی تبدیلی کا دوسرا بڑا محرک یوکرین کی جنگ ہے۔ یوکرین میں روس کی ممکنہ کامیابی کا تصور اب صرف یوکرین تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پورے یورپ کی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔

    یورپی یونین اور نیٹو کے انٹیلی جنس حکام مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر روس یوکرین کو ہڑپ کرنے میں کامیاب ہوگیا تو اس کی اگلی پیش قدمی پولینڈ یا بالٹک ریاستوں، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا، کی طرف ہوسکتی ہے۔

    جرمن انٹیلی جنس سروس کے مطابق، یورپ کے پاس روس کے ساتھ براہ راست عسکری تصادم کی تیاری کے لیے صرف 2030 تک کا وقت ہے۔

    اس ہولناک منظرنامے نے یورپی یونین کے ساتھ ساتھ برطانیہ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ روس کی طرف سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں، سائبر حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی تخریب کاری جیسے ہائبرڈ خطرات نے لندن کو مجبور کیا ہے کہ وہ یورپی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی اور شہری سلامتی کا نظام تیار کرے۔

    یہی وجہ ہے کہ برطانیہ نے حال ہی میں یورپی یونین کے تزویراتی مشنز میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے پس پردہ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

    واپسی کا راستہ: ایک طویل اور کٹھن قانونی سفر

    اگرچہ برطانوی عوام کی اکثریت، تقریباً 55 فیصد سے زائد، اب بریگزٹ کو ایک تاریخی غلطی مانتی ہے اور واپسی کی خواہاں ہے، لیکن یورپی یونین میں دوبارہ شامل ہونا اتنا آسان نہیں جتنا وہاں سے نکلنا تھا۔ یہ کوئی ‘آن اور آف’ کا سوئچ نہیں بلکہ ایک ایسا طویل قانونی اور سیاسی مرحلہ ہے جس میں کم از کم 5 سے 10 سال لگ سکتے ہیں۔

    اگر برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم اپنی تجویز کو آگے بڑھاتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے برطانوی پارلیمنٹ سے قانون سازی کروانی ہوگی اور ممکنہ طور پر 2029 کے انتخابات کے آس پاس ایک نیا ‘ان آؤٹ’ ریفرنڈم کروانا ہوگا۔ اگر برطانوی عوام واپسی کے حق میں ووٹ دے بھی دے تو اگلا مرحلہ برسلز میں شروع ہوگا۔

    برطانیہ کو اب یورپی یونین کے آرٹیکل 49 کے تحت ایک بالکل نئے ملک کی طرح درخواست دینی ہوگی۔ اسے کوپن ہیگن معیار پر پورا اترنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک سے متفقہ منظوری حاصل کرنی ہوگی۔ اگر فرانس، جرمنی یا کسی بھی چھوٹے ملک نے اپنے ماضی کے تحفظات کی بنا پر ویٹو کا حق استعمال کرلیا تو برطانیہ کا راستہ رک جائے گا۔

    مزید برآں، یورپی رہنما پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ اب برطانیہ کو ماضی کی طرح ‘خصوصی مراعات’ یا رعایتیں نہیں ملیں گی۔ اسے یورپی شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو قبول کرنا ہوگا اور شاید مستقبل میں اپنی پیاری کرنسی ‘پاؤنڈ’ کو چھوڑ کر ‘یورو’ اپنانے کی کڑوی گولی بھی نگلنی پڑے۔

    اندرونی تقسیم: ریفارم یوکے اور دائیں بازو کا احتجاج

    برطانیہ کے اندر اس یورپی جھکاؤ کے خلاف ایک بڑا سیاسی طوفان بھی اٹھ رہا ہے۔ دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں، بالخصوص نائجل فراج کی قیادت میں ریفارم یوکے، اسے برطانوی عوام کے 2016 کے فیصلے کے ساتھ ‘عظیم ترین غداری’ قرار دے رہی ہیں۔

    نائجل فراج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یورپی یونین میں واپسی کا مطلب برطانیہ کی سرحدوں کا کنٹرول دوبارہ برسلز کے حوالے کرنا ہے، جس سے امیگریشن کا بحران مزید سنگین ہوجائے گا۔ حالیہ مقامی انتخابات میں ریفارم یوکے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانوی محنت کش طبقے میں اب بھی ہجرت اور قومی شناخت کے حوالے سے شدید تحفظات موجود ہیں۔

    کنزرویٹو پارٹی بھی حکومت پر پرانے زخموں کو دوبارہ چھیڑنے کا الزام لگارہی ہے۔ برطانوی کابینہ خود اس معاملے پر منقسم ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بحث کو دوبارہ زندہ کرنے سے ملک کے اندر سیاسی اور سماجی انتشار کی ایک نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

    یورپی یونین اور امریکہ کی جغرافیائی سیاسی دوری

    جب ہم اس پوری بحث کا عالمی تناظر میں جائزہ لیتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف برطانیہ ہی نہیں بلکہ خود یورپی یونین بھی امریکہ سے دور ہوتی جارہی ہے۔ یورپ اب واشنگٹن پر اپنے معاشی اور دفاعی انحصار کو کم کرکے ‘تزویراتی خودمختاری’ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    یورپی ممالک اب امریکی ٹیکنالوجی، گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون، کے غلبے کو اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں اور تیزی سے اپنے ملکی اوپن سورس متبادلات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔ معاشی محاذ پر یورپ اب بھارت، لاطینی امریکہ اور انڈونیشیا کے ساتھ نئے تجارتی اتحاد بنا رہا ہے تاکہ امریکی تجارتی پابندیوں اور محصولات کی جنگ کے اثرات سے بچا جاسکے۔

    دفاعی لحاظ سے فرانس اور جرمنی اب ایک ایسی خودمختار یورپی فوج کی وکالت کررہے ہیں جو نیٹو کے متوازی کام کرسکے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ امریکہ مستقبل میں یورپ کے دفاع سے ہاتھ کھینچ سکتا ہے۔

    تاریخ کا پلٹا ہوا پہیہ

    برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی کی یہ تڑپ دراصل اس بدلتی ہوئی دنیا کا عکس ہے جہاں بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے تیز ہوچکے ہیں اور چھوٹے یا تنہا ممالک کے لیے بقا مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اگر روس یوکرین میں جیت جاتا ہے اور امریکہ اپنی عالمی قیادت سے پیچھے ہٹتا ہے تو یورپ کو ایک سپر بلاک بننا پڑے گا۔

    برطانیہ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے سامنے ایک طرف قوم پرستی کی انا ہے اور دوسری طرف بقا اور معاشی استحکام کی حقیقت۔ لندن کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ ایک تنہا، کمزور جزیرہ بن کر عالمی منظرنامے سے غائب ہونا چاہتا ہے یا پھر اپنی پرانی غلطی کا اعتراف کرکے ایک بار پھر یورپ کے وسیع تر دھارے کا حصہ بننا چاہتا ہے۔

    فیصلہ جو بھی ہو، یہ طے ہے کہ بریگزٹ کا وہ خواب جو دس سال پہلے دکھایا گیا تھا، اب ایک ڈراؤنا خواب بن کر برطانوی سیاست کے گلے کا ہار بن چکا ہے۔

  • یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    روس کی جانب سے یوکرین پر 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی جنگ کو چار برس مکمل ہوگئے ہیں اور یہ جنگ اب یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا اور تباہ کن تنازع بن چکی ہے۔

    اس جنگ میں اب تک ہزاروں شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روس اب بھی یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔

    انسانی نقصان اور مہاجرت کا بحران

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مانیٹرنگ مشن کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 15 ہزار شہری ہلاک اور 40 ہزار سے ذائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ینی سفک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تنازع نے 1940 کی دہائی کے بعد یورپ کی سب سے بڑی مہاجرت کا بحران پیدا کیا۔

    رپورٹ کے مطابق 59 لاکھ یوکرینی شہری بیرون ملک نقل مکانی کرچکے ہیں لاکھوں افراد اپنے ی ملک میں بے گھر ہوچکے ہیں اور تقریبا 50 لاکھ یوکرینی روس کے زیر تسلط علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

    فوجی ہلاکتیں اور علاقائی قبضہ

    دونوں طرف سے غیر معمولی فوجی نقصانات ہوئے ہیں۔ بعض ریسرچرز کے مطابق روسی افواج کو 12 لاکھ  سے ساڑھے 12 لاکھ فوجی متاثر ہوئے  جن میں کم از کم سوا 3  ہلاک فوجی اہلکار ہوئے ہیں۔

    یوکرین نے تقریباً 6 لاکھ فوجی نقصانات کا اعتراف کیا ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق 140,000 ہلاک ہوئے ہیں-

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 55 ہزار فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد بتائی ہے۔ 2022 میں جنگ کے آغاز پر، روس نے یوکرین کے تقریباً 26 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

    یوکرین کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں روسی پیش قدمی کے بعد، روس کے پاس  اس وقت ملک کا تقریباً 19.3% حصہ موجود ہے جو تقریباً 116,000 مربع کلومیٹربنتا ہے

    ان علاقوں میں کریمیا، زاپوریزہیا، اور ڈونباس کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔

    دفاعی اخراجات اور عالمی مالی امداد

    جنگ کے باعث دونوں ممالک کے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے:

    روس کا فوجی بجٹ 2022 میں 102 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 149 ارب ڈالر ہو گیا

    یوکرین کا دفاعی بجٹ 2025 میں بڑھ کر 71 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کا بڑا حصہ مغربی امداد سے حاصل ہوا

    دسمبر 2025 تک یوکرین کو عالمی اتحادیوں، بشمول امریکہ اور یورپی یونین، سے مجموعی طور پر 297 ارب ڈالر کی مالی اور فوجی امداد مل چکی ہے۔

    مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس کے سونے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ منجمد کر دیا گیا ہے،

    جن میں سے کچھ فنڈز یوکرین کی فوجی اور تعمیرِ نو کی ضروریات کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں۔

    جنگ کے طویل اثرات

    ماہرین کے مطابق یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کے بڑے نقصان کا سبب بنی ہے بلکہ اس نے یورپ کی سلامتی، معیشت اور جغرافیائی سیاست کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

    جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے باوجود کسی فوری امن معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے، اور یہ تنازع آنے والے برسوں تک عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔