جغرافیائی تقسیم جب کسی خطے کی تقدیر بدلتی ہے تو صرف زمین کے ٹکڑے الگ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ ساز ذہن اور عظیم رہنما بھی اپنی مٹی سے جدا ہو جاتے ہیں۔
پرانے کراچی کی گود سے جنم لینے والے ایسے ہی ایک عظیم اور مدبر رہنما جئے رام داس دولت رام تھے، جن کا سفر حیات کراچی کی پرسکون گلیوں سے شروع ہو کر تحریک آزادی کے قید خانوں، آزاد ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی اور پھر بہار اور آسام کے گورنر ہاؤسز تک پھیلا ہوا تھا۔
وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی پیدائش کراچی کے ایک سندھی ہندو گھرانے میں ہوئی، جنہوں نے برصغیر کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیا اور آزادی کے فوراً بعد ایک بالکل دوسرے خطے، بہار، کے پہلے بھارتی گورنر بنے۔ یہ داستان ایک ایسے رہنما کی ہے جس نے اقتدار کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں بیٹھ کر بھی اپنی مادری زبان ‘سندھی’ اور اپنی جائے پیدائش ‘کراچی’ کا حق کبھی نہیں بھلایا۔
کراچی کی گود میں ابتدائی زندگی
جئے رام داس دولت رام 21 جولائی 1891 کو برطانوی ہند کے ساحلی اور تجارتی مرکز کراچی کے ایک معزز، پڑھے لکھے اور متمول سندھی ہندو خاندان میں دولت رام عالم چندانی کے گھر پیدا ہوئے۔ اسی شہر کی مٹی میں ان کا خمیر گندھا تھا اور اسی کی ہواؤں نے ان کے خیالات کو پروان چڑھایا۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی سے حاصل کی اور بعد ازاں قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کرکے کراچی ہی میں اپنی وکالت کا آغاز کیا۔
ان دنوں کراچی میں وکالت ایک انتہائی منافع بخش اور معزز پیشہ مانا جاتا تھا اور جئے رام داس بہت جلد ایک کامیاب وکیل کے طور پر ابھر سکتے تھے، لیکن ان کے اندر ایک ایسا ضمیر دھڑک رہا تھا جو برطانوی راج کی غلامی اور اس کے جابرانہ قوانین کو تسلیم کرنے سے انکاری تھا۔
جب برصغیر میں آزادی کی لہریں اٹھیں اور کانگریس نے برطانوی حکومت کے خلاف آواز بلند کی تو نوجوان جئے رام داس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی چمکتی ہوئی وکالت اور متمول زندگی کو خیرباد کہہ دیا اور خود کو دھرتی کی آزادی کے لیے وقف کردیا۔

مہاتما گاندھی کی رفاقت اور ‘صحرا کا چراغ’ کا لقب
تحریک آزادی میں شامل ہونے کے بعد جئے رام داس دولت رام بہت جلد اپنی ذہانت، سادگی اور عزم کی بدولت مہاتما گاندھی کے چند انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھیوں کی صف میں شامل ہوگئے۔ ان کا اور گاندھی جی کا رشتہ محض سیاسی نہیں بلکہ نظریاتی اور روحانی بھی تھا۔
اس رفاقت کا ایک تاریخی موڑ 1919 کے امرتسر اجلاس میں آیا۔ اس اجلاس میں گاندھی جی اور دیگر سینیئر کانگریسی رہنماؤں کے درمیان ایک اہم قرارداد پر شدید نظریاتی اختلاف پیدا ہوگیا تھا، جس سے تحریک کے اندر ایک خلیج پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔
ایسے نازک وقت میں جئے رام داس نے اپنی غیر معمولی سفارتی اور تحریری صلاحیتوں کا استعمال کیا۔ انہوں نے گاندھی جی کی قرارداد کے الفاظ کو اس مہارت اور خوبصورتی سے دوبارہ ترتیب دیا کہ تمام فریقین اس پر راضی ہوگئے اور یوں تحریک آزادی کا شیرازہ بکھرنے سے بچ گیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی جی ان کی سیاسی دور اندیشی کے دل سے قائل ہوگئے۔
ہندوستان کی مشہور شاعرہ اور سیاسی رہنما سروجنی نائیڈو جئے رام داس کی درویشی، سادگی اور سندھ کے پسماندہ خطوں کے لیے ان کی بے لوث خدمات سے بے حد متاثر تھیں۔ انہوں نے جئے رام داس دولت رام کو ان کی اسی بے لوث طبیعت کی وجہ سے ‘صحرا کا چراغ’ کا خوبصورت لقب دیا، ایک ایسا چراغ جو سندھ کے تپتے صحراؤں اور کراچی کے ساحلوں پر آزادی کی روشنی پھیلا رہا تھا۔
انہوں نے تحریک عدم تعاون، نمک کے ستیہ گرہ اور 1942 کی ‘ہندوستان چھوڑو تحریک’ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس پاداش میں برطانوی حکومت نے انہیں کئی بار جیل بھیجا، جہاں انہوں نے بدترین تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں نہایت پامردی سے جھیلیں۔
صحافت کا سفر اور تحریری جہاد
جئے رام داس دولت رام صرف ایوانوں اور جلسوں کے مرد میدان نہیں تھے بلکہ وہ ایک صاحب طرز ادیب اور بے باک صحافی بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ قلم کی طاقت برطانوی توپوں سے زیادہ کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس دور کے برصغیر کے مشہور انگریزی اخبارات ‘دی ہندو’ اور ‘ہندوستان ٹائمز’ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اپنے اداریوں کے ذریعے عوام میں آزادی کا شعور بیدار کیا۔
اس کے علاوہ مہاتما گاندھی کے مشہور ہفتہ وار رسالے ‘ینگ انڈیا’ کی ادارت کی ذمہ داری بھی ایک طویل عرصے تک جئے رام داس کے کندھوں پر رہی، جسے انہوں نے نہایت احسن طریقے سے نبھایا۔
تقسیم کا کرب اور آزاد ہندوستان کا پہلا گورنر بہار
1947 کا سال جہاں برصغیر کے لیے آزادی کا سورج لے کر آیا، وہیں جئے رام داس اور لاکھوں سندھیوں کے لیے اپنی مٹی سے بچھڑنے کا ایک لامتناہی کرب بھی لایا۔ جب ملک تقسیم ہوا تو ان کا پیارا شہر کراچی اور پورا سندھ پاکستان کا حصہ بن گیا۔
جئے رام داس دولت رام جو ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی میں سندھ کے کوٹے سے رکن منتخب ہوئے تھے اور آئین سازی کی کارروائی میں سندھ کی نمائندگی کر رہے تھے، راتوں رات اپنے ہی آبائی وطن سے بے وطن ہوگئے۔
لیکن تاریخ نے ان کے لیے ایک اور عظیم منصب چن رکھا تھا۔ 15 اگست 1947 کو ہندوستان کی آزادی کے پہلے ہی دن جب نئی حکومت تشکیل پا رہی تھی تو جئے رام داس دولت رام کو بہار کا گورنر مقرر کیا گیا۔
بہار راج بھون کے سرکاری اور تاریخی ریکارڈ کے مطابق وہ آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر بہار بنے۔ انہوں نے 15 اگست 1947 سے 11 جنوری 1948 تک اس عہدے پر فائز رہ کر آزادی کے بعد کے اس پرآشوب اور مخدوش دور میں بہار کے انتظامی معاملات کو تدبر اور پختگی کے ساتھ سنبھالا۔
یہ برصغیر کی تاریخ کا ایک انوکھا اور دلچسپ واقعہ تھا کہ ایک شخص جس کا خمیر کراچی کی مٹی سے اٹھا تھا، وہ برصغیر کے مشرقی حصے کے ایک تاریخی خطے، بہار، کی گورنری کے منصب پر متمکن تھا۔
بعد ازاں ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں جواہر لعل نہرو کی مرکزی کابینہ میں ہندوستان کا وزیر خوراک و زراعت بنایا گیا، جہاں انہوں نے ملک کو غذائی قلت سے نکالنے کے لیے اہم اصلاحات کیں۔

آسام کی گورنری اور تبت کا تاریخی دفاع
1950 میں جئے رام داس دولت رام کو آسام کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں وہ 1956 تک فائز رہے۔ ان کی آسام کی گورنری کا دور ہندوستان کی جغرافیائی اور دفاعی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور نازک ترین دور مانا جاتا ہے۔ اسی دور میں چین نے تبت پر اپنا فوجی اور انتظامی کنٹرول سخت کرنا شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے ہندوستان کی شمال مشرقی سرحدیں براہ راست چینی خطرے کی زد میں آگئی تھیں۔
بطور گورنر آسام، جئے رام داس دولت رام نے غیر معمولی تزویراتی اور انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تبت سے متصل بھارت کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کو انتظامی طور پر مضبوط کرنے کے لیے دن رات ایک کردیا۔ 1951 میں توانگ کا بھارت میں تاریخی اور پرامن انضمام دراصل جئے رام داس دولت رام کی اسی دور اندیشی، مضبوط ارادے اور بہترین انتظامی حکمت عملی کا نتیجہ تھا، جس نے بھارت کے دفاع کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا دیا۔
بھارت میں سندھی زبان کا مقدمہ اور آخری سفر
اقتدار، سیاست اور گورنری کے ان تمام اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود جئے رام داس کے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ کراچی کے ساحل اور سندھی زبان کی لوریاں گونجتی رہیں۔ تقسیم کے بعد جب لاکھوں سندھی ہندو اپنا سب کچھ سندھ میں چھوڑ کر ہندوستان کے مختلف حصوں میں پناہ گزین ہوئے تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی زبان، شناخت اور ثقافت کو مٹنے سے بچانا تھا۔
جئے رام داس نے اس کڑے وقت میں اپنی مٹی اور مادری زبان کا حق ادا کیا۔ وہ ‘آل انڈیا سندھی زبان و ادب تنظیم’ کے بانی اراکین میں شامل ہوئے۔ انہوں نے دلی کے ایوانوں میں سندھی زبان کا مقدمہ اس مضبوطی سے لڑا کہ بھارتی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
ان کی انتھک اور مسلسل کوششوں کی بدولت بھارتی حکومت نے سندھی زبان کو ہندوستان کے آئین کے آٹھویں شیڈول میں شامل کرکے اسے باقاعدہ قومی زبان کا درجہ دیا۔ یہ ان کا اپنی مٹی اور زبان پر وہ احسان تھا جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اپنا آبائی شہر کراچی پاکستان میں رہ جانے کے بعد انہوں نے نئی دلی کو اپنا مسکن بنایا اور آخری سانس تک مہاتما گاندھی کے اصولوں کے مطابق نہایت سادگی اور عاجزی کی زندگی گزاری۔ 1 مارچ 1979 کو دلی میں 88 برس کی عمر میں اس عظیم صحافی، مدبر، سیاست دان اور کراچی کے سپوت کا انتقال ہوا۔
1985 میں حکومت ہند نے ان کی یاد میں ایک خصوصی یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ جئے رام داس دولت رام کی زندگی کراچی، سندھ، تحریک آزادی، بہار، آسام اور سندھی زبان کے حقوق کو ایک ایسی داستان میں پرو دیتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہے گی۔

