چھ اکتوبر 1974: فقیر امین منگریو کی پراسرار گمشدگی اور شہادت کا دن

سندھ کی تاریخ جہاں بہادری، حب الوطنی اور رواداری کے روشن ابواب سے سجی ہوئی ہے، وہاں سیاست، انتقام اور جبر کی کالی راتیں بھی اس کے سینے پر رقم ہیں۔ 

پیر صاحب پاگارا کے وفادار حُر مجاہد، حُر فورس کے سالار اور درگاہ کے بااعتماد خلیفہ شہید محمد امین فقیر منگریو کی زندگی اور شہادت بھی تاریخ کا ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش، مضبوط اور دردناک باب ہے، جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ روشن رہے گا۔

شہید محمد امین فقیر ولد گامن فقیر منگریو تقریباً 1928 میں انڈیا کے ضلع جیسلمیر کے گاؤں ’تار مہار‘ میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 

ان کے بزرگ کوٹ ڈھنگانو کے سید شاہ مردان شاہ اول کے وفادار پیروکار تھے۔ جوانی میں محمد امین منگریو نے جیسلمیر چھوڑ کر سندھ کی طرف ہجرت کی اور ڈھورو نارو کے قریب گاؤں ’باروچو راجڑ‘ میں آباد ہوئے۔

انہوں نے پیر پاگارا کی درگاہ پر بڑی عقیدت اور عاجزی کے ساتھ خدمت انجام دی۔ وہ حُر جماعت کے ایک مضبوط، خوب صورت، نیک سیرت اور بہادر فقیر تھے۔ 

وہ اعلیٰ حضرت پیر سائیں چھَٹ دھنی، یعنی شاہ مردان شاہ ثانی، کے بااعتماد مرید، قابلِ اعتماد خلیفہ اور درگاہ شریف کے سچے خدمتگار تھے۔

سورہیہ بادشاہ، یعنی پیر صبغت اللہ شاہ ثانی، کی شہادت کے بعد انہوں نے پیر جو گوٹھ، ضلع خیرپور، میں پیر صاحب پاگارا کا بنگلہ تعمیر کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پیر صاحب کی زمینوں کی بحالی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران پیر صاحب پاگارا کے حکم پر ہزاروں حُر مجاہد وطن کے دفاع کے لیے سرحدوں پر پہنچے۔ صدر جنرل ایوب خان نے امین فقیر منگریو کی قابلیت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے انہیں حُر مجاہد فورس کا سالار مقرر کیا اور رحیم یار خان سے رَن آف کچھ تک سرحد کے دفاع کی انتہائی اہم ذمہ داری سونپی۔

دشمن کا مقابلہ کرنے میں ان کی غیر معمولی جرأت اور جان نثاری پر انہیں قومی اعزازات تمغۂ شجاعت اور تمغۂ جرأت کے ساتھ 180 ایکڑ سرکاری زمین بھی دی گئی۔ 1965 کی جنگ میں ان کی بہادری اور قربانی کے واقعات فراموش نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے 1971 کی جنگ کے دوران بھی ملکی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے ایک بار پھر شاندار بہادری کا مظاہرہ کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور پیر صاحب پاگارا کی دوستی بھی مثالی رہی۔ اکتوبر 1959 میں جب جنرل ایوب خان نے شہدادپور میں ایک جلسے سے خطاب کیا تو ان کے ساتھ ذوالفقار علی بھٹو اور پیر صاحب پاگارا نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا تھا۔ تاہم بعد میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جو ان کی زندگی کے آخری وقت تک برقرار رہے۔

ان اختلافات کی بنیادی وجہ 1970 کے انتخابات کے دوران پیدا ہوئی، جب بھٹو صاحب نے ضلع سانگھڑ کے کئی معروف زمینداروں کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل کرانا شروع کیا۔ انہی دنوں سانگھڑ میں بھٹو صاحب کے جلسے کے دوران فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، جس کے بعد سیاسی کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔

بھٹو صاحب کے اقتدار میں آنے کے بعد سانگھڑ کے تمام معاملات جام صادق علی کے حوالے کر دیے گئے۔ انہوں نے حالات کو مزید خراب کرتے ہوئے حُروں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کرایا۔ سانگھڑ میں اپنی پسند کے افسر، ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ اور ایس پی غلام شبیر کلیار مقرر کیے گئے۔ اس کے بعد حُروں کی پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔

جب ڈسٹرکٹ سیشن جج سید محمد اویس مرتضیٰ نے بے گناہ حُروں کی ضمانتیں منظور کرنا شروع کیں تو انہیں ان کے چیمبر سے گرفتار کر لیا گیا۔ سندھ چیف کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبدالرحمان کی مداخلت کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔

یکم اکتوبر 1973 کو علی بخش جونیجو کے قتل کے بعد، 2 اکتوبر 1973 کو ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ کے حکم پر گاؤں بڑہون کے چھ حُروں، فقیر محراب سنجرانی، فقیر امید علی سنجرانی، فقیر جان محمد سنجرانی، فقیر حمزو بھانوجو، فقیر دادن فقیر واڑھو اور سید شیر علی شاہ کو حراست میں لیا گیا۔ 

انہیں 4 اکتوبر 1973 یعنی 7 رمضان المبارک کو پیرونمل کے قریب ایک جعلی پولیس مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔ 1973 میں بڑہون کے ان چھ حُروں کو شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں ان کے وارثوں کے حوالے کر دی گئی تھیں۔

امین فقیر کی گرفتاری، شہادت اور لاش کیفقیر امین منگریو گمشدگی

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران پیر صاحب پاگارا سے وابستگی اور وفاداری کی وجہ سے امین فقیر منگریو کو بھی سخت اور سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1974 میں ان کے خلاف جھوٹے اور من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے۔ انہیں تین مرتبہ گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا۔

سکھر جیل میں آخری قید کے دوران 6 اکتوبر 1974 کو پولیس انہیں جیل سے باہر لے گئی اور ایک نامعلوم مقام پر شہید کر دیا۔ شہید امین فقیر کی شہادت کے بعد ان کی لاش بھی ان کے مرشد سورہیہ سائیں کی طرح غائب کر دی گئی۔ اس واقعے کو تاریخ کے صفحات پر درج ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔

اگر تصور کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس بہادر حُر شہید امین فقیر نے آخر وقت تک اپنے مرشد سے وفاداری نبھائی۔ فقیر امین اپنے سوگواروں میں باہمت اہلیہ حاجیانی مرحومہ، ایک بیٹی اور چار بیٹے، فقیر غلام قادر، فقیر غلام حیدر، فقیر غلام نبی اور فقیر غلام علی منگریو چھوڑ گئے۔

فقیر شہید امین کی باہمت اور دلیر اہلیہ نے اپنے شوہر کی مظلومانہ شہادت اور لاش کی گمشدگی کے باوجود اپنے سینے میں درد اور غم کی داستانیں چھپا کر اپنے چاروں بیٹوں اور بیٹی کو اچھی تعلیم، علم اور تربیت دی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

تاریخ کے انصاف کے کئی بصیرت افروز مناظر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک عجیب اور حیرت انگیز منظر یہ بھی تھا کہ جس ڈپٹی کمشنر امداد اللہ انڑ کے دور میں سانگھڑ کے حُروں پر مظالم ہوئے اور ان کے خلاف احکامات جاری کیے گئے، کافی عرصے بعد انہی تمام غموں اور تکلیفوں سے گزرنے والے شہید امین فقیر کا قابل بیٹا فقیر غلام حیدر منگریو اسی ضلع سانگھڑ کا ڈپٹی کمشنر بن کر آیا۔

جس دفتر میں بیٹھ کر ان کے بیٹے نے اپنے والد پر ہونے والے ظلم اور ان کی تکلیف کو محسوس کیا ہوگا، اس کیفیت کا اندازہ صرف ایک ایسے شہید کا بیٹا ہی کر سکتا ہے جس کے والد کو گم کر دیا گیا ہو۔ یہ دراصل علم، عمل، ایمانداری اور صبر کا ایک عظیم اور باوقار جواب تھا، جس نے ظالم طاقتوں کو یہ پیغام دیا:

’آپ ہمارے لاشوں اور قبروں کو تو گم کر سکتے ہیں، لیکن شہیدوں کی جلائی ہوئی علم، حق اور ایمانداری کی شمعوں کو ہرگز بجھا نہیں سکتے۔‘

شہید امین فقیر کی یاد کو ہمیشہ قائم رکھنے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ان کے آبائی گاؤں کے بوائز اسکول، گرلز اسکول، ہائی اسکول، دیہی صحت مرکز اور مدرسے کو ان ہی کے نام، ’شہید امین فقیر منگریو‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔

امین فقیر صرف حُر جماعت کا ہی نہیں بلکہ پوری قوم اور سندھ کا قیمتی ورثہ ہیں۔ ان کی بہادری، وطن سے محبت، حب الوطنی اور قربانی کی داستانیں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔