حیدرآباد کے قاسم آباد میں شمس العلماء داؤد پوٹہ پبلک لائبریری کے باہر ہر صبح ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کتابیں اور بیگ اٹھائے نوجوان تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اندر جا کر مطالعے کے لیے ایک نشست حاصل کرسکیں۔
لڑکوں کے ساتھ بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں بھی روزانہ پہنچتی ہیں۔ ان میں بعض ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو دوسرے شہروں سے حیدرآباد آکر تعلیم یا مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔
یہ سرکاری لائبریری اب محض کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں رہی بلکہ یونیورسٹی طلبہ، محققین اور خاص طور پر سی ایس ایس اور پی سی ایس کے امیدواروں کے لیے مطالعے کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے اس کی سب سے بڑی کشش ایک پرسکون اور مفت مطالعاتی ماحول ہے۔
لائبریری میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود ہیں، جن میں سندھی، اردو، انگریزی، عربی اور فارسی کا ذخیرہ شامل ہے۔ بچوں کے لیے بھی تقریباً 5 ہزار کتابوں کا الگ ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مختلف زبانوں کے اخبارات اور رسائل بھی دستیاب ہیں۔
لائبریری میں تقریباً 2,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، لیکن روزانہ آنے والے طلبہ کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ امتحانات کے دنوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے اور صبح ہی سے نشست کے حصول کے لیے لائبریری کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں۔
شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری سندھ کی قدیم اور اہم عوامی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ جولائی 1971 میں معروف سندھی عالم، ادیب اور محقق ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوٹہ کے ورثا نے ان کی ذاتی کتابوں کا ذخیرہ لائبریری کو عطیہ کیا، جس کے بعد اس کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ سندھ میں محکمہ ثقافت کے قیام کے بعد 1986 سے یہ لائبریری اسی محکمے کے انتظامی دائرے میں کام کر رہی ہے۔
یہاں خواتین کے لیے بھی مطالعے کی سہولت موجود ہے، جبکہ امریکی حکومت کے تعاون سے لنکن کارنر بھی قائم کیا گیا تھا۔ لائبریری کے ڈائریکٹر بشارت علی کے مطابق یہ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رہتی ہے اور متبادل بجلی کا انتظام بھی موجود ہے۔
حیدرآباد میں حسرت موہانی سنٹرل لائبریری، کے بی عظیم خان سندھ گورنمنٹ لائبریری اور لطیف آباد یونٹ 11 کی پبلک لائبریری سمیت دیگر عوامی کتب خانے بھی موجود ہیں، جہاں نوجوان تعلیم اور مسابقتی امتحانات کے ذریعے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری کے باہر روزانہ نظر آنے والی لمبی قطار ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے: جب نوجوان مفت میں دستیاب کتابوں اور پرسکون مطالعاتی جگہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں تو کیا ایسی سرکاری لائبریریوں میں مزید نشستوں، سہولیات اور مطالعاتی مراکز کی ضرورت نہیں؟
یہ قطار دراصل صرف ایک نشست کے انتظار میں کھڑے نوجوانوں کی قطار نہیں، بلکہ تعلیم کے ذریعے بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والی ایک پوری نسل کی تصویر ہے۔
