Tag: اسکول

  • محکمہ تعلیم سندھ کے اسکول اسپیسیفک بجٹ سے قاسم آباد کے سرکاری گرلز ہائی اسکول میں تزئین و آرائش، اب یہ سرکاری کیسا نظر آتا ہے؟

    محکمہ تعلیم سندھ کے اسکول اسپیسیفک بجٹ سے قاسم آباد کے سرکاری گرلز ہائی اسکول میں تزئین و آرائش، اب یہ سرکاری کیسا نظر آتا ہے؟

    حیدرآباد کی تحصیل قاسم آباد میں پوسٹ آفس کے قریب واقع گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں ان دنوں تزئین و آرائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا کام جاری ہے۔

    اسکول کی عمارت کے بیرونی حصوں، کلاس رومز اور دالانوں میں مزدور رنگ و روغن کر رہے ہیں، جبکہ اسکول کی ضروری مرمت کا کام بھی کیا جا رہا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے حال ہی میں اسکول اسپیسفک بجٹ جاری کیا گیا ہے۔ اسی بجٹ کے تحت قاسم آباد کے اس گرلز ہائی اسکول میں بھی مختلف بنیادی کام کیے جا رہے ہیں۔

    اسکول میں پرانے اور خراب فرنیچر کی مرمت، واش رومز میں پانی کی فراہمی کا انتظام، خراب نلکوں کی تبدیلی اور پرانے دروازوں اور کھڑکیوں کو تبدیل کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کلاس رومز، دالانوں اور عمارت کے بیرونی حصوں کو بھی رنگ و روغن کیا جا رہا ہے۔

    اسکول کی لائبریری اور کمپیوٹر لیب میں بھی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ طالبات کے لیے ٹیبلٹس بھی رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے مختلف ایپلی کیشنز کی مدد سے مختلف مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔

    ڈیجیٹل ذرائع کی اس سہولت کے باعث طالبات کو روایتی تدریسی طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

    تقریباً 750 طالبات والے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول قاسم آباد میں اسکول اسپیسفک بجٹ کے تحت میدان میں نئی بینچیں بھی نصب کی گئی ہیں، جہاں طالبات وقفے کے دوران بیٹھ سکتی ہیں۔

    اسکول کی اسسٹنٹ ہیڈمسٹریس شوکت آرا کے مطابق اسکول اسپیسفک بجٹ کے اجرا کے بعد سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور تعلیمی ماحول مزید بہتر ہوگا اور سرکاری اسکولوں کی مجموعی کارکردگی نجی اسکولوں سے بھی بہتر ہو جائے گی۔

  • سائیں سردار شاہ: تعلیمی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی ایک تحریک

    سائیں سردار شاہ: تعلیمی اصلاحات اور عوامی اعتماد کی ایک تحریک

    سائیں سردار شاہ کبھی اسکول میں طلبہ کے ساتھ ڈیسک پر بیٹھ کر ان کا حال احوال دریافت کر رہے ہیں، تو کبھی بچوں کے ہجوم میں ان کے اعتماد کو بحال کر رہے ہیں تاکہ بچے اپنے احوال اور تعلیمی منصوبے خود پیش کر سکیں۔

    کبھی اسمبلی اور عوامی اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ "آؤ اسکولوں کی مالکیت (سرپرستی) کرو۔”

    کبھی اسکولوں کا مخصوص بجٹ نچلی سطح تک لانے کے منصوبے پر غور و خوض کر رہے ہیں۔

    تبادلوں کا برقی نظام (Online Transfer System) متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور طلبہ کی حاضری کا بھی ڈیجیٹل نظام لا کر تعلیمی اصلاح اور ترقی کی ایک تحرک (لہر) پیدا کر چکے ہیں۔ اساتذہ اور طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے مکمل طور پر نافذ ہونے سے بہت سی چیزیں آسان ہو جائیں گی۔

    آزمائشی بنیادوں پر قائم اس نئے ڈیجیٹل نظام میں کچھ خامیاں اور کوتاہیاں آ سکتی ہیں، لیکن ان کی نشاندہی ہونے پر وہ فوری سدھار کا نوٹس لیتے ہیں۔

    اس تحرک کو تحاریک میں بدلنے کے لیے معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر مثبت سوچ کے ساتھ اس تحرک کا ساتھ دینا ہوگا۔

    سائیں سردار شاہ میرے اور میرے دوستوں کے لیے ذاتی طور پر بھی اور علمی و ادبی لحاظ سے بھی مہربان محسن ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ سائیں سردار شاہ کی یہ کاوشیں بذاتِ خود داد و تحسین کی مستحق ہیں۔

    ان تمام سرگرمیوں کو دیکھ کر، سائیں سردار شاہ کے ساتھ جڑے اپنائیت کے تعلق میں، صوفی صادق فقیر کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ:

    "اھڙا ئي آھن صادق منھنجا سپرين”

    (اے صادق! میرے محبوب واقعی ایسے ہی ہیں)

  • پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں تعلیم کا بحران برقرار، ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے اسکول نہیں جا رہے: رپورٹ

    پاکستان میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ملک میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔

    ایک نئی پالیسی جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم کے شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ نئی پالیسیاں بنانا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمزور طرز حکمرانی، ناکافی مالی وسائل، ناقص انتظامی ڈھانچہ، درست اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور صوبوں کے درمیان نمایاں تفاوت نے لاکھوں بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا ہوا ہے۔

    یہ جامع تقابلی جائزہ رپورٹ سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے تیار کی ہے، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے تعلیمی نظام کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت پانچ سے 16 سال تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے، جبکہ وفاق اور تمام صوبوں نے نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان 2026 کے تحت مختلف منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔

    اس کے باوجود عملی نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں بچے آج بھی اسکولوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔ اگر حکمرانی، احتساب اور مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو قومی تعلیمی ایمرجنسی صرف ایک علامتی اعلان بن کر رہ جائے گی۔

    رپورٹ میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بحران کئی دہائیوں سے جاری غفلت کا نتیجہ ہے۔

    تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، غربت، کمزور سرکاری ادارے اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے سال کے ساتھ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریاستی تعلیمی نظام آبادی میں اضافے کے مطابق ترقی نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں نجی اسکولوں کا دائرہ تو وسیع ہوا، مگر غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کی تعلیمی محرومی برقرار رہی۔

    رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صوبے میں ایسے بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ چار لاکھ کے درمیان ہے۔

    پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار بچے داخلہ لینے کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف داخلہ دلانا کافی نہیں بلکہ بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

    پنجاب میں اگرچہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام، انتظامی اصلاحات اور سرکاری و نجی شراکت داری کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، لیکن شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق اب بھی نمایاں ہے۔

    دیہی پنجاب میں 24 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 14 فیصد ہے۔

    جنوبی پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ خطہ قرار دیا گیا ہے، جہاں راجن پور میں 48 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 46 فیصد اور مظفر گڑھ میں 45 فیصد بچے اسکول نہیں جا رہے۔

    رپورٹ کے مطابق صوبے کو مڈل اور سیکنڈری سطح پر کم از کم 35 ہزار نئے کلاس رومز کی ضرورت ہے، جبکہ غربت، گھریلو مالی مشکلات اور چائلڈ لیبر بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی اہم وجوہات ہیں۔

    رپورٹ میں سندھ کی صورتحال کو دیگر صوبوں سے مختلف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق سندھ میں بنیادی مسئلہ بچوں کا ابتدائی داخلہ نہیں بلکہ پرائمری تعلیم کے بعد ان کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھنا ہے۔

    صوبے میں تقریباً 74 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں 41 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں۔ یہ تعداد سندھ کی اسکول جانے کی عمر کی آبادی کا تقریباً 44 فیصد بنتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 36 ہزار سے زائد پرائمری اسکول موجود ہیں، لیکن مڈل اسکولوں کی تعداد صرف 2 ہزار 634 اور سیکنڈری اسکولوں کی تعداد ایک ہزار 674 ہے۔ اسی وجہ سے پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد تقریباً 54 فیصد بچے مزید تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 اور 2024 کے سیلاب نے بھی ہزاروں سرکاری اسکولوں کو نقصان پہنچایا، جس سے پہلے سے موجود تعلیمی مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ اس کے علاوہ غربت، چائلڈ لیبر، جاگیردارانہ نظام اور صنفی امتیاز بھی خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    خیبر پختونخوا میں تقریباً 49 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو ملک بھر کے ایسے بچوں کا تقریباً 19 فیصد بنتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دشوار گزار پہاڑی علاقے، سکیورٹی مسائل، انتظامی پیچیدگیاں اور بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں خواتین اساتذہ کی شدید کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بالائی کوہستان، تورغر اور باجوڑ جیسے اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں اور خواتین اساتذہ کی کمی کے باعث والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانے سے گریز کرتے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں سماجی روایات بھی لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

    بلوچستان کو رپورٹ میں تعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ صوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ 2023 میں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 69 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی، تاہم صوبے میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی اب بھی برقرار ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے کئی علاقوں میں بچوں کو پرائمری اسکول تک پہنچنے کے لیے اوسطاً 30 کلومیٹر جبکہ سیکنڈری اسکول تک جانے کے لیے 360 کلومیٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث باقاعدگی سے تعلیم حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے 15 ہزار 270 اسکولوں میں سے 3 ہزار 617 غیر فعال یا گھوسٹ اسکول ہیں۔ فعال اسکولوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔

    تقریباً 79 فیصد اسکولوں میں بجلی نہیں، 56 فیصد میں بیت الخلا موجود نہیں اور 49 فیصد میں چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبے میں اسکول سے باہر بچوں میں 78 فیصد لڑکیاں ہیں، جو صنفی عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے۔

    رپورٹ میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں شہری علاقوں میں داخلے کی شرح 85 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ کم ہو کر 62 فیصد رہ جاتی ہے، جبکہ دارالحکومت کی 60 سے زیادہ غیر رسمی آبادیوں کو سرکاری تعلیمی منصوبہ بندی میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

    گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں 42 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ آزاد کشمیر میں تقریباً نصف بچے پرائمری تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں ماؤں کی ناخواندگی اور دور افتادہ جغرافیائی حالات اہم رکاوٹیں ہیں۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ تمام صوبوں میں ایک مشترکہ مسئلہ تعلیم پر کم سرکاری سرمایہ کاری ہے۔ سندھ اپنے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 90 فیصد حصہ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات پر خرچ کرتا ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 81 فیصد ہے۔

    دوسری جانب پنجاب نے اسکولوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور شراکت داری پر مبنی تعلیمی منصوبوں کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔

    تاہم مجموعی طور پر پاکستان میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات عالمی معیار سے کہیں کم ہیں، جس کی وجہ سے آبادی میں اضافے اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم نہیں ہو پا رہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اب مسئلہ تشخیص کا نہیں بلکہ ان حل پر عمل درآمد کا ہے جن کی نشاندہی برسوں پہلے ہو چکی ہے۔

    اس مقصد کے لیے سفارش کی گئی ہے کہ نادرا کے ب فارم سے منسلک ایک متحدہ قومی طلبہ رجسٹری قائم کی جائے تاکہ ملک بھر میں داخلوں، حاضری اور تعلیم چھوڑنے والے بچوں کا حقیقی وقت میں ریکارڈ رکھا جا سکے۔

    رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد قومی ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں بچے سرکاری نظام کی نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں اور صوبے پرانے مردم شماری کے اعداد و شمار یا نامکمل ریکارڈ پر انحصار کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو آپس میں مربوط کیا جائے، تیز رفتار تعلیمی پروگراموں کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ تعلیم سے محروم بچے دوبارہ اسکولوں میں داخل ہو سکیں، جبکہ گنجان آباد علاقوں میں دو شفٹوں میں اسکول چلانے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔

    اس کے علاوہ ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں کا نیا سروے کرانے، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو عام تعلیمی نظام میں شامل کرنے اور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوانوں کو کم از کم پانچ بچوں کو دوبارہ اسکول لانے کی قومی مہم میں شریک کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اگر ان سفارشات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جائے تو لاکھوں بچوں کو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم رہنے سے بچایا جا سکتا ہے۔

  • سندھ حکومت کا امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ کی اسکولوں میں غذائی پروگرام کا آغاز

    سندھ حکومت کا امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ کی اسکولوں میں غذائی پروگرام کا آغاز

    سندھ حکومت نے امریکی محکمہ زراعت کے اشتراک سے سندھ اسکول میلز پروگرام شروع کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ امریکہ McGovern-Dole پروگرام کے تحت 80 ملین ڈالر کی معاونت فراہم کرے گا۔

    اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جانب سے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی نمائندگی میں مفاہمتی یادداشت نامہ پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔

    سندھ اسکول میلز انیشی ایٹو کے معاہدے کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی، جہاں مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔

    اس موقع پر امریکی قونصل جنرل چارلس گڈمین نے امریکی حکومت کی نمائندگی کی۔سیو دی چلڈرن پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر محمد خرم گوندل اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اُشیاما بھی موقع پر موجود تھے۔

    یہ یادداشت نامہ سندھ حکومت، امریکی محکمہ زراعت، ورلڈ فوڈ پروگرام اور سیو دی چلڈرن کے مابین طے پایا۔ پروگرام کے تحت سندھ بھر کے تقریباً 1300 پرائمری اسکولوں کے 2 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔

    طلبہ کو روزانہ پکا ہوا کھانا اور ٹیک ہوم راشن فراہم کیا جائے گا۔منصوبہ Save the Children اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ غذائی قلت سے نمٹنے اور تعلیمی حاضری بڑھانے کے لیے ایک بڑا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں میں غذائی قلت نمایاں نظر آتی ہے، جو سیکھنے کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔

    وزیر تعلیم سندھ نے مزید کہا کہ آج ہم سندھ میں تعلیم اور غذائیت کے ذریعے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکول میلز پروگرام کی مدد سے اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ اسکول لانے میں مدد ملے گی۔ پروگرام کے تحت اساتذہ، ہیڈ ٹیچرز اور اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کو فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں واٹر، سینیٹیشن اور ہائیجین سہولیات کی بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ امریکی گندم، دالیں اور کوکنگ آئل اسکول میلز پروگرام کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔

    اس پروگرام میں مقامی کسانوں سے پھل اور سبزیاں خرید کرنا بھی شامل ہے، جس سے صوبائی معیشت کو سہارا ملے گا۔محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے سیکریٹری کی جانب سے ایم او یو پر دستخط کیے گئے۔

    منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے۔McGovern-Dole پروگرام کم آمدنی والے ممالک میں تعلیم، غذائیت اور فوڈ سکیورٹی کو فروغ دیتا ہے۔

    اس پروگرام کا مقصد بھوک میں کمی اور بالخصوص بچیوں کی پرائمری تعلیم میں بہتری لانا ہے۔

  • نوشہروفیروز: اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں کی مسجد میں اسکول چلانے والی ماہنور، ‘اگر سرکار اسکول کی عمارت دے تو بچے پڑھ جائیں گے’

    نوشہروفیروز: اپنی مدد آپ کے تحت گاؤں کی مسجد میں اسکول چلانے والی ماہنور، ‘اگر سرکار اسکول کی عمارت دے تو بچے پڑھ جائیں گے’

    نوجوان سماجی رہنما اور عالمی کورونا وبا کے لاک ڈاؤن کے دوران سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں واقع اپنے گاؤں کے بچوں کو اپنی مدد آپ کے تحت پڑھانے والی ماہنور شیخ نے نزدیکی گاؤں میں ایک اسکول کھول لیا ہے۔

    ماہنور شیخ نے سندھ یونیورسٹی جامشورو کے شعبہ ایجوکیشن سے 2022 میں گریجویشن مکمل کی۔

    سندھ یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران عالمی وبا کووڈ 19 کے باعث دنیا بھر میں نافذ لاک ڈاؤن کے سبب یونیورسٹی بند ہو گئی اور وہ اپنے گاؤں آ گئیں۔

    بقول ماہنور شیخ، گاؤں محمد بچل مہر کے قریب ایک بڑا قبرستان ہے، جہاں گاؤں کے بچے دن بھر فاتحہ خوانی کے لیے آنے والے لوگوں کا انتظار کرتے تاکہ وہ لوگ بچوں کو کچھ رقم بطور خرچی دیں۔

    انہوں نے کہا، یہ دیکھ کر مجھے دکھ ہوا کہ بچے تعلیم کے بجائے بھیک مانگ رہے ہیں۔ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے گاؤں میں اسکول کھولا تاکہ بچے پڑھ سکیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ماہنور شیخ نے بتایا کہ گاؤں محمد بچل مہر میں تقریباً سات سال تک اسکول چلانے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ برابر والے گاؤں گل بہار سولنگی میں بھی بچے قبرستان میں بھیک مانگ رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا، یہ انتہائی افسوس ناک تھا کہ بچے اسکول کے بجائے قبرستان میں بیٹھے رہتے ہیں۔ اس گاؤں میں کوئی سرکاری اسکول نہیں، اس لیے میں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا۔

    ماہنور شیخ کے مطابق گاؤں میں کوئی ایسی جگہ موجود نہیں تھی جہاں بیٹھ کر بچوں کو تعلیم دی جا سکے، اس لیے انہوں نے مقامی مسجد میں اسکول چلانے کا فیصلہ کیا۔

    فنڈز کی کمی کے باعث وہ بچوں کو پڑھانے کے لیے اساتذہ نہیں رکھ سکتی تھیں، اس لیے انہوں نے چند لڑکیوں کی تربیت کی اور اب بڑی لڑکیاں چھوٹے بچوں کو مختلف مضامین پڑھا رہی ہیں۔

    ماہنور شیخ نے کہا، سرکاری اسکول نہ ہونے کے باعث بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔ اگر سندھ حکومت اس گاؤں میں سرکاری اسکول دے تو آس پاس کے کئی گاؤں کے بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا، ایک غیر سرکاری تنظیم اسکول کی عمارت بنانے کے لیے تیار ہے، مگر شرط یہ ہے کہ محکمہ تعلیم ہمارے گاؤں کے اسکول کو سرکاری نظام میں باقاعدہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسکول ای ایم آئی ایس کوڈ جاری کرے۔ مجھے امید ہے کہ سندھ حکومت جلد ہمارے گاؤں کے اسکول کے لیے ای ایم آئی ایس کوڈ جاری کرے گی۔