Tag: یوکرین

  • یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    یوکرین جنگ پانچویں سال میں داخل، 15 ہزار سے زائد شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر

    روس کی جانب سے یوکرین پر 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی جنگ کو چار برس مکمل ہوگئے ہیں اور یہ جنگ اب یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا اور تباہ کن تنازع بن چکی ہے۔

    اس جنگ میں اب تک ہزاروں شہری ہلاک، لاکھوں بے گھر اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روس اب بھی یوکرین کے تقریباً 20 فیصد علاقے پر قابض ہے۔

    انسانی نقصان اور مہاجرت کا بحران

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مانیٹرنگ مشن کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 15 ہزار شہری ہلاک اور 40 ہزار سے ذائد زخمی ہوئے ہیں۔

    ینی سفک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس تنازع نے 1940 کی دہائی کے بعد یورپ کی سب سے بڑی مہاجرت کا بحران پیدا کیا۔

    رپورٹ کے مطابق 59 لاکھ یوکرینی شہری بیرون ملک نقل مکانی کرچکے ہیں لاکھوں افراد اپنے ی ملک میں بے گھر ہوچکے ہیں اور تقریبا 50 لاکھ یوکرینی روس کے زیر تسلط علاقوں میں رہ رہے ہیں۔

    فوجی ہلاکتیں اور علاقائی قبضہ

    دونوں طرف سے غیر معمولی فوجی نقصانات ہوئے ہیں۔ بعض ریسرچرز کے مطابق روسی افواج کو 12 لاکھ  سے ساڑھے 12 لاکھ فوجی متاثر ہوئے  جن میں کم از کم سوا 3  ہلاک فوجی اہلکار ہوئے ہیں۔

    یوکرین نے تقریباً 6 لاکھ فوجی نقصانات کا اعتراف کیا ہے، جس میں ایک اندازے کے مطابق 140,000 ہلاک ہوئے ہیں-

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 55 ہزار فوجیوں کی ہلاکت کی تعداد بتائی ہے۔ 2022 میں جنگ کے آغاز پر، روس نے یوکرین کے تقریباً 26 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

    یوکرین کی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں روسی پیش قدمی کے بعد، روس کے پاس  اس وقت ملک کا تقریباً 19.3% حصہ موجود ہے جو تقریباً 116,000 مربع کلومیٹربنتا ہے

    ان علاقوں میں کریمیا، زاپوریزہیا، اور ڈونباس کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔

    دفاعی اخراجات اور عالمی مالی امداد

    جنگ کے باعث دونوں ممالک کے دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے:

    روس کا فوجی بجٹ 2022 میں 102 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں تقریباً 149 ارب ڈالر ہو گیا

    یوکرین کا دفاعی بجٹ 2025 میں بڑھ کر 71 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس کا بڑا حصہ مغربی امداد سے حاصل ہوا

    دسمبر 2025 تک یوکرین کو عالمی اتحادیوں، بشمول امریکہ اور یورپی یونین، سے مجموعی طور پر 297 ارب ڈالر کی مالی اور فوجی امداد مل چکی ہے۔

    مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روس کے سونے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کا نصف سے زیادہ حصہ منجمد کر دیا گیا ہے،

    جن میں سے کچھ فنڈز یوکرین کی فوجی اور تعمیرِ نو کی ضروریات کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں۔

    جنگ کے طویل اثرات

    ماہرین کے مطابق یہ جنگ نہ صرف انسانی جانوں کے بڑے نقصان کا سبب بنی ہے بلکہ اس نے یورپ کی سلامتی، معیشت اور جغرافیائی سیاست کو بھی بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

    جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے باوجود کسی فوری امن معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے، اور یہ تنازع آنے والے برسوں تک عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔