‘ترقی کی روشن تصویر کے پیچھے’، سندھ کی خواتین کے لیے تاریک راستے: پہلی سندھ صنفی مساوات رپورٹ جاری

رپورٹ

حال ہی میں صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی پہلی سندھ صنفی مساوات رپورٹ 2023-24 میں خواتین کی ترقی کی تصویر بظاہر حوصلہ افزا دکھائی گئی ہے، مگر اعداد و شمار کی روشنی میں اس کے کئی تاریک پہلو سامنے آتے ہیں۔

صنفی مساوات رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ آج بھی لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں، دیہی خواتین کی شرح خواندگی 28 فیصد سے بھی کم ہے، اہم حکومتی اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر خواتین کی نمائندگی محدود ہے اور روزگار کے میدان میں مردوں اور خواتین کے درمیان خلیج برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں ہر قدم پر خواتین آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن مواقع، وسائل اور فیصلہ سازی میں عدم مساوات ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن سے متعلق ادارے یو این ایف پی اے، اسٹرینتھننگ پارٹیسپیٹری آرگنائزیشن (ایس پی او) اور سندھ حکومت کے انسانی حقوق ادارے کے ماتحت ٹریٹی ایمپلیمینٹیشن سیل کی مشترکہ کاوشوں سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق سندھ میں تعلیم کے شعبے کی صورتحال خاص طور پر تشویش ناک ہے۔

سندھ میں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی صرف 47 فیصد ہے۔ دیہی سندھ میں خواتین کی شرح خواندگی مزید کم ہو کر 27.52 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 67.80 فیصد ہے۔ پانچ سے 16 سال کی عمر کے 78 لاکھ 18 ہزار 248 بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں 37 لاکھ 29 ہزار 504 لڑکے اور 40 لاکھ 88 ہزار 394 لڑکیاں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں سرکاری اسکولوں کی تعداد 41 ہزار 153 ہے، لیکن ان میں لڑکیوں کے لیے صرف 6 ہزار 809 اسکول ہیں جبکہ لڑکوں کے لیے 34 ہزار 344 اسکول موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کی اس کمی کے باوجود لڑکیاں لڑکوں یا مخلوط اسکولوں میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ سندھ کی 22 سرکاری جامعات کے اعداد و شمار کے مطابق 78 ہزار 384 طلبہ میں 44 ہزار 666 طالبات اور 33 ہزار 718 طلبہ شامل ہیں۔

سندھ کی آبادی 2023 میں 5 کروڑ 56 لاکھ 96 ہزار 147 تک پہنچ گئی، جس میں تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ مرد اور 2 کروڑ 66 لاکھ 77 ہزار خواتین شامل ہیں۔

صوبے کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2.57 فیصد ہے۔ شہری علاقوں میں آبادی میں اضافے کی رفتار دیہی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ صوبے میں ہر 100 خواتین کے مقابلے میں تقریباً 109 مرد موجود ہیں، جس سے آبادی میں صنفی فرق ظاہر ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے اندراج میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فرق نسبتاً کم ہے، تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں بہت بڑا فرق موجود ہے۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کے اندراج کی شرح شہری علاقوں میں 55.2 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں صرف 16.8 فیصد ہے۔

شادی کے قانونی اندراج میں بھی خواتین پیچھے ہیں۔ 2023 میں نادرا کے ریکارڈ کے مطابق 2 لاکھ 62 ہزار 534 مردوں نے اپنی شادیاں رجسٹر کرائیں جبکہ خواتین کی تعداد ایک لاکھ 69 ہزار 267 رہی۔

صحت کے شعبے میں رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت کے صحت کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ 2023-24 میں صحت کے لیے 214.5 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو 2024-25 میں بڑھ کر 267.541 ارب روپے ہوگئے۔ 2025-26 کے لیے 318.218 ارب روپے مختص کیے جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات ایک ہزار زندہ پیدائشوں میں 24 ہے۔ زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح بھی 2006-07 کے 314 سے کم ہو کر 2019 میں 224 فی ایک لاکھ زندہ پیدائش ہوگئی ہے۔

تاہم رپورٹ میں خاندانی منصوبہ بندی اور صحت کی سہولتوں تک رسائی میں سماجی اور معاشی فرق کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ تعلیم اور مالی حیثیت بہتر ہونے کے ساتھ خواتین میں مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح بڑھتی ہے، جس سے غریب اور کم تعلیم یافتہ خواتین کی مشکلات واضح ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں ہزاروں ڈاکٹر، نرسیں، دائیوں اور لیڈی ہیلتھ ورکرز خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن مختلف علاقوں میں طبی عملے کی دستیابی یکساں نہیں ہے۔

سیاسی شرکت میں خواتین کی صورتحال میں کچھ بہتری سامنے آئی ہے۔ 2018 سے 2024 کے دوران قومی اسمبلی کے لیے رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کی تعداد 99 لاکھ 54 ہزار 98 سے بڑھ کر ایک کروڑ 26 لاکھ 17 ہزار 451 ہوگئی۔

صوبائی اسمبلی کے لیے خواتین ووٹروں کی تعداد بھی 98 لاکھ 92 ہزار 231 سے بڑھ کر ایک کروڑ 23 لاکھ 81 ہزار 791 ہوگئی۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تعداد 2018 کے 23 سے بڑھ کر 2024 میں 53 ہوگئی۔

اس کے باوجود اعلیٰ حکومتی عہدوں پر خواتین کی نمائندگی بہت کم ہے۔ سندھ کابینہ کے 17 وزرا میں صرف دو خواتین ہیں جبکہ دو مشیروں کے عہدوں پر ایک بھی خاتون موجود نہیں۔ صوبائی اسمبلی کی 34 قائمہ کمیٹیوں میں صرف چار کی سربراہی خواتین کے پاس ہے۔

کمیٹیوں کے 320 ارکان میں خواتین کی تعداد 78 ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیات، توانائی، آبپاشی، منصوبہ بندی، محصولات اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں کی کمیٹیوں کی سربراہی مردوں کے پاس ہے۔

انصاف کے شعبے میں بھی صنفی فرق نمایاں ہے۔ سندھ میں 712 ججوں میں صرف 98 خواتین ہیں، جو 13.7 فیصد بنتی ہیں۔ پولیس کے 131,400 اہلکاروں میں خواتین کی تعداد صرف 5,705 یعنی 4.34 فیصد ہے، جبکہ استغاثہ کے 545 اہلکاروں میں صرف 100 خواتین ہیں۔ 2024 میں خواتین کے خلاف صنفی بنیاد پر تشدد کے 3,085 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں ہر ایک سزا کے مقابلے میں تقریباً پانچ مقدمات میں ملزمان بری ہوئے۔

معاشی میدان میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں مجموعی محنت کش آبادی میں شرکت کی شرح 2020-21 کی 43.8 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 46.2 فیصد ہوگئی۔

خواتین کی ملازمتوں کی تعداد 24 لاکھ 80 ہزار سے بڑھ کر 33 لاکھ 20 ہزار ہوگئی۔ تاہم شہری سندھ میں خواتین کی محنت کش آبادی میں شرکت صرف 9.3 فیصد ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 29.6 فیصد ہے۔ خواتین کو موبائل فون، بینکاری اور دیگر مالی سہولتوں تک رسائی میں بھی مردوں کے مقابلے میں بڑا فرق درپیش ہے۔

رپورٹ میں حکومت سندھ کو سفارش کی گئی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مزید اسکول اور غیر رسمی تعلیمی مراکز قائم کیے جائیں، دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے محفوظ سفری سہولتیں اور فنی تعلیم کے مواقع بڑھائے جائیں، خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات کی بہتر نگرانی کی جائے اور قانونی امداد و تحفظ کی سہولتیں وسیع کی جائیں۔

رپورٹ نے صنفی اعداد و شمار کے نظام کو مضبوط بنانے اور ہر محکمے میں خواتین اور مردوں کے الگ الگ اعداد و شمار مرتب کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

انسانی حقوق کے محکمے کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سندھ میں صنفی مساوات کو منظم اور شواہد کی بنیاد پر جانچا گیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ کی تیاری کے لیے سندھ حکومت کے 45 محکموں سے صنفی بنیاد پر اعداد و شمار حاصل کیے گئے۔ رپورٹ چھ اہم شعبوں، یعنی آبادی، حکمرانی، صحت، تعلیم، انصاف اور معاشی شرکت کا جائزہ پیش کرتی ہے۔

اسی بارے میں: