12 اگست 1947: پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس کے تیسرے روز کی کارروائی کے دوران کیا فیصلے ہوئے؟

اجلاس

آئین ساز اسمبلی کے تیسرے دن کا اجلاس 12 اگست 1947 بروز منگل صبح 10 بجے اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح کی صدارت میں موجودہ سندھ اسمبلی چیمبر میں شروع ہوا۔

آئین ساز اسمبلی کا جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو سب سے پہلے لیاقت علی خان نے ایک تجویز پیش کی کہ اس ایوان کے 16 ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو عام شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تعین کرکے اس ایوان میں رپورٹ پیش کرے۔ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں ان حقوق کو پاکستان کے آئین میں شامل کیا جائے۔

ایوان نے یہ تجویز متفقہ طور پر منظور کرلی۔ اس کمیٹی میں درج ذیل ارکان شامل کیے گئے۔ قائداعظم محمد علی جناح، نوابزادہ محمد لیاقت علی خان، سردار عبدالرب خان نشتر، ڈاکٹر محمود حسین، بھیم سین سچار، مسٹر محمد ایوب کھوڑو، شیخ کرامت علی، پروفیسر راج کمار چکروَرتی، مسٹر غضنفر علی خان، مسٹر پریم ہری برما، مسٹر فضل الرحمن، بیگم شاہنواز جہاں آرا، برات چندر منڈل، اشتیاق حسین قریشی، عبدالقاسم خان اور جوگندر ناتھ منڈل۔

اس کے بعد لیاقت علی خان نے ایک دوسری قرارداد پیش کی: ‘یہ اسمبلی یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ پاکستان آئین ساز اسمبلی کے صدر اور پاکستان کے گورنر جنرل مسٹر محمد علی جناح کو آئندہ 15 اگست 1947 سے تمام سرکاری خط و کتابت، دستاویزات، خطوط اور پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین میں ‘قائداعظم محمد علی جناح، گورنر جنرل پاکستان’ لکھا اور پکارا جائے۔’

مذکورہ قرارداد پیش کرنے کے بعد لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے سب سے بڑے عظیم رہنما ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ بحیثیت اس عظیم قوم کے ایک عظیم رہنما کے آپ کو مخاطب کرنے کے لیے کوئی خطاب مختص ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں میری اس قرارداد کی کوئی بھی مخالفت نہیں کرے گا۔

اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے جب مذکورہ قرارداد ایوان میں ووٹنگ کے لیے پیش کی تو اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک رکن بھوپندر کمار دتا اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ کیوں کہ یہ میرا جمہوری حق ہے۔ میں آپ کو یہ یاد دلاتا چلوں کہ ہم اس وقت 1947 میں موجود ہیں۔ کسی کو کس لقب سے پکارنا ہے، یہ ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ میں اس موقع پر کوئی بڑی تقریر نہیں کرنا چاہتا مگر میں قرارداد پیش کرنے والے، لیاقت علی خان، سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے لیں۔

اس پر سردار عبدالرب خان نشتر نے لقمہ دیتے ہوئے پوچھا کہ آپ اس قرارداد کی مخالفت آخر کیوں کر رہے ہیں۔ اس موقع پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سرس چندر چوپاڑیا نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ میں تمام القابات اور اعزازات کے خلاف ہوں۔ میرا یہ موقف جناب محمد علی جناح کی قیادت کا انکار نہیں کرتا، مگر مجھے یقین ہے کہ وہ بھی یہ پسند نہیں کریں گے کہ انہیں کسی لقب سے پکارا جائے۔

اس کے بعد مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن دھرینڈر ناتھ دتا نے خطاب کرتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت اصولی بنیادوں پر کر رہا ہوں کہ کم از کم 1947 میں ان القاب و خطابات کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ہم یہاں ایک سوشلسٹ حکومت بنانے کے لیے جمع ہوئے ہیں اور دنیا کی تمام سوشلسٹ حکومتوں میں ایسے القابات کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس ایوان کے اکثر ارکان آپ کے ساتھ ہوں گے مگر میں اس قرارداد کی اصولی بنیادوں پر مخالفت کر رہا ہوں۔

بنگال سے تعلق رکھنے والے تین ہندو ارکان کی مخالفت کے بعد سلہٹ سے تعلق رکھنے والے رکن عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کافی عرصے سے آپ کو قائداعظم کے نام سے مخاطب کرتے آئے ہیں۔ جیسے ہندوستان اور جہاں کہیں ‘گاندھی جی’ یا ‘مہاتما گاندھی’ کہا جاتا ہے تو پھر آپ کو قائداعظم کیوں نہ پکارا جائے۔ اسی طرح مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن نور احمد نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔

عبدالحمید اور نور احمد کے بعد بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن سچندر نارائن سنوال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اس قرارداد کی مخالفت کرتا ہوں۔ مجھے ذاتی بات یہاں نہیں کرنی چاہیے، مگر ہمارے علاقے میں ہمیں راجا اور کچھ لوگ تو مہاراجا بھی کہتے ہیں۔ ہم نے یہ القابات ترک کردیئے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ آپ کو قائداعظم کا لقب مہاتما گاندھی نے دیا۔ میں یہاں اس بات پر بھی زور دیتا ہوں کہ ہم آپ کو اپنا لیڈر تسلیم کرچکے ہیں۔ اس لیے آپ کو کوئی لقب ملے یا نہ ملے، اس پر کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

اس کے بعد جوگندر ناتھ منڈل نے بھی تقریر کرتے ہوئے قرارداد کی بھرپور حمایت کی اور محمد علی جناح کو قائداعظم کا لقب دینے کی حمایت کی۔ منڈل نے اپنی تقریر میں دلیل دیتے ہوئے کہا: ‘اس موقع پر میری تقریر کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ مگر میرے دوستوں کی تقریروں سے مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ کل ہی کانگریس پارٹی کے رہنما جناب کرن شنکر رائے نے آپ کو عظیم رہنما کہا اور آج پھر اس قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں۔

‘میں اپنی بات شروع کرنے سے پہلے آپ سے گزارش کروں گا کہ اس مسئلے پر آپ اپنی رائے کا اظہار نہ کریں۔ کیونکہ یہ اس ایوان کی خواہش ہے، آپ کی نہیں۔ یہاں جن لوگوں نے بھی گفتگو کی، انہوں نے دلیل دینے کے بجائے آپ سے ذاتی حیثیت میں اپیلیں کیں۔ آپ پہلے ہی قائداعظم کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

‘اس قرارداد کا اصل مقصد یہ ہے کہ سرکاری کاغذات و دستاویزات میں یکسانیت لائی جائے۔ اس کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے۔ اسی طرح مجھے مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی پکارتے ہوئے خوشی ہوگی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اگرچہ پنڈت نہیں ہیں۔ پھر بھی انہیں پنڈت کہا جاتا ہے۔ یہاں جن دوستوں نے تقریریں کیں، مجھے ان کی ذہنیت کا علم ہے۔

‘میں جب ایک جلسے میں مہاتما گاندھی کو مسٹر گاندھی کہا تو پورے جلسے میں آہ و بکا شروع ہوگئی۔ جب میں نے اپنے الفاظ واپس لے لیے تو پھر بھی اس پر بہت بات کی گئی اور اخبارات میں بھی اس معاملے کو بہت شائع کیا گیا۔ اگر انڈیا کی آئین ساز اسمبلی یہ ماننے کے لیے تیار ہے کہ آئندہ مسٹر گاندھی کو مہاتما گاندھی نہیں کہا جائے گا تو پھر میں بھی یہ ماننے کے لیے تیار ہوں کہ محمد علی جناح کو قائداعظم نہ پکارا جائے۔

‘آخر میں آپ سے ایک بار پھر گزارش کروں گا کہ آپ، قائداعظم محمد علی جناح، اس وقت خاموش رہیں۔ قائداعظم کوئی خطاب یا لقب نہیں بلکہ نذرانہ عقیدت ہے۔ میں اس ایوان کے تمام ارکان سے گزارش کروں گا کہ جناب لیاقت علی خان کی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے۔’

اس قرارداد کی حمایت و مخالفت میں مسٹر عزیزالدین احمد (مشرقی بنگال، مسلم)، مسٹر محمد علی (مشرقی بنگال، مسلم)، ڈاکٹر اے۔ ایم۔ ملک (مشرقی بنگال، مسلم)، ملک فیروز خان نون (مغربی پنجاب، مسلم)، میاں محمد افتخارالدین (مغربی پنجاب)، عبدالمحمود (مشرقی بنگال) اور لیاقت علی خان نے خطاب کیا۔ بہت بحث و مباحثے کے بعد یہ قرارداد منظور ہوگئی۔ اس دن کے بعد آج دن تک پاکستان کے بانی کو قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے۔

آخر میں آئین ساز اسمبلی کے صدر قائداعظم محمد علی جناح نے چار افراد پر مشتمل چیئرمین آف پینل کا اعلان کیا جو بالترتیب اسمبلی کے صدر کی غیر موجودگی میں ایوان کی کارروائی چلائیں گے۔ پہلے نمبر پر مولوی تمیزالدین خان، دوسرے نمبر پر عمر حیات ملک، تیسرے نمبر پر سردار بہادر خان اور چوتھے نمبر پر کرن شنکر رائے۔

یاد رہے قائداعظم محمد علی جناح کی غیر موجودگی میں مولوی تمیزالدین خان آئین ساز اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے تھے۔ جناح کی وفات کے بعد وہ آئین ساز اسمبلی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ بعد میں جب 1954 میں غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی کو توڑ دیا تو پھر مولوی تمیزالدین خان اسمبلی کی بحالی کے لیے سندھ چیف کورٹ (سندھ ہائی کورٹ) اور فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) گئے۔ یہ کیس بعد میں مولوی تمیزالدین کیس کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کیس میں ہی جسٹس منیر نے آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کو ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت درست قرار دیا۔ یہیں سے نظریہ ضرورت کا آغاز ہوا۔

اسی بارے میں: