[rank_math_breadcrumb]

جناح ہسپتال کراچی کا سائبر نائف مرکز: کینسر کے مفت جدید علاج کی صلاحیت 400 مریض روزانہ تک بڑھانے کی تیاری مکمل

کینسر کے علاج میں جہاں روایتی سرجری، طویل علاج اور صحت یابی کا مرحلہ کئی مریضوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، وہیں کراچی میں سائبر نائف جیسی روبوٹک ریڈیوسرجری ٹیکنالوجی کے ذریعے بعض مریضوں کو بغیر چیرا لگائے اور اینستھیزیا کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، کراچی میں قائم یہ مرکز حکومت سندھ اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے کینسر کے مریضوں کو مفت جدید ریڈی ایشن علاج فراہم کر رہا ہے۔ مرکز کا کہنا ہے کہ 30 ستمبر سے اس کی مفت ریڈی ایشن علاج کی مجموعی صلاحیت روزانہ چار مریضوں سے بڑھ کر 400 مریضوں تک پہنچنے کی توقع ہے۔

اس مرکز کی سب سے نمایاں سہولت سائبر نائف ہے، جو روبوٹک ریڈیوسرجری نظام کے ذریعے ٹیومر کو انتہائی درستگی سے ریڈی ایشن کا ہدف بناتا ہے۔ اس طریقہ علاج میں روایتی آپریشن کی طرح چیرا لگانے یا مریض کو بے ہوش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مرکز سے وابستہ پروفیسر ایمریٹس ریڈی ایشن آنکالوجی ڈاکٹر طارق کے مطابق سائبر نائف کا بنیادی مقصد ٹیومر کو اس کے درست مقام پر نشانہ بنانا ہے، تاکہ اردگرد کے صحت مند حصوں پر غیر ضروری اثر کم سے کم ہو۔ ان کے مطابق بعض مریض علاج کے بعد طویل عرصے تک بستر پر رہنے کے بجائے اگلے ہی روز اپنی معمول کی سرگرمیوں کی طرف واپس جا سکتے ہیں۔

سائبر نائف خاص طور پر ابتدائی مرحلے کے ان مریضوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن کے لیے ریڈیوسرجری موزوں ہو۔ تاہم ہر مریض کے لیے علاج کا انتخاب اس کی بیماری کی نوعیت اور طبی حالت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

یہ سہولت 2012 میں قائم کی گئی تھی، جب مرکز میں ابتدا میں سائبر نائف نصب کیا گیا۔ اس وقت ایک مریض کے علاج میں تقریباً ڈھائی گھنٹے لگتے تھے اور روزانہ صرف چار مریضوں کا علاج ممکن تھا۔ بعد میں حکومت سندھ اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے تعاون سے مرکز میں نئی مشینیں اور مزید سہولیات شامل کی گئیں۔

مرکز میں سائبر نائف کے علاوہ ٹوموتھراپی بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ روزانہ سی ٹی سکین کی مدد سے علاج کی منصوبہ بندی، روبوٹک ریڈیوسرجری اور جدید ریڈی ایشن ڈیلیوری نظام اس سہولت کو کینسر کے علاج کے اہم مراکز میں شامل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر طارق کے مطابق 2012 سے اب تک یہاں تقریباً 24 ہزار سائبر نائف سیشنز کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں مریض علاج حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے بقول پاکستان کے 183 شہروں اور 24 ممالک سے آنے والے مریض بھی اس مرکز سے ریڈیوسرجری اور ریڈی ایشن تھراپی کی سہولت لے چکے ہیں۔

کراچی میں موجود یہ مرکز صرف شہر کے مریضوں تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں اور بیرون ملک سے آنے والے کینسر کے مریضوں کے لیے بھی جدید اور مفت علاج تک رسائی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔