[rank_math_breadcrumb]

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں حاضری کے لیے چہرہ شناخت نظام متعارف

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی حاضری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے اور اس مقصد کے لیے چہرے کی شناخت، جی پی ایس اور جیو فینسنگ پر مبنی نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

FRAMES  نامی یہ نظام اساتذہ اور دیگر ملازمین کی شناخت کے ساتھ ان کی اسکول میں موجودگی کی بھی تصدیق کرتا ہے۔ حاضری کے وقت جی پی ایس اور جیو فینسنگ کے ذریعے یہ جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ متعلقہ ملازم مقررہ اسکول کی حدود میں موجود ہے یا نہیں۔

نظام میں لائیو نیس اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جس کا مقصد تصویر یا کسی دوسرے ذریعے سے کسی اور شخص کی جگہ حاضری لگانے کی کوششوں کو روکنا ہے۔ اس طرح نظام ملازم کی شناخت کے ساتھ اس کی حقیقی موجودگی کی تصدیق بھی کرتا ہے۔

RAMES کو ایسے علاقوں کے لیے بھی قابل استعمال بنایا گیا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہ ہو۔ انٹرنیٹ نہ ہونے کی صورت میں حاضری ریکارڈ کی جاسکتی ہے اور کنکشن بحال ہونے کے بعد یہ ریکارڈ مرکزی نظام کے ساتھ منسلک ہوجاتا ہے۔

اس نظام کا پائلٹ اگست 2026 میں سندھ کے  چھ اضلاع میں شروع کیا گیا، جس کے پہلے مرحلے میں تقریباً 49,500 تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین شامل کیے گئے ہیں۔

نئے نظام میں ملازمین کے لیے اپنی حاضری کا ریکارڈ دیکھنے اور چھٹی کی درخواست جمع کرانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اس طرح حاضری سے متعلق ریکارڈ اور چھٹی کے بعض انتظامی امور کو بھی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے منظم کیا جاسکتا ہے۔

FRAMES  سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے ڈیجیٹل اقدام کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے اسکولوں میں عملے کی حاضری کی نگرانی کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ کے مطابق FRAMES کو سندھ کے تمام سرکاری اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا۔ پائلٹ مرحلے کے بعد اس نظام کو صوبے کے دیگر سرکاری اسکولوں تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔

اسی بارے میں: