‘زندگی کا جشن’: وادی سندھ کی مہریں مذہبی علامتیں نہیں بلکہ قدیم اسپورٹس گلڈز کے لوگو تھیں، ایک نئی سائنسی تعبیر

وادی سندھ

نوآبادیاتی عینک کا بوجھ اور خاموش رسم الخط: جب بھی ہم وادی سندھ کے کھنڈرات، موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے بارے میں سوچتے ہیں تو ایک پراسرار، پرسکون اور ممکنہ طور پر انتہائی مذہبی معاشرے کا تصور ابھرتا ہے۔

یہ تصور حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ بیسویں صدی کے اوائل کے برطانوی ماہرین آثار قدیمہ، جیسے سر جان مارشل اور ارنسٹ میکے، کی وراثت ہے۔ ان محققین نے ان عظیم شہروں کو تو دریافت کیا، لیکن ان کی مادی ثقافت کی تعبیر اپنے نوآبادیاتی تعصبات اور عہد سے متصادم اساطیری تصورات کی بنیاد پر کی۔

مسئلہ یہ ہے کہ وادی سندھ کا رسم الخط آج تک پڑھا نہیں جا سکا۔ جب کوئی تحریر خاموش ہو تو مادی اشیا خود بولتی ہیں، لیکن ان کی آواز وہی ہوتی ہے جو تعبیر کرنے والا انہیں دیتا ہے۔ ان برطانوی محققین نے خاموش سنگ صابن کی مہروں پر کندہ نقوش کو بعد کے مابعد ویدک مذہبی متون کے تناظر میں دیکھا۔ انہوں نے یہ فرض کر لیا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں، وہ کسی نہ کسی دیوتا یا مذہبی رسم کی عکاسی کر رہا ہے۔

تاہم، وادی سندھ کی شہری منصوبہ بندی کا ایک سخت تجرباتی اور مکانی تجزیہ ایک مکمل طور پر مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ان شہروں میں کہیں بھی شاندار معبد، محلاتی انتظامی مراکز یا تقدیس یافتہ شاہی مقبروں کے واضح آثار نہیں ملے۔ یہ کانسی کے دور کے دیگر معاشروں، جیسے مصر اور میسوپوٹیمیا، سے مختلف ہے، جہاں مذہبی اور شاہی ادارے معاشرتی نظم میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔

اس کے برعکس، وادی سندھ کی تہذیب ایک انتہائی منظم، مساوات پسند اور دنیوی نظام کو ظاہر کرتی ہے جو ‘زندگی کے جشن’ کے گرد گھومتا تھا۔

یہ مقالہ ایک بے باک دلیل پیش کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ سندھ کی مہروں اور مجسموں کا ایک بڑا حصہ ماورائے طبعی دیوتاؤں کی عکاسی نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، وہ روزمرہ کی جسمانی ثقافت، ورزشی سرگرمیوں، فنون لطیفہ اور حکمت عملی پر مبنی بساط کے کھیلوں کی دستاویز ہیں۔ یہ وہ مادی عناصر تھے جنہیں بعد کے ادوار میں مذہبی اساطیر سمجھنے کی غلطی کی گئی۔

پشوپتی مہر’ کی سائنسی تعبیر

آئیے جنوبی ایشیائی آثار قدیمہ کے سب سے بڑے مذہبی مفروضے، موہن جو دڑو کی ایک معروف مہر سے شروع کریں۔ سر جان مارشل نے اسے ‘پروٹو شِو’ یا ‘پشوپتی’ یعنی جانوروں کا دیوتا قرار دیا۔ یہ تعبیر اتنی گہری ہو چکی ہے کہ آج تک اس پر سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے۔

اس مہر میں ایک انسانی شکل دکھائی گئی ہے جو سینگوں والا تاج پہنے ہوئے ایک اونچے چبوترے پر چار زانو بیٹھی ہے۔

اسپورٹس سائنس اور حیاتیاتی حرکیات کے معروضی نقطہ نظر سے، اس نشست کو یوگا کے ‘مول بندھ آسن’ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک مشکل جسمانی وضع ہے جس میں جسمانی لچک اور عضلاتی کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

وادی سندھ کے ایسے غیر فوجی اور غیر مرکز گریز معاشرے میں، جہاں کسی بڑے شاہی دستے کے واضح شواہد نہیں ملتے، جسمانی لياقت کو برقرار رکھنا ایک شہری اور عملی ضرورت ہو سکتی تھی۔ چبوترے پر موجود یہ شخص ممکنہ طور پر کوئی کرتب کار، ورزشی استاد، جسمانی تربیت کا ماہر یا کشتی کا سینئر استاد ہو سکتا ہے جو جسمانی توازن کی نمائش کر رہا ہو۔

اگر ہم اس مہر کے آثار قدیمہ کے ریکارڈ کا مطالعہ کریں تو یہ ممکنہ طور پر کسی تجریدی مذہبی تصور کے بجائے ایک مخصوص اور سخت جسمانی تربیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس مفروضے کے تحت یہ مہر کسی استاد کی مہارت کی علامت ہو سکتی تھی، نہ کہ کسی دیوتا کی پوجا کا نشان۔

حیوانی نقوش، قدیم اسپورٹس لوگو

وادی سندھ کی مہروں پر کوہان والے زیبو سانڈ، گینڈے، ہاتھی اور شیر جیسے جانوروں کی وسیع پیمانے پر موجودگی کو تاریخی طور پر توتم پرستی یا جانوروں کی پوجا قرار دیا گیا۔ یہ تعبیر بھی ایک آسان اور سطحی نتیجہ ہو سکتی ہے۔ جدید فعالی انسان شناسی کا ایک مختلف تجزیہ اس کے زیادہ عملی، معاشی اور سماجی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ہمیں جدید دنیا کی طرف دیکھنا چاہیے، جہاں اسپورٹس فرنچائزز اور تاجروں کی تنظیمیں طاقتور جانوروں کو اپنی تجارتی یا ورزشی علامتوں کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، شکاگو بلز کا لوگو موجود ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ شکاگو کے لوگ سانڈ کی پوجا کرتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔

وادی سندھ کا یہ معاشرہ ایک انتہائی تجارتی اور منظم شہری نظام رکھتا تھا۔ زیبو سانڈ والی مہریں کسی مقدس یا قابل پرستش جانور کو ظاہر کرنے کے بجائے مخصوص تاجرانہ دھڑوں یا مقامی ورزشی تنظیموں کی نمائندگی کر سکتی تھیں۔ یہ لوگ پرخطر جسمانی مقابلوں، جیسے سانڈوں پر چھلانگ لگانے یا سانڈوں کو قابو کرنے کے کھیلوں میں مصروف ہو سکتے تھے۔

بعض علمی ذرائع اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ اشیا مذہبی تحائف کے بجائے انتظامی تصدیق، تجارت کی نگرانی اور ادارہ جاتی شناخت کے دنیوی آلات بھی ہو سکتی تھیں۔

مکانی تجزیہ، لوتھل کی گودی اور ہڑپہ کے بڑے تعمیراتی مراکز

وادی سندھ کی تہذیب کے عوامی اور ورزشی انداز کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی عظیم الشان عوامی تعمیرات کا فعالی نقطہ نظر سے تجزیہ کرنا ہوگا۔ ان عمارتوں کے حجم اور ان کے ارد گرد موجود خالی جگہوں کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

لوتھل کی گودی، آبی سرگرمیوں کا ممکنہ مرکز

آثار قدیمہ کے سروے کے مطابق لوتھل میں اینٹوں سے بنا ایک بہت بڑا ذوزنقہ نما آبی حوض ملا ہے جو تقریباً 214 میٹر لمبا اور 36 میٹر چوڑا ہے۔ اس میں جوار بھاٹے کے پانی کو قابو میں رکھنے کا ایک نظام موجود تھا۔

اگرچہ یہ بنیادی طور پر سمندری تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا، لیکن سکون اور قابو میں رکھے گئے پانی کا یہ ذخیرہ تجارتی موسم کے اختتام پر کشتی رانی اور تیراکی کی سرگرمیوں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک ایسی روایت سے مشابہت رکھتا ہے جو آج بھی جنوبی ایشیا کے ساحلی علاقوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس مفروضے کے تحت یہ عمارت ایک بندرگاہ کے ساتھ ساتھ آبی کھیلوں کے لیے بھی استعمال ہونے والا مرکز ہو سکتی تھی۔

ہڑپہ کا بڑا تعمیراتی احاطہ، عوامی سرگرمیوں کا ممکنہ میدان

ایک طویل عرصے تک ہڑپہ کی بڑی عمارتوں کو صرف اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز سمجھا جاتا رہا۔ لیکن ان کے ارد گرد کا ماحول ایک مختلف سوال اٹھاتا ہے۔

ہڑپہ میں آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران بڑی عمارتوں کے قریب اینٹوں کے چبوترے اور کھلے مقامات کی موجودگی سامنے آئی ہے۔ تاریخی طور پر زرعی معاشروں میں فصل کی کٹائی کا موسم اجتماعی جشن کی شکل اختیار کرتا رہا ہے۔

ان کھلے میدانوں کو ممکنہ طور پر اجتماعی سرگرمیوں، جسمانی مقابلوں اور مختلف سماجی تقریبات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہو گا۔ ان جگہوں پر کشتی، تیز رفتار جسمانی کھیل اور سانڈوں سے متعلق مقابلے منعقد ہونے کا امکان بھی زیر بحث آ سکتا ہے۔

حکمت عملی کی منطق، بساط کے کھیل بمقابلہ توہم پرستی

وادی سندھ کے لوگوں کی فکری ثقافت انتہائی اعلیٰ درجے کی تھی۔ یہ بات ان کی ریاضیاتی سوجھ بوجھ، شہری منصوبہ بندی اور وزن و پیمائش کے معیاری نظام سے واضح ہوتی ہے۔ لیکن ان کی مہروں پر موجود بعض پیچیدہ ہندسی ڈیزائن، جنہیں اب تک جادوئی تعویذ یا مذہبی منڈل قرار دیا جاتا رہا ہے، ایک نئی تشریح کے مستحق ہیں۔

آثار قدیمہ کی کھدائیوں سے موہن جو دڑو، ہڑپہ اور لوتھل سے مٹی اور دیگر مواد سے بنی گوٹیاں، مکعب نما پاسے اور خانے دار بساطیں ملی ہیں۔ دستیاب شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وادی سندھ کے شہری گوٹیوں اور پاسوں کی مدد سے حساب کتاب اور ریاضیاتی حکمت عملی پر مبنی کھیل کھیلتے تھے۔

کھیلوں کی یہ وسیع ثقافت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وادی سندھ کے عوام کی فکری زندگی میں منطق، امکانات اور ریاضیاتی تفریح کو بھی اہم مقام حاصل تھا۔ اس مفروضے کے تحت مہروں پر موجود بعض ہندسی ڈیزائن جادوئی تعویذ نہیں بلکہ کھیل کے میدان یا کسی بساط کے نقشے سے متعلق علامتیں بھی ہو سکتے تھے۔

ایک نئے زاویے کی ضرورت

وادی سندھ کی تہذیب کا سائنسی اور تجرباتی تجزیہ اس امکان کو سامنے لاتا ہے کہ ہڑپہ کا شہری توہم پرستی، تشویش یا ماورائے طبعی دنیا کے خوف میں مبتلا معاشرہ نہیں تھا۔

عالیشان محلوں، مندروں یا فرعونی طرز کے مقبروں کے واضح شواہد کا فقدان اس بات کی طرف اشارہ کر سکتا ہے کہ اس تہذیب نے اپنی اضافی توانائی اور وسائل کو انسانی فلاح و بہبود، اعلیٰ ترین شہری صفائی کے نظام، عوامی صحت اور اجتماعی سرگرمیوں پر خرچ کرنے کو ترجیح دی۔

ان کی مہریں ان کی جسمانی کامیابیوں کا عکس، ان کی تجارت کا قانونی ڈھانچہ اور ان کی فکری تفریح کا خاکہ بھی ہو سکتی تھیں۔

بعد کے ادوار میں اس علاقے میں آباد ہونے والے گروہوں نے اس تہذیب کی مادی، تکنیکی اور ورزشی ثقافت کو اپنے مختلف مذہبی تصورات کے تناظر میں سمجھا ہو گا۔ نتیجتاً ممکن ہے کہ ان سائنسی، سماجی اور ورزشی تصویری علامات کو مذہبی روایات اور کہانیوں میں ڈھال دیا گیا ہو۔

اب جدید آثار قدیمہ کے ماہرین اور طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وادی سندھ کی مادی ثقافت کو مختلف ممکنہ زاویوں سے دوبارہ پڑھیں اور ہر علامت کو صرف مذہبی مفروضے کے تحت دیکھنے کے بجائے اس کے دنیوی، سماجی، تجارتی اور ورزشی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیں۔

شاید ‘زندگی کا جشن’ ہی ان مہروں کی ایک ممکنہ حقیقی آواز ہو۔

نوٹ: چانہو جو دڑو کا یہ شاندار مجسمہ اس وقت پاکستان یا بھارت میں نہیں بلکہ امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں واقع میوزیم آف فائن آرٹس میں مستقل طور پر نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ چونکہ 1935 اور 1936 کی اس کھدائی کا بڑا حصہ امریکی اداروں کی مالی معاونت سے ہوا تھا، اس لیے اس وقت کے قوانین کے تحت چانہو جو دڑو سے ملنے والی نوادرات کا ایک بڑا حصہ، بشمول مشہور پینٹڈ جار اور یہ مجسمہ، بوسٹن کے میوزیم منتقل کر دیا گیا تھا۔

وادی سندھ کی تہذیب کے آثار اور مہروں کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے بعض ماہرین آثار قدیمہ کا موقف ہے کہ چانہو جو دڑو کا یہ مجسمہ محض ایک روایتی رقص کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ اس دور کے جسمانی کھیلوں، کرتب بازی اور خاص طور پر بیلوں سے لڑائی یا ان پر سے چھلانگ لگانے کے کسی خطرناک کھیل کی حرکت کو ظاہر کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں: