Tag: آصف زرداری

  • صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    صدر پاکستان آصف زرداری کا دورہ چین، پاکستان چین تعلقات کی طویل تعلقات کی تاریخ

    میں نے گزشتہ رات صدر آصف علی زرداری کے چین کے دورے کے بارے میں چائنا سینٹرل ٹیلی وژن کی ایک مختصر ڈاکیومنٹری دیکھی جو صدر پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی شیئر کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں پاکستانی صدر کے بجائے انہیں زیادہ تر پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے داماد اور بینظیر بھٹو کے شوہر کے طور پر متعارف کروایا جا رہا تھا۔

    پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ریاستی مفادات کے ساتھ ساتھ دوستی پر مبنی رہے ہیں مگر ان تعلقات کو مضبوط بنانے میں قیادت کی دور اندیشی اور ان کے وفد کے انتخاب کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو کی علمی اور سفارتی حکمت عملی ہے اور دوسری طرف صدر آصف علی زرداری کے دور کے وفود کی سیاسی نوعیت۔

    ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس وقت چین سے دوستی کی بنیاد رکھی جب دنیا دو بلاکس میں تقسیم تھی۔ بھٹو صاحب کی کامیابی کا راز صرف ان کی شخصیت نہیں بلکہ ان کی بااعتماد اور ماہر ٹیم بھی تھی۔

    عزیز احمد ایک تجربہ کار سفارتکار تھے۔ بھٹو صاحب انہیں اپنے وفد میں اس لیے شامل کرتے تھے تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ ان کی موجودگی چین کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کو باوقار موقف فراہم کرتی تھی۔

    عبدالحفیظ پیرزادہ نہ صرف ایک سیاستدان بلکہ قانون کے ماہر بھی تھے۔ چین کے ساتھ ہونے والے دفاعی اور اقتصادی معاہدوں کو قانونی شکل دینے اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ میں ان کا کردار نہایت اہم تھا۔

    ڈاکٹر مبشر حسن ایک ماہر معاشیات تھے۔ انہیں بخوبی علم تھا کہ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پاکستان چین کے ساتھ کس طرح معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

    بھٹو صاحب کی حکمت عملی کے اثرات بھی نمایاں تھے۔ وہ چینی قیادت ماؤ زے تنگ اور چو این لائی سے برابری کی بنیاد پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے وزارت خارجہ کو ایسے ماہرین سے مزین کیا جو اپنے شعبے میں مہارت رکھتے تھے جس سے پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا۔

    صدر آصف علی زرداری کے دور میں چین کے ساتھ تعلقات میں اقتصادی رخ پر زور دیا گیا جسے بعد میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شکل ملی تاہم ان کے وفود کے انتخاب پر اکثر تنقید بھی کی گئی۔

    جب ریاستی وفود میں ایسے افراد شامل کیے جائیں جن کا نہ خارجہ پالیسی سے تعلق ہو اور نہ ہی وہ سفارتی آداب سے واقف ہوں تو اس سے ملکی وقار متاثر ہوتا ہے۔ زرداری دور پر بڑی تنقید یہ رہی کہ اہم دوروں میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کی علمی سطح بین الاقوامی فورمز کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔ جب سیاسی وفاداری کی بنیاد پر افراد کو آگے لایا جائے تو میزبان ممالک میں پاکستان کی سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔

    وفد کے انتخاب کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قابلیت تجربہ اور علم کی جگہ اگر سیاسی وفاداری اور ذاتی تعلقات کو بنیاد بنایا جائے تو اعلیٰ سطح کے وفود محض سیر سپاٹے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

    کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اسے چلانے والے افراد عزیز احمد عبدالحفیظ پیرزادہ اور ڈاکٹر مبشر حسن جیسے ماہر ہوں۔ جب علم اور دانائی کی جگہ خوشامد لے لے تو ریاست کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بھٹو صاحب نے چین کو مستقبل کا دوست بنایا مگر اس دوستی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی ٹیم درکار ہے جو چینی قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے نہ کہ صرف تصاویر بنوانے تک محدود رہے