کراچی بار ایسوسی ایشن کا برطانیہ کے بادشاہ کو تاریخی خط، سورہیہ بادشاہ کی آخری آرام گاہ ظاہر کرنے کا مطالبہ

کراچی بار ایسوسی ایشن نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے نام ایک خط ارسال کرکے حر تحریک کے رہنما پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی، المعروف سورہیہ بادشاہ، کی تدفین کی جگہ سے متعلق برطانوی تاریخی اور سرکاری ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط برطانوی ہائی کمیشن، اسلام آباد کے ذریعے بھیجا گیا ہے اور اس پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر اور دیگر عہدیداران کے دستخط موجود ہیں۔

بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سورہیہ بادشاہ کو 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی، لیکن 83 سال گزرنے کے باوجود ان کی آخری آرام گاہ کا مقام عوامی طور پر حتمی طور پر سامنے نہیں آ سکا۔

سورہیہ بادشاہ کون تھے؟

پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی پیر پاگارا خاندان کے چھٹے پیر تھے اور حر جماعت کے روحانی و سیاسی رہنما کے طور پر برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ انہیں ان کے پیروکاروں نے سورہیہ بادشاہ یعنی بہادر بادشاہ کا لقب دیا۔

وہ کم عمری میں پیر پاگارا بنے اور وقت کے ساتھ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف حر تحریک کے اہم رہنما بن گئے۔ ان کی قیادت میں حر مزاحمت نے 1930 کی دہائی کے آخر اور 1940 کی دہائی کے آغاز میں مسلح شکل اختیار کی۔ انگریزوں کے خلاف ان کی تاریخی جدوجہد کے دوران سورہیہ بادشاہ کا نعرہ ‘وطن یا کفن’ آج بھی سندھ کی عوام میں مقبول ہے۔ برطانوی حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے سخت قوانین، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، فوجی کارروائیاں اور سندھ میں مارشل لا نافذ کیا۔

حر تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی انتظامیہ نے 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کیا، جس کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے مقدمات چلائے گئے اور ہزاروں حروں اور ان کے خاندانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا۔

سورہیہ بادشاہ کو کیوں پھانسی دی گئی؟

برطانوی حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ مارشل لا کے تحت قائم فوجی عدالت میں چلایا۔ انہیں برطانوی تاج کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت سے متعلق الزامات کا سامنا تھا اور بالآخر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

تاریخی ریکارڈز پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق برطانوی انتظامیہ کے اندر یہ سوچ موجود تھی کہ جب تک پیر زندہ ہیں، حر تحریک کو ختم کرنا مشکل ہوگا۔ بعض برطانوی انتظامی ریکارڈز میں ان کے خلاف کارروائی اور مقدمے کے حوالے سے اہم تفصیلات بھی موجود ہیں۔

1942 میں لاہور میل پر حملے اور مسافروں کی ہلاکت کے بعد برطانوی حکومت نے حر تحریک کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی۔ اسی دور میں سورہیہ بادشاہ کے خلاف مقدمہ آگے بڑھا اور بالآخر انہیں 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

اس وقت ان کی عمر تقریباً 33 سال تھی۔

تدفین کہاں ہوئی؟

یہی وہ سوال ہے جس نے 83 سال بعد بھی تاریخ دانوں اور سندھ کے عوام کو متوجہ کر رکھا ہے۔

سورہیہ بادشاہ نے اپنی زندگی میں اپنی تدفین آبائی قبرستان پیر جو گوٹھ میں ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے انہیں وہاں دفن نہیں کیا۔ تاریخی تحقیق کے مطابق برطانوی حکام کو خدشہ تھا کہ ان کی قبر ان کے پیروکاروں کے لیے مزاحمت اور عقیدت کا مرکز بن سکتی ہے۔

2008 میں سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی نے لیمبرک پیپرز پر تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ برطانوی حکام نے سورہیہ بادشاہ کو خفیہ طور پر بلوچستان کے ساحل کے قریب آسٹولا جزیرے پر دفن کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ جگہ انتہائی دور افتادہ تھی۔

بعد میں برطانوی دور کے ریکارڈز سے متعلق شائع ہونے والی تحقیقات میں بھی آسٹولا جزیرے کا ذکر سامنے آیا۔ ایک دستاویز میں 19 مارچ 1943 کے وائسرائے کے ٹیلی گرام کا حوالہ دیا گیا جس میں سورہیہ بادشاہ کو آسٹولا جزیرے پر دفن کرنے کی ہدایت کا ذکر تھا۔ تدفین کے مقام کو خفیہ رکھنے کی بات بھی اس ریکارڈ سے منسوب کی گئی ہے۔

آسٹولا جزیرے کا نام تاریخی تحقیق اور برطانوی ریکارڈز سے منسوب حوالوں میں ضرور آتا ہے، مگر آج تک ایسا عوامی طور پر تسلیم شدہ اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ قبر کا مقام سامنے نہیں آیا جسے حتمی طور پر سورہیہ بادشاہ کی قبر قرار دیا جا سکے۔

اسی وجہ سے کراچی بار ایسوسی ایشن اب براہ راست برطانوی حکومت سے اصل ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یہ معاملہ کئی دہائیوں تک مختلف قیاس آرائیوں کا موضوع بھی رہا ہے۔ بعض محققین نے آسٹولا جزیرے، بعض نے مکران کے دوسرے ساحلی مقامات اور بعض نے کراچی میں ایک مقام کو ممکنہ مدفن قرار دیا، لیکن ان دعووں میں سے کسی کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔

برطانوی ریکارڈ کیوں اہم ہیں؟

سورہیہ بادشاہ کے مقدمے، گرفتاری، پھانسی اور تدفین سے متعلق برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

2008 میں لیمبرک پیپرز کا بڑا ریکارڈ، جو برٹش لائبریری کے انڈیا آفس ریکارڈز میں محفوظ تھا، تحقیق کے لیے دستیاب ہوا۔ ان ریکارڈز میں 1893 سے 1947 تک حر تحریک سے متعلق تفصیلات موجود تھیں اور انہوں نے سورہیہ بادشاہ کے مقدمے اور برطانوی انتظامیہ کے فیصلوں پر نئی بحث کو جنم دیا۔

اسی لیے کراچی بار کا مطالبہ محض قبر تلاش کرنے کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ ایک تاریخی ریکارڈ کی فراہمی کا مطالبہ بھی ہے۔

اگر برطانوی آرکائیوز میں پھانسی، لاش کی منتقلی، تدفین، قبر کے مقام یا اس مقام کو خفیہ رکھنے کے احکامات سے متعلق اصل دستاویزات موجود ہیں تو ان کا سامنے آنا حر تحریک کی تاریخ کے ایک اہم اور ابھی تک غیر واضح باب کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دنیا میں اس نوعیت کی ایک مثال

سورہیہ بادشاہ کا معاملہ منفرد ضرور ہے، لیکن نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک اور معروف آزادی پسند رہنما کی قبر بھی کئی دہائیوں تک نامعلوم رہی۔

کینیا کے ماؤ ماؤ آزادی پسند رہنما ڈیڈن کیماتھی کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے 18 فروری 1957 کو کامیتی جیل میں پھانسی دی۔ انہیں ایک غیر نشان زدہ قبر میں دفن کیا گیا اور ان کی درست قبر کا مقام کئی دہائیوں تک معلوم نہیں ہو سکا۔

ان کے خاندان، ماؤ ماؤ کے سابق جنگجوؤں اور حامیوں نے کئی برس تک قبر تلاش کرنے کی کوششیں کیں، لیکن طویل عرصے تک کوئی حتمی مقام سامنے نہیں آیا۔

یہ مثال سورہیہ بادشاہ کے معاملے سے اس لحاظ سے ملتی ہے کہ دونوں نوآبادیاتی مزاحمت کے نمایاں رہنما تھے، دونوں کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی اور دونوں کی تدفین کو طویل عرصے تک غیر واضح یا غیر نشان زدہ رکھا گیا۔

یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نوآبادیاتی دور میں مزاحمتی رہنماؤں کی تدفین کو غیر نمایاں رکھنا بعض صورتوں میں اس خوف سے بھی جڑا ہوا تھا کہ ان کی قبریں بعد میں مزاحمت، عقیدت یا سیاسی اجتماع کا مرکز بن سکتی تھیں۔

کراچی بار کا مطالبہ کتنا اہم ہے؟

کراچی بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سورہیہ بادشاہ سندھ کی برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا ایک مرکزی کردار ہیں۔ ان کی پھانسی اور اس کے بعد لاش کی تدفین سے متعلق مکمل ریکارڈ سامنے آنا تاریخ کے ایک اہم خلا کو پُر کر سکتا ہے۔

اس تاریخی مطالبے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اگر برطانوی سرکاری اداروں کے پاس تدفین سے متعلق اصل احکامات، ٹیلی گرام، فوجی مراسلات، جیل ریکارڈ یا دیگر دستاویزات موجود ہیں تو ان تک عوامی اور تحقیقی رسائی تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔

اس کے علاوہ ایک ایسے شخص کی آخری آرام گاہ جسے اس کے پیروکار آج بھی شہید اور آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھتے ہیں، 83 سال بعد بھی غیر یقینی کا شکار ہو، تو اس مقام کی دستاویزی وضاحت صرف ایک تاریخی سوال نہیں رہتی بلکہ اجتماعی یادداشت اور تاریخی انصاف کا معاملہ بھی بن جاتی ہے۔

تاہم اس مطالبے کی اصل اہمیت اسی وقت سامنے آئے گی جب برطانوی حکومت اپنے آرکائیوز میں موجود متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر واضح جواب دے۔

سورہیہ بادشاہ کی قبر کہاں ہے، یہ سوال 83 سال سے سندھ کی تاریخ میں موجود ہے۔ آسٹولا جزیرے سے متعلق برطانوی ریکارڈز اور محققین کے دعوے اس سوال کو ایک ممکنہ سمت ضرور دیتے ہیں، لیکن حتمی اور قابلِ تصدیق جواب اب بھی سامنے آنا باقی ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کا شاہ چارلس سوم کے نام خط اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک پرانے تاریخی سوال کو دوبارہ برطانوی ریاست کے ریکارڈ اور ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

اگر متعلقہ برطانوی ریکارڈ عوام کے سامنے آتے ہیں تو ممکن ہے 83 سال پرانا یہ راز بالآخر حل ہو جائے کہ سورہیہ بادشاہ کو کہاں دفن کیا گیا، ان کی لاش کس راستے سے منتقل ہوئی اور کس حکم کے تحت ان کی آخری آرام گاہ کو راز رکھا گیا۔