دنیا کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ حکمران طبقات نے اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے صرف طاقت، قانون اور ریاستی اداروں کا سہارا نہیں لیا، بلکہ عوام کو مختلف ادوار میں سیاسی، مذہبی، نسلی، لسانی، قومی، معاشی اور نفسیاتی کشمکش میں بھی الجھائے رکھا ہے۔
جب کسی معاشرے کے محنت کش، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لوگ اپنے بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، عزت اور بہتر زندگی کے لیے متحد ہونے لگیں تو انہیں تقسیم کرنے کے لیے کبھی مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے، کبھی زبان و قومیت کا، کبھی سیاسی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کیا جاتا ہے اور کبھی معاشی حالات اس قدر مشکل بنا دیے جاتے ہیں کہ انسان اجتماعی جدوجہد کے بجائے صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کی فکر میں مبتلا ہو جائے۔
آج پاکستان میں عام آدمی کو درپیش صورتحال کو صرف مہنگائی کا مسئلہ سمجھنا شاید کافی نہیں۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں، روزگار کے محدود مواقع، بجلی اور گیس کے بھاری بل، علاج اور تعلیم کے اخراجات، ٹرانسپورٹ کے کرائے اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مل کر ایک ایسی معاشی کیفیت پیدا کر رہی ہیں جس کے اثرات انسان کی ذہنی اور سماجی زندگی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
تازہ مثال پٹرول کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں تین روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 381 روپے 77 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 8 ستمبر سے نافذالعمل ہیں۔
بظاہر یہ چند روپے کا اضافہ ہے، مگر اس کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو موٹر سائیکل، رکشہ، کار، بس اور ٹرک کا سفر مہنگا ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو سبزی، پھل، دودھ، آٹا، دال، گوشت اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ فیکٹری سے مارکیٹ اور مارکیٹ سے گھر تک ہر چیز کی نقل و حمل کا خرچ عام آدمی کی جیب سے وصول کیا جاتا ہے۔
ایک مزدور جو روزانہ موٹر سائیکل پر کام پر جاتا ہے، اس کے لیے پٹرول کا ہر اضافہ اس کی اجرت میں عملی کمی کے برابر ہے۔ تنخواہ وہی، مگر سفر کا خرچ زیادہ۔ دکاندار کے اخراجات زیادہ، صارف کی قوتِ خرید کم۔ یوں معاشی دباؤ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا سب سے بڑا بوجھ محنت کش طبقہ برداشت کرتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے جس پر ہمارے ہاں کم بات ہوتی ہے۔ جب ایک شخص صبح گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچے کہ آج کا پٹرول، بچوں کی فیس، بجلی کا بل، راشن اور دوا کیسے پوری ہوگی تو اس کے ذہن میں اجتماعی مسائل کے بجائے ذاتی بقا کا سوال سب سے بڑا بن جاتا ہے۔ وہ سیاسی جلسے میں جانے، احتجاج میں شرکت کرنے، کسی اجتماعی تحریک کا حصہ بننے یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے اضافی مزدوری تلاش کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معاشی دباؤ ایک نفسیاتی اثر پیدا کرتا ہے۔
اگر ایک متوسط طبقے کے شہری کے پاس اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے کے لیے پیسے نہ ہوں، اگر رکشے یا بس کا کرایہ برداشت کرنا مشکل ہو جائے تو وہ شہر کے کسی احتجاج، جلسے یا عوامی اجتماع میں کیسے پہنچے گا؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہری اپنے گھر تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس کی سیاسی سرگرمی موبائل فون کی اسکرین تک محدود رہ جاتی ہے اور عملی اجتماعی مزاحمت کمزور پڑتی جاتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں عوامی تحریکوں نے ہمیشہ اسی وقت قوت حاصل کی جب معاشی مشکلات نے عوام کو ایک دوسرے کے قریب کیا اور سیاسی شعور نے انہیں مشترکہ مطالبات کے گرد متحد کیا۔ مزدور تحریکیں، کسان تحریکیں، طلبہ تحریکیں اور جمہوری جدوجہدیں اس بات کی مثال ہیں کہ جب عوام اپنے مسائل کو انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مسئلہ سمجھتے ہیں تو حکمرانوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ عوام کو ایک مشترکہ معاشی مسئلے پر متحد ہونے کے بجائے مختلف سیاسی، لسانی، مذہبی اور گروہی بحثوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک غریب دوسرے غریب سے لڑ رہا ہے، متوسط طبقہ اپنے سے کمزور طبقے کو مسئلے کی جڑ سمجھ رہا ہے، سیاسی کارکن ایک دوسرے کو دشمن تصور کر رہے ہیں، جبکہ اصل معاشی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال کسی ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں۔ ریاستی و سیاسی نظام میں آنے والی مختلف حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار میں عوام کو مختلف نعروں کے ذریعے متحرک بھی کیا اور تقسیم بھی۔ کبھی روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ سامنے آیا، کبھی اسلامی نظام، کبھی جمہوریت، کبھی ترقی، کبھی تبدیلی اور کبھی قومی سلامتی۔ عوام نے ہر دور میں امیدیں وابستہ کیں، مگر بنیادی معاشی مسائل بڑی حد تک اپنی جگہ موجود رہے۔
قانون اور ریاست کا بنیادی مقصد شہری کو تحفظ، انصاف اور مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔ لیکن جب عام شہری کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ ہے، روزگار میرٹ کے بجائے تعلقات سے ملتا ہے، تعلیم اور صحت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ یہی عدم اعتماد معاشرتی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔
سندھ کا عام آدمی اس بحران کو روزانہ اپنی زندگی میں محسوس کر رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں کسان پانی، مہنگی کھاد، بجلی اور پیداوار کی قیمت کے مسائل سے دوچار ہے۔ شہری علاقوں میں مزدور روزگار، کرایوں، بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کے اخراجات کے درمیان پستا ہے۔
کراچی جیسے شہر میں ایک طرف صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں ہیں تو دوسری طرف ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، کچرے اور بنیادی شہری سہولیات کے مسائل بھی موجود ہیں۔
معاشی دباؤ صرف جیب خالی نہیں کرتا، یہ انسان کے رویے بھی تبدیل کرتا ہے۔ گھر میں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہوں تو شوہر اور بیوی میں اختلاف بڑھ سکتا ہے، والدین بچوں کی ضروریات پوری نہ ہونے پر ذہنی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں، نوجوان مستقبل سے مایوس ہو سکتے ہیں اور بعض افراد قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔ یوں مہنگائی ایک معاشی مسئلے سے بڑھ کر سماجی اور نفسیاتی بحران بن جاتی ہے۔
سب سے خطرناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوام مسلسل مشکلات کو اپنی قسمت سمجھنے لگیں۔
اگر ایک معاشرہ یہ سوچ لے کہ ‘کچھ نہیں بدل سکتا’، ‘سب ایک جیسے ہیں’، ‘آواز اٹھانے سے کیا ہوگا؟’ تو یہی سوچ حکمران طبقے کے لیے سب سے بڑی کامیابی بن جاتی ہے، کیونکہ حکمرانی صرف طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے اندر بے بسی کا احساس پیدا کرکے بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
یہاں میڈیا اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔ عوام کو صرف ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کے بجائے انہیں ان کے حقیقی معاشی اور سماجی مسائل سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا عوامی طاقت کو تقسیم کرتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مزدور، کسان، طلبہ، تاجر، صحافی، وکلا، اساتذہ اور متوسط طبقہ اپنے اپنے مسائل کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھیں۔ پٹرول کی قیمت صرف موٹر سائیکل چلانے والے کا مسئلہ نہیں؛ یہ کسان، مزدور، دکاندار، طالب علم، مریض، مسافر اور ہر شہری کا مسئلہ ہے۔
عوامی مزاحمت کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں۔ آئینی اور قانونی دائرے میں پرامن احتجاج، اجتماعی آواز، شہری تنظیم سازی، ووٹ کا شعوری استعمال، مقامی مسائل پر مسلسل سوال اٹھانا، آزاد صحافت کی حمایت اور منتخب نمائندوں سے جواب طلبی بھی جمہوری مزاحمت کی شکلیں ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پٹرول آج 358 روپے 77 پیسے فی لیٹر ہوگیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی کی آمدنی اس رفتار سے کیوں نہیں بڑھ رہی جس رفتار سے اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ مہنگائی کا بوجھ ہمیشہ کمزور طبقے ہی کے کندھوں پر کیوں پڑتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے بجائے انہیں ہر بحران کے بعد مزید قربانی دینے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے؟
جب تک یہ سوال اجتماعی سوال نہیں بنیں گے، ہر شخص اپنے اپنے گھر میں بیٹھ کر اپنے مسئلے کا حل تلاش کرتا رہے گا۔ اور جب عوام اپنے اجتماعی مسائل کو انفرادی قسمت سمجھنے لگیں تو حکمرانوں کے لیے سب سے مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے۔
اس لیے آج سب سے بڑی ضرورت صرف مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانا نہیں بلکہ عوام کو معاشی، سیاسی اور نفسیاتی بے بسی سے نکالنا ہے۔ کیونکہ بھوکا انسان پہلے روٹی تلاش کرتا ہے، پریشان انسان پہلے اپنے گھر کو بچاتا ہے اور خوف زدہ انسان پہلے خاموشی اختیار کرتا ہے۔
مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب یہی خاموش لوگ اپنے دکھ کو مشترکہ دکھ اور اپنے مسائل کو مشترکہ مسئلہ سمجھ لیتے ہیں تو معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد پڑتی ہے۔
عوام کو تقسیم کرکے حکمرانی شاید کچھ عرصے تک جاری رکھی جا سکتی ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ عوام کب اپنی خاموشی کو طاقت اور اپنی کمزوری کو اجتماعی شعور میں تبدیل کرتے ہیں۔

