کراچی کی تجارتی، شہری اور ثقافتی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اس عظیم ساحلی شہر کا کونہ کونہ کسی نہ کسی تاریخی موڑ کا گواہ نظر آتا ہے۔
اسی تاریخ کا ایک روشن، معتبر اور مذہبی ہم آہنگی سے درخشاں باب لیاری ندی کے پرانے راستے سے متصل، نیپیئر کوارٹرز اور لی مارکیٹ کے قریب پٹی پر واقع ہے۔ یہ پرانا حاجی کیمپ محض ایک جغرافیائی خطہ یا عمارت نہیں تھا، بلکہ سندھ کے بندرگاہی شہر کراچی میں برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذباتی لگاؤ، آنسوؤں، دعاؤں اور حج بیت اللہ کے لیے مقدس سفر کی تڑپ کا ایک بڑا مرکزی نقطہ تھا۔
اس مقام نے نہ صرف برطانوی راج کے دوران بلکہ قیام پاکستان کے بعد بھی ایک درخشندہ باب رقم کیا، لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی ورثہ آج تجارتی شور شرابے، لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے گوداموں تلے کہیں گم ہو چکا ہے۔
حاجی کیمپ کا قیام اور برطانوی عہد کا پس منظر
انیسویں صدی کے آخری عشروں اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب ہوائی سفر کا کوئی وجود نہ تھا، برصغیر کے مسلمانوں، خصوصاً سندھ، پنجاب، بلوچستان اور سرحد پار افغانستان و وسطی ایشیا کے زائرین کے لیے حج بیت اللہ کی ادائیگی کا سب سے محفوظ، سستا اور بڑا ذریعہ بحری راستے کا سفر تھا۔
برطانوی سرکار نے اس دور میں کراچی کو ایک اہم اور باقاعدہ بحری حج بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے لی مارکیٹ اور گھاس منڈی روڈ کے سنگم کے قریب ایک وسیع و عریض اراضی پر باقاعدہ حاجی کیمپ قائم کیا گیا۔
ملک بھر اور بیرون ملک سے قافلوں کی صورت میں آنے والے عازمین حج، کیماڑی بندرگاہ سے بحری جہازوں پر سوار ہونے سے پہلے کئی کئی دن بلکہ ہفتوں اسی کیمپ میں قیام کرتے تھے۔
یہ کیمپ محض ایک سرائے یا مسافر خانہ نہ تھا، بلکہ ایک پورا عارضی شہر بن جاتا تھا۔ یہاں زائرین کے پاسپورٹ کی چھان بین، ویزا کے اندراج اور طبی معائنے کے تمام مراحل انگریز انتظامیہ کے تحت انجام دیے جاتے تھے۔
چوں کہ اس دور میں حج کا سفر مہینوں پر محیط ہوتا تھا، اس لیے زائرین اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان، بستر اور ضروری اشیا لاتے تھے، جس سے اس کیمپ میں ہر زبان، پشتو، پنجابی، بلوچی، سندھی وغیرہ، اور ہر نسل کے لوگ ایک ہی مقدس جذبے کے تحت اکٹھے نظر آتے تھے۔

نصروانجی خاندان، پارسی بصیرت اور لال اینٹوں کی تعمیر
پرانے حاجی کیمپ کی تاریخ اس خطے کی مشہور پارسی برادری کی فلاحی روایات اور ان کی تجارتی جائیدادوں سے بھی گہرے طریقے سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ کیمپ جس علاقے میں واقع تھا، وہاں کراچی کے معزز پارسی خاندان نصروانجی کے بڑے تجارتی اور صنعتی اثاثے موجود تھے۔
کیمپ سے کچھ آگے نصروانجی خاندان کی اینٹوں اور مٹی کی ٹائلوں کی بڑی فیکٹری اور گودام واقع تھے۔ یہ جائیدادیں نارتھ ویسٹرن ریلوے لائن کے نزدیک واقع تھیں تاکہ اینٹوں اور دیگر تعمیری مواد کو ملک کے مختلف حصوں میں آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔
تجارتی اور تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جب حاجی کیمپ میں زائرین کے لیے باقاعدہ بیرکیں، رہائشی کمرے اور دفاتر تعمیر کیے جا رہے تھے تو ان کی پائیدار بنیادوں اور دیواروں میں نصروانجی فیکٹری کی تیار کردہ مشہور پائیدار لال اینٹیں اور مٹی کے بلاکس بکثرت استعمال کیے گئے تھے۔
جدید کراچی کے معمار اور کراچی میونسپلٹی کے پہلے میئر جمشید نصروانجی مہتا تمام انسانیت، مذاہب اور عقائد کے بے لوث احترام کی ایک مجسم تصویر تھے۔ انہوں نے بطور میئر اور ایک مخیر شخصیت کے، حاجی کیمپ میں آنے والے مسلمانوں کی خدمت کو اپنا انسانی فریضہ سمجھا اور کئی انقلابی اقدامات کیے۔
پینے کے میٹھے پانی کا انتظام
حج کے ایام میں جب ہزاروں عازمین ایک ساتھ جمع ہوتے تو پورے علاقے میں پینے کے پانی کا شدید بحران پیدا ہو جاتا تھا۔ جمشید نصروانجی نے کراچی میونسپلٹی کے واٹر ٹینکرز، عارضی کھلے نلوں اور نئی پائپ لائنوں کے ذریعے حاجی کیمپ میں 24 گھنٹے میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
طبی کیمپس اور صفائی کے اقدامات
اس دور میں ہیضہ، ملیریا اور چیچک جیسی وبائی بیماریاں سفر حج کے لیے بڑا خطرہ ہوتی تھیں۔ نصروانجی نے میونسپلٹی کے عملے کو پابند کیا کہ حاجی کیمپ میں روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور صفائی کے اعلیٰ ترین معائنے ہوں۔
انہوں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے موبائل ڈسپنسریاں اور طبی کیمپس قائم کروائے، جہاں زائرین کا مکمل طبی معائنہ اور مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی تھی۔
تقسیم کے بعد کا دور
سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد
1947 میں تقسیم ہند اور پاکستان کے قیام کے بعد اس پرانے حاجی کیمپ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔ اب یہ اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کا سب سے بڑا اور واحد مرکزی حج بندرگاہ بن چکا تھا۔ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں جب حج پر جانے والے پاکستانیوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی تو یہی پرانا حاجی کیمپ رونق کا مرکز بنا رہتا تھا۔
اس دور میں کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے سفینۂ عرب، سفینۂ حجاج اور سفینہ عابد جیسے تاریخی بحری جہازوں کے نام ہر پاکستانی کے دل پر نقش تھے۔
زائرین اپنے پیاروں کے ساتھ حاجی کیمپ پہنچتے، جہاں سے بسوں اور خصوصی گاڑیوں کے ذریعے انہیں کیماڑی کی گوپال داس گودی تک لے جایا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے طویل اور مبارک بحری سفر کا آغاز کر سکیں۔

علاقے کی گنجائش، منتقلی اور نیا حاجی کیمپ
وقت گزرنے کے ساتھ جہاں کراچی کی آبادی اور ٹریفک میں بے تحاشا اضافہ ہوا، وہیں عازمین حج کی تعداد بھی لاکھوں تک جا پہنچی۔ لی مارکیٹ، گھاس منڈی روڈ اور نیپیئر کوارٹرز کی تنگ گلیاں اور سڑکیں اس قدر لاجسٹکس اور انسانی اژدہام کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہونے لگیں۔
کیمپ کے اطراف میں مال بردار گاڑیوں اور مسافروں کے بے پناہ رش کے باعث شہر کا تجارتی نظام متاثر ہونے لگا۔
حکومت نے ان مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے حاجی کیمپ کو اس پرانے اور گنجان علاقے سے منتقل کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ چنانچہ موجودہ امریکی سفارت خانے، سلطان آباد، موجودہ ایم ٹی خان روڈ کے قریب سمندر کے وسیع اور کشادہ ساحلی منظرنامے پر ایک بڑا اور جدید نیا حاجی کیمپ قائم کیا گیا، جہاں عازمین حج کو ہوائی اور بحری دونوں قسم کی جدید ترین سہولیات فراہم کی جانے لگیں۔
پرانا حاجی کیمپ، لکڑی بازار کے شور میں گم ایک خاموش گواہ
آج اگر کوئی شخص نیپیئر کوارٹرز کے اس پرانے حصے یا لی مارکیٹ سے گھاس منڈی کی طرف جائے تو اسے پرانے حاجی کیمپ کی وہ روحانی رونقیں، لال اینٹوں کی بیرکیں اور عازمین کی رقت آمیز دعائیں نظر نہیں آئیں گی۔
حاجی کیمپ کی منتقلی کے بعد یہ پورا علاقہ تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کے بڑے لکڑی بازار اور لنڈا بازار کے بھاری بھاری گوداموں میں تبدیل ہو گیا۔
آج وہاں لکڑی کٹنے کی مشینیں، لکڑی کے تختوں اور لنڈا بازار کے سامان سے لدے ہوئے ٹرک اور مزدوروں کا شور تو سنائی دیتا ہے، لیکن تاریخ کا طالب علم جب وہاں سے گزرتا ہے تو اسے اس مٹی میں سے عقیدت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کی مہک آتی ہے۔
کراچی کے نقشوں اور معمر شہریوں کے ذہنوں میں یہ علاقہ آج بھی پرانا حاجی کیمپ کے نام سے ہی زندہ ہے، ایک ایسا نام جو کراچی کے عظیم الشان ماضی، اس کی مذہبی ہم آہنگی اور نصروانجی خاندان کی لازوال خدمات کا ایک خاموش لیکن زندہ گواہ ہے۔

