کراچی کی تاریخ صرف اس کی بندرگاہ، تجارتی شاہراہوں یا وکٹورین طرز کی عمارتوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس شہر کی شاندار عمارتوں کے سائے تلے نوآبادیاتی جبر، سیاسی اسارت اور انسانی حقوق کی پامالی کی ایک طویل داستاں بھی دفن ہے۔
1843 میں جب چارلس نیپیئر نے سندھ پر برطانوی پرچم لہرایا، تو اس نے اس نوزائیدہ ساحلی شہر میں دو چیزوں کی بنیاد رکھی، ایک پولیس کا جدید فریم ورک اور دوسرا قید خانوں کا جال۔ برطانوی راج کے لیے جیلیں محض قانون کی پاسداری کا ذریعہ نہیں تھیں، بلکہ یہ مقامی آبادی میں ہیبت قائم کرنے اور نوآبادیاتی تسلط کو مستحکم رکھنے کے معمارانہ اور انتظامی اوزار تھے۔
کراچی کے قید خانے: تعمیراتی ارتقا اور خاکہ
برطانوی حکومت نے کراچی اور اس کے مضافات میں بنیادی طور پر تین اہم اور باقاعدہ جیل خانے قائم کیے، جو اپنے مقصد اور معمارانہ ضرورت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے منفرد تھے:
کراچی گاؤل / ڈسٹرکٹ جیل (1848)
بندر روڈ کے بالکل اختتام سے کچھ آگے قائم ہونے والا یہ کراچی کا پہلا باقاعدہ قید خانہ تھا۔ ابتدا میں یہ معمولی بیرکوں پر مشتمل تھا، لیکن 19ویں صدی کے اختتام پر جب بمبئی پریزیڈنسی نے قیدیوں کی بڑھتی تعداد دیکھی تو 1899 سے 1906 کے دوران اسے وسعت دے کر جدید سینٹرل جیل کراچی کی شکل دی گئی۔ گاؤل انگریزی کا وہ لفظ ہے جو جیل کا پرانا یا برطانوی ہجے ہے۔
کراچی جووینائل اینڈ ریمانڈ ہوم (1930 کی دہائی)
نابالغ اور کم عمر قیدیوں کی اصلاح کے نام پر سینٹرل جیل کے احاطے سے متصل ایک علیحدہ مرکز قائم کیا گیا۔ یہ بمبئی چلڈرن ایکٹ اور بعد ازاں سندھ بورسٹل اسکولز ایکٹ کے تحت بنایا گیا، تاکہ کم عمر مجرموں کو معاشرتی و حرفتی تربیت دی جا سکے، اگرچہ عملی طور پر یہاں بھی سخت ڈسپلن اور تنہائی کے اصول لاگو تھے۔
منوڑا ڈیٹینشن کیمپ
ساحل سے دور جزیرہ منوڑا پر قائم یہ ملٹری قید خانہ برطانوی بحریہ اور فوج کی چھاؤنی کا حصہ تھا۔ یہاں بالخصوص جنگِ عظیم اول اور دوم کے دوران فوجی باغیوں، ملٹری قیدیوں اور غیر ملکی جنگی اسیروں کو کڑی نظربندی میں رکھا جاتا تھا۔
ان کے علاوہ، صدر اور کیماڑی پورٹ میں دو ذیلی جوڈیشل لاک اپس بھی قائم تھے، جہاں کسٹمز، اسمگلنگ اور عدالتی پیشیوں کے ملزمان کو عارضی طور پر رکھا جاتا تھا۔
سینٹرل جیل کراچی، وکٹورین جلال اور پینوپٹیکن طرزِ تعمیر
کراچی کی تمام جیلوں میں معمارانہ اور تاریخی اعتبار سے سب سے نمایاں سینٹرل جیل کراچی ہے۔ تقریباً 90 ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلی یہ عمارت نوآبادیاتی دور کے اس فلسفے کو مجسم کرتی ہے جس میں عمارت کا بیرونی روپ شاہانہ اور اندرونی ساخت خوف اور نگرانی پر مبنی ہوتی تھی۔

گیزری پتھر اور وکٹورین شکوہ
سینٹرل جیل کا مرکزی گیٹ اور اس سے جڑی بلند فصیلیں کراچی کے مقامی پیلے گیزری پتھر اور سرخ اینٹوں کے امتزاج سے تیار کی گئی ہیں۔ یہ وہی سنگِ مرمر اور اینٹیں ہیں جو کئی اور عمارات کی تعمیر میں استعمال ہوئیں۔ اس گیزری پتھر کی شاندار محرابیں اور نگرانی کے برج دور سے دیکھنے والے پر ریاست کے اٹل اور غیر متزلزل اقتدار کی دھاک بٹھاتے تھے۔
پینوپٹیکن نقشہ
عمارت کا اندرونی ڈھانچا انگریزی فلسفی جیرمی بینتھم کے مشہور معمارانہ نظریے پینوپٹیکن پر مبنی تھا۔ جیل کے بالکل مرکز میں ایک دائرہ نما مرکزی کنٹرول ٹاور بنایا گیا، جہاں سے گول دائرے یا شعاعوں کی طرح پھیلی ہوئی بیرکوں اور گلیاروں پر ایک ساتھ نظر رکھی جا سکتی تھی۔ قیدیوں کو یہ احساس دلایا جاتا کہ مرکزی ٹاور سے انہیں ہر لمحہ دیکھا جا رہا ہے، چاہے ٹاور میں کوئی موجود ہو یا نہ ہو۔ یہ معمارانہ ڈھانچا قیدیوں کو نفسیاتی طور پر مغلوب رکھنے کا شاطرانہ ذریعہ تھا۔
قانون کی آڑ میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں
کاغذوں پر انگریزوں نے ‘بمبئی جیل مینوئل’ مرتب کر رکھا تھا، جس میں قیدیوں کے لیے راشن، کپڑے اور طبی معائنہ درج تھا، مگر عملی طور پر نوآبادیاتی جیلیں انسانی حقوق کی شدید اور منظم خلاف ورزیوں کا اڈہ تھیں۔
مشقتِ شاقہ اور جسمانی اذیت
قیدیوں سے انسانی صلاحیت سے زیادہ مشقت لی جاتی تھی۔ گرمی اور شدید حبس کے ماحول میں کوہلو چلوا کر تیل نکالنا، سنگلاخ پتھر توڑنا اور جُوٹ کی بوریاں بُننا روز کا معمول تھا۔ ذرا سی سستی پر ‘کاٹھ’ میں پاؤں جکڑ کر برہنہ پیٹھ پر چمڑے کے کوڑے مارے جاتے تھے۔
نسلی اور طبقاتی تفریق
انگریز سرکار نے قید خانوں کو بھی نسل پرستی کی بنیاد پر تقسیم کر رکھا تھا۔ سفید فام یورپی قیدیوں کے لیے ہوادار سیل، اعلیٰ خوراک، چائے اور بستر کی سہولت میسر تھی، جبکہ مقامی ہندوستانی، سندھی اور بلوچ قیدیوں کو حبس زدہ اور انتہائی گندے ہالوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس دیا جاتا تھا۔
وبائی بیماریاں اور طبی غفلت
کراچی کی ساحلی نمی، صفائی کے فقدان اور ناکافی طبی سہولیات کے باعث سینٹرل جیل میں ہیضہ، ملیریا اور تپِ دق وبائی صورت اختیار کر جاتے تھے۔ بیسیوں قیدی علاج کی عدم دستیابی کے باعث اپنی سزائیں پوری ہونے سے پہلے ہی جان کی بازی ہار جاتے تھے۔
حریت پسند، صحافی اور آزادی کے اسیر
کراچی کی جیلوں کی دیواریں صرف مجرموں کی شاہد نہیں ہیں، بلکہ برصغیر کی آزادی کی تحریکوں کا عکس بھی ان میں قید رہا ہے۔

1857 کے سرفروش
ستمبر 1857 میں جب 21ویں نیٹو انفنٹری کے مقامی سپاہیوں نے کراچی میں بغاوت کا علم بلند کیا، تو انہیں گرفتار کر کے کراچی گاؤل میں رکھا گیا اور بعد میں صدر کے علاقے میں توپوں کے سامنے باندھ کر اڑا دیا گیا۔
کراچی سازش کیس (1921)
خالق دینا ہال میں انگریز فوج کی ملازمت کو حرام قرار دینے کی تاریخی قرارداد کے بعد تحریکِ خلافت کے سرکردہ رہنماؤں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا حسین احمد مدنی اور ڈاکٹر سیف الدین کچلو کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل کراچی کے پینوپٹیکن بلاکس میں رکھا گیا۔ سیف الدین کچلو نے مارچ 1919 میں برطانوی حکومت کے کالے قانون ‘رولٹ ایکٹ’ کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ 10 اپریل 1919 کو ڈاکٹر ستیا پال کے ساتھ انگریز حکومت نے انہیں گرفتار کیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف امرتسر میں پرامن احتجاج پر جلیانوالہ باغ کا قتل عام جیسا دلخراش سانحہ پیش آیا۔
صحافیوں اور ایڈیٹرز پر سنسرشپ
1930 اور 1940 کی دہائیوں میں ‘ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ’ کے جابرانہ استعمال کے تحت روزنامہ ‘الوحید’ کے ایڈیٹر شیخ عبدالمجید سندھی، قاضی عبدالرحمٰن اور متعدد سندھی و اردو اخبارات کے صحافیوں کو پری سنسرشپ کی خلاف ورزی پر اسی جیل کے سیاسی وارڈز میں قید کیا گیا۔
حر تحریک، ‘حر لورز’ اور پیر پگاڑا کی شہادت
کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ کا سب سے خونی اور دردناک باب حر تحریک (1940–1943) کو کچلنا اور اس کے بعد کا انسانی بحران ہے۔ انگریزوں نے 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کر کے پوری حر قومیت کو کریمنل ٹرائبز ایکٹ کے تحت ‘مجرم پیشہ’ قرار دے دیا۔
حر لورز
انگریز حکومت نے یورپ کے نازی کیمپوں کی طرز پر سانگھڑ، نواب شاہ، حیدرآباد اور سکھر کے اطراف کانٹے دار تاروں سے محصور گاؤں قائم کیے جنہیں ‘حر لورز’ کہا جاتا تھا۔ یہاں حروں کے پورے کے پورے خاندانوں، خواتین، شیر خوار بچوں اور بزرگوں کو جلاوطن کر کے قید کیا گیا۔ دن میں تین بار حاضری، بھوک، سخت بیماریاں اور بنیادی انسانی آزادیوں کی مکمل سلبی نے ان کیمپوں کو انسانوں کی سلاخوں کے بغیر جیل بنا دیا تھا۔
سورھیہ بادشاہ کی قید اور حیدرآباد جیل میں شہادت
حر تحریک کے سرفروش گوریلوں کو سکھر اور کراچی کے سخت حراستی بلاکس میں رکھا گیا، جبکہ حریت پسند رہنما پیر صبغت اللہ شاہ راشدی، سورھیہ بادشاہ، پر انگریز سرکار نے بغاوت کے الزامات کے تحت ملٹری کورٹ کے ذریعے سزائے موت مقرر کی۔
بالآخر 20 مارچ 1943، بمطابق 14 ربیع الاول 1362 ہجری، کو فجر کے وقت سینٹرل جیل حیدرآباد میں فقط 35 سال کی عمر میں آپ کو پھانسی دے دی گئی۔ برطانوی حکومت حروں کے ممکنہ ردِعمل اور مزار بننے کے خوف سے اتنی خائف تھی کہ پیر صاحب کی میت کو بھی گمنام مقام پر سپردِ خاک کر دیا گیا، جس کا سراغ آج تک افشا نہ ہو سکا۔
خلاصہ کلام یہ کہ کراچی کی نوآبادیاتی جیلیں صرف پیلے گیزری پتھروں سے چنی گئی عمارات نہیں ہیں، بلکہ یہ برطانوی ہند کی اس متضاد پالیسی کا عکس ہیں جہاں ایک طرف جدید قانونی فریم ورک اور طرزِ تعمیر کا مظاہرہ کیا گیا، تو دوسری طرف اسی خوبصورت عمارت کے اندر انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور انسانی وقار کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
سینٹرل جیل کراچی کے بلند برج اور دُہری فصیلیں آج بھی اس دورِ جبر اور ان سرفروشوں کی خاموش گواہ ہیں جنہوں نے ان تاریک کوٹھڑیوں میں آزادی کے خواب دیکھے اور ان کی تعبیر کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔

