سائیں سردار شاہ کبھی اسکول میں طلبہ کے ساتھ ڈیسک پر بیٹھ کر ان کا حال احوال دریافت کر رہے ہیں، تو کبھی بچوں کے ہجوم میں ان کے اعتماد کو بحال کر رہے ہیں تاکہ بچے اپنے احوال اور تعلیمی منصوبے خود پیش کر سکیں۔

کبھی اسمبلی اور عوامی اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ "آؤ اسکولوں کی مالکیت (سرپرستی) کرو۔”
کبھی اسکولوں کا مخصوص بجٹ نچلی سطح تک لانے کے منصوبے پر غور و خوض کر رہے ہیں۔
تبادلوں کا برقی نظام (Online Transfer System) متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کا بھی ڈیجیٹل نظام لا کر تعلیمی اصلاح اور ترقی کی ایک تحرک (لہر) پیدا کر چکے ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے مکمل طور پر نافذ ہونے سے بہت سی چیزیں آسان ہو جائیں گی۔
آزمائشی بنیادوں پر قائم اس نئے ڈیجیٹل نظام میں کچھ خامیاں اور کوتاہیاں آ سکتی ہیں، لیکن ان کی نشاندہی ہونے پر وہ فوری سدھار کا نوٹس لیتے ہیں۔
اس تحرک کو تحاریک میں بدلنے کے لیے معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر مثبت سوچ کے ساتھ اس تحرک کا ساتھ دینا ہوگا۔

سائیں سردار شاہ میرے اور میرے دوستوں کے لیے ذاتی طور پر بھی اور علمی و ادبی لحاظ سے بھی مہربان محسن ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ سائیں سردار شاہ کی یہ کاوشیں بذاتِ خود داد و تحسین کی مستحق ہیں۔
ان تمام سرگرمیوں کو دیکھ کر، سائیں سردار شاہ کے ساتھ جڑے اپنائیت کے تعلق میں، صوفی صادق فقیر کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:
"اھڙا ئي آھن صادق منھنجا سپرين”
(اے صادق! میرے محبوب واقعی ایسے ہی ہیں)

