خبرتو اپنےحجم میں چھوٹی سی تھی،چند سطری، لیکن اس کے نتائج و عواقب بہت گمبھیر اور دور رس ہوسکتے ہیں،یوں سمجھیں کسی کا کیرئر بھی ختم ہوسکتا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ مسلم لیگ نون کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو چند قریبی پارٹی و حکومتی رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ ہم سے صوبوں سمیت جو بھی مطالبے کیے جارہے ہیں وہ پورے کردینے چاہیے۔ ان کی یہ بات میاں صاحب کو ایک آنکھ نہ بھائی ۔ ’بھائی‘ کے ان قریبی معتمدین کو دو ٹوک جواب دیا کہ وہ سب کر بھی لیں تو بھی ہمیں نکالا جاسکتا ہے،تو بہتر ہے اب سیاست بچائیں،مقابلے کےساتھ آگےبڑھیں۔
نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ بغاوت کردیں جیسے دو وزراء سسٹم فیل ہونے اور استعفے دینے کی بات کررہے ہیں۔
اندرکی خبر یہ ہے کہ میاں صاحب کےمزاحمتی موقف میں پیپلزپارٹی ان کے شانہ بشانہ ہے۔ چندروز پہلے اسی لیےدونوں پارٹیوں میں اتفاق ہوا۔ جب محسن نقوی نے سسٹم فیل ہونے کی بات کی تو مریم نواز نےبلاول بھٹو کو فون کرکے اکٹھے چلنے کا کہا۔
نوازشریف سیاست کےپرانےکھلاڑی ہیں۔حکومتوں کے آنے جانے اور حالات کے بدلنے کے سب سے ذیادہ مشاہدات رکھنےوالےبھی ہیں ، تو جب ہم جیسے چھوٹے سےصحافیوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ موسم بدل رہا ہے اور طاقتورحلقے کروٹ لےرہےہیں تو میاں صاحب کو تو اس سے زیادہ اور جلدی معلوم ہوجاتا ہے۔
جب وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کھل کر کہہ دیا کہ سسٹم فیل ہوچکا ہے، اس نظام نےہمیں کچھ نہیں دیا اور اب اسے تبدیل کرنا پڑےگا تو اس کےبعد تو کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو نہیں سمجھےگا کہ یہ کون کہہ رہا ہے اورکس کےکہنےپر کہہ رہا ہے
اس تہلکہ خیز بیان کے 24 گھنٹےکےاندر ہی لاہرر جاتی امرہ میں چار بڑوں کی اہم بیٹھک ہوئی جس میں نوازشریف شہبازشریف مریم نواز اور اسحاق ڈار شامل تھے۔ اس ملاقات میں فیصلہ ہوا کہ چوں کہ اب ہمارے لیے مشکلات شروع ہونےوالی ہیں تو ہمیں اس سیاسی ’ساتھ‘ اور ’ہاتھ‘تھامنا ہوگا جو خود بھی مشکلات کا شکار ہیں اور اقتدار میں بھی حصہ دار ہیں۔
حالانکہ ان دنوں بظاہر پیپلزپارٹی اور ان کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری، نون لیگ اور حکومت کےخلاف سخت زبان استعمال کررہےتھے، گلگت بلتستان اور پھر آزاد کشمیر میں الیکشن کاماحول گرم تھا لیکن بہرحال جاتی امراء کی میٹنگ کےدوران ہی مریم نواز نے بلاول بھٹو کو فون کال کی، انہیں ہاتھ ہلکا کرنے اور مل کر آگے آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنےکا کہا۔
اس پیش رفت کے بعد پھر پی پی صوبوں کےمعاملے پر سیدھی ہوگئی۔ دو قراردادیں سندھ اسمبلی سےپاس کروائیں کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہونےدیں گے اور پھر وہی محسن نقوی صاحب لندن پہنچ گئے اور زرداری صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن زرداری صاحب نے کہا کہ یہ میرے ہاتھ میں نہیں، مستقبل کی سیاست بلاول کی ہے اور وہ تقسیم نہیں چاہتا۔
اس کورے جواب پر غصےمیں نقوی صاحب نے بزنس کمیونٹی سے ایک اور نشست کا بندوبست کیا اور دوبارہ کہا کہ میں رہوں یا نہ رہوں صوبے تو بن کر رہیں گے۔
اس کےبعد نون لیگ مزید جاگی، نوازشریف کو پارٹی کےچند مفاہمتی عناصر نے جاکر کہا کہ ہمیں طاقتوروں کےسارے مطالبات بشمول صوبے مان لینے چاہیے تاکہ ہم مشکلات میں نہ پڑیں اور دوبارہ لڑائی کاماحول نہ بنے لیکن میاں صاحب جوکہ خطرے کو بھانپ چکے ہیں تو انہوں نے وہ تاریخی جملہ کہا جو خبر کا حصہ ہے،یعنی ’ آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر یہ سارے مطالبات مان کر اس پر عمل بھی کرلو گے تو کیا آپ کو فارغ نہیں کیاجائےگا۔ آپ کو پھر بھی فارغ ہونا پڑےگا اس لیے اب سیاست کی فکر کریں اور مقابلہ کریں۔’
میاں صاحب کے اس مؤقف کے بعد سے مسلم لیگ نون کی جانب سے صوبوں کے معاملےپرخاموشی چھائی ہوئی ہے،ورنہ اس سے پہلے خواجہ آصف اور احسن اقبال اس تجویز کی حمایت کرتے نظر آ رہے تھے۔ حکومتی اتحادی ایم کیوایم کے رہنما تو اب بھی اس معاملے پر گرج چمک دکھا رہے ہیں لیکن نون لیگ کا ’مطلع خشک ہے‘۔
میاں صاحب کےمقابلے کی ایک دو تازہ مثالیں بھی ہمارے سامنےہیں ۔ سب سے پہلے عمران خان کےساتھ معاملات جو ابھی خفیہ چل رہےہیں، اس کےتحت ان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال لےکر جانا تھا لیکن نون لیگ اور ان کی حکومت نے کہا یہ نہیں ہوگا اور پھر ان کو پمز لے جا کر چیک کروا کر واپس جیل منتقل کردیا۔
سپریم کورٹ میں اگلی تاریخ تک ایک مہینے کا وقت تھا۔اسی دوران حکومت نے چیزیں مینج کیں۔ تین قیدیوں کو عمران خان کی طرز پر سہولیات کا معاملہ ہائی کورٹ سے آئینی عدالت تک پہنچ گیا۔
اب یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہےکہ کیا جس طرح پہلےمیاں صاحب مزاحمتی بیانیہ لےکر چلتےتھے اور انہیں پذیرائی ملتی تھی کیا اس دفعہ ملےگی؟ تو اس کا جواب نفی میں ہی آتا ہےکیوں کہ اس دفعہ نون لیگ نے لوگوں کی نفرت سمیٹی ہے۔ جس کی بنیاد فارم 47 کی حکومت لینا تھا۔ خود میاں صاحب کا انتخاب بھی متنازع ہے۔ لیکن بہرحال نون لیگ سیاسی جماعت ہے اور وہ پوری کوشش کرےگی کہ اس کی سیاست جتنی بھی بچ سکے،بچ جائے ۔

