Tag: لائبریری

  • حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کی تقریباً سوا صدی قدیم عوامی لائبریری: ہومسٹیڈ ہال سے حسرت موہانی لائبریری تک کا سفر

    حیدرآباد کے قدیم شہر میں ایک ایسی عمارت آج بھی موجود ہے جس نے ایک صدی سے زیادہ عرصے میں شہر کی علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی تاریخ کے کئی ادوار دیکھے ہیں۔ یہ عمارت آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کے نام سے جانی جاتی ہے، لیکن اس کی کہانی موجودہ نام سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔

    یہ عمارت 1905 میں برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تھی اور ابتدا میں اسے ہومسٹیڈ ہال کہا جاتا تھا۔ یہ نام حیدرآباد میں خدمات انجام دینے والے سول سرجن ڈاکٹر ہومسٹیڈ کی نسبت سے رکھا گیا تھا۔ وقت کے ساتھ عمارت کا کردار بدلتا رہا، لیکن اس کی علمی اور عوامی اہمیت برقرار رہی۔

    پکا قلعہ کے قریب اور تاریخی مکھی ہاؤس کے سامنے واقع یہ عمارت حیدرآباد کے اس قدیم حصے میں موجود ہے جہاں شہر کی کئی اہم تاریخی عمارتیں اور یادگاریں آج بھی موجود ہیں۔ اس جغرافیائی محل وقوع نے بھی اسے حیدرآباد کے تاریخی ورثے کا حصہ بنا دیا ہے۔

    تقریباً 18 ہزار مربع فٹ رقبے پر قائم یہ دو منزلہ عمارت سرخ اینٹوں، بلند دیواروں اور وکٹورین طرز تعمیر کی خصوصیات کی وجہ سے نمایاں نظر آتی ہے۔ عمارت میں کئی کمرے اور ایک بڑا ریڈنگ ہال موجود ہے، جبکہ پورا احاطہ تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلا ہوا بتایا جاتا ہے۔

    لیکن اس عمارت کی اصل کہانی صرف اس کے طرز تعمیر میں نہیں، بلکہ ان سرگرمیوں میں پوشیدہ ہے جو مختلف ادوار میں یہاں جاری رہیں۔

    تقسیم ہند سے پہلے یہ عمارت مطالعے اور علمی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ یہاں ادبی اور سماجی سرگرمیاں بھی منعقد ہوتی تھیں، جبکہ بھائی وسیامل اور ہیرانند سے منسوب فری ریڈنگ روم بھی اسی عمارت سے وابستہ تھا۔ اس دور میں یہ جگہ حیدرآباد کے تعلیم یافتہ اور کتاب دوست طبقے کے لیے ایک اہم مقام سمجھی جاتی تھی۔

    قیام پاکستان کے بعد عمارت کی تاریخ نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہاں ریڈیو پاکستان حیدرآباد کا دفتر قائم ہوا اور ایک عرصے تک عمارت نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہی۔ ریڈیو پاکستان کی سرگرمیوں کے دوران لائبریری کا کام عمارت کے ایک محدود حصے تک محدود ہوگیا۔

    1967 میں عمارت کو مولانا حسرت موہانی کے نام سے منسوب کیا گیا۔ حسرت موہانی اردو کے معروف شاعر، صحافی اور برصغیر کی آزادی کی تحریک سے وابستہ سیاسی رہنما تھے۔ ان کے نام سے منسوب کیے جانے کے بعد یہ عمارت حیدرآباد کی ادبی اور علمی شناخت کے ساتھ مزید مضبوطی سے جڑ گئی۔

    آج حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری سندھ حکومت کے زیر انتظام ہے اور یہاں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں۔ عام قارئین کے علاوہ طلبہ، محققین اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوان بھی یہاں مطالعے کے لیے آتے ہیں۔

    لائبریری کی ایک اہم سہولت خواتین اور طالبات کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال ہے، جہاں بڑی تعداد میں طالبات مطالعہ اور مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتی ہیں۔ بچوں کے لیے بھی ریڈنگ ہال موجود ہے، جس سے لائبریری کا دائرہ صرف نوجوانوں اور بالغ قارئین تک محدود نہیں رہتا۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری کی ڈپٹی ڈائریکٹر امبیہ واحد کے مطابق لائبریری میں قارئین کو انٹرنیٹ کی مفت سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کے علاوہ بچوں کے لیے بھی مطالعے کی الگ سہولت موجود ہے۔

    وقت کے ساتھ اس تاریخی عمارت کو بحال کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ 2008 میں عمارت کی تزئین و بحالی کی گئی اور اسے دوبارہ لائبریری کے طور پر فعال کیا گیا۔ 2024 میں سندھ حکومت کی جانب سے لائبریری کو مزید اپ گریڈ کیا گیا، جس کا مقصد اسے موجودہ دور کی مطالعاتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا تھا۔

    یوں یہ عمارت صرف کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں رہی، بلکہ اس نے حیدرآباد کی بدلتی ہوئی شہری تاریخ کے ساتھ خود کو بھی تبدیل کیا۔ ایک ہی عمارت نے برطانوی دور کا ہومسٹیڈ ہال دیکھا، آزادی سے پہلے کے فری ریڈنگ روم کی سرگرمیوں کا حصہ بنی، قیام پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کی نشریاتی سرگرمیوں کا مرکز رہی اور پھر دوبارہ ایک عوامی لائبریری کی حیثیت سے شہر کے طلبہ اور قارئین کے لیے کھل گئی۔

    ایک صدی سے زیادہ پرانی اس عمارت کی اہمیت اس کے اندر موجود کتابوں سے بھی آگے ہے۔ اس کی دیواریں حیدرآباد کے ایک ایسے دور کی گواہ ہیں جب کتاب، اخبار، ریڈنگ روم اور علمی محفلیں شہری زندگی کا اہم حصہ ہوا کرتی تھیں۔

    آج جب نوجوان یہاں امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، بچے کتابیں پڑھتے ہیں، خواتین کے لیے مخصوص ریڈنگ ہال استعمال ہوتا ہے اور قارئین مفت انٹرنیٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو یہ تاریخی عمارت ماضی اور حال کے درمیان ایک زندہ رابطے کے طور پر سامنے آتی ہے۔

    حسرت موہانی ڈسٹرکٹ سینٹرل لائبریری دراصل حیدرآباد کی صرف ایک لائبریری نہیں، بلکہ ایک ایسی تاریخی عمارت ہے جس نے 1905 سے آج تک شہر کے علمی، ادبی، سماجی اور نشریاتی سفر کے کئی باب اپنے اندر محفوظ کر رکھے ہیں۔

  • حیدرآباد کی وہ لائبریری جہاں ایک نشست کے لیے بھی نوجوانوں کی لمبی قطار لگتی ہے

    حیدرآباد کی وہ لائبریری جہاں ایک نشست کے لیے بھی نوجوانوں کی لمبی قطار لگتی ہے

    حیدرآباد کے قاسم آباد میں شمس العلماء داؤد پوٹہ پبلک لائبریری کے باہر ہر صبح ایک غیر معمولی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کتابیں اور بیگ اٹھائے نوجوان تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر تک قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اندر جا کر مطالعے کے لیے ایک نشست حاصل کرسکیں۔

    لڑکوں کے ساتھ بڑی تعداد میں نوجوان لڑکیاں بھی روزانہ پہنچتی ہیں۔ ان میں بعض ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جو دوسرے شہروں سے حیدرآباد آکر تعلیم یا مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔

    یہ سرکاری لائبریری اب محض کتابیں پڑھنے کی جگہ نہیں رہی بلکہ یونیورسٹی طلبہ، محققین اور خاص طور پر سی ایس ایس اور پی سی ایس کے امیدواروں کے لیے مطالعے کا اہم مرکز بن چکی ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے اس کی سب سے بڑی کشش ایک پرسکون اور مفت مطالعاتی ماحول ہے۔

    لائبریری میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود ہیں، جن میں سندھی، اردو، انگریزی، عربی اور فارسی کا ذخیرہ شامل ہے۔ بچوں کے لیے بھی تقریباً 5 ہزار کتابوں کا الگ ذخیرہ موجود ہے، جبکہ مختلف زبانوں کے اخبارات اور رسائل بھی دستیاب ہیں۔

    لائبریری میں تقریباً 2,500 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے، لیکن روزانہ آنے والے طلبہ کی تعداد 4 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ امتحانات کے دنوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے اور صبح ہی سے نشست کے حصول کے لیے لائبریری کے باہر قطاریں لگ جاتی ہیں۔

    شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری سندھ کی قدیم اور اہم عوامی لائبریریوں میں شمار ہوتی ہے۔ جولائی 1971 میں معروف سندھی عالم، ادیب اور محقق ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوٹہ کے ورثا نے ان کی ذاتی کتابوں کا ذخیرہ لائبریری کو عطیہ کیا، جس کے بعد اس کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ سندھ میں محکمہ ثقافت کے قیام کے بعد 1986 سے یہ لائبریری اسی محکمے کے انتظامی دائرے میں کام کر رہی ہے۔

    یہاں خواتین کے لیے بھی مطالعے کی سہولت موجود ہے، جبکہ امریکی حکومت کے تعاون سے لنکن کارنر بھی قائم کیا گیا تھا۔ لائبریری کے ڈائریکٹر بشارت علی کے مطابق یہ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک کھلی رہتی ہے اور متبادل بجلی کا انتظام بھی موجود ہے۔

    حیدرآباد میں حسرت موہانی سنٹرل لائبریری، کے بی عظیم خان سندھ گورنمنٹ لائبریری اور لطیف آباد یونٹ 11 کی پبلک لائبریری سمیت دیگر عوامی کتب خانے بھی موجود ہیں، جہاں نوجوان تعلیم اور مسابقتی امتحانات کے ذریعے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن شمس العلماء داؤد پوٹہ لائبریری کے باہر روزانہ نظر آنے والی لمبی قطار ایک بڑے سوال کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے: جب نوجوان مفت میں دستیاب کتابوں اور پرسکون مطالعاتی جگہ کے لیے اتنی بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں تو کیا ایسی سرکاری لائبریریوں میں مزید نشستوں، سہولیات اور مطالعاتی مراکز کی ضرورت نہیں؟

    یہ قطار دراصل صرف ایک نشست کے انتظار میں کھڑے نوجوانوں کی قطار نہیں، بلکہ تعلیم کے ذریعے بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والی ایک پوری نسل کی تصویر ہے۔