زاویہ: موہن جو دڑو کا آدمی

موہن جو دڑو

ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ یہاں کے لوگ خود کو اور اپنے ’موہن جو دڑو‘ کو کیا کہتے تھے۔ وہ کون سی زبان بولتے تھے۔ ان کی آواز کیا تھی۔ ان لوگوں نے کچھ تو لکھا ہے لیکن کیا لکھا ہے، ہم نہیں جان سکتے۔

لوگ ان کا نہایت مربوط سماجی انفرا سٹرکچر دیکھ کر تعجب ظاہر کرتے ہیں لیکن میں اپنے اور ان کے درمیان اس علمی عدم رسائی پر حیران ہوتا ہوں۔ ہمارے پاس ایک نامعلوم زبان کے ہزاروں چھوٹے پیٹرنز ہیں لیکن ایسی ڈکشنری کہاں سے لائیں جس کی مدد سے ان علامتوں کا مطلب جان سکیں۔

 اس لیے ہوا میں یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ قدیم دراوڑی بولتے تھے،کیا خبر وہ انڈو یورپین زبان بولتے ہوں۔

وہ کوئی بھی زبان بولتے تھے، آج یہاں جو زبان بولی جاتی ہے، وہ دریائے سندھ سے منسوب ہے، ایسی تہذیب سے جڑی ہے جس میں آج بھی وہی نفاست اور ایک مشترکہ سماجی ماحول کی جھلک ملتی ہے۔

  لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری آنکھیں کچھ اور بھی دیکھتی ہیں۔ کانسی کے دور میں انڈس تہذیب کے اُس اسرار کے پردے میں چھپے دور کا اصل حیرت زا نکتہ یہ ہے کہ اتنے بڑے شہری معاشرے کی اجتماعی تنظیم کہاں سے آئی؟ گورننس کا روپ کیا تھا؟۔

ہم جانتے ہیں کہ اس کا جواب ہمارے پاس نہیں ہے مگر اسے سوچتے ہی آج سندھ پر مسلط گورننس کا روپ ہمیں ڈرانے لگ جاتا ہے۔ آج اس خطے کی ہر گورننس کی طرح یہ گورننس بھی لسانی سیاست کے ہتھیار سے تو لیس ہے، لیکن شہری و دیہی انفرا سٹرکچر کا تہذیبی تسلسل کہیں دم توڑ چکا ہے۔

اس وقت میں ایک ہراساں زندگی گزار رہا ہوں کیوں کہ ہر طرف لسانی سیاست کا ماحول گرم کیا جا چکا ہے۔ جب بھی لسانی گفتگو شروع ہوتی ہے مجھے لگتا ہے کوئی مجھے ہراساں کر رہا ہے۔ لوگ اپنی موجودہ ڈراؤنی شکلوں کو سہولت سے نظر انداز کر کے تہذیبی تواریخ پر چھلانگیں مارنے لگتے ہیں۔

 میں حیران ہوتا ہوں۔ پریشان ہوتا ہوں۔ اس لیے میں نے بھی موہن جو دڑو کی ایک ذرا سی سیر کرنی چاہی کہ وہاں جا کر کچھ دیر کے لیے دم لے لوں، انسان کی انسانی کیفیات کو محسوس کر پاؤں۔ ان قدیم لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دیر کے لیے قلبی سکون پا لوں۔

 وہ لوگ جن کے علاقے میں کسی بادشاہ کا محل نظر نہیں آتا، کوئی معبد نہیں ملتا، کوئی اسلحہ خانہ نہیں ملتا۔ لیکن آج یہ تینوں یہاں ہم پر حملہ آور ہیں۔

میں کراچی میں پیدا ہوا، یہ کہنا کہ یہ شہر اپنی ایک زبان رکھتا ہے، فریب ہے۔ اس کی کئی زبانیں ہیں۔ چند کلو میٹر کے سفر کے بعد زبان بالکل تبدیل ہو جاتی ہے۔ اتنی کہ آپ بولنا تو دور سمجھ بھی نہیں پاتے۔ بشریات کا مطالعہ مجھے یہ سبق دے چکا ہے کہ یہ ایک بہت خطرناک بات ہوتی ہے۔

  اتنی خطرناک جگہ پر’لے سانس بھی آہستہ‘ والی صورت حال ہوا کرتی ہے۔ محلاتی سازش کسی بھی پل اس تنوع کو تباہی میں بدل سکتی ہے۔ ہوا بھی یہی۔ میں 48 برسوں سے یہاں کی فضا میں سانسیں لے رہا ہوں۔ اب دھول اور دھوئیں کی طرح محل، معبد اور اسلحہ خانے کی وجہ سے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

 یہاں میں نے لڑکپن سے خود کو لسانی طور پر ہراساں محسوس کیا۔ جو شخص مزاجاً حملہ آور نہ ہو، ایسی جگہوں پر اس کا یہی مقدر ہوتا ہے۔

 مجھے مادری زبان کے طور پر زبان سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ یہ میرے لیے رکاوٹ ہے۔ یہ مجھے انسانوں سے بے وجہ جدا  کرتی ہے۔ مجھے کنوئیں کا مینڈک بناتی ہے۔ اس لیے کسی زبان پر فخر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 میں سمجھتا ہوں زبان ایک انسان ہونے کے ناطے مجھ سے ہرگز بڑی نہیں ہے۔ مجھ سے یعنی میری سوچ سے۔ سوچ، جو مجھے میں بناتی ہے۔ تو زبان بس ایک چھوٹا سا ٹول ہے میرا۔ جتنا منجھا ہوا ہو، بہتر ہے۔

اگر کل میری موجودگی میں میری زبان ختم ہو جائے تو میں اسے خاتمے کی جگہ ایک نئی شروعات سمجھوں گا۔ مجھے کوئی دکھ نہیں ہوگا۔ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ موہن جو دڑو کے میرے پڑوسی، جو میرے آس پاس روحوں کی صورت گھوم رہے ہیں، انھیں بھی اپنی زبان ختم ہو جانے پر ذرا برابر بھی دکھ نہیں ہے۔

اس لیے ، اے زبان کی سیاست کرنے والے بے پر کے فرشتو آدمیوں کو اپنی بے مایہ تین انچ کی زبان سے ہراساں کرنا چھوڑ دو۔ اور یونی کورن بن کر دکھاؤ۔

 آج اپنے آس پاس کا ماحول دیکھ کر تاریخ کی یہ گواہی سنائی دیتی ہے کہ موہن جو دڑو کا آدمی ہم سب سے بہتر نکلا۔

  ایک دن ان کے درمیان کے تخلیق کار نے ایک عجیب انسان کے بارے میں سنا۔ اور اس نے مٹی کے ڈھیر کے پاس بیٹھ کر اپنے تخیل کے زور پر پورے سماج کے سامنے اس کا ہیولا زندہ کر دیا۔ اگلی صبح جب شہر کے لوگ اٹھے تو انھوں نے خود کو یونی کورن کے روپ میں پایا۔ اور انھوں نے سمجھا کہ وہ ہمیشہ اسی روپ میں تھے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک دن ہم نے آئینوں میں اپنی تھوتنیاں دیکھیں اور حیرت کا اظہار بالکل نہ کیا۔

اسی بارے میں: